ٹیگ: ’مصحف عثمانی‘


ڈاکٹر محمد صابر اور ڈاکٹر حمید اللہ

ڈاکٹر محمد صابر پاکستان کے واحد ماہر ترکیات اور پاکستان میں ترکی زبان کے چند ماہرین میں سے ایک ہیں۔ آپ 1958ء میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی سند حاصل کرنے کے بعد ترکی زبان و ادب پر پی ایچ ڈی کے لیے اسکالرشپ پر استنبول گئے اور معروف ترک شاعر میر علی شیر نوائی کی مثنوی “حیرت الابرار” پر پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل کی۔
ڈاکٹر صابر کے بارے میں میں نے پہلی بار ڈاکٹر حمید اللہ کے توسط سے پڑھا۔ انہوں نے اپنے استاد ڈاکٹر حمید اللہ کے بارے میں لکھی گئی کتاب “ڈاکٹر محمد حمید اللہ” میں ایک مضمون “ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے ساتھ تین سال” تحریر کیا جو ان کی 1958ء سے 1961ء تک جامعہ استنبول کی یادوں پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر حمید اللہ ان دنوں جامعہ استنبول میں اعزازی لیکچرر تھے۔ دونوں حضرات کا رابطہ بذریعہ خط و کتابت بھی طویل عرصہ تک قائم رہا۔
ڈاکٹر صابر 1967ء میں “ترکانِ عثمانی” کے نام سے عثمانی ترکوں کی تاریخ مرتب کر چکے ہيں جو غالباً آج بھی جامعہ کراچی اور ملک کے کئی تعلیمی اداروں میں اسلامی تاریخ کے نصاب کا حصہ ہے۔ “ترکی-اردو لغت” کے علاوہ آپ ترکی کے معروف شاعر محمد عاکف ایرصوئے کی حیات و خدمات پر ایک کتاب لکھ چکے ہیں۔ علاوہ ازیں آپ نے اکبر کے اتالیق اور ترکمان جنگجو بہرام خانِ خاناں کے ترکی دیوان کو بھی مرتب کیا ہے۔
بہرحال ڈاکٹر محمد صابر کا مذکورہ مضمون بہت معلومات افزاء ثابت ہوا اور اس نے مجھے کچھ نئی تحقیق پر آمادہ کیا ہے، بہرحال میں تحقیق کے نتائج پر ضرور تبصروں کروں گا۔
موصوف لکھتے ہیں کہ ترکی میں مصطفی کمال کے دور کے نتیجے میں اسلام پر لگائی گئی سخت پابندیوں کے خلاف زبردست جدوجہد کے بعد 1956ء میں انقرہ سے ایک رسالہ نکالا گیا جس کا نام “اسلام” تھا۔ دنیا بھر میں رسالے کے جو نمائندے مقرر ہوئے ان میں کراچی سے محمد صابر صاحب کا انتخاب ہوا اور وہ محمد صابر احسان اوغلو (یعنی ابن احسان) کے نام سے لکھا کرتے تھے۔ آپ نے مولانا مودودیؒ کی مختصر سوانح بھی تحریر کی جو ماہنامہ اسلام انقرہ کے مئی 1956ء کے شمارے میں شایع ہوئی اور سائیکلو اسٹائل کرا کے ملک بھر میں تقسیم کی گئی۔ ڈاکٹر صابر بتاتے ہیں کہ جب اکتوبر 1958ء میں استنبول پہنچے تو ان کی پہلی ملاقات معروف ترکی ادیبہ خالدہ ادیب خانم سے ہوئی جو اس وقت جامعہ استنبول سے انگریزی کی استاد کی حیثیت سے ریٹائر ہو چکی تھیں۔ موصوف بتاتے ہیں کہ جامعہ میں ان کی جن صاحب سے دوسری ملاقات ہوئی انہیں وہ پہلی ملاقات میں پاکستانی سمجھے اور ان کی وضع قطع، نرم گفتاری اور بردباری سے بہت متاثر ہوئے۔ استفسار پر محمد صابر نے بتایا کہ وہ ڈاکٹریٹ کرنے آئے ہیں اور ترکی زبان سے واقف ہیں جن پر وہ بہت حیران ہوئے کہ آج تک ہندوستان و پاکستان سے کوئی ایسا طالبعلم نہیں دیکھا جو ترکی میں ترکی بولتا ہواآیا ہو جس پر صابر صاحب ان کے مشکور ہوئے اور تعارف کا تقاضہ کیا جس پر بتایا گیا کہ احقر محمد حمید اللہ ہے ۔ اب صابر صاحب نے رسالہ “اسلام” کا حوالہ دیا تو ڈاکٹر حمید اللہ نے حیرانگی سے پوچھا کہ آپ ہی ہیں احسان اوغلو؟ میں تو سمجھا تھا کہ کراچی میں کوئی ترک ہوگا۔ ڈاکٹر صابر کے مطابق یہ یادگار ملاقات مارچ 1959ء میں ہوئی تھی۔
