ٹیگ: ’فرینڈلی فائر‘


شکست تسلیم، مگر اعلان بعد میں فتح کے تاثر کے ساتھ

تحریر: زبیر انجم صدیقی

گزشتہ دنوں “ایک اطلاع” کے عنوان سے ایک تحریر سامنے آئی جس میں کہا گیا تھا کہ رواں صدی کی سب سے بڑی خبر یہ ہے افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شکست ہو چکی ہے۔ کیونکہ یہ ایک تحریر محض مجذوب کی بڑ نہیں تھی بلکہ تحریر میں اس دعوے کو تاریخ کے تناظر میں گہرے منطقی دلائل اور زمینی حقائق کے ساتھ پیش کیا گیا تھا اس لئے اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا۔ مگر بعد میں پیش آنے والے واقعات اس “دعوے” کے صائب ہونے کو ثابت کرتے چلے گئے۔

28 فروری کو برطانوی فوج کے سربراہ ڈیوڈ جنرل رچرڈ کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ افغان جنگ 2011ء میں ختم ہو جائے گی۔ مگر ہمارا اندازہ یہی ہے کہ افغان جنگ 2009ء کے وسط ہی میں ختم ہو گئی تھی۔ اور اس کے بعد سے اس جنگ کو سمیٹنے کا عمل جاری ہے۔ اور یہ جنگ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی نہیں بلکہ افغان مزاحمت کاروں کی فتح پر منتج ہوئی ہے۔ دسمبر میں ایک اور امریکی دفاعی میگزین کی یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ کابل کے علاوہ افغانستان کے جنوبی، جنوب مشرقی اور مشرقی صوبوں میں کم و بیش 60 فیصد پولیس اور فوج کے اہلکار طالبان سے جا ملے ہیں۔ اور باقی ماندہ بھی بمشکل ہی طالبان کے خلاف لڑنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کچھ واقعات ایسے پیش آئے جس نے افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی شکست کے آثار کو نمایاں کر دیا ہے۔ 30 جنوری کو جنوبی افغانستان میں دو امریکی فوجیوں کو ان کے افغان مترجم نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ جس کے بعد اس مترجم کو بھی فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔ فروری میں ایک اور واقعہ پیش آیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قابض افواج کس طرح کے خطرات سے دو چار ہیں۔ فروری کے وسط میں مشرقی صوبے قندوز کے ضلع امام صاحب میں ایک کارروائی کے دوران اتحادی افواج اور افغان سیکیورٹی فورسز مد مقابل آ گئیں۔ جس میں سات افغان پولیس اہلکار مارے گئے۔ نیٹو نے اس واقعے کو “فرینڈلی فائر” قرار دیا ۔ اس طرح کے واقعات اب افغانستان میں معمول بنتے جارہے ہیں جس میں افغان سیکیورٹی اہلکار اور اتحادی فوجی ایک دوسرے کے خلاف بندوقیں تان لیتے ہیں۔ 30 جنوری کو خوست میں سی آئی اے کے مرکز پر ہمام البلاوی کے خود کش حملے کے واقعے نے انٹیلی جنس جمع کرنے کے میدان میں بھی امریکہ کے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچ لی ہے۔ تاریخ کا ادراک رکھنے والوں کو اس بات کا علم تو ضرور تھا کہ افغانستان میں قابض افواج کی شکست یقینی ہے۔ مگر 2009ء میں صورتحال اس ڈرامائی انداز میں تبدیل ہوگی اس کا اندازہ شاید طالبان کو بھی نہیں تھا۔

“ایک اطلاع” کے عنوان سے شائع ہونے والے کالم میں کہا گیا تھا کہ اگر یہ شکست امریکہ کے بجائے افغان مزاحمت کاروں کو ہوتی تو یہ مغربی ذرائع ابلاغ پر کئی مہینوں تک بریکنگ نیوز کی طرح نشر کی جاتی۔ مگر اس وقت مسلمانوں کے پاس ایسا کوئی ذریعہ ہی نہیں ہے کہ وہ اس “خبر” کو نشر کریں اور اس کامیابی کا جشن منا سکیں۔ اندازہ یہی ہے کہ اس وقت پاکستان میں اوباما انتظامیہ اور پینٹاگون کے اعلی عہدیداروں کی “آنیاں جانیاں” افغان جنگ کو سمیٹنے کی سرگرمیوں کا حصہ ہیں۔ اور اگر آئندہ چند دنوں میں نیویارک ٹائمز یا واشنگٹن پوسٹ میں یہ خبر شائع ہوتی ہے کہ پاکستان کے ذریعے طالبان قیادت سے امریکہ کے مذاکرات جاری ہیں تو یہ خبر کم از کم ہمارے لئے باعث حیرت نہیں ہو گی۔ میرا خیال ہے کہ ملک کے نامور تجزیہ کاروں کو اب اس بارے میں سوچنا اور لکھنا چاہیے کہ افغانستان میں امریکہ اور اتحادیوں کی شکست کے عالمی اور علاقائی اثرات اور مضمرات کیا ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ صرف افغان مزاحمت کاروں کی کامیابی نہیں بلکہ ایک عالمی طاقت کی شکست ہوگی۔ اور تاریخ کا ادراک رکھنے والے اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ کسی بھی عالمی طاقت کی شکست کے اثرات اور مضمرات ہمہ گیر اور دور رس ہوا کرتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ مجھے آمادہ تحریر کرنے والی کرشماتی شخصیت نے اپنے 25 فروری کے کالم میں اس بارے میں کیا لکھا ہے:

انسانی ساختہ نظریوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہوتی ہے کہ وہ عارضی اور وقتی ہوا کرتے ہیں۔ ان کی ایک طبعی عمر ہوتی ہے، طبعی عمر پوری ہوتے ہی انسانی ساختہ نظریہ فنا ہو جاتا ہے۔ سوشلزم کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ 70 سال میں سوشلزم کی نظریاتی کشش کم ہو چکی تھی اور وہ ریاستی طاقت کے سہارے کھڑا تھا۔ چنانچہ جیسے ہی ریاستی طاقت اس کی پشت سے ہٹی سوشلزم منہ کے بل گر گیا۔ چونکہ سوشلزم کا پھیلاؤ عالمگیر تھا اس لئے اس کی پسپائی بھی عالمگیر ثابت ہوئی۔

برطانیہ، فرانس، ہالینڈ، جرمنی اور کینیڈا سمیت امریکہ کے تمام اتحادی ممالک سے افغانستان کے بارے میں جو اعلانات آ رہے ہیں وہ شکست ہی کا اظہار ہیں۔ چاہے وہ فوج واپس بلانے کا اعلان ہوں یا افغانستان میں مزید فوج بھیجنے سے انکار۔ مگر امریکہ کی قیادت میں قائم اتحاد کا رویہ بظاہر یہی نظر آرہا ہے کہ شکست کا اعلان تو کیا جاسکتا ہے مگر فتح کے تاثر کے ساتھ۔ درج ذیل آزاد نظم آپ اس بلاگ پر ایک بار پہلے بھی پڑھ چکے ہیں دوبارہ پڑھنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ جو گیارہ ستمبر سے کئی سال پہلے لکھی گئی تھی۔
بغاوت ہو چکی ہے
گو میں اسباب بغاوت کو بیاں کرنے سے قاصر ہوں
مگر میں دیکھتا ہوں کوئی منظر آنکھ کو قائل نہیں کرتا
سماعت کا گڑھا نغموں سے پر ہو کر بھی خالی ہے
سواد روح میں جیسے بدن کے راز رقصاں ہیں
ادھر شہر بدن میں روح کے چرچے کا فیشن ہے
دلیلیں جس قدر تھیں عقل کے کوٹھے پہ جا بیٹھیں
تصوف احمد جاوید کی چوکھٹ پہ بیٹھا ہے
بنی آدم کو وہ پانی فراہم ہے کہ جس میں پیاس شامل ہے
یہ پانی چشمہ مغرب سے آتا ہے
سنا یہ ہے کہ اب اس کے سوا چشمہ نہیں کوئی
یہ عالم آتش دل کا کہ اس پر چار کپ چائے بنانی ہو تو مشکل ہو
چلو اچھا ہوا تاریخ بھی انجام کو پہنچی
بغاوت ہو چکی ہے
گو میں آغاز بغاوت کو عیاں کرنے سے قاصر ہوں
کہ میں تو صرف شاعر ہوں

Google Buzz