<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ابوشامل &#187; جیو ٹی وی</title>
	<atom:link href="http://www.abushamil.com/tag/%d8%ac%db%8c%d9%88-%d9%b9%db%8c-%d9%88%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.abushamil.com</link>
	<description>مرے ہنگامۂ نو بہ نو کی انتہا کیا ہے</description>
	<lastBuildDate>Wed, 11 Aug 2010 04:31:19 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.1</generator>
		<item>
		<title>آہ موسٰی خان</title>
		<link>http://www.abushamil.com/moosa-khan-killing/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/moosa-khan-killing/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 23 Feb 2009 07:24:33 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[ذرائع ابلاغ]]></category>
		<category><![CDATA[free media]]></category>
		<category><![CDATA[geo tv]]></category>
		<category><![CDATA[History of Electronic Media in Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[Jang]]></category>
		<category><![CDATA[killings of journalists]]></category>
		<category><![CDATA[Moosa Khan Khail]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistani media]]></category>
		<category><![CDATA[role of media in Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[swat]]></category>
		<category><![CDATA[آزاد ذرائع ابلاغ]]></category>
		<category><![CDATA[آزادی صحافت]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ اخبار]]></category>
		<category><![CDATA[جیو ٹی وی]]></category>
		<category><![CDATA[صحافی قتل]]></category>
		<category><![CDATA[موسٰی خان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://abushamil.urdutech.com/?p=433</guid>
		<description><![CDATA[سوات میں &#8220;قیام امن&#8221; کے معاہدے کے محض چند گھنٹوں کے اندر معروف مقامی صحافی موسی خان خیل کا قتل صحافتی برادری کے لیے ایک اندوہناک واقعہ تھا۔ یہ خبر جہاں جنگ و شورش زدہ علاقوں میں صحافیوں کو درپیش مشکلات کو ظاہر کرتی ہے وہیں وابستہ اداروں کی بے پروائی کی بھی قلعی کھولتی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>سوات میں &#8220;قیام امن&#8221; کے معاہدے کے محض چند گھنٹوں کے اندر معروف مقامی صحافی موسی خان خیل کا قتل صحافتی برادری کے لیے ایک اندوہناک واقعہ تھا۔ یہ خبر جہاں جنگ و شورش زدہ علاقوں میں صحافیوں کو درپیش مشکلات کو ظاہر کرتی ہے وہیں وابستہ اداروں کی بے پروائی کی بھی قلعی کھولتی ہے۔<br />
جنگ و شورش زدہ علاقوں میں کام کرنے والے صحافی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر جس طرح رپورٹنگ کرتے ہیں، سامنے آنے والی خبر میں اس کا بہت کم اندازہ ہو پاتا ہے۔<br />
اس حوالے سے معروف صحافی عبد الحئی کاکڑ کا کہنا صد فی صد درست ہے کہ اخبارات و چینل مالکان کی اشتہاری دوڑ اور بریکنگ نیوز کلچر نے ایک اور صحافی کو ہم سے محروم کر دیا۔<br />
چاہے موسی خان کو کسی نے بھی قتل کیا ہو لیکن اس کی ذمہ داری اس ادارے پر بھی عائد ہوتی ہے جس سے وہ وابستہ تھے۔<br />
احتجاج و مذمتوں کے ڈھنڈورے تو بہت پیٹے جاتے ہیں لیکن کبھی جنگ زدہ علاقوں میں کام کرنے کی تربیت دینے یا خبر کے بجائے اپنی جان کو اولیت دینے کا اصول نہیں سکھایا جاتا۔ آزادی صحافت کی نام لیوا تنظیموں کو شورش زدہ علاقوں میں رپورٹنگ کے اصول مرتب کرنے اور اس حوالے سے صحافیوں کی تربیت کرنے کی کبھی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔<br />
ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں ٹی وی چینلز یہ بھول جاتے ہیں کہ رپورٹر کس کس عذاب کا شکار ہے اور کن گروہوں کی دھمکیوں کے باوجود ادارے کو خبریں بھیج رہا ہے۔ اس کے باوجود &#8220;ھل من مزید&#8221; کی صدا اور ہر وقت سر پر نوکری سے نکالے جانے کی لٹکتی ہوئی تلوار اس کا مقدر ہوتی ہے۔<br />
دوسری جانب ایڈیٹرز، پروڈیوسرز اور نیوز کاسٹرز کو بھی اس امر کی تربیت نہیں دی جاتی کہ انہوں نے شورش زدہ علاقوں میں موجود رپورٹرز سے کوئی ایسا سوال ہر گز نہیں کرنا جس کا جواب دینے پر وہ کسی گروہ کی &#8220;ہٹ لسٹ&#8221; پر آ جائے۔<br />
چینل مالکان براہ راست نشریات کے ذریعے دوسرے چینل سے سبقت لے جانے کے لیے کروڑوں روپے کی ڈی ایس این جی وین بھیجنے کو تو تیار ہیں لیکن صحافیوں کو تربیت دینے کو تیار نہیں کیونکہ انہیں اپنے رپورٹرز کی جان کی پروا ہی نہیں۔<br />
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ دھمکیاں ملنے کے بعد موسٰی خان مٹہ نہیں جانا چاہ رہے تھے لیکن ادارے کے اعلٰی حکام کی جانب سے دباؤ اور نوکری سے نکالے جانے کی دھمکیوں کے بعد وہ مذکورہ علاقے میں جانے پر مجبور ہوئے اور بالآخر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ واللہ اعلم۔
<div class="tweetmeme_button" style="float: right; margin-left: 10px;">
			<a href="http://api.tweetmeme.com/share?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Fmoosa-khan-killing%2F"><br />
				<img src="http://api.tweetmeme.com/imagebutton.gif?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Fmoosa-khan-killing%2F&amp;style=normal&amp;service=TinyURL.com" height="61" width="50" /><br />
			</a>
		</div>
<a class="google_buzz"  
href="http://www.google.com/reader/link?url=http://www.abushamil.com/moosa-khan-killing/&title=آہ+موسٰی+خان&srcURL=http://www.abushamil.com" target="_blank" rel="nofollow"><img
src="http://www.abushamil.com/wp-content/plugins/google-buzz-button-for-wordpress/images/google-buzz.png" alt="Google Buzz" /></a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/moosa-khan-killing/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
