ٹیگ: ’انکار سنت‘


فتنۂ انکار سنت کی مختصر تاریخ

انکار سنت کا فتنہ اسلامی تاریخ میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں اٹھا تھا اور اس کے اٹھانے والے خوارج اور معتزلہ تھے۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے جس نے اس معاشرے کو ایک نظم و ضبط پر قائم کیا تھا۔ اور اس کی راہ میں حضور (ص) کے وہ ارشادات حائل تھے جن کی موجودگي میں خوارج کے انتہا پسندانہ نظریات نہ چل سکتے تھے۔اس بنا پر انہوں نےاحادیث کی صحت پر شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کو اس کی ضرورت اس لیے لاحق ہوئی کہ عجمی اور یونانی فلسفوں سے پہلا سابقہ پیش آتے ہی اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے میں جو شکوک و شبہات پیدا ہونے لگے تھے انہیں پوری طرح مسجھنے سے پہلے وہ کسی نہ کسی طرح انہیں حل کر دینا چاہتے تھے۔ خود ان فلسفوں میں ان کو وہ بصیرت حال نہ ہوئی تھی کہ ان کا تنقیدی جائزہ لے کر ان کی صحت و قوت جانچ سکتے۔ انہوں نے ہر اس بات کو جو فلسفے کے نام سے آئی، سراسر عقل کا تقاضا سمجھا اور یہ چاہا کہ اسلام کے عقائد اور اصولوں کی ایسی تعبیر کی جائے جس سےوہ ان نام ہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہوجائیں۔ اس راہ میں پھر ہی حدیث و سنت مانع ہوئی۔ اس لیے انہوں نے بھی خوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھیرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کیا۔
ان دونوں فتنوں کی غرض اور ان تیکنیک مشترک تھی۔ ان کی غرض یہ تھی کہ قرآن کو اس کے لانے والے کی قولی و عملی تشریح و توضیح سے، اور اس نظام فکر و عمل سے جو خدا کے پیغمبر نے اپنی رہنمائی میں قائم کر دیا تھا، الگ کر کے مجرد ایک کتاب کی حیثيت سے لے لیا جائے، اور پھر اس کی من مانی تاویلات کر کے ایک دوسرا نظام بنا ڈالا جائے جس پر اسلام کا لیبل چسپاں ہو۔ اس غرض کے لیے جو تیکنیک اختیار کی اس کے دو حربے تھے ۔۔۔۔۔ ایک یہ کہ احادیث کے بارے میں یہ شک دلوں میں ڈالا جائے کہ وہ فی الفور حضور (ص) کی ہیں بھی یا نہیں۔ دوسرے، یہ اصولی سوال اٹھایا جائے کہ کوئی قول یا فعل حضور (ص) کا ہو بھی تو ہم اس کی اطاعت و اتباع کے پابند کب ہیں۔ ان کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تک قرآن پہنچانے کے لیے مامور کیے گئے تھے، سو انہوں نے وہ پہنچایا دیا۔ اس کے بعد محمد (ص) بن عبد اللہ ویسے ہی ایک انسان تھے جیسے ہم ہیں۔ انہوں نے جو کچھ کہا اور کیا وہ ہمارے لیے حجت کیسے بن سکتا ہے۔
یہ دونوں فتنے تھوڑی مدت چل کر اپنی موت آپ مر گئے اور تیسری صدی کے بعد پھر صدیوں تک اسلامی دنیا میں ان کا نام و نشان باقی نہ رہا۔ جن بڑے بڑے اسباب نے اس وقت ان فتنوں کا قلع قمع کر ڈالا، وہ حسب ذیل تھے:
محدثین کا زبردست تحقیقی کام، جس نے مسلمانوں کے تمام سوچنے سمجھنے والے لوگوں کو مطمئن کر دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت جن روایات سے ثابت ہوتی ہے، وہ ہرگز مشتبہ نہیں ہیں بلکہ نہایت معتبر ذرائع سے امت کو پہنچی ہیں، اور ان کو مشتبہ روایات سے الگ کرنے کے لیے بہترین علمی ذرائع موجود ہیں۔
قرآن کی تصریحات، جن سے اس زمانے کے اہل علم نے عام مسلمانوں کے سامنے یہ بات ثابت کر دی کہ دین کے نظام میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حیثيت ہر گز نہیں ہے جو منکرین سنت حضور (ص) کو دینا چاہتے ہیں۔ آپ قرآن پہنچا دینے کے لیے محض ایک نامہ بر مقرر نہیں کیے گئے تھے، بلکہ آپ (ص) کو خدا نے معلم، رہنما، مفسر قرآن، شارع قانون اور قاضی و حاکم بھی مقرر کیا تھا لہذا خود قرآن ہی کی رو سے آپ (ص) کی اطاعت و پیروی ہم پر فرض ہے اور اس سے آزاد ہو کر جو شخص قرآن کی پیروی کا دعوی کرتا ہے وہ دراصل قرآن کا پیرو بھی نہیں ہے۔
منکرین سنت کی اپنی تاویلات، جن کا کھلونا قرآن کو بنا کر انہوں نے عام مسلمانوں کے سامنے یہ حقیقت بالکل برہنہ کر دی کہ سنت رسول اللہ (ص) سے جب کتاب اللہ کا تعلق توڑ دیا جائے تو دین کا حلیہ کس بری طرح بگڑتاہے،خدا کی کتاب کے ساتھ کیسے کیسے کھیل کھیلے جاتے ہیں، اور اس کی معنوی تحریف کے کیسے مضحکہ انگیز نمونے سامنے آتے ہیں۔
امت کا اجتماعی ضمیر، جو کسی طرح یہ بات قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھا کہ مسلمان کبھی رسول (ص) کی اطاعت و پیروی سے آزاد بھی ہو سکتا ہے۔ چند سر پھرے انسان تو ہر زمانے اور ہر قوم میں ایسے نکلتے ہیں جو بے تکی باتوں ہی میں تک محسوس کرتے ہوں۔ مگر پوری امت کا سر پھرا ہو جانا بہت مشکل ہے۔ عام مسلمانوں کے ذہنی سانچے میں یہ غیر معقول بات کبھی ٹھیک نہ بیٹھ سکی کہ آدمی رسول (ص) کی رسالت پر ایمان بھی لائے اور پھر اس کی اطاعت کا قلاوہ اپنی گردن سے اتار بھی پھینکے۔ ایک سیدھا سادا مسلمان، جس کے دماغ میں ٹیڑھ نہ ہو، عملاً نافرمانی کا مرتکب تو ہو سکتاہے، لیکن یہ عقیدہ کبھی اختیار نہیں کر سکتا کہ جس رسول (ص) پر وہ ایمان لایا ہے اس کی اطاعت کا وہ سرے سے پابند ہی نہیں ہے۔ یہ سب سے بڑی بنیادی چیز تھی جس نے آخر کار منکرین سنت کی جڑ کاٹ کر رکھ دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس پر مزید یہ کہ مسلمان قوم کا مزاج اتنی بڑی بدعت کو ہضم کرنے کے لیے کسی طرح تیار نہ ہو سکا کہ اس پورے نظام زندگی کو، اس کے تمام قاعدوں اور ضابطوں اور اداروں سمیت، رد کر دیا جائے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد سے شروع ہو کر خلفائے راشدین، صحابہ کرام، تابعین، ائمہ مجتہدین اور فقہائے امت کی رہنمائی میں مسلسل ایک ہموار طریقے سے ارتقاء کرتا چلا آ رہا تھا، اور اسے چھوڑ کر آئے دن ایک نیا نظام ایسے لوگوں کے ہاتھوں بنوایا جائے جو دنیا کے ہر فلسفے اور ہر تخیل سے متاثر ہو کر اسلام کا ایک جدید ایڈیشن نکالنا چاہتے ہوں۔
اس طرح فنا کے گھاٹ اتر کر یہ انکار سنت کا فتنہ کئی صدیوں تک اپنی شمشان بھومی میں پڑا رہا، یہاں تک کہ تیرہویں صدی ہجری (انیسویں صدی عیسوی) میں وہ پھر جی اٹھا۔ اس نے پہلا جنم عراق میں لیا تھا اب یہ دوسرا جنم اس نے ہندوستان میں لیا۔ یہاں اس کی ابتداء کرنے والے سر سید احمد خان اور مولوی چراغ علی تھے۔ پھر مولوی عبد اللہ چکڑالوی اس کے علمبردار بنے۔ اس کے بعد مولوی احمد الدین امرتسری نے اس کا بیڑا اٹھایا۔ پھر مولانا اسلم جیراج پوری اسے لے کر آگے بڑھے اور آخر کار اس کی ریاست چودھری غلام احمد پرویز کے حصے میں آئی جنہوں نے اس کو ضلالت کی انتہا تک پہنچا دیا ہے۔
اس کی دوسری پیدائش کا سبب بھی وہی تھا جو دوسری صدی میں پہلی مرتبہ اس کی پیدائس کا سبب بنا تھا، یعنی بیرونی فلسفوں اور غیر اسلامی تہذیبوں سے سابقہ پیش آنے پر ذہنی شکست خوردگی میں مبتلا ہو جانا، اور تنقید کے بغیر باہر کی ان ساری چیزوں کو سراسر تقاضائے عقل مان کر اسلام کو ان کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنا۔ لیکن دوسری صدی کی بہ نسبت تیرہویں صدی کے حالات بہت مختلف تھے۔ اس وقت مسلمان فاتح تھے، ان کو فوجی و سیاسی غلبہ حاصل تھا، اور جن فلسفوں سے انہیں سابقہ پیش آیا تھا، وہ مفتوح و مغلوب قوموں کے فلسفے تھے۔ اس وجہ سے ان کے ذہن پر ان فلسفوں کا حملہ بہت ہلکا ثابت ہوا اور بہت جلدی رد کر دیا گیا۔ اس کے برعکس تیرہویں صدی میں یہ حملہ ایسے وقت ہوا جبکہ مسلمان ہر میدان میں پٹ چکے تھے۔ ان کے اقتدار کی اینٹ سے اینٹ بجائی جا چکی تھی۔ ان کے ملک پر دشمنوں کا قبضہ ہو چکا تھا۔ ان کو معاشی حیثيت سے بری طرح کچل ڈالا گیا تھا، ان کا نظام تعلیم درہم برہم کر دیا گیا تھا، اور ان پر فاتح قوم نے اپنی تعلیم، اپنی تہذیب، اپنی زبان، اپنے قوانین اور اپنے اجتماعی و سیاسی اور معاشی اداروں کو پوری طرح مسلط کر دیا تھا۔ ان حالات میں جب مسلمانوں کو فاتحوں کے فلسفے اور سائنس سے اور ان کے قوانین اور تہذیبی اصولوں سے سابقہ پیش آیا تو قدیم زمانے کے معتزلہ کی بہ نسبت ہزار درجہ زیادہ سخت مرعوب ذہن رکھنے والے معتزلہ ان کے اندر پیدا ہونے لگے۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ مغرب سے جو نظریات، جو افکار و تخیلات، جو اصول تہذیب و تمدن اور جو قوانین حیات آ رہے ہیں، وہ سراسر معقول ہیں، ان پر اسلام کے نقطہ نظر سے تنقید کر کے حق و باطل کا فیصلہ کرنا محض تاریک خیالی ہے۔ زمانے کے ساتھ چلنے کی صورت بس یہ ہے کہ اسلام کو کسی نہ کسی طرح ان کے مطابق ڈھال دیا جائے۔
اس غرض سے جب انہوں نے اسلام کی مرمت کرنا چاہی تو انہیں بھی وہی مشکل پیش آئی جو قدیم زمانے میں معتزلہ کو پیش آئی تھی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اسلام کے نظام حیات کو جس چیز نے تفصیلی اور عملی صورت میں قائم کیا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ اسی سنت نے قرآن کی ہدایات کا مقصد اور منشا متعین کر کے مسلمانوں کے تہذیبی تصورات کی تشکیل کی ہے۔ اور اسی نے ہر شعبہ زندگی میں اسلام کے عملی ادارے مضبوط بنیاد پر تعمیر کر دیے ہیں۔ لہذا اسلام کی کوئی مرمت اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ اس سنت سے پیچھا چھڑایا جائے۔ اس کے بعد صرف قرآں کے الفاظ رہ جاتے ہیں جن کے پیچھے نہ کوئی عملی نمونہ ہوگا، نہ کوئی مستند تعبیر و تشریح ہوگی اور نہ کسی قسم کی روایات اور نظیریں ہوں گی۔ ان کو تاویلات کا تختہ مشق بنانا آسان ہوگا اور اس طرح اسلام بالکل ایک موم کا گولہ بن کر رہ جائے گا جسے دنیا کے ہر چلتے ہوئےفلسفے کے مطابق ہر روز ایک نئی صورت دی جا سکے گی۔
اس مقصد کے لیے انہوں نے پھر وہی تیکنیک، انہی دو حربوں کے ساتھ اختیار کیا جو قدیم زمانے میں اختیار کیا گیا، یعنی ایک طرف ان روایات کی صحت پر شک ڈالا جائے جن سے سنت ثابت ہوتی ہے، اوردوسری طرف سنت کو بجائے خود حجت و سند ہونے سے انکار کر دیا جائے۔ لیکن یہاں پھر حالات کے فرق نے اس تیکنیک اور اس کے حربوں کی تفصیلی صورت میں بڑا فرق پیدا کر دیا ہے۔ قدیم زمانے میں جو لوگ اس فتنے کا علم لے کر اٹھے تھے وہ ذی علم لوگ تھے۔ عربی زبان و ادب میں بڑا پایہ رکھتے تھے۔ قرآن، حدیث اور فقہ کے علوم میں کافی ورک رکھتے تھے اور ان کو سابقہ بھی اس مسلمان پبلک سے تھا، جس کی علمی زبان عربی تھی، جس میں عام لوگوں کا تعلیمی معیار بہت بلند تھا، جس میں علوم دینی کے ماہرین بہت بڑی تعداد میں ہر طرف پھیلے ہوئے تھے اور ایسی پبلک کے سامنے کوئی کچی پکی بات لا کر ڈال دینے سے خود اس شخص کی ہوا خیزی ہو جانے کا خطرہ تھا جو ایسی بات لے کر آئے۔ اسی وجہ سے قدیم زمانے کے معتزلہ بہت سنبھل کر بات کرتے تھے۔ اس کے برعکس ہمارے دور میں جو لوگ اس فتنے کو ہوا دینے کے لیے اٹھے ہیں ان کا اپنا علمی پایہ بھی سر سید کے زمانے سے لے کر آج تک درجہ بدرجہ ایک دوسرے سے فروتر ہوتا چلا گیا ہے، اور ان کو سابقہ بھی ایسی پبلک سے پیش آیا ہے جس میں عربی زبان اور دینی علومی جاننے والے کا نام “تعلیم یافتہ” نہیں ہے اور “تعلیم یافتہ” اس شخص کا نام ہے جو دنیا میں اور چاہے سب کچھ جانتا ہو، مگر قرآن پر بہت مہربانی کرے تو کبھی کبھی اس کو ترجموں ۔۔۔۔اور وہ بھی انگریزي ترجموں۔۔۔۔ کی مدد سے پڑھ لے، حدیث اور فقہ کے متعلق حد سے حد کچھ سنی سنائی معلومات ۔۔۔۔ اور وہ بھی مستشرقین کی پہنچائی ہوئی معلومات۔۔۔۔ پر اکتفا کرے، اسلامی روایات پر زیادہ سے زیادہ ایک اچٹتی ہوئی نگاہ ڈال لے اور وہ بھی اس حیثيت سے یہ کچھ بوسیدہ ہڈیوں کا مجموعہ ہے جسے ٹھکرا کر زمانہ بہت آگے نکل چکا ہے، پھر اس ذخیرۂ علم دین کے بل بوتے پر وہ اس زعم میں مبتلا ہو کہ اسلام کے بارے میں آخری اور فیصلہ کن رائیں قائم کرنے کی وہ پوری اہلیت اپنے اندر رکھتاہے۔ ایسے حالات میں پرانے اعتزال کی بہ نسبت نئے اعتزال کا معیار جیسا کچھ گھٹیا ہو سکتا ہے ظاہر ہے یہاں علم کم اور بے علمی کی جسارت بہت زیادہ ہے!
