میرے خاندان سے ایک ننھے سے ساتھی نے بھی بلاگنگ کی دنیا میں قدم رکھا ہے اور ان کا مقصد پاکستان کے قدرتی حسن کو دنیا کے سامنے لانا ہے۔ ان کے والد ایک معروف سیاح اور سفرنامہ نگار ہیں اور کئی دہائیوں کی سیاحت کے دوران حسین لمحات کو اپنے کیمروں میں قید کرتے رہے ہیں۔ اب ان کے صاحبزادے نے اپنے والد کی فوٹوگرافی کو منظر عام پر لانے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔
وہ بہت تیزی سے اپنے تصاویر کے مجموعے میں سے خوبصورت تصاویر پیش کرتے جا رہے ہیں۔ امید ہے آپ لوگوں کو پسند آئیں گی۔
اس سلسلے میں اپنی پسندیدگی کا اظہار تبصروں کے ذریعے کیجیے اور بلاگنگ کی دنیا کے اس ننھے مہمان کو درج ذیل ربط (link) پر خوش آمدید کہیے۔
عکس
محترم صدر آصف علی زرداری نے گزشتہ ہفتے فرانس کے معروف اخبار “لی فیگارو” کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے یہ کہا ہے کہ
پاکستان ایشیا کا مرد بیمار ہے، اس لیے یورپی ممالک اس کی مدد کریں
(انٹرویو فرانسیسی زبان میں ہے، گوگل ٹرانسلیٹ کی مدد سے اسے انگریزی میں ترجمہ کر کے پڑھا جا سکتا ہے)۔اس تاریخی بیان نے ان کے دیگر کارناموں کو ہر گز نہیں گہنایا، بلکہ ان کے سنہرے اقوال کی فہرست میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
یہ تاریخ میں پہلا موقع ہوگا جب کسی سربراہ نے اپنے ملک کے لیے “مردِ بیمار” کی اصطلاح استعمال کی۔ اس سے قبل موصوف بھارتی طیاروں کی خلاف ورزی کے باوجود اسے “تکنیکی غلطی” قرار دینے اور جماعت الدعوۃ جیسی جماعتوں پر بے محل پابندیاں لگانے کے اقدامات جیسی صریح غلطیاں کر چکے ہیں جس کی کسی سربراہ سے توقع نہیں کی جا سکتی۔
بہرحال اب آپ یہ انٹرویو ملاحظہ کیجئے اور ذیل میں “مرد بیمار” کی اصطلاح کا وہ تاریخی پس منظر بھی ملاحظہ کر لیجئے جس کے باعث ہم اس اصطلاح کے استعمال پر معترض ہیں۔
19 ویں صدی میں خلافت عثمانیہ تیزی سے زوال پذیر تھی لیکن اس کا وجود روس کی بڑھتی ہوئی قوت کے خلاف یورپ کی دیگر طاقتوں کے مفاد میں تھا۔ عظیم طاقتوں کا یہی مفاد اس کی بقا کا ضامن دکھائی دیتا تھا لیکن درحقیقت اس سے سلطنت اپنا اختیار، وجود اور حیثیت سب کھوتی جا رہی تھی۔ سلطنت اور روس کے درمیان مخاصمت کی ایک وجہ تو دونوں ملکوں میں مسلم اور عیسائی آبادی کا بڑی تعداد میں موجود ہونا تھا۔ روسی سلطنت بارہا سلطنت عثمانیہ میں عیسائی رعایا کی محافظ ہونے کا دعویٰ کرتی اور جن جنگوں میں اس کو فتوحات حاصل ہوئیں ان میں کیے گئے معاہدوں میں یہ شق ضرور شامل ہوتی کہ وہ سلطنت عثمانیہ کی عیسائی رعایا کی محافظ ہوگی۔ دوسری جانب روس اور سلطنت عثمانیہ کے سرحدی علاقوں میں مسلمانوں کی بڑی تعداد بھی رہتی تھی جو روس کے توسیع پسندانہ عزائم کے باعث ہر وقت ایک بڑے خطرے کا سامنے کیے ہوئے تھی۔ اس طرح دونوں سلطنتوں میں ہر وقت چپقلش چلتی رہتی اور بالآخر 19 ویں صدی میں دونوں ملکوں کے درمیان طویل جنگیں ہوئی جنہیں تاریخ میں روس-ترک جنگیں یا Russo-Turkish Wars کہا جاتا ہے۔ ان جنگوں کے نتیجے میں خلافت عثمانیہ کا زوال اور تیز ہو گیا اور روسی دیو تیزی سے مشرق و مغرب میں مختلف علاقوں کو نگلتا چلا گیا۔ یورپ کی بڑی طاقتیں برطانیہ اور فرانس روس کی اس تیز رفتار توسیع کو بہت بڑا خطرہ سمجھتی تھیں کیونکہ اس سے ایک جانب جہاں علاقے میں ان کے مفادات کو براہ راست ٹھیس پہنچ رہی تھی وہیں دوسری جانب ایشیا اور افریقہ میں ان کے مقبوضات کا رابطہ بھی منقطع ہو سکتا تھا اور اپنے مقبوضہ علاقوں کی راہ میں روس جیسی عظیم قوت حائل ہونے کا واضح مطلب یہی تھا کہ یورپی قوتیں اپنی سونے کی چڑیاؤں سے محروم ہو جائیں۔ یہی وہ وجہ تھی جس کے باعث برطانیہ اور فرانس نے روس کے مقابلے میں سلطنت عثمانیہ کی حمایت کی۔
سلطنت عثمانیہ اپنے محل وقوع کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل تھی اور مالی و دفاعی اعتبار سے کمزوری اسے روس کے مقابلے میں تر نوالہ بنا رہی تھی۔ “بدقسمتی” سے اسلام اور عیسائیت کے لیے مقدس ترین مقامات بھی اسی سلطنت میں (بیت المقدس میں) واقع تھے اور یوں عیسائی رعایا کے محافظ قرار دیے جانے کے معاملے پر فرانس اور روس میں چپقلش ایک اور جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔روس کے خلاف سسلطنت عثمانیہ، برطانیہ اور فرانس نے مل کر جنگ (جنگ کریمیا) میں حصہ لیا اور عالمی تجارتی آبی گزرگاہوں پر روسی اثر و رسوخ کے خاتمے میں کامیاب ہو گئیں۔
اس جنگ کے دوران روس کے زار نکولس اول نے ایک یادگار جملہ ادا کیا تھا جو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا اور آج تک بطور اصطلاح جملہ رائج ہے۔ انہوں نے برطانوی سفیر کے ایک مکتوب میں سلطنت عثمانیہ کے بارے میں یہ کہا:
عثمانی سلطنت ایک مردِ بیمار ہے، بہت زیادہ بیمار، ایک ایسا “مرد” جو ضعف وشکستگی کی حالت تک پہنچ چکا ہے
اس طرح “مردِ بیمار” کی یہ ایسی اصطلاح وجود میں آئی جو آج بھی ان ممالک کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو دفاعی و مالیاتی اعتبار سے عالمی قوتوں کے رحم و کرم پر ہوں۔ درحقیقت یہ ایک ایسا طعنہ تھا جو ایک ملک کے سربراہ نے اپنے دشمن ملک کے لیے استعمال کیا بلکہ اگر واضح الفاظ میں کہا جائے کہ جنگی تناؤ کے دوران حوصلہ پست کرنے کے لیے دشمن ملک کو گالی دی گئی۔
اب ڈیڑھ صدی کے بعد یہ کارنامہ ہمارے صدر نے انجام دیا ہے کہ اپنے ہی ملک کو اس گالی کا حقدار قرار دیا ہے۔
سکھر میں بسلسلۂ ملازمت قیام کے دوران ایک مکان کرائے پر لے رکھا تھا جس میں ہم تین افراد رہائش پذیر تھے۔ ایک روز ہمارے ایک ساتھی (جو میرے قریبی عزیز بھی ہیں) نے اپنے ایک دوست کا تعارف کروایا کہ یہ پرویز ہیں اور آج سے ہمارے ساتھ رہیں گے۔
پرویز ادھیڑ عمر تھے، 70ء کی دہائی کے انداز کی (8:20) مونچھوں کے حامل، سر میں تیل اور آنکھوں میں سرمہ ہر وقت لگائے رکھتے۔ خاص نشانی یہ تھی کہ ہمیشہ بے تکے انداز میں پینٹ شرٹ پہنتے حتٰی کہ گہرے سبز رنگ کی پینٹ اور گلابی شرٹ میں بھی دیکھے گئے۔ ویسے تو نفاست پسند دکھائی دیتے تھے، بالوں کو ہر وقت سنوارتے رہتے، سنگھار کے تمام دیسی طریقے انہیں ازبر تھے، روزانہ شیو بناتے لیکن ایک بد عادت انہوں نے نجانے کہاں سے اختیار کی تھی کہ ہر وقت کھنکھارتے اور تھوکتے رہتے۔ گھر میں کہیں بھی موجود ہوں ان کی “تھوتھوکار” سے ان کے مقام کا علم ہو جاتا۔ باتیں کرنے کے حد درجہ عادی تھے، خصوصاً بے ڈھنگی، جن میں ان کا محبوب موضوع “صنف نازک” تھا۔ اپنی زندگی میں پیش آنے والے “حادثات” کے بارے میں دیگر ساتھیوں کو بتاتے اور حسنِ دل افروز کی جلوہ نمائیوں کے قصوں سے بھرپور داد سمیٹتے۔ اور ان تمام عادتوں پر مہان عادت یہ کہ خود کو عقلِ کل سمجھتے۔ قصہ مختصر، پہلے دن سے ہمارے دل کو نہ بھائے اور یوں ایک چھت تلے رہتے ہوئے بھی راہیں جدا جدا رہیں۔ البتہ ہمارے عزیز کی اُن سے بہت گاڑھی چھنتی اور مشترکہ رہائش گاہ میں قیام ان کی دوستی اور ہماری رہائش گاہ میں قیام میں مزید اضافے کا باعث بنی۔
یہ تمام حلیہ اور عادات بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے ہاں اقربا پروری کس حد تک راسخ ہو چکی ہے اور سفارش کا کلچر کیسے کیسوں کو کہاں کہاں پہنچا دیتا ہے۔ ایک روز موصوف نے بتایا کہ وہ قومی ایئر لائن میں بھی ملازمت کر چکے ہیں۔ حیرت سے مجھے تو ایک جھٹکا لگا کہ محترم کی “شخصیت” دیکھیے، پی آئی اے میں کیا کرتے ہوں گے؟۔ گومگو کی اسی کیفیت کے دوران پوچھا کہ حضور! کیا کیے تھے پی آئی اے میں؟ تو فخر سے بولے “میں flight steward (یعنی فضائی میزبان) تھا”۔ یہ جملہ تو تیرنا نہ جاننے والے ہم جیسے کسی شخص کو سمندر میں پھینکنے کے مترادف تھا تاکہ وہ حیرت کے سمندر کا تصور کر کے اس میں کچھ ٹامک ٹوئیاں مار لے۔ بے ساختہ دل سے نکلا کہ آج معلوم ہوا کہ قومی ایئر لائن کی تباہی کے اسباب کیا ہیں؟ مزید تفتیش پر انہوں نے عقدہ کھولا کہ محترمہ کے دوسرے دور حکومت میں ان کے ایک قریبی عزیز وزیر قرار پائے تھے، اور انہی کے توسط سے انہیں بھی وطنِ عزیز کے اس اہم ادارے میں ملازمت ملی لیکن محترمہ کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی ان کی نوکری کا بھی “تختہ الٹ گیا”۔
