ٹیگ: ’Allama Iqbal‘


احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

گزشتہ چند ماہ سے خالی الذہنی کی کیفیت طاری ہے اور روز بروز اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ معاملات پر گرفت، جداگانہ سوچ، فوری تبصرے، فی البدیہہ جملے اور وہ سب جو کبھی میری شخصیت کا خاصہ تھا، نجانے کیوں یکدم بکھرنے لگا ہے۔ حالت یہ ہے کہ جب کسی موضوع پر انتہائی توجہ اور غور سے نہ سوچوں اس حوالے سے کچھ ذہن میں نہیں آتا۔ بھول جانے کی عادت میں بھی اضافہ ہوا ہے لیکن یہ سب کیوں ؟؟؟؟
کچھ دنوں اس پر کافی غور کیا۔ غورو فکر سے جو نتیجہ نکلا کہ وہ یہ تھا کہ زندگی بہت زیادہ مشینی رخ اختیار کر گئی ہے اور ہر معاملے پر مشینی انداز میں سوچ نے دماغ کی فطری خصوصاً تخلیقی صلاحیتوں کو متاثر کیا ہے۔ اسی غور و فکر کے دوران اچانک علامہ اقبال کا شعر یاد آ گیا۔
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
شعر تو بہت سادہ سا ہے، مجھ جیسے اردو سے نابلد افراد کے لیے بھی سمجھنا چنداں مشکل نہیں لیکن اس سے کیا کیا مفاہیم نکلتے ہیں، اور اس میں علامہ کیا سمجھانا چاہ رہے ہیں، موجودہ ذہنی حالت کے پیش نظر اسے سمجھنے میں دقت کا سامنا تھا، سو استاد محترم سے رابطہ کیا کہ کیا فرماتے ہیں علامہ اس شعر میں؟
جواباً فرمایا: کہ مشین کے تین خصائص ہیں
(1) رفتار
(2) تکرار
(3) شور
علامہ دل کو وجودِ انسانی کی علامت قرار دیتے ہیں۔ انسانی دل ایک مخصوص رفتار و ردھم کا حامل ہے۔ جدید مشینری سے قبل وہ تمام تر آلات جو انسان استعمال میں لاتا رہا ہے انسانی دل کی رفتار سے مکمل ہم آہنگ تھے لیکن جدید مشینوں کی رفتار اور ردھم کہیں زيادہ تیز تھا جس کی وجہ سے انسان اور مشینوں کے درمیان موجود ہم آہنگی کا خاتمہ ہو گیا اور انسان مشین کی رفتار سے کام کرنے پر مجبور ہو گیا۔ جیسے جیسے وہ مشین کی رفتار سے ہم آہنگ ہوتا گیا ویسے ویسے وہ انسانی خصوصیات سے محروم ہوتا چلا گیا۔ تعلق، محبت، مروت اور اس جیسے جذبے کمزور پڑتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ انسان خود ایک مشین بن کر رہ گیا۔ یہ رفتار کے عذاب کے نقصانات ہیں جو نوعِ انسانی کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔
دوسرا عذاب “کام کی تکرار” بھی انسان پر مسلط کر دیا گیا۔ تکرار و یکسانیت تخلیقی صلاحیتوں کے لیے موت ثابت ہوئیں۔ مشینوں سے قبل انسان کے کام میں تنوّع، ہنر اور ذات کا اظہار جھلکتا تھا اور اس سے انسانی شخصیت مستقل ارتقا پذیر رہتی تھی۔ انہوں نے کتابت اور کمپوزنگ کی مثال بھی پیش کی کہ کتابت میں تنوع، ہنر اور ذات کا اظہار جھلکتا تھا لیکن کمپوزنگ میں صرف رفتار، تکرار اور ایک ہی طرح کی تکنیکی مہارت ہے جو رفتہ رفتہ مشینی ہوجاتی ہے اور صرف ایک عادت بن کر رہ جاتی ہے۔ (اس کا تجربہ کمپیوٹر سے قریبی تعلق رکھنے والے بیشتر افراد کو ہوگا)
باقی رہا شور کہ وہ انسانی ذہن، جذبات، احساسات اور اعصابی نظام پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے؟ اس کا ذاتی زندگی میں ہمیں بار ہا تجربہ ہوتا رہتا ہے، یعنی کار کا تیز ہارن ہمارے حواس کے ساتھ کیا کرتا ہے، یہ سامنے کی بات ہے۔
آخر میں فرمایا: اقبال کی مجبوری تھی کہ وہ مصرعے میں صرف ایک لفظ یعنی مروت ہی استعمال کر سکتے تھے، یہ نہ ہوتا تو اس کی جگہ کوئی دوسرا لفظ ہوتا۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ مشینوں کی حکومت صرف مروت ہی کو نہیں بہت سی قیمتی چیزوں کو کچل دیتی ہے۔

اس لیکچر کے بعد اب کچھ راہیں تو کھلی ہیں، لیکن اس مشینی عذاب سے بڑی حد تک چھٹکارا پانے کی سعی ناکام ہی ثابت ہوئی ہے۔ اس حوالے سے اگر قارئین مفید تجاویز و اپنے تجربات بیان کریں تو مجھے بہت خوشی ہوگی۔

Google Buzz

مسجد پیرس اور اقبال: عقدہ حل

آج مطالعے کے دوران ایک بہت پرانی الجھن حل ہو گئی جس کا ذکر میں کئی احباب سے کر چکا تھا حتٰی کہ پیرس میں مقیم ایک عزیز دوست سید سلمان رضوی بھی میرے اس الجھن کو حل نہ کر سکے البتہ ایک دوسرے ساتھی نے اس مسئلے کو حل کرنے میں کچھ مدد کی لیکن حوالہ فراہم کرنے میں وہ بھی ناکام رہے۔
مسئلہ یہ تھا کہ علامہ محمد اقبال نے اپنے مجموعۂ کلام “ضربِ کلیم” میں “پیرس کی مسجد” کے عنوان سے ایک مختصر قطعہ لکھا ہے اور میں اس تلاش میں تھا کہ کہیں علامہ اقبال نے یہ قطعہ مسجد پیرس کے بارے میں تو نہیں لکھا جو 1920ء کی دہائی میں تعمیر ہونے والی جامع مسجد ہے جو آج بھی پوری شان کے ساتھ موجود ہے۔ اور محمد راشد شیخ کی مرتب کردہ زیر مطالعہ کتاب “ڈاکٹر محمد حمید اللہ” پڑھنے کے دوران یہ عقدہ حل ہو گیا۔ کتاب میں ڈاکٹر صاحب کے احوال زندگی، ان کی تمام زبانوں میں کتب کی فہرست، ان کو خراج عقیدت کے طور پر لکھے گئے مختلف مصنفین کے مضامین کو یکجا کیا گیا ہے اور آخر الذکر مضامین میں ڈاکٹر سید رضوی علی ندوی کے مضمون کے درج ذیل پیرے نے میرا مسئلہ حل کر دیا۔ ندوی صاحب فرماتے ہیں:

اس کے بعد ڈاکٹر صاحب موصوف نے مجھے پیرس کی مشہور مسجد دکھائی، محلے کا نام اب یاد نہیں لیکن اندر سے مسجد اندلس اور مغربی (مراکشی) طرز کی تھی اور اس میں دیواروں اور چوبی منبر وغیرہ پر نقش و نگار اسی طرز کے تھے۔ مسجد میں داخل ہوتے ہی اصل مسجد سے قبل ایک چھوٹے سے کمرۂ داخلہ (entrance room) میں کتابوں کا ایک اسٹال تھا اور کاؤنٹر پر ایک الجزائری لڑکی کھڑی تھی۔ میں نے حلب چھوڑنے کے بعد استنبول یونیورسٹی میں ایک عراقی طالب علم سے عربی زبان میں گفتگو کے بعد سے تقریباً دس روز سے عربی نہیں بولی تھی، میری عربی زبان کی رگ پھڑکی اور میں سے اس خاتون سے کتابوں کے بارے میں کچھ پوچھا، لیکن افسوس کہ وہ فصیح عربی زبان سے نابلد تھی، بلکہ غالباً عربی سے بھی نابلد تھی۔ اس وقت الجزائر پر فرانس کی حکومت تھی اور عربی زبان میں تعلیم وہاں ممنوع تھی۔ ڈاکٹر حمید اللہ نے فرانسیسی میں اس کو میری بات سمجھائی، پیرس کی یہ وہی مسجد ہے جس کے بارے میں علامہ اقبال رحمت اللہ علیہ نے ضرب کلیم میں ایک مختصر قطعہ (پیرس کی مسجد) میں کہا ہے:
حرم نہیں ہے، فرنگی کرشمہ بازوں نے
تن حرم میں چھپا دی روحِ بُت خانہ

Google Buzz

اقبال سے معذرت کے ساتھ

امیر الاسلام ہاشمی صاحب نے نجانے کب یہ نظم اقبال سے انتہائی معذرت کے ساتھ لکھی تھی لیکن یہ ہماری موجودہ انفرادی و اجتماعی صورتحال کی عکاس ہے۔ میں بھی مرشد (اقبال) سے انتہائی معذرت کے ساتھ اسے بلاگ پر پیش کر رہا ہوں۔
دہقان تو مرکھپ گیا، اب کس کو جگاؤں
ملتا ہے کہاں خوشۂ گندم، کہ جلاؤں
شاہیں کا ہے گنبدِ شاہی پہ بسیرا
کنجشکِ فرومایہ کو اب کس سے لڑاؤں
مکاری و عیاری و غداری و ہیجان
اب بنتا ہے ان چار عناصر سے مسلمان
قاری اسے کہنا تو بڑی بات ہے یارو
اس نے تو کبھی کھول کے دیکھا نہیں قرآن
بیباکی و حق گوئی سے گھبراتا ہے مومن
مکاری و روباہی پہ اتراتا ہے مومن
جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہو
وہ رزق بڑے شوق سے کھاتا ہے مومن
شاہیں کا جہاں آج ممولے کا جہاں ہے
ملتی ہوئی ملا سے ، مجاہد کی اذاں ہے
مانا کہ ستاروں سے بھی آگے ہیں جہاں اور
شاہیں میں مگر طاقت پرواز کہاں ہے؟
کردار کا، گفتار کا، اعمال کا مومن
قائل نہیں، ایسے کسی جنجال کا مومن
سرحد کا ہے مومن، کوئی بنگال کا مومن
ڈھونڈے سے بھی ملتا نہیں قرآن کا مومن
ہر داڑھی میں تنکا ہے، ہر آنکھ میں شہتیر
مومن کی نگاہوں سے اب بدلتی نہیں تقدیر
توحید کی تلواروں سے خالی ہیں نیامیں
اب ذوقِ یقیں سے نہیں کٹتی، کوئی زنجیر
دیکھو تو ذرا، محلوں کے پردوں کو اٹھاکر
شمشیر و سِناں رکھی ہیں طاقوں میں سجا کر
آتے ہیں نظر مسندِ شاہی پہ رنگیلے
تقدیرِ امم سوگئی، طاؤس پہ آکر
مرمر کی سلوں سے کوئی بے زار نہیں ہے
رہنے کو حرم میں کوئی تیار نہیں ہے
کہنے کوہر شخص مسلمان ہے لیکن
دیکھو تو کہیں نام کو کردار نہیں ہے
محمودوں کی صف آج ایازوں سے پرے ہے
جمہور سے سلطانی جمہور ورے ہے
تھامے ہوئے دامن ہے، یہاں پر جو خودی کا
مر مر کے جئے ہے، کبھی جی جی کے مرے ہے
پیدا کبھی ہوتی تھی سحر، جس کی اذاں سے
اس بندۂ مومن کو اب میں لاؤں کہاں سے

Google Buzz