<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ابوشامل &#187; central asia</title>
	<atom:link href="http://www.abushamil.com/tag/central-asia/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.abushamil.com</link>
	<description>مرے ہنگامۂ نو بہ نو کی انتہا کیا ہے</description>
	<lastBuildDate>Wed, 11 Aug 2010 04:31:19 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.1</generator>
		<item>
		<title>تاشقند</title>
		<link>http://www.abushamil.com/tashkent/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/tashkent/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 07 Apr 2009 06:39:24 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[وکیپیڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[central asia]]></category>
		<category><![CDATA[History of Central Asia]]></category>
		<category><![CDATA[Tashkent]]></category>
		<category><![CDATA[Turkestan]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu Wikipedia]]></category>
		<category><![CDATA[Uzbekistan]]></category>
		<category><![CDATA[اردو وکیپیڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[ازبکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تاریخ وسط ایشیا]]></category>
		<category><![CDATA[تاشقند]]></category>
		<category><![CDATA[ترکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سقوط ترکستان]]></category>
		<category><![CDATA[مسلم تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[مسلمانان وسط ایشیا کی تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[وسط ایشیا]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://abushamil.urdutech.com/?p=465</guid>
		<description><![CDATA[گزشتہ سال یہ مضمون اردو وکیپیڈیا کے لیے تحریر کیا گیا تھا۔ قارئین کی معلومات میں اضافے کے لیےیہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ اسے حتی الامکان بہتر بنانے کی کوشش کی گئی لیکن اس میں موجود خامیوں یا غلطیوں کے بارے میں ضرور آگاہ کیجیے گا۔ تاشقند ازبکستان اور صوبہ تاشقند کا دارالحکومت ہے۔ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>گزشتہ سال یہ مضمون اردو وکیپیڈیا کے لیے تحریر کیا گیا تھا۔ قارئین کی معلومات میں اضافے کے لیےیہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ اسے حتی الامکان بہتر بنانے کی کوشش کی گئی لیکن اس میں موجود خامیوں یا غلطیوں کے بارے میں ضرور آگاہ کیجیے گا۔</p>
<p><a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/تاشقند" target="_blank" >تاشقند</a> <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/ازبکستان" target="_blank" >ازبکستان</a> اور <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/صوبہ تاشقند" target="_blank" >صوبہ تاشقند</a> کا <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/دارالحکومت" target="_blank" >دارالحکومت</a> ہے۔ <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/2006ء" target="_blank" >2006ء</a> کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شہر کی آبادی 31 لاکھ اور غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 40 لاکھ سے زائد ہے۔<br />
<a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/قرون وسطیٰ" target="_blank" >قرون وسطیٰ</a> میں یہ شہر چچ کے نام سے جانا جاتا تھا جو بعد ازاں چچ قند یا چش قند اور پھر تاشقند بن گیا۔ <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/ترک زبان" target="_blank" >ترک زبان</a> میں تاش کا مطلب ہے پتھر جبکہ قند شہر کے لیے استعمال ہوتا ہے (جیسے سمرقند، یرقند، پنجی قند وغیرہ)۔نام کی یہ تبدیلی 16 ویں صدی کے بعد عمل میں آئی۔ موجودہ نام تاشقند (Tashkent) کے ہجے روسی اثرات کو ظاہر کرتے ہیں۔<br />
<strong>جغرافیہ</strong><br />
شہر <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/شمقند" target="_blank" >شمقند</a> اور <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/سمرقند" target="_blank" >سمرقند</a> کے درمیان شاہراہ پر <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/کوہ التائی" target="_blank" >کوہ التائی</a> کے مغربی جانب زرخیر میدان میں واقع ہے۔ تاشقند عین اس مقام پر واقع ہے جہاں <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/دریائے چرچک" target="_blank" >دریائے چرچک</a> اور اس کے دیگر معاون دریا آپس میں ملتے ہیں۔ یہ <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/زلزلہ" target="_blank" >زلزلے</a> کی متحرک پٹی پر واقع ہے اور زلزلے کے چھوٹے موٹے جھٹکے آنا معمول ہے۔ <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/1966ء" target="_blank" >1966ء</a> میں یہاں آنے والے ایک زلزلے کی شدت <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/ریکٹر اسکیل" target="_blank" >ریکٹر اسکیل</a> پر 7.5 ناپی گئی تھی۔<br />
