جہان تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود
مصنوعی امن جنگ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے،کیونکہ وہ زیادہ بڑی جنگ کی جانب لے جاتا ہے،اگرامن کی بنیادیں مضبوط، پائیدار اور حقیقی نہ ہوں تو صرف پانچ دس سال کے لئے آپ کسی کو دبا لیں گے ، تسلط قائم کر لیں گے ، مگر مسئلہ پھر اٹھے گا اور ایک نئی آویزش اور کشمکش برپا گی ۔ شاہنواز فاروقی
( شاہنواز فاروقی کی یہ آزاد نظم گیارہ ستمبر سے کئی سال پہلے لکھی گئی تھی)
بغاوت ہو چکی ہے
گو میں اسباب بغاوت کو بیاں کرنے سے قاصر ہوں
مگر میں دیکھتا ہوں کوئی منظرآنکھ کو قائل نہیں کرتا
سماعت کا گڑھا نغموں سے پر ہو کر بھی خالی ہے
سواد روح میں جیسے بدن کے راز رقصاں ہیں
ادھر شہر بدن میں روح کے چرچے کا فیشن ہے
دلیلیں جس قدر تھیں عقل کے کوٹھے پہ جا بیٹھیں
تصو ف احمد جاوید کی چوکھٹ پہ بیٹھا ہے
بنی آدم کو وہ پانی فراہم ہے کہ جس میں پیاس شامل ہے
یہ پانی چشمہ مغرب سے آتا ہے
سنا یہ ہے کہ اب اس کے سوا چشمہ نہیں کوئی
یہ عالم آتش دل کا کہ اس پر چار کپ چائے بنانی ہو تو مشکل ہو
چلو اچھا ہوا تاریخ بھی انجام کو پہنچی
بغاوت ہو چکی ہے
گو میں آغاز بغاوت کو عیاں کرنے سے قاصر ہوں
کہ میں تو صرف شاعر ہوں
برادر زبیر انجم کی فرمائش پر “تہذیبوں کا تصادم” کے موضوع پر شاہنواز فاروقی کے ایک لیکچر کی وڈیو یہاں پیش کی جا رہی ہے: ابوشامل







