وسط ایشیا میں احیائے زبان
نو آبادیاتی دور میں مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک تقریباً تمام ہی مسلم ممالک کے غلام مسلمانوں کا مذہبی و قومی تشخص مسخ کرنے کی منظم انداز میں کوششیں کی گئیں لیکن جو انداز روس کے زیر قبضہ وسط ایشیائی ممالک میں اختیار کیا گیا وہ شاید پرتگال کے زیر نگیں انگولا اور بیلجیم کے زیر قبضہ کانگو میں بھی نہ تھا۔ بس وہ مظالم اس لیے “ہولوکاسٹ” نہیں کہلائے کیونکہ ایک تو وہ مظلوم مسلمانوں کا لہو تھا، دوسرا مسلمانوں کے پاس یہودیوں جیسا طاقتور میڈیا نہ تھا اور نہ ہے۔ اس کے علاوہ کمیونسٹ استبداد ذرائع ابلاغ کی معمولی آزادی کا بھی قائل نہ تھا اس لیے مسلمانوں کے قتل عام اور ان کے تشخص و ثقافت کی پامالی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا عشر عشیر بھی دنیا پر ظاہر نہ ہو سکا۔
روس میں زار کے دور میں ڈھائے گئے مظالم کو تو ملوکیت کا جبر سمجھا جا سکتا ہے لیکن (نام نہاد) مساوات کی قائل اشتراکی حکومت نے پسے ہوئے مسلمانوں جبر کے جو پہاڑ توڑے وہ مساوات کے نام پر دھبہ ہیں۔ اشتراکی حکومت کی پہلی کوشش تھی کہ مسلمانوں کو ان کے دین سے جدا کر دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے جہاں فوری طور پر مدارس و مساجد کو بند کیا گیا وہیں ایسا ادب پھیلایا گیا جو نوجوان نسل کو اپنے دین سے برگشتہ کردے۔
اس لیے منظم اشتراکی کوششوں کا پہلا نشانہ بھی مسلم ادب ہی بنا اور مسلمانوں کو اپنی کتابوں سے بیگانہ کرنے کے لیے سب سے پہلے عربی رسم الخط کی بے ثباتی کا ڈھنڈورا پیٹا گیا۔ کانفرنسوں کا انعقاد کیا گیا اور باقاعدہ قراردادیں منظور کر کے اس امر کو ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ عربی رسم الخط جدید دور کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا اس لیے ضروری ہے کہ عربی رسم الخط میں لکھی جانے والی زبانوں لاطینی رسم الخط پر منتقل کیا جائے۔ اور یوں ان نام نہاد کانفرنسوں کی قراردادوں پر لبیک کہتے ہوئے بیک جنبش قلم مسلمانوں کا اپنے ماضی سے ناطہ توڑ دیا گیا اور وسط ایشیا کے مسلمانوں کی تمام زبانوں کو لاطینی رسم الخط میں منتقل کر دیا گیا۔
لیکن جب ترکی نے 1928ء میں ترک زبان کو عربی رسم الخط سے لاطینی رسم الخط پر منتقل کرنے کا اعلان کیا تو گویا اس امر سے بھی خطرہ محسوس کیا گیا کہ مسلمانوں کے لیے ترک سیکولر ازم بھی “ذریعۂ ہدایت” ہو سکتا ہے اس لیے وسط ایشیائی زبانوں کو لاطینی کے بجائے سیریلک (Cyrillic)، یعنی روسی، رسم الخط میں لکھنے کا اعلان کیا گیا اور یوں وسط ایشیائی باشندے اپنے تاریخی ادبی ورثے سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو گئے اور انہیں انجان راہوں پر ڈال دیا گیا۔
واضح رہے کہ وسط ایشیائی مسلمان ازبک، تاتار، قازق، کرغز اور التائی زبانیں بولتے ہیں جو تمام کی تمام ترک زبان سے قریبی تعلق رکھتی ہیں جبکہ تاجک زبان پر فارسی اثرات بہت زیادہ ہیں۔ لیکن رسم الخط کی تبدیلی نے ان زبانوں کو اپنی قریبی زبانوں اور اپنے ثقافتی و تاریخی ورثے سے کاٹ کر رکھ دیا اور ایک ایسے نامانوس ماحول میں لا کھڑا کردیا، جہاں صرف اور صرف اشتراکیت و الحاد کا غلغلہ تھا۔
بہرحال جبر کی یہ ریاست 1990ء کی دہائی کے اوائل میں اپنے انجام کو پہنچی۔ جہاں بیشتر نو آزاد ریاستوں نے تو اس “سنہری قفس کو ہی آشیاں” سمجھ کر قبول کر لیا وہیں چند وسط ایشیائی ریاستوں نے ایک بار پھر اپنے ماضی سے رشتہ جوڑنےکی کوششوں کا آغاز کیا۔ اس سلسلے میں تاجکستان نے کوششوں کا آغاز کیا ہے کہ “ٹوٹے ہوئے سلسلے” کو دوبارہ جوڑا جائے۔ اس حوالے سے ماضی قریب میں تاجکستان کی جانب سے اس خواہش کا بھی شدت سے اظہار کیا گیا ہے کہ تاجک زبان کو ایک مرتبہ پھر فارسی رسم الخط میں تبدیل کیا جائے لیکن دہائیوں کے بعد حقیقی زبان کا احیاء مشکل تو ضرور ہوگا لیکن ناممکن نہیں اور اس کے لیے اتنا ہی وقت درکار ہوگا جتنا لاطینی و سیریلک رسم الخط کے قبولیت عام حاصل کرنے میں لگا تھا۔
رسم الخط کے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے حال ہی میں ایک سافٹ ویئر جاری کیا گیا ہے جو سیریلک رسم الخط میں لکھی گئی تاجک زبان کو فارسی یعنی عربی رسم الخط میں تبدیل کر دے گا۔ اس سافٹ ویئر کو اس لیے اہم پیشرفت سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں تاجک عوام تیزی سے فارسی رسم الخط سے دوبارہ آشنائی حاصل کریں گے اور نتیجتاً حکومت کو اپنی اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کا جلد موقع ملے گا جس کا اظہار گزشتہ سال تاجک نائب وزیر ثقافت نے ایک انٹرویو میں کیا تھا۔
یہ سافٹ ویئر ریاضی کے طالب علموں لیونڈ گریشچینکو اور الیکسے فومن نے ماہرِ تعلیم ظفر عثمانوف اور دودیخودو سیمع الدینوف کی زیر نگرانی تشکیل دیا ہے۔ فومن کے مطابق یہ پروگرام اب اس قابل ہو گیا ہے کہ وہ کسی بھی لکھی ہوئی تاجک تحریر کو سیکنڈوں میں فارسی تحریر میں بدل دے اور یہ تحریر 90 فیصد درست ہو گی۔
ظفر عثمانوف نے اس سلسلے میں بتایا کہ لاطینی رسم الخط اور پھر سیریلک رسم الخط کی جانب منتقلی سے تاجک زبان اپنے سالوں کے سائنسی و ثقافتی ورثے سے محروم ہو گئی۔ 1980ء کی دہائی میں ماضی سے یہ رشتہ دوبارہ استوار کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اس وقت ایسی ٹیکنالوجی موجود نہ تھی جو اس مسئلے کو حل کر سکے۔







