ٹیگ: ’مہنگائی‘


ملک میں چینی نہیں ہے

ویسے تو خدا نے انسان کو بھلکڑ ہی پیدا کیا ہے لیکن جتنی بھلکڑ ہماری قوم ہے شاید ہی دنیا کی کوئی اور قوم ہو۔ ابھی گزشتہ نیم جمہوری دور حکومت میں چینی کا ایک زبردست بحران آیا تھا جس کا سبب ہمیشہ قیمتوں میں اضافہ کروانا تھا۔ جیسا کہ ابھی ہوا ہے کہ چینی کی قیمت 36 سے 50 پر پہنچ چکی ہے۔ گزشتہ بحران میں کتنی شدت تھی اس کا کچھ اندازہ آپ کو انور مقصود اور معین اختر کی مندرجہ ذیل گفتگو سے ہو سکتا ہے۔ تینوں وڈیوز دیکھنا شرط ہے:

Google Buzz

رمضان اور عوام

دنیا بھر میں خصوصاً ترقی یافتہ ممالک میں اہم تہواروں کے موقع پر عوام کو خصوصی رعایت اور سہولیات دی جاتی ہیں لیکن غریب ممالک میں عقیدت و تکریم کے حامل روایتی و مذہبی تہوار عوام کے لیے نئے مسائل کا باعث بن جاتے ہیں۔

رمضان المبارک کا مہینہ اسلامی تقویم (calender) میں خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں مسلمان تزکیۂ نفس کے لیے روزے رکھتے ہیں اور خصوصی عبادات کا اہتمام کرتے ہیں۔

ماہ رمضان میں روزے کے لیے سحری و افطار کو خاص اہمیت دی جاتی ہے، رمضان کی اہم سوغاتیں کھجلہ، پھینی، پکوڑے، سموسے اور جلیبیاں ہر گھر کی زینت بنتی ہیں اور ہر روز نت نئے پکوان پکائے جاتے ہیں تاکہ دن بھر بھوکا پیاسا رہنے والے روزہ داروں کی طمانیت کا سامان کیا جا سکے اور کھانے پکانے کے حوالے سے رمضان المبارک کی یہی اہمیت ہمارے ایمان فروش باشندوں کو عوام کو لوٹنے کا سالانہ موقع فراہم کرتی ہے۔

ایک جانب جہاں گزشتہ چند سالوں سے مہنگائی کے طوفان نے عوام کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور سبزی، دال، گوشت، آٹے، اناج اور دیگر بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے اس صورتحال میں رمضان المبارک عوام کے لیے مہنگائی کا ایک نیا طوفان ثابت ہو رہا ہے۔

سال رواں کیونکہ مہنگائی کے حوالے سے پرانے تمام ریکارڈز توڑ چکا ہے اس لیے یہ ماہِ مقدس بھی ریکارڈ اہمیت کا حامل لگتا ہے۔ ابھی گزشتہ روز کراچی کے صدر بازار میں پھلوں کی قیمتیں پوچھنے کا اتفاق ہوا تو دماغ ٹھکانے آ گیا۔ انگور 120 سے 150 روپے کلو، سیب 40 سے 50، آڑو 70 سے 80، خربوزہ 50 سے 60، کھجور (ایرانی) 200 اور کیلا 50 روپے درجن۔ یہ تمام پھل درمیانے درجے کے ہی تھے جبکہ ان کی قیمتیں درجۂ اول سے بھی آگے کی تھیں۔ یہ قیمتیں سننے کے بعد مزید پھلوں کی قیمتیں سننے کا حوصلہ نہ رہا اور زندگی میں پہلی مرتبہ رمضان میں اخراجات کو کچھ کنٹرول کرنے کے بارے میں سوچا۔ دیگر اشیائے ضرورت کا احوال تو روزانہ ہی اخبارات کی زینت بن رہا ہے۔ اس وقت پنجاب میں آٹے کا بحران سر فہرست ہے۔ دوسری جانب لاہور میں سبزی منڈی کے آڑھتیوں نے بھی ہڑتال کی دھمکی دے رکھی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ مقررہ قیمتوں پر سبزی پھل فروخت نہيں کر سکتے اور اگر زبردستی کی گئی تو وہ کام بند کر دیں گے۔ بالکل یہی صورتحال آٹے کے سلسلے میں بھی پیش آئی جہاں مل مالکان نے چابیاں حکومت کے حوالے کر دیں کہ لیں آپ چلا لیں ملیں، ہم اس قیمت پر آٹا نہیں بیچیں گے۔

لیکن اس تمام صورتحال کے باوجود روایتی جوش و خروش میں ذرہ برابر کمی دیکھنے میں نہیں آ رہی بلکہ کئی مقامات پر تو توقعات سے کہیں زیادہ رش دکھائی دیا جیسے شاہراہ فیصل پر واقع بین الاقوامی چین اسٹور MAKRO (میکرو) کے مرکز پر رش تو قابل دید تھا۔

بہرحال اس امر میں تو کوئی شک نہیں کہ غریب طبقہ اس مہنگائی سے بہت زیادہ متاثر ہو رہا ہے اور اس کے لیے ماہ مقدس میں جینا اور زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ ایک جانب جہاں مختلف اشیائے ضرورت کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے عوام کو پریشان کیے رکھا ہے تو اس ماہ میں دیگر مسائل بھی سامنے آئے ہیں جن میں سر فہرست ٹریفک جام کا مسئلہ ہے۔

کراچی جیسا بڑا شہر جہاں ویسے ہی ٹریفک کے گوناگوں مسائل ہیں، اس ماہ مقدس میں ان میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ خصوصاً صبح و شام کے دفتری اوقات میں کراچی کی ہر سڑک پر گاڑیوں کی طویل قطاریں نظر آتی ہیں۔ دفتر کے لیے کیونکہ میرا راستہ شہر کی سب سے بڑی سڑک شاہراہ فیصل سے گزرتا ہے اس لیے عام دنوں میں اتنے زیادہ مسائل کا شکار نہیں ہوتا لیکن رمضان شروع ہوتے ہی گویا شہر بھر کا ٹریفک اسی شاہراہ پر امڈ آیا ہے۔ وجہ دراصل یہ ہے کہ رمضان سے قبل دفتری اوقات صبح 9 بجے شروع ہوتے ہیں اور اسکول 8 بجے لیکن ماہ مقدس میں دفتری اوقات میں معمولی ردو بدل واقع ہونے سے دفاتر اور اسکولوں، کالجوں، جامعات اور دیگر تعلیمی اداروں کے طلباء کی گاڑیاں اور دفتر کے جانے لیے والے افراد کی گاڑیاں بیک وقت سڑکوں پر آ جاتی ہیں جس سے ٹریفک کی روانی کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پہلے میں دفتری وقت سے ایک گھنٹہ پہلے گھر سے نکلتا تھا اور بروقت پہنچ جاتا تھا اب ڈیڑھ گھنٹہ پہلے نکلتا ہوں اور ایک دن تو بروقت نہ پہنچ پایا اور دو دن بمشکل پہنچ سکا۔

اب آتے ہیں کہ ان دونوں بڑے مسائل کا حل کیا ہے؟ پہلے مسئلے کا حل تو مجھے یہ دکھائی دے رہا ہے کہ اگر کوئی چیز آپ کی پہنچ سے باہر ہے تو آپ اسے بالکل نہ خریدیں۔ اصل میں رمضان کا اصل پیغام ہی تزکیۂ نفس اور صبر ہے لیکن ہم اپنی نئی نسل کو یہ سبق پڑھانے کے بجائے اس ماہ کو کھانے پینے کا مہینہ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ اس لیے ایک تو یہ کیا جا سکتا ہے کہ ایک روز افطار کے تمام لوازمات دسترخوان پر رکھے جائیں اور دوسرے روز صرف کھانا۔اس سے نہ صرف اچھی بچت ہو سکتی ہے بلکہ بچوں کی اچھی تربیت بھی ہوگی اور انہیں رمضان کا اصل پیغام “ایثار، صبر اور تزکیۂ نفس” ملے گا۔

دوسرے مسئلے کا حل تھوڑا مشکل ہے لیکن اس سے نمٹنے کے لیے مقامی شہری حکومت کی کوششیں قابل ستائش دکھائی دیتی ہیں۔ رضاکار فورس کے ذریعے ٹریفک کو سنبھالنے کی بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں صرف اور صرف اسے منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم عوام کے ہاتھ میں لے دے کر ایک ہی حل رہ جاتا ہے کہ تعلیمی اداروں اور دفاتر کے لیے جتنا جلدی ممکن ہو سکے گھر سے نکل جائیں تاکہ بروقت پہنچ سکیں۔

اللہ تعالٰی ہمیں اس ماہ مبارک کی برکتیں بھرپور طریقے سے سمیٹنے کا موقع فراہم کرے (آمین)۔

Google Buzz

ایک اور ضربِ کاری!!

“کرایہ پورا دو ورنہ اتر جاؤ”
“لسٹ دکھاؤ کہاں ہے؟”
“ڈیزل میں 10 روپیہ بڑھ گیا وہ نئیں دیکھتا تم؟”
“فی سواری 4 روپیہ بڑھانا کہاں کا انصاف ہے؟”
“ام کیا کرے؟ ام نے تو ڈیزل پر پیسہ نئیں بڑھایا”
“اترو نیچے، اترو!!!!”
یہ وہ صدائیں ہیں جو گزشتہ دو روز سے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کے دوران کانوں میں گونج رہی ہیں بلکہ کئی بار تو کان پھاڑ قسم کی ہوتی ہیں۔ اور یہ پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال اور مطالبات کو تسلیم کیے جانے کے بعد معمول کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔
حالانکہ موجودہ حکومت روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر میدان میں آئی ہے اور انتخابات میں گزشتہ حکومت کے جو “مظالم” گنوا کر عوام سے ہمدردی کے ووٹ بٹورے گئے ان میں سرفہرست مہنگائی کا مسئلہ تھا اور اس مسئلے کی بنیادی وجہ گزشتہ دور حکومت میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والا روز بروز اضافہ تھا لیکن “عوام دوست” حکومت کے انتخابات جیتنے کے بعد سے اب تک 7 مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 61 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔ فروری 2008ء کے اختتام پر پٹرول کی قیمت 53 روپے 70 پیسے تھی جو اب 86 روپے 87 پیسے پر پہنچ چکی ہے۔ اس ریکارڈ قیمت پر پہنچنے کے لیے ریکارڈ قدم اٹھا کر بیک وقت 11 روپے 18 پیسے اضافہ کیا گیا۔

اسی عرصے کے دوران ڈیزل کی قیمت میں 73، مٹی کے تیل کی قیمت میں 65 اور ایچ او بی سی کی قیمت میں 48 فیصد اضافہ کیا گیا۔ پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ ایک “منی بجٹ” کی حیثیت رکھتا ہے خصوصاً ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے کے نتیجے میں عوام براہ راست متاثر ہوتی ہیں کیونکہ ڈیزل سے وہ تمام اقسام کی ٹرانسپورٹ رواں دواں رہتی ہیں جو عوام استعمال کرتی ہے اور مٹی کا تیل ملک کے کئی علاقوں میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
بہرحال حالیہ اضافے کا نتیجہ اگلے ہی روز ہڑتال کی صورت میں دیکھنا پڑا اور مجھ جیسے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے افراد دفتر پہنچنے میں ناکام رہے یا پھر دیگر ذرائع سے دفتر پہنچنے کی کوشش کرتے رہے۔ ہڑتال کے اگلے روز متوقع طور پر شہر کراچی میں جابجا کنڈیکٹروں اور سواریوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کے واقعات پیش آئے جس کی بنیادی وجہ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں من مانا اضافہ تھا جبکہ حکومت کی جانب سے اس ضمن میں کوئی فہرست جاری نہیں کی گئی. اسی تلخ کلامی کی جھلکیاں پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے تمام افراد روزانہ ملاحظہ کر رہے ہوں گے۔
اب صرف فہرست کی صورت میں “پروانہ” جاری ہونے کا انتظار ہے، عوام ذہنی طور پر ایک اور کاری وار کے لیے تیار ہو چکے ہیں۔

Google Buzz