<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ابوشامل &#187; ارمنی قتل عام</title>
	<atom:link href="http://www.abushamil.com/tag/%d8%a7%d8%b1%d9%85%d9%86%db%8c-%d9%82%d8%aa%d9%84-%d8%b9%d8%a7%d9%85/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.abushamil.com</link>
	<description>مرے ہنگامۂ نو بہ نو کی انتہا کیا ہے</description>
	<lastBuildDate>Wed, 11 Aug 2010 04:31:19 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.1</generator>
		<item>
		<title>ارمنی نسل کشی کا معاملہ اور امریکہ کی حکمت عملی</title>
		<link>http://www.abushamil.com/armenian-genocide-america-turkish-relations/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/armenian-genocide-america-turkish-relations/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 05 Mar 2010 19:37:47 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[ترکیات]]></category>
		<category><![CDATA[حالات حاضرہ]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسیات]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[Armenian Genocide]]></category>
		<category><![CDATA[Cyprus Issue]]></category>
		<category><![CDATA[First World War]]></category>
		<category><![CDATA[Islam & West]]></category>
		<category><![CDATA[US Turkish Relations]]></category>
		<category><![CDATA[World War I]]></category>
		<category><![CDATA[آرمینیائی قتل عام]]></category>
		<category><![CDATA[آرمینیائی نسل کشی]]></category>
		<category><![CDATA[ارمنی قتل عام]]></category>
		<category><![CDATA[ارمنی نسل کشی]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام و مغرب]]></category>
		<category><![CDATA[مسئلہ قبرص]]></category>
		<category><![CDATA[پہلی جنگ عظیم]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.abushamil.com/?p=1036</guid>
		<description><![CDATA[ترکی مسلم اکثریتی آبادی کے حامل سب سے زیادہ خواندہ ممالک میں سے ایک ہے۔ جمہوریہ کے قیام سے قبل عثمانی عہد میں جو تبدیلی کی لہر اُٹھی تھی وہ دراصل اُسی تعلیمی انقلاب کا نتیجہ تھی جو 19 ویں صدی میں  ہی آ گیا تھا۔ یہی انقلاب بعد ازاں نام نہاد خلافت اور بیرونی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ترکی مسلم اکثریتی آبادی کے حامل سب سے زیادہ خواندہ ممالک میں سے ایک ہے۔ جمہوریہ کے قیام سے قبل عثمانی عہد میں جو تبدیلی کی لہر اُٹھی تھی وہ دراصل اُسی تعلیمی انقلاب کا نتیجہ تھی جو 19 ویں صدی میں  ہی آ گیا تھا۔ یہی انقلاب بعد ازاں نام نہاد خلافت اور بیرونی قوتوں کے خلاف جدوجہد کا نتیجہ بنا اور یوں ترک جمہوریہ نے جنم لیا۔ اتاترک نے جو &#8216;اصلاحات&#8217; کیں ان میں سرفہرست نظام تعلیم تھا جس میں بہت زیادہ بہتریاں پیدا کی گئیں نتیجتاً ترکی میں شرح خواندگی بہت تیزی سے بڑھنے لگی اور آج وہاں شرح خواندگی تقریباً 90 فیصد ہے اور وہ ان مسلم اکثریتی ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں شرح خواندگی سب سے زیادہ ہے۔</p>
<p>ترک جمہوریہ کو مصطفیٰ کمال نے سیکولر ازم کی راہوں پر گامزن کیا اور آج بھی ترکی سیکولر ازم کا پیروکار ہے اور اس کی فوج آئینی طور پر سیکولر ازم کی محافظ سمجھی جاتی ہے۔ سیکولر ازم کی ترویج  ایک ایسے ملک میں ہر گز آسان نہ تھا جو صدیوں تک خلافت اسلامیہ کا علمبردار رہا ہو اور جس کا حکمران امت مسلمہ کا روحانی پیشوا سمجھا جاتا ہو لیکن مصطفیٰ کمال کی کرشماتی شخصیت اور کارناموں نے سب ازموں کو گہنا دیا اور یوں مسلم دنیا میں پہلا سیکولر ملک ابھرا جس نے ہر لحاظ سے خود کو مغربی دنیا کے شانہ بشانہ کھڑے کرنے کی کوشش کی حتیٰ کہ اپنی تاریخ کا ناطہ بھی مشرق سے توڑ کو مغرب سے جوڑنے لگا۔ یہی وجہ ہے کہ آج یورپی اتحاد (یورپین یونین) کی رکنیت کے لیے جو دلائل دیے جاتے ہیں وہ یہی ہیں کہ ترکی کی تاریخی جڑیں مغرب میں پیوست ہیں، یہ الگ بات کہ مغرب اسے تسلیم کرنے سے انکاری ہے (اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ترکی کی تہذیبی و تاریخی جڑیں دراصل مشرق ہی میں پروان چڑھیں)۔</p>
<p>یہ پس منظر اس لیے بیان کیا گیا ہے تاکہ آگے کی بات کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ بات اگر افغانستان جیسے ملک کی ہوتی جہاں جدوجہد کرنے والے خود نہیں جانتے کہ کامیابی کے بعد انہوں نے کرنا کیا ہے، تو کچھ سمجھ آتا لیکن ترکی جیسے ملک کے بارے میں مغرب کا رویہ سمجھ سے بالاتر ہے اور ایسا لگتا ہے کہ مغرب اپنے رویے سے خود انتہا پسند تخلیق کرنا چاہ رہا ہے۔ گزشتہ ماہ قطر میں ترک وزیر اعظم رجب طیب اردوغان اور امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے درمیان ملاقات کے موقع پر امریکی و ترک سفیروں کے مابین ہاتھا پائی دراصل مغرب اور ترکی کے درمیان تعلقات میں پیدا ہونے والی سرد مہری کا ایک ہلکا سا اظہار تھا لیکن ابھی اس کی خبریں ٹھنڈی ہی نہ ہونے پائی تھیں کہ گزشتہ روز ایک بڑی خبر سامنے آ گئی جو یقیناً امریکہ اور ترکی کے تعلقات پر کاری ضرب لگائے گی۔</p>
<p>خبر یہ ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس کے تحت پہلی جنگ عظیم کے دوران ارمنی باشندوں کے بڑے پیمانے پر مبینہ قتل عام کو &#8220;نسل کشی&#8221; قرار دیا گیا ہے۔ ارمنی نسل کشی (Armenian Genocide) ترکی کے لیے ہمیشہ نزع کا معاملہ  رہا ہے اور وہ ہمیشہ انکاری رہا ہے کہ جنگ عظیم میں ترک دستوں کی جابن سے ارمنی باشندوں کی بڑے پیمانے پر منظم نسل کشی کی گئی بلکہ اس کا موقف ہے کہ ارمنی باشندے ہر گز اتنی بڑی تعداد میں قتل نہیں کیے گئے تھے جتنے ظاہر کیے جاتے ہیں (یعنی 10 سے 15 لاکھ) اور صرف ارمنی نہیں بلکہ دیگر نسلی گروہ بھی جنگ عظیم میں بڑی تعداد میں ہلاک ہوئے اس لیے ارمنی باشندوں کا منظم نسل کشی کا دعویٰ غلط ہے۔ جبکہ انسانی حقوق کے چیمپیئن مغربی ممالک ہمیشہ اس ضد پر اڑے رہے ہیں کہ ترکی ارمنی باشندوں کی نسل کشی کرنے پر ان سے معافی مانگے۔ اب جو افراد مغربی ممالک کے ان حربوں کو سمجھتے ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ ایسا صرف مخصوص ممالک کو دباؤ میں ڈالنے کے لیے کیا جاتا ہے۔</p>
<p>یہ خبر ترک حکومت پر بجلی کی طرح گری ہے اور انہوں نے فوری طور پر احتجاجاً امریکہ سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔ وزیر اعظم رجب طیب اردوغان کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں اس قرارداد کی بھرپور مذمت کی گئی ہے اور اعلان کیا گیا ہے کہ ترکی نے واشنگٹن میں ترک سفیر نامق تان کو انقرہ واپس طلب کر لیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ &#8220;ترک-امریکہ تعلقات تاریخ کے سب سے کامیاب دور سے گزر رہے ہیں&#8221; اور امید ظاہر کی گئی ہے کہ اس طرح کے اقدامات کے ذریعے ترک-امریکہ تعلقات کو خراب نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p>22 کے مقابلے میں 23 ووٹوں سے منظور ہونے والی اس قرارداد نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی پالیسی اور صدر براک اوباما پہلی جنگ عظیم میں ارمنی باشندوں کے قتل کو باضابطہ طور پر &#8220;نسل کشی&#8221; کہیں۔ اب امریکی اسپیکر نینسی پلوسی کو لازماً فیصلہ کرنا ہے کہ وہ منظور ہونے والے اس بل کو ایوانوں میں منظوری کے لیے بھیجیں یا نہ بھیجیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ 2007ء میں بھی کانگریشنل کمیٹی کی جانب سے ایسا ہی بل منظور کیا گیا تھا تاہم بش انتظامیہ پر دباؤ کے باعث اسے ایوان میں پیش نہیں کیا گیا تاہم اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ترکی میں امریکہ مخالف رحجانات میں زبردست اضافہ ہوا اور سروے سے ظاہر ہوا کہ <a href="http://www.csmonitor.com/2007/1101/p06s02-wome.html">ترکی میں امریکہ مخالف رائے عامہ دنیا میں سب سے زیادہ ہے</a>۔</p>
<p style="text-align: center;"><a href="http://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/7/78/%D0%93%D0%B5%D0%BD%D0%BE%D1%86%D0%B8%D0%B4_%D0%B0%D1%80%D0%BC%D1%8F%D0%BD_-_1915_%D0%B3%D0%BE%D0%B4.jpg"><img class="aligncenter" style="border: 1px solid black;" src="http://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/7/78/%D0%93%D0%B5%D0%BD%D0%BE%D1%86%D0%B8%D0%B4_%D0%B0%D1%80%D0%BC%D1%8F%D0%BD_-_1915_%D0%B3%D0%BE%D0%B4.jpg" alt="مبینہ ارمنی قتل عام" width="420" height="292" /></a></p>