اب جو تیکنیک اس فتنے کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، اس کے اہم اجزاء یہ ہیں:
حدیث کے مشتبہ ثابت کرنے کے لیے مغربی مستشرقین نے جتنے حربے استعمال کیے ہیں ان پر ایمان لانا اور اپنی طرف سے حواشی کا اضافہ کر کے انہیں عام مسلمانوں میں پھیلا دینا تاکہ ناواقف لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کے سواکوئی چیز بھی امت کو قابل اعتماد ذرائع سے نہیں ملی ہے
احادیث کے مجموعوں کو عیب چینی کی غرض سے کھنگالنا ۔۔۔۔۔ ٹھیک اسی طرح جیسے آریہ سماجیوں اور عیسائی مشنریوں نے کبھی قرآن کو کھنگالا تھا ۔۔۔۔۔ اور ایسی چیزیں نکال نکال کر، بلکہ بنا بنا کر عوام کےسامنے پیش کرنا، جن سے یہ تاثر دیا جاسکے کہ حدیث کی کتابیں نہایت شرمناک یا مضحکہ خیز مواد سے لبریز ہیں، پھر آنکھوں میں آنسو بھر کر یہ اپیل کرنا کہ اسلام کو رسوائی سے بچانا ہے تو اس سارے دفتر بے معنی کو غرق کردو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب رسالت کو محض ایک ڈاکیے کا منصب قرار دینا جس کا کام بس اس قدر تھا کہ لوگوں کو قرآن پہنچا دے۔
صرف قرآن کو اسلامی قانون کا ماخذ قرار دینا اور سنت رسول کو اسلام کے قانونی نظام سے خارج کر دینا
امت کے تمام فقہاء، محدثین، مفسرین اور ائمہ لغت کو ساقط الاعتبار قرار دینا تاکہ مسلمان قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے ان کی طرف رجوع نہ کریں، بلکہ ان کے متعلق اس غلط فہمی میں پڑ جائیں کہ ان سب سے قرآن کی حقیقی تعلیمات پر پردہ ڈالنے کے لیے ایک سازش کر رکھی تھی۔
خود ایک نئی لغت تصنیف کر کے قرآن کی تمام اصطلاحات کے معنی بدل ڈالنا اور آیات قرآنی کو وہ معانی پہنانا جن کی کوئی گنجائش دنیا کےکسی عربی دان آدمی کو قرآن کے الفاظ میں نظر نہ آئے۔ (لطف یہ کہ جو صاحب یہ کام کر رہے ہیں ان کےسامنے قرآن کی چند آیتیں اعراب کے بغیر لکھ کر دی جائیں تو وہ انہیں صحیح پڑھ بھی نہیں سکتے۔ لیکن ان کا دعوی یہ ہے اب خود عرب بھی عربی نہیں جانتے اس لیے اگر ان کے بیان کردہ معنوں کی گنجائش کسی عرب کو قرآن کے الفاظ میں نظر نہ آئے تو قصور اس عرب ہی کا ہے) ۔
اس تخریبی کام کےساتھ ساتھ ایک نئے اسلام کی تعبیر بھی ہو رہی ہے جس کے بنیادی اصول تعداد میں صرف تین ہیں، مگر دیکھیے کہ کیسے بے نظیر اصول ہیں:
اس کا پہلا اصول یہ ہے کہ تمام شخصی املاک کو ختم کرکے ایک مرکزی تصرف میں دے دیا جائے اور وہی حکومت افراد کے درمیان تقسیم رزق کی مختار کل ہو۔اس کا نام ہے “نظام ربوبیت” اور کہا جاتا ہے کہ قرآن کا اصل مقصود یہی نظام قائم کرنا تھا۔ مگر پچھلے تیرہ سو سال میں کسی کو اسے سمجھنے کی توفیق میسر نہ ہوئی، صرف حضرت مارکس اور ان کے خلیفہ خاص حضرت اینجلز قرآن کے اس مقصد اصل کو پا سکے۔