اس انکشاف کے بعد اُن کی اصلاح کی ہماری تمام اُمیدوں نے دم توڑ دیا کہ جس شخصیت کو پی آئی اے کا ماحول اور فلائٹ اسٹیورڈ کی نوکری نہ سدھار سکی تو ہم تین افراد کس کھیت کی مولی ہیں؟ موصوف کیونکہ “چمڑی جائے، دمڑی نہ جائے” کی عملی تفسیر تھے اس لیے چند روز بعد ہی گھر کے ماہانہ حساب کتاب کے معاملے پر دیگر ساتھیوں سے بحث کر بیٹھے اور فسادی طبیعت سے مجبور ہو کر خود معاملے کو ہاتھا پائی کی نوبت تک لے آئے جس پر بڑے بے آبرو ہو کر ہمارے کوچے سے نکالے گئے۔
حضرت ان شخصیات میں سے ہیں جن کو یاد کر کے میں دعائیں مانگتا ہوں کہ ان سے زندگی میں دوبارہ ملاقات نہ ہو بلکہ ان کے بارے میں کوئی بات میرے ذہن میں ہی نہ آئے لیکن آج اپنے وزیر اعلٰی سید قائم علی شاہ کے بیانات نے مجھے پرویز کی یاد دلادی۔ محترم وزیر اعلٰی صاحب فرماتے ہیں:
بے روزگار نوجوانوں کو 50 ہزار ملازمتیں دی جائیں گی اور شہید بینظیر بھٹو یوتھ ڈیولپمنٹ پروگرام کے ذریعے بھی 50 ہزار نوجوانوں کو روزگار دیا جائے گا، غریب نوجوانوں کا کوئی انٹرویو نہیں ہوگا وہ صرف فارم پر کر کے بھرتی ہوں گے۔ (حوالہ روزنامہ ایکسپریس، پیر 20 اکتوبر 2008ء)
یعنی اس طرح پرویز جیسے نااہل لوگوں کو اپنی مرضی کے اداروں میں مرضی کی پوسٹس پر بھرتی شروع کا عمل شروع ہوگا اور جب تک زرداری صاحب کی حکومت رہے گی تب تک تو اُن کی نوکری پکی ہی رہے گی۔
مسکین صفت وزیر اعلٰی ایک لاکھ نوکریاں دینے کا دعویٰ تو کر بیٹھے ہیں لیکن اگر 50 ہزار نہیں تو چند ہزار ملازمتیں تو دی ہی جائیں گی تاکہ “بی بی کوٹے” پر اقرباء پروری اور میرٹ کے قتل عام کے ایک اور سلسلے کا آغاز کیا جائے۔
ایسے ہی نااہل لوگ، جنہیں یقین ہوتا ہے کہ اگلے روز تک ملازمت کی بقاء یقینی نہیں، بدعنوانی کے ریکارڈ توڑ مظاہرہ کرتے ہیں۔ ملک میں ویسے ہی معیشت کی صورتحال دِگرگُوں ہے اور اس منظرنامہ میں اگر حکومت اقرباء پروری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوامی خدشات کے مطابق ہی رویہ اختیار کرتی ہے تو یہ “مرے ہوئے پر سر دُرّے” کے مترادف ہوگا۔
مانا کہ ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا لیکن موجودہ صورتحال میں ضروری ہے کہ وطن عزیز کے وہ بہتر دماغ، جن کی موجودہ صورتحال میں ملک کو اشد ضرورت ہے، اس کے پاس موجود رہیں لیکن حکومتی رویے اور میرٹ کے قتل عام کے باعث وہ اپنی دماغی صلاحیتوں اور کاوشوں کا بہترین صلہ پانے کے لیے کسی بھی ایسی جگہ جانے میں حق بجانب ہوں گے جہاں ان کی صلاحیتوں کی قدر کی جائے۔ اقربا پروری کی یہی سیاہ تاریخ ہے جس نے ہماری بہترین و عبقری شخصیات کو مجبور کیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا بہترین صلہ پانے کے لیے غریب الوطنی اختیار کر لیں۔