<p>ارمنی نسل کشی ترکی کو درپیش بڑے خارجہ مسائل میں سے ایک ہے اور لیکن نہ صرف اس معاملے میں بلکہ قبرص کے معاملے میں بھی مغرب اور امریکہ کا رویہ ہمیشہ معاندانہ رہا ہے اور بجائے حقائق کو سمجھنے کے انہوں نے ان تنازعات کو پیدا کر کے ہمیشہ ترکی کو دباؤ میں رکھنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہاں ذہن میں یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ امریکہ اپنے سب سے بہترین اتحادی کے ساتھ ایسا کھیل کیوں کھیل رہا ہے؟ اگر معاملہ صرف انسانی حقوق کا ہے تو پاکستان پر کبھی بنگالیوں کی نسل کشی کا الزام لگا کر ایسی قرارداد کیوں نہیں منظور کی گئی۔ اس سے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مختلف ممالک کو دباؤ میں رکھنے کے لیے مختلف کارڈز وقتاً فوقتاً پھینکتا ہے اور ان کارڈز کو بچا رکھتا ہے، جس طرح اس نے پاکستان کو دیگر معاملات میں پھنسا رکھا ہے اور اس طرح ترکی کو قبرص و ارمنی نسل کشی کے معاملات میں الجھا رکھا ہے۔ ویسے کیا امریکہ کا رویہ یہ بات ثابت نہیں کر رہا کہ چاہے مسلمان سیکولر ہو یا انتہا پسند، اس کی نظر میں مسلمان ہی ہے اور وہ اس سے ویسا ہی رویہ اختیار کرے گا جو وہ مسلمانوں سے کرتا آ رہا ہے؟ بس فرق صرف اتنا ہے کہ افغانستان پر گولے برسائے جاتے ہیں اور ترکی پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ اگر اس حکمت عملی کو تسلیم کیا جائے تو دیگر کئی سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں:</p>
<p>کیا امریکہ کے اس طرح کے اقدامات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ واقعتاً دنیا کو تہذیبی خطوط پر تقسیم کرنا چاہ رہا ہے؟</p>
<p>کیا اس طرح کے اقدامات واقعی تہذیبوں کے درمیان خلیج میں اضافہ کر رہے ہیں؟ جس کا نتیجہ ایک زبردست تصادم کی صورت میں نکل سکتا ہے؟</p>
<p>پھر سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ترکی کو صرف اس وجہ سے دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس کی آبادی کی اکثریت اسلام کی نام لیوا ہے؟</p>
<p> </p>
<h2>مزید دیکھئے</h2>
<p><a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B1%D9%85%D9%86%DB%8C_%D9%82%D8%AA%D9%84_%D8%B9%D8%A7%D9%85">ارمنی قتل عام </a>(Armenian Genocide) کے حوالے سے میرا وکیپیڈیا پر لکھا گیا ایک مختصر مضمون</p>
<p><a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A2%D8%B1%D9%85%DB%8C%D9%86%DB%8C%D8%A7_%DA%A9%DB%92_%D8%A2%D8%B0%D8%B1%DB%8C%D9%88%DA%BA_%DA%A9%D8%A7_%D9%82%D8%AA%D9%84_%D8%B9%D8%A7%D9%85">آرمینیا کے آذریوں کا قتل عام</a></p>
<h2>اس حوالے سے چند خبریں:</h2>
<p><a href="http://www.csmonitor.com/World/Middle-East/2010/0304/Turkey-recalls-ambassador-after-US-resolution-on-Armenian-genocide">کرسچن سائنس مانیٹر</a> کی خبر</p>
<p><a href="http://online.wsj.com/article/SB10001424052748704187204575101981018521028.html?mod=WSJ_hpp_LEADNewsCollection">وال اسٹریٹ جرنل </a> کی خبر</p>
<p><a href="http://www1.voanews.com/english/news/europe/White-House-Urges-Congress-Not-to-Pass-Armenian-Genocide-Resolution-86373862.html">وائس آف امریکہ</a> کی خبر</p>
<div class="tweetmeme_button" style="float: right; margin-left: 10px;">
			<a href="http://api.tweetmeme.com/share?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Farmenian-genocide-america-turkish-relations%2F"><br />
				<img src="http://api.tweetmeme.com/imagebutton.gif?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Farmenian-genocide-america-turkish-relations%2F&amp;style=normal&amp;service=TinyURL.com" height="61" width="50" /><br />
			</a>
		</div>
<a class="google_buzz"  
href="http://www.google.com/reader/link?url=http://www.abushamil.com/armenian-genocide-america-turkish-relations/&title=ارمنی+نسل+کشی+کا+معاملہ+اور+امریکہ+کی+حکمت+عملی&srcURL=http://www.abushamil.com" target="_blank" rel="nofollow"><img
src="http://www.abushamil.com/wp-content/plugins/google-buzz-button-for-wordpress/images/google-buzz.png" alt="Google Buzz" /></a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/armenian-genocide-america-turkish-relations/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>25</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
