ٹیگ: ’اسلامی سزائیں‘


کیا؟ کون؟ کب؟ کیوں؟ کہاں؟ کیسے؟

جب خبر کی تعریف کی جاتی ہے اور اس میں شامل عناصر کی بات کی جاتی ہے تو بتایا جاتا ہے کہ اس میں ان 6 “ک” کا شامل ہونا ضروری ہے جسے انگریزی میں پانچ “ڈبلیو” اور ایک “ایچ” کہا جاتا ہے یعنی “کیا؟ کون؟ کب؟ کیوں؟ کہاں؟ کیسے؟” اور انگریزی میں “What?, Who?, When?, Where?, Why? اور How?” ان عناصر کی تکمیل کے بغیر یا ان میں سے کم از کم 4 عناصر کی شمولیت کے بغیر کوئی خبر تصدیق شدہ تو کجا خبر کہلانے کی مستحق بھی نہیں ہوتی۔
اس واضح امر کے باوجود ایک ایسی خبر کو دو دن تک عوام کے ذہنوں پر سوار رکھا گیا جس میں خبر کا صرف ایک عنصر یعنی “کیا؟” شامل تھا کہ ایک لڑکی کو، جس کی شناخت بھی واضح نہیں، کوڑے مارے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ “کب؟ کون؟ کیوں؟ کہاں؟ اور کیسے؟” کا کوئی علم نہیں۔ “نامعلوم” کی یہ تکرار غالباً اس سے قبل صرف لطیفوں میں ہی سنی تھی جس میں نامعلوم ملزمان نامعلوم سمت سے آ کر کاروائی کرتے ہیں اور نامعلوم سمت ہی کی جانب روانہ ہو جاتے ہیں۔
ایک بلاشبہ یہ واقعہ کہیں بھی پیش آئے وضاحت طلب ضرور ہے اور وڈیو میں پیش کردہ مناظر کو دیکھ کر کسی حد تک اسے شرمناک بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایک خاتون یا لڑکی کو سر عام مردوں کی موجودگی میں کوڑے لگائے جائیں۔ لیکن میڈیا کا کردار بھی شرمناک و افسوسناک رہا جس نے بغیر تصدیق کے اس خبر کو عوام کے ذہنوں پر سوار کیا۔ اور صرف خبر پر ہی کافی نہ سمجھا بلکہ اس پر تبصروں و تجزیوں، مذمتوں اور احتجاجوں کی منڈی لگا دی۔ عقل کے گھوڑے چہار سمت دوڑائے گئے، نتیجتاً عوام کے ذہنوں کی “چٹنی” بن گئی۔ دوسری جانب کچھ لوکوں کی جراتیں بھی اتنی بڑھ گئی کہ وہ واضح الفاظ میں “شریعت کے کالے قوانین” (نعوذ باللہ) اور اسلامی سزاؤں کو “انسانیت کی تذلیل” کہنے سے بھی نہ چوک رہے۔
واقعے کے حوالے سے طالبان سے تو وضاحت طلب کرنا بیکار ہے کہ وہ خود کو ہر وضاحت سے بالاتر سمجھتے ہیں اور ان سے کچھ مطالبہ کرنا بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے۔ پھر بھی ہر مسلمان (پاکستانیوں کو تو وہ گھاس نہیں ڈالتے) کے ذہن میں یہ وضاحت طلب سوالات ضرور ابھرتے ہیں کہ یہ لڑکی کون تھی؟ اسے کن الزامات کے تحت کون سی قاضی عدالت میں پیش کیا گیا؟ الزامات کی نوعیت بھی سامنے لائی جائے، کون کون سے گواہ عدالت میں پیش ہوئے اور ان کا اپنا ماضی کیسا تھا؟ پھر قرآن و شریعت کی رو سے اس لڑکی کو کس طرح سزا دی گئی؟ اور اس سزا پر عملدرآمد کہاں؟ کب؟ کیسے اور کس نے کیا؟ یہ سب وہ سوالات ہیں جو اس عمل کے مرتکب افراد پر قرض ہیں۔
گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان کے بگڑتے ہوئے حالات سے خطے میں آنے والی واضح تبدیلیاں اس امر کی جانب اشارہ کر رہی ہیں کہ بگڑتے ہوئے حالات کے ساتھ پاکستان کو افغانستان سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کے مزید ٹکڑے کرنے کے ہدف پر کام کیا جائے گا بلکہ اس پر کام جاری ہے اور پاکستانی آپسی اختلافات میں اضافے سے اس “منزل” کو مزید قریب لا رہے ہیں۔ سرحد اور بلوچستان کی خراب صورتحال دراصل آزاد پخونستان یا افغانیہ اور آزاد بلوچستان کے قیام کی راہ ہموار کرنے اور پاکستان کو جوہری صلاحیتوں سے محروم کرنے کے منصوبے کا حصہ لگتی ہے۔

