عہد حاضر کی جاہلیت
موجودہ انسانی زندگی کی بنیادیں اور ضابطے جس اصل اور منبع سے ماخوذ ہیں اس کی رو سے اگر دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ آج ساری دنیا “جاہلیت” میں ڈوبی ہوئی ہے اور جاہلیت بھی اس رنگ ڈھنگ کی ہے کہ یہ حیرت انگیز مادی سہولتیں اور آسائشیں اور بلند پایہ ایجادات بھی اس کی قباحتوں کو کم یا ہلکا نہیں کر سکتیں۔ اس جاہلیت کا قصر جس بنیاد پر قائم ہے، وہ ہے اس زمین پر خدا کے اقتدار اعلی پر دست درازی، اور حاکمیت جو الوہیت کی مخصوص صفت ہے اس سے بغاوت۔ چنانچہ اس جاہلیت سے حاکمیت کی باگ ڈور انسان کے ہاتھ میں دے رکھی ہے۔ اور بعض انسانوں کو بعض دوسرے انسانوں کے لیے ارباب من دون اللہ کا مقام دے رکھا ہے۔ اس سیدھی سادی اور ابتدائی صورت میں نہیں جس سے قدیم جاہلیت آشنا تھی بلکہ اسی طنطنے اور دعوے کے ساتھ کہ انسانوں کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ خود افکار و اقدار کی تخلیق کریں، شرائع و قوانین وضع کریں اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کے لیے جو چاہیں نظام تجویز کریں۔ اور اس سلسلے میں انہیں یہ معلوم کرنے کی قطعا کوئی ضرورت نہیں کہ اللہ تعالی نے انسانی زندگی کے لیے کیا نظام اور لائحہ عمل تجویز کیا ہے، کیا ہدایت نازل کی ہے اور کس صورت میں نازل کی ہے۔ اس باغیانہ انسانی اقتدار اور بے لگام تصور حاکمیت کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ خلق اللہ ظلم و جارحیت کی چکی میں پس رہی ہے۔ چنانچہ اشتراکی نظاموں کے زیر سایہ انسانیت کی جو تذلیل ہو رہی ہے، یا سرمایہ دارانہ نظاموں کے دائرے میں سرمایہ پرستی اور رجوع الارضی کے عفریت نے افراد و اقوام پر ظلم و ستم کے جو پہاڑ توڑ رکھے ہیں وہ دراصل اسی بغاوت کا ایک شاخسانہ ہے، جو زمین پر خداوند تعالی کے اقتدار کے مقابلے میں دکھائی جا رہی ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو جو تکریم اور شرف عطا کیا ہے انسان اسے خود اپنے ہاتھوں پامال کر کے نتائج بد سے دوچار ہے۔
اسلام اور جاہلیت کا اصل اختلاف
اس بارے میں صرف اسلامی نظریۂ حیات ہی منفرد خصوصیت کا علمبردار ہے۔ اسلامی نظام حیات کے سوا آپ جس نظام کو بھی لیں گے آپ دیکھیں گے کہ اس میں انسان دوسرے انسانوں کی کسی نہ کسی شکل میں عبودیت کرتا نظر آتا ہے۔ صرف اسلام ہی ایک ایسا نظام حیات ہے جس میں انسان اپنے ہی جیسےدوسرے انسان کی عبودیت سے آزاد ہو کر صرف خدائے واحد کی عبودیت اور بندگی کے لیے مخصوص ہو جاتا ہے، صرف اللہ کی بارگاہ سے رشد و ہدایت کی روشنی حاصل کرتا ہے اور صرف اسی کے آگے سرافگندہ ہوتا ہے۔
یہی وہ نقطہ ہے جہاں اسلام اور غیر اسلامی طرز حیات کی راہیں جدا ہو جاتی ہیں۔ یہ ہے وہ نیا اور نرالا تصور زندگی جسے ہم انسانیت کی خدمت میں آج پیش کر سکتے ہیں۔ یہ تصور نسانی زندگی کے تمام عمدہ پہلوؤں پرگہرے اثرات ڈالتا ہے۔ یہی وہ نادر خزانہ ہے جس سے آج انسانیت محروم ہے۔ اس لیے مغربی تہذیب اس سلسلے میں بانجھ ہے، اور یورپ کی حیران کن تخلیقی صلاحیتیں بھی اس خزانے تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔
یہ بات ہم پورے دعوے سے کہتے ہیں کہ ہم ایک ایسے نظام حیات کے داعی ہیں جو نہایت درجہ کامل اور ہر لحاظ سے منفرد و ممتاز ہے۔ پوری نوع انسانی ایسے گنج گراں مایہ سے خالی ہے۔ دیگر مادی مصنوعات کی طرح اسے “پیدا” کرنے کی قدرت نہیں رکھتی۔ لیکن اس نظام نو کی خوبی اس وقت تک نمایاں نہیں ہو سکتی جب تک اسے عمل کے قالب میں نہ ڈھالا جائے۔ پس یہ ضروری ہے کہ ایک امت عملا اپنی زندگی اس کے مطابق استوار کرکے دکھائے۔ اس مقصد کو بروئے کار لانے کے لیے ضروری ہے کہ کسی ایک اسلامی ملک میں احیائے دین کی مہم کی طرح ڈالی ۔ احیائے نو کی یہی وہ ناگزیر کوشش ہے، جو طویل یا مختصر مسافت کے بعد بالآخر انسانی امامت و قیادت کے قبضہ پر منتج ہوگی۔
اقتباس: معالم فی الطریق از سید قطب (اردو ترجمہ: خلیل احمد حامدی)







