میرؔ کہہ گئے ہیں:
اچھا نہیں ہے میرؔ کا احوال ان دنوں
غالب کہ ہو چکے گا یہ بیمار آج کل
جیسے جیسے مئی کے ایام گزرتے گئے اور کراچی کی گرمی کی قیامت خیزی میں اضافہ ہوتا گیا ویسے ویسے طبیعت مضحمل ہوتی چلی گئی اور بالآخر مئی کے آخری عشرے کے ساتھ ہی نزلے اور بخار نے جکڑ لیا اور یوں ہم بلاگ پر کچھ تحریر کرنے سے کم و بیش دو ہفتوں کے لیے محروم ہو گئے۔ ان دو ہفتوں کے دوران بخار ایک مرتبہ اتر کر دوبارہ چڑھا اور طبیعت اس قدر “پتلی” ہوتی چلی گئی کہ لکھنے لکھانے کے کسی کام کی جانب دل مائل نہیں ہوپایا۔ طبیعت میں گرانی تو اب بھی ہے تاہم حالت پہلے سے بہتر ہے۔ آپ لوگوں سے التماس ہے کہ دعا کریں اور میری کوشش ہے کہ چند روز میں ہی بلاگ کا سلسلہ دوبارہ شروع کرسکوں۔
اقبال کے بعد اب میر تقی میر سے معذرت کے ساتھ
الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
جعلی اینٹی بایوٹک نے آخر کام تمام کیا
عہد جوانی رو رو کاٹا پیری میں لی آنکھیں موند
پہلے بیوی پھر بچوں نے اپنا یہ انجام کیا
ناحق ہم مجبوروں پر تہمت ہے مختاری کی
جو چاہے پولیس کرے ہے، ہم کو عبث بد نام کیا
سر زد ہم سے بے ادبی تو وحشت میں بھی کم ہی ہوئی
اس کے ایک اشارے پر اپنوں کا قتل عام کیا
کس کا کعبہ، کس کا قبلہ، کون حرم ہے کیا احرام
وردی پہنی، واشنگٹن میں جا کے بش کو سلام کیا
یاں کے سپید و سیاہ میں ہم کو دخل ہے جو سو اتنا ہے
اپنے کام ادھورے چھوڑے، اُس کی خاطر کام کیا
ساعد سیمیں دونوں ان کے ہاتھ میں لا کر چھوڑ دیے
اس نے بھی ہمارے گالوں کو چانٹوں سے لالہ فام کیا
ایسے آہوئے رم خوردہ کی وحشت کھونی مشکل تھی
آخر ایک پڑھی لکھی ہرنی نے اس کو رام کیا
میر کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو، ان نے تو
پارٹی بدلی، ایماں بیچا، یوں زندہ اسلام کیا
بشکریہ: محمد ظہیر صاحب