Google Buzz

اصلاح بذریعہ تشدد کی سعی لاحاصل

تشدد سے دلوں کے دروازے بند ہوتے ہیں۔ لوگوں کو مارنے سے ان کی ہدایت کا امکان ختم ہو جاتا ہے۔ لوگوں کو ہلاک کرنا اسی وقت صحیح ہو سکتا ہے جب ان پر اتمام حجت ہو گئی ہو، اور انکی اصلاح سے مایوسی۔ اس کا تعین وحی الٰہی کے بند ہو جانے کے بعد ممکن نہیں۔ اس لیے الا یہ کہ اللہ کے احکام کے مطابق جہاد کرتے ہوئے مخالفین مارے جائیں، صرف دین کی مخالفت یا گناہوں کی سزا میں لوگوں کو ہلاک کرنا کس طرح صحیح ہو سکتا ہے۔ بے گناہوں کو، خصوصاً عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو مارنا تو جہاد میں بھی منع ہے۔ اسی طرح اگر مسلح انقلاب کی کوشش میں لوگ کثرت سے مارے جائیں، آبادیاں ملبے کا ڈھیر بن جائیں تو پاکیزہ نظام کن لوگوں پر قائم ہوگا اور اس کی برکات سے کون مستفید ہوگا۔ کیا صرف چند پاکیزہ نفوس؟
گن پوائنٹ پر ایک دل بھی سیدھا نہیں ہو سکتا، کجا یہ کہ سیاست، ثقافت، صحافت، ادب اور قوم سب کو سیدھا کر دیا جائے۔ خود پاکستان میں مارشل لا کے ناکام تجربات ہمارے سامنے ہیں۔ جنرل یحیٰی خان ڈھاکہ آئے تھے تو میں نے ان سے یہ کہا تھا کہ

آپ مسیحا کا رول نہ سنبھالیں۔ اگر ڈنڈے سے قوم کی اصلاح ہوا کرتی تو اللہ تعالٰی انبیا کے بجائے فیلڈ مارشل ہی مبعوث کیا کرتا

چنانچہ دعوت دین کی جدوجہد کرنے والوں کا پہلا فرض یہ ہے کہ جو جانتے نہیں، ان کے سامنے حق پہنچانا ہے۔ مطلوب حد تک یہ فرض ادا کیے بغیر طاقت کے استعمال کا جواز نہیں۔ جن بے خبر اور غفلت و جہالت کے شکار لوگوں کے سامنے ابدی زندگی کا پیغام پہنچانے کی ذمہ داری ہم ابھی تک ادا نہیں کر سکے، ان کو سینما ہال میں بیٹھے بیٹھے موت کا پیغام پہنچا دینا، کس طرح اللہ کو پسند ہو سکتا ہے؟ حوا کی جن بیٹیوں کے کانوں میں اب تک ہم وہ تریاق نہیں ڈال سکے، جو ان کے دلوں کو سلیم بنا سکتا ہے، ان کے اوپر تیزاب ڈال کر ان کے چہرے مسخ کر دینے سے آخر کوئی فرد جنت کا مستحق کیسے بن سکتا ہے؟
(تحریک اسلامی، اہداف، مسائل، حل از خرم مراد)

Google Buzz

اسلامی سزائیں اور جدید ذہن

میری ایک پوسٹ “وحشت کا الزام” کے جواب میں ایک قاری کچھ ان الفاظ میں رقم تھے، انہوں نے تو “رومن اردو” میں لکھا تھا جسے پڑھنا اور سمجھنا مجھ جیسے اردو پرست کے لیے ناقابل فہم و برداشت ہے اس لیے ان کے تبصرے کو یہاں اردویا کر پیش کر رہا ہوں:

تو یعنی ہاتھ کاٹنا اور ایٹم بم چلانا دونوں غلط ہوئے؟
آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ مولوی لوگ عامۃ الناس کی جہالت کا فائدہ اٹھا کے انہیں گمراہ کرتے رہتے ہیں۔ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جن سزاؤں کا ذکر قرآن میں ہے اور جنہیں رسول اللہ نے بھی نافذ کیا انہیں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت عمر کے زمانے میں ہاتھ کاٹنے کی سزا موقوف کر دی گئی تھی جبکہ یہ سزا رسول اللہ نے نافذ کی اور قرآن میں بھی اس کا ذکر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ موقع محل کے مطابق ان سزاؤں میں تبدیلی کی جاسکتی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ملا جاہل ہیں اور اتنی سمجھ نہیں رکھتے اور اسلام کو بھی مذاق بنائے ہوئے ہیں۔

برادرِ معترض نے اپنا نام تحریر کرنا مناسب نہ سمجھا، اور میں فوری طور پر ان کے سوالات کے جواب دینے سے بھی قاصر رہا البتہ ان سے وعدہ ضرور کیا کہ جواب ضرور ملے گا۔ سب سے پہلی بات یہ کہ نہ میں مولوی مُلا ہوں اور نہ ہی ان کے دفاع میں کوئی بات کروں گا۔ بہرحال برادر کے تبصرے میں چند باتیں بہت غور طلب ہیں۔
میرے خیال میں سب سے پہلے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ روشن خیالوں کی منطق کیا ہے؟ جہاں تک میں سمجھا ہوں اُن کا کہنا ہے کہ “ُزمانۂ قدیم کے وحشیوں کے لیے وضع کردہ سزائیں موجودہ ترقی یافتہ دور میں کیسے نافذ کی جا سکتی ہیں؟ کیا محض چند روپوں کی چوری پر چور کا ہاتھ کاٹا جا سکتا ہے؟ حالانکہ مجرم چور ہو یا ڈاکو، (جدید نقطہ نظر کے مطابق) معاشرے کی بے انصافی اور ظلم کا شکار ہوتا ہے۔ اس لیے وہ سزا کا نہیں بلکہ ہمدردی سے نفسیاتی علاج کا مستحق ہے”۔
مگر عجیب بات ہے کہ اکیسویں صدی کے یہ روشن خیال حضرات دنیا بھر میں مسلمانوں کا (اور غیر مسلموں کا بھی) قتل عام ہوتے دیکھتے ہیں اور ہلکا سا اضطراب بھی محسوس نہیں کرتے لیکن ایک مجرم کی قانونی سزا پر بے چین اور چیں بہ جبیں ہو جاتے ہیں! افسوس کہ انسان خوشنما اور دلفریب الفاظ سے دھوکا کھا جاتا ہے اور اصل حقیقت اس کی نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
مجھے اس امر کو تسلیم کرنے میں کچھ امر مانع نہیں کہ جدید حضرات کے نظریات جزوی طور پر صحیح ہیں اور یہ بھی درست ہے کہ فرد پر اس کے ماحول کا گہرا اثر پڑتا ہے اور اس کے تحت الشعور کی الجھنیں بعض اوقات جرائم کا باعث بنتی ہیں لیکن یہ بات بھی اپنے ذہن میں رکھیے کہ انسان حالات کے مقابلے میں مجبور محض نہیں ہے۔ موجودہ دور کے جدت پسند افراد انسان کی قوت محرکہ (Dynamic Energy) پر اتنا زور دیتے ہیں کہ وہ انسانی وجود میں ودیعت قوتِ ضابطہ (Controlling Energy) کو بالکل ہی نظر انداز کر جاتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ معاشی حالات سے انسان کے جذبات اور افعال متاثر ہوتے ہیں اور یہ بھی صحیح ہے کہ بھوک روحِ انسانی کے انتشار اور معاشرے میں منافرت کا باعث بن کر بعض اوقات جرائم یا اخلاقی فساد کا ذریعہ بھی بن جاتی ہے لیکن محض اقتصادی حالات کو انسانی زندگی کا واحد مؤثر عامل قرار دینا صحیح نہیں البتہ کسی حد تک جزوی طور پر ہی درست ہے۔
بہرحال مجرم کو سزا دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرنے سے پیشتر ہمیں ارتکابِ جرم میں اس کی ذمہ داری کی صحیح حدود کا تعین ضرور کر لینا چاہیے اور یہی اسلام کا اصولِ سزائے جرم ہے۔ اسلام اندھا دھند سزائیں تجویز نہیں کرتا اور نہ ہی بغیر سوچے سمجھے انہیں نافذ کرتا ہے۔ اسلام صحیح معنوں میں عدل قائم کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ جرم کی سزا دینے سے پہلے ان تمام حالات اور اسباب کا جائزہ لیا جائے جن کا ارتکابِ جرم سے تعلق ہے۔ مجرم کو سزا دیتے وقت اسلام بیک وقت دو امور پیش نظر رکھتا ہے: مجرم کا نقطۂ نظر اور اس کے معاشرے کا زاویۂ نظر جس کے خلاف ارتکاب جرم کیا گیا ہے۔ ان ہر دو امور کی روشنی میں اسلام مناسب سزا تجویز کرتا ہے جو منطق اور عقل دونوں سے ہم آہنگ اور غلط قسم کے انفرادی اور قومی نظریات کے اثرات سے بالکل پاک ہوتی ہے۔
اسلام کی بعض مثالی سزائیں ممکن ہے بظاہر ظالمانہ اور غیر مناسب نظر آئیں لیکن تھوڑے سے غور و فکر سے معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ سزائیں نہ ظالمانہ ہیں اور نہ غیر مناسب۔ کیونکہ اسلام انہیں صرف اسی صورت میں نافذ کرتا ہے جب اس کو یقین ہو جاتا ہے کہ مجرم کو نہ کوئی خاص مجبوری درپیش تھی، اور نہ اس کے ارتکاب جرم کی کوئی اور معقول وجہ جواز ہے۔ مثال کے طور پر اسلام چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیتا ہے، مگر جہاں ذرا بھی شبہ ہو کہ چوری کی وجہ بھوک تھی، تو وہ مجرم کی قطع ید کی سزا نہیں دیتا۔ اسی طرح بدکار مرد و عورت کے لیے سنگسار کی سزا بھی صرف شادی شدہ مرد و عورت کے لیے مخصوص ہے اور صرف اسی صورت میں دی جا سکتی ہے جب چار عینی گواہوں نے ارتکاب جرم کرتے ہوئے دیکھا ہو۔
اس ضمن میں اہم ترین واقعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قحط کے زمانے میں قطع ید کی سزا کو موقوف کرنا تھا جس کا ذکر برادرِ عزیز نے اپنی پوسٹ میں کیا تھا اور اس سزا کو موقوف کرنے کی وجہ یہ تھی کہ قحط کے باعث اس بات کا قوی امکان موجود تھا کہ لوگ چوری بھوک سے مجبور ہو کر کرتے ہوں۔
اس لیے اسلامی قانون کا صریح اور واضح اصول ہے کہ کسی مجرم کو قانونی سزا ایسے حالات میں نہیں دی جائے گی جب جرم کا ارتکاب حالات سے مجبور ہو کر کیا گیا ہو۔ اس اصول کی تائید میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول بھی موجود ہے کہ :

