ٹیگ: ’سیرت طیبہ‘


اعجازِ سیرتِ طیبہ

حضورؐ کی سیرت ِطیبہ خیال نہیں ہے، فلسفہ نہیں ہے، تاریخ نہیں ہے، تشبیہ و استعارہ نہیں ہے، علامت نہیں ہے۔ وہ ٹھوس تجربہ ہے۔ لا زمانی تجربہ۔ ایسا تجربہ جو ہر زمانے کے ذہنی اور نفسیاتی سانچے کے لیے کفایت کرتا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے زمانے تک آتے آتے یہ صورت حال ہوگئی ہے کہ ہم یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہوتے جارہے ہیں کہ کوئی رشوت اور بے ایمانی کے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ بھلا کوئی شخص ایسی بات کیسے کہہ سکتا ہے جس میں اس کا ذاتی مفاد نہ ہو۔ جیسے جیسے وقت گزرے گا یہ معاملات سنگین ہوں گے۔ مغرب میں اگر مذہب کو تخیلاتی شے اور انسانی ذہن کے ارتقاء کی ابتدائی منزل سمجھا گیا تو اس کی یہی وجہ تھی کہ لوگ مذہبی تجربے کو سمجھنے سے یکسر قاصر ہوگئے۔ لیکن سیرت ِطیبہ کے “تجربے” میں وہ قوت ہے کہ وہ پندرہ سو برسوں کے دو سِروں کو باہم مربوط کرسکتا ہے۔ کمال کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ معمول بن جائے اور اس وجہ سے کمال محسوس نہ ہو۔ سیرت ِطیبہ کا ایک پہلو یہ ہے کہ آپ کے بارے میں ‘بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر’ کہا گیا ہے اور بالکل درست کہا گیا ہے، لیکن دوسری جانب آپ نے ایسی زندگی بسر کی جو عام انسانوں کے حوصلوں کو بھی عمل کے لیے مہمیز دیتی ہے، ان کے حوصلوں کو پست نہیں کرتی۔ (شاہنواز فاروقی)

Google Buzz