ڈاکٹر صابر نے قیام استنبول کے دوران ایک ہندوستانی ظفر حسن ایبک سے دوستی استوار کر لی تھی جو دراصل پنجاب کے رہنے والے تھے اور برطانوی ہند کی پنجاب رجمنٹ کے ایک افسر تھے جسے پہلی جنگ عظیم میں ترکوں کے خلاف جنگ کے لیے میدان میں اتارا گیا تھا لیکن وہ بغاوت کر کے اپنے ساتھیوں سمیت مصطفی کمال کی فوج میں شامل ہو گئے۔ اب وہ ترکی ہی میں قیام پذیر ہیں اور ترک شہریت کے حامل ہیں۔ حسن ایبک نے ایک ترکی-اردو لغت مرتب کی تھی اور میری تجویز پر 1968ء میں اس کی ایک نقل مجھے ارسال کی اور انہوں نے اسے شایع کرایا۔ ڈاکٹر صابر نے 1959ء میں ترکی کی جنگ آزادی کے ہیرو عصمت انونو سے بھی ملاقات کی جو اس وقت حزب اختلاف کے رہنما تھے۔ بعد ازاں 1961ء میں ترکی کی وزارت عظمی سنبھالنے کے بعد انونو نے ڈاکٹر صابر کے مطالبے پر جامعہ کراچی میں شعبہ علوم ترکیات کے قیام کی ہدایت دی۔ لیکن شیخ الجامعہ کراچی آئی ایچ قریشی کی بھرپور کوششوں کے باوجود بھی حکومتی عدم دلچسپی اور مالی مدد نہ ہونے کے باعث بدقسمتی سے یہ شعبہ کبھی قائم نہ ہو سکا۔
آپ بتاتے ہیں کہ ڈاکٹر حمید اللہ کے مطابق قرآن مجید کے مصحف عثمانی کے جو نسخے اس وقت دنیا میں موجود ہیں ان میں سے استنبول کے توپ قاپی سرائے عجائب گھر میں موجود نسخہ اصل میں وہی نسخہ ہے جس کی تلاوت کے دوران حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا۔ ڈاکٹر حمید اللہ کے مطابق اس نسخے میں خون کے چھینٹے سورۂ بقرہ کی آیت 137 پر ہیں اور تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اس وقت انہی آیات کی تلاوت کر رہے تھے۔ اس لیے وہ استنبول والے نسخے کو زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ بہرحال کراچی کے قومی عجائب گھر میں تاشقند والے نسخے کی نقل موجود ہے جو باباخانوف نے صدر پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خان کو بنوا کر دی تھی۔
ڈاکٹر محمد صابر نے ایک مرتبہ ڈاکٹر حمید اللہ سے پوچھا کہ آپ پاکستان میں دستور سازی کے لیے گئے اور پھر ناراض ہو کر واپس آ گئے اس کی وجہ؟ تو ڈاکٹر حمید اللہ نے فرمایا کہ مجھے قرارداد مقاصد کی روشنی میں سفارشات پیش کرنے اور مصادر سے مطلع کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا لیکن جب دیکھا یہ لوگ اِدھر اُدھر کی باتوں میں وقت ضایع کر رہے ہیں، اور پھر ایک اعلی حکومتی عہدیدار نے مجھے جب یہ کہا کہ مولانا ہم آپ کو اعتدال پسند سمجھتے تھے، آپ کی سفارشات تو بڑی سخت ہیں تو میں نے ناراض ہو کر کہا کہ آپ کسی اور سے مشورہ کر لیں کیونکہ میں تو قرآن و سنت کے مطابق ہی رائے دے سکتا ہوں۔ یوں ڈاکٹر حمید اللہ اس سلسلے میں دوبارہ کبھی پاکستان نہیں آئے۔ علاوہ ازیں وہ ڈاکٹر علی صدیقی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر حمید اللہ پاکستانی شہریت اختیار کرنے پر تیار تھے لیکن ان سے اتنے سوالات کیے گئے اور اتنے کاغذات طلب کیے گئے کہ وہ بد دل ہو گئے۔ وہ اس کو اپنی توہین سمجھتے تھے کہ مجرموں کی طرح اسناد و کاغذات پیش کرتے جائیں۔

Google Buzz