شک کی صورت میں حدود جاری نہ کرو

اب دیکھیے کہ اسلام کے قانون جرم و سزا کے بارے میں متشککین کیا کہتے ہیں؟ اور یہ حقیقت ہے کہ ان تمام کا وسیلۂ معلومات مستشرقین اور یورپی مصنفین کی کتب ہیں اور ان کتب کے مطالعے کے باعث ہی وہ اسلام کے تصور جرم و سزا سے ناواقف ہیں، اس لیے وہ اس کی مقرر کردہ سزاؤں کو وحشیانہ اور انسان کی توہین قرار دیتے ہیں کیونکہ غلطی سے وہ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ان کے یورپی ضابطۂ تعزیرات کی طرح یہ سزائیں بھی آئے دن لوگوں پر نافذ ہوتی رہیں گی۔ گویا ان کے نزدیک اسلامی معاشرے میں کوڑوں، قطع ید اور سنگساری کی سزائیں ایک عام معمول ہوتی ہیں۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس طرح کی عبرت ناک سزائیں اسلامی معاشرے میں شاذ و نادر ہی نافذ کی جاتی ہیں چنانچہ یہ بات کہ اسلامی تاریخ کی 400 سالہ طویل مدت میں قطع ید کی سزا صرف چھ مرتبہ دی گئی، اس حقیقت کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ اصل مقصد چوری کا سدباب تھا نہ کہ لوگوں کے ہاتھ کاٹنا۔ اس لیے اسلام سزائیں دینے سے پہلے خود جرائم مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس قسم کی سزائیں کوئی عملی افادیت نہیں رکھتیں، مگر یہ خیال غلط ہے۔ اسلامی ‎سزائیں دراصل ان لوگوں کو ڈرانے کے لیے ہیں جو بغیر کسی معقول وجہ جواز کے ارتکاب جرائم کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔ ان لوگوں کی اصلاح کے نقطۂ نظر سے یہ سزائیں بہت موثر ہیں کیونکہ ان کی خواہش جرم خواہ کتنی ہی شدید ہو سزا کا خوف انہیں ارتکاب جرم سے قبل کئی بار سوچنے پر ضرور مجبور کرتا ہے۔
اس سلسلے میں افسوسناک بات یہ ہے کہ جدید زمانے کے بعض مہذب نوجوان اسلامی سزاؤں کو محض اس خوف سے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کہ یورپ کے لوگ انہیں وحشت و بربریت کا طعنہ دیں گے لیکن ہمیں یقین ہے کہ یہ حضرات اگر اسلامی قانون کی حکمتوں کا کھلے دل سے مطالعہ کریں اور اسلام کے قانون جرم و سزا کی مستند کتب کو پڑھیں تو ان کی تمام غلط فہمیاں رفع ہو سکتی ہیں۔

Google Buzz

اسلام پروحشت کا الزام

عوام کی نجی صحبتوں میں ایک اور اعتراض جو بڑی کافرانہ جسارتوں کے ساتھ کیا جاتا ہے، کہ اسلامی قانون میں بہت سی چیزیں قرونِ وسطٰی کی تاریک خیالی کے باقیات میں سے ہیں جنہیں اس مہذب دور کے ترقی یافتہ اخلاقی تصورات کسی طرح برداشت نہیں کر سکتے، مثلاً ہاتھ کاٹنے اور درے مارنے اور سنگسار کرنے کی وحشیانہ سزائیں۔ یہ اعتراض سن کر بے اختیار ان حضرات سے یہ کہنے کو جی چاہتا ہے اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ جس دور میں ایٹم بم ستعمال کیا گیا ہے، اس کے اخلاقی تصورات کو ترقی یافتہ کہتے وقت آدمی کو کچھ تو شرم محسوس ہونی چاہیے۔ آج کا نام نہاد مہذب انسان دوسرے انسانوں کے ساتھ جو سلوک کر رہا ہے اس کی مثال تو قدیم تاریخ کے کسی تاریک سے تاریک دور میں بھی نہیں ملتی ۔ وہ سنگسار نہیں بم بار کرتا ہے۔ محض ہاتھ ہی نہیں کاٹتا، جسم کے پرخچے اڑاا دیتا ہے۔ درے برسانے سے اس کا دل نہیں بھرتا، زندہ آگ میں جلاتا ہے اور مردہ لاشوں کی چربی نکال کر ان کے صابن بناتا ہے ۔ جنگ کے ہنگامۂ غیظ و غضب ہی میں نہیں، امن کے ٹھنڈے ماحول میں بھی جن کو وہ سیاسی مجرم، یا قومی مفاد کا دشمن، یا معاشی اغراض کا حریف سمجھتا ہے ان کو دردناک عذاب دینے میں وہ آخر کون سی کسر اٹھا رکھتا ہے؟ ثبوت جرم سے پہلے محض شبہے ہی شبہے میں تفتیش کے جو طریقے اور اقبالِ جرم کرانے کے جو ہتکھنڈے آج کی مہذب حکومتوں میں اختیار کیے جارہے ہیں وہ کس سے چھپے ہوئے ہیں ۔۔۔ فرق جو کچھ واقع ہوا ہے وہ دراصل اخلاقی قدروں میں ہے۔ ان کے نزدیک جو جرائم واقعی سخت ہیں اًن پر وہ خوب عذاب دیتے ہیں اور دل کھول کر دیتے ہیں، مثلاً ان کے سیاسی اقتدار کو چیلنج کرنا، یا ان کے معاشی مفاد میں مزاحم ہونا۔ لیکن جن افعال کو وہ سرے سے جرم ہی نہیں سمجھتے، مثلاً شراب سے ایک گونہ بے خودی حاصل کر لینا، یا تفریحاً زنا کر لینا، ان پر عذاب تو درکنار، سرزنش اور ملامت بھی انہیں ناگوار ہوتی ہے۔ اور جرم نہ سمجھنے کی صورت میں لامحالہ وہ ناگوار خاطر ہونی ہی چاہیے۔ (سید مودودی)

Google Buzz