ٹیگ: ’اصلاح‘


اصلاح بذریعہ تشدد کی سعی لاحاصل

تشدد سے دلوں کے دروازے بند ہوتے ہیں۔ لوگوں کو مارنے سے ان کی ہدایت کا امکان ختم ہو جاتا ہے۔ لوگوں کو ہلاک کرنا اسی وقت صحیح ہو سکتا ہے جب ان پر اتمام حجت ہو گئی ہو، اور انکی اصلاح سے مایوسی۔ اس کا تعین وحی الٰہی کے بند ہو جانے کے بعد ممکن نہیں۔ اس لیے الا یہ کہ اللہ کے احکام کے مطابق جہاد کرتے ہوئے مخالفین مارے جائیں، صرف دین کی مخالفت یا گناہوں کی سزا میں لوگوں کو ہلاک کرنا کس طرح صحیح ہو سکتا ہے۔ بے گناہوں کو، خصوصاً عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو مارنا تو جہاد میں بھی منع ہے۔ اسی طرح اگر مسلح انقلاب کی کوشش میں لوگ کثرت سے مارے جائیں، آبادیاں ملبے کا ڈھیر بن جائیں تو پاکیزہ نظام کن لوگوں پر قائم ہوگا اور اس کی برکات سے کون مستفید ہوگا۔ کیا صرف چند پاکیزہ نفوس؟
گن پوائنٹ پر ایک دل بھی سیدھا نہیں ہو سکتا، کجا یہ کہ سیاست، ثقافت، صحافت، ادب اور قوم سب کو سیدھا کر دیا جائے۔ خود پاکستان میں مارشل لا کے ناکام تجربات ہمارے سامنے ہیں۔ جنرل یحیٰی خان ڈھاکہ آئے تھے تو میں نے ان سے یہ کہا تھا کہ

آپ مسیحا کا رول نہ سنبھالیں۔ اگر ڈنڈے سے قوم کی اصلاح ہوا کرتی تو اللہ تعالٰی انبیا کے بجائے فیلڈ مارشل ہی مبعوث کیا کرتا

چنانچہ دعوت دین کی جدوجہد کرنے والوں کا پہلا فرض یہ ہے کہ جو جانتے نہیں، ان کے سامنے حق پہنچانا ہے۔ مطلوب حد تک یہ فرض ادا کیے بغیر طاقت کے استعمال کا جواز نہیں۔ جن بے خبر اور غفلت و جہالت کے شکار لوگوں کے سامنے ابدی زندگی کا پیغام پہنچانے کی ذمہ داری ہم ابھی تک ادا نہیں کر سکے، ان کو سینما ہال میں بیٹھے بیٹھے موت کا پیغام پہنچا دینا، کس طرح اللہ کو پسند ہو سکتا ہے؟ حوا کی جن بیٹیوں کے کانوں میں اب تک ہم وہ تریاق نہیں ڈال سکے، جو ان کے دلوں کو سلیم بنا سکتا ہے، ان کے اوپر تیزاب ڈال کر ان کے چہرے مسخ کر دینے سے آخر کوئی فرد جنت کا مستحق کیسے بن سکتا ہے؟
(تحریک اسلامی، اہداف، مسائل، حل از خرم مراد)

Google Buzz