اس کا دوسرا اصول یہ ہے کہ تمام پارٹیاں اور جماعتیں توڑ دی جائیں اور مسلمانوں کو قطعا کوئی جماعت بنانے کی اجازت نہ دی جائے، تاکہ وہ معاشی حیثیت سے بے بس ہو جانے کے باوجود اگر مرکزی حکومت کے کسی فیصلے کے خلاف مزاحمت کرنا چاہیں تو غیر منظم ہونے کی وجہ سے نہ کر سکیں۔
اس کا تیسرا اصول یہ ہے کہ قرآن میں جس “اللہ اور رسول” پر ایمان لانے، اور جس کی اطاعت بجا لانے اورجسے آخری سند تسلیم کرنے کا حکم دیا گیا ہےاسسے مراد ہے “مرکز ملت”۔ یہ مرکز ملت چونکہ خود “اللہ اور رسول” ہے۔ اس لیے قرآن کو جو معنی وہ پہنائے وہی اس کے اصل معنی ہیں۔ اس کے حکم یا قانون کے متعلق یہ سوال سرے سے اٹھایا ہی نہیں جا سکتا کہ وہ قرآن کے خلاف ہے۔ جو کچھ وہ حرام کرے وہ حرام اور جو کچھ وہ حلال کرے وہ حلال۔ اس کا فرمان شریعت ہے اور عبادات سے لے کر معاملات تک جس چیز کی جو شکل بھی وہ تجویز کرے اسکا ماننا فرض بلکہ شرط اسلام ہے۔جس طرح “بادشاہ” غلطی نہیں کر سکتا۔ اسی طرح “مرکز ملت” بھی سبوح و قدوس ہے۔ لوگوں کا کام اس کے سامنے بس سر جھکا دینا ہے۔ “اللہ اور رسول” نہ تنقید کے ہدف بن سکتے ہیں، نہ ان کے خطا کار ہونے کا کوئی سوال پیدا ہوتا ہے اور نہ ہی ان کو بدلا ہی جا سکتا ہے۔
اس نئے اسلام کے “نظام ربوبیت” پر ایمان لانے والے تو ابھی بہت کم ہیں لیکن اس کے باقی تمام تعمیری اور تخریبی اجزاء چند مخصوص حلقوں میں بڑے مقبول ہو رہے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کے لیے اس کا تصور “مرکز ملت” بہت اپیل کرنے والا ہے۔ اس لازمی شرط کے ساتھ کہ مرکز ملت وہ خود ہوں اور یہ خیال بھی انہیں بہت پسند آتا ہے کہ تمام ذرائع ان کے تصرف میں ہوں اور قوم پوری طرح غیر منظم ہوکر ان کی مٹھی میں آ جائے۔ ہمارے ججوں اور قانون پیشہ لوگوں کا ایک عنصر اسے اس لیے پسند کرتا ہے کہ انگریزی حکومت کے دور میں جس قانونی نظام کی تعلیم و تربیت انہوں نے پائی ہے، اس کے اصولوں اور بنیادی تصورات و نظریات اور جزئی و فروعی احکام سے اسلام کا معروف قانونی نظام قدم قدم پر ٹکراتا ہے۔ اور اس کے ماخذ تک بھی ان کی دسترس نہیں ہے، اس بنا پر وہ اس خیال کو بہت پسند کرتے ہیں کہ سنت اور فقہ کے جھنجھٹ سے انہیں نجات مل جائے اور صرف قرآن باقی رہ جائے جس کی تاویل کرنا جدید لغت کی مدد سے اب اور بھی زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ تمام مغربیت زدہ لوگوں کو یہ مسلک اپنی طرف کھینچ رہا ہے کیونکہ اسلام سے نکل کرمسلمان رہنے کا اس سے زیادہ اچھا نسخہ ابھی تک دریافت نہیں ہو سکا ہے۔ آخر اس سے زیادہ مزے کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ جو کچھ مغرب میں حلال اور “ملا کے اسلام” میں آج تک حرام ہے وہ حلال بھی ہو جائے اور قرآن کی سند ان حلال کرنے والوں کے ہاتھ میں ہو
اقتباس: سنت کی آئینی حیثیت از سید ابو الاعلیٰ مودودی

Google Buzz