<strong>تاریخ</strong><br />
تاشقند دریائے چرچک کے کنارے <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/کوہ گولستان" target="_blank" >کوہ گولستان</a> کے قدموں ایک نخلستان کے طور پر معروف ہوا۔ زمانہ ہائے قدیم میں اس علاقے میں <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/کانگجو اتحاد" target="_blank" >کانگجو اتحاد</a> کا گرمائی دارالحکومت تھا۔<br />
<a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/امارت چچ" target="_blank" >امارت چچ</a>، جس کا مرکزی قصبہ 5 ویں سے تیسری صدی عیسوی کے درمیان ایک مربع قلعے کی کی شکل میں تعمیر کیا گیا تھا، <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/سیر دریا" target="_blank" >سیر دریا</a> سے 8 کلومیٹر شمال میں واقع تھی۔ 7 ویں صدی عیسوی میں چچ میں 30 قصبے تھے اور 50 سے زائدنہروں کا جال بچھا ہوا تھا، جس کی وجہ سے یہ <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/سوگدیائی" target="_blank" >سوگدیائی</a> اور <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/ترک" target="_blank" >ترک</a> باشندوں کے درمیان تجارتی مرکز بن گیا۔ یہ خطہ 8 ویں صدی کے اوائل میں مملکت اسلامیہ کا حصہ بنا۔<br />
عرب اس شہر کو الشش کہا کرتے تھے۔ جدید ترکی نام تاشقند (پتھر کا شہر) 10 ویں صدی میں <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/قرہ خانی" target="_blank" >قرہ خانی</a> خاندان کی حکومت کے دوران ملا۔<br />
<a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/1219ء" target="_blank" >1219ء</a> میں <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/چنگیز خان" target="_blank" >چنگیز خان</a> نے حملہ کر کے شہر کو تباہ کر دیا۔ <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/تیموری سلطنت" target="_blank" >تیموریوں</a> اور <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/آل شیبان" target="_blank" >شیبانیوں</a> کے دور میں اس شہر نے خوب ترقی کی تاہم اس عرصے میں یہ ازبکوں، قازق باشندوں، فارسیوں، منگولوں اور دیگر اقوام کے حملوں کا نشانہ بنتا رہا۔<br />
<a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/1809ء" target="_blank" >1809ء</a> میں تاشقند <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/خانان خوقند" target="_blank" >خانان خوقند</a> کے زیر نگیں چلا گیا۔ اس وقت تاشقند کی آبادی ایک لاکھ تھی اور یہ <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/وسط ایشیا" target="_blank" >وسط ایشیا</a> کا خوشحال ترین شہر تھا۔ <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/مئی" target="_blank" >مئی</a> <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/1865ء" target="_blank" >1865ء</a> میں جنرل <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/میخائل چرنیایف" target="_blank" >میخائل چرنیایف</a> نے شہر پر حملہ کر کے اسے فتح کر لیا۔ عددی برتری اور مضبوط حصار حاصل ہونے کے باوجود خانان خوقند کی فوج دو روز بھی روسی افواج کے سامنے نہ ٹھہر سکی اور شہر روسیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ چرنیایف، جو شیرِ تاشقند کے نام سے مشہور ہوا، نے عوام کے دل جیتنے کے لیے خانان کے لگائے گئے تمام ناجائز محصولات ایک سال کے لیے ختم کر دیے اور عام لوگوں کے مسائل کے خاتمے کے لیے کوششیں کیں۔ اسے زار کی جانب سے تاشقند کا عسکری گورنر بنایا گیا اور اس نے زار الیگزینڈر ثانی سے یہ بھی سفارش کی کہ وہ شہر کو روس کے زیر تحفظ ایک آزاد ریاست بنا دے۔<br />
زار نے چرنیایف اور اس کے سپاہیوں کو اعزازات و تمغوں سے نوازا لیکن کیونکہ جنرل نے یہ حملہ اُس کی اجازت کے بغیر کیا تھا اس لیے وہ زیادہ عرصہ اپنا عہدہ برقرار رکھنے میں ناکام رہا اور جلد ہی اس کی جگہ <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/قسطنطین پیٹرووچ وان کوف مین" target="_blank" >قسطنطین پیٹرووچ وان کوف مین</a> کو مقرر کر دیا اور تاشقند کو آزاد ریاست تصور کرنے کے بجائے اسے <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/روسی ترکستان" target="_blank" >روسی ترکستان</a> کے نئے علاقے کا دارالحکومت بنا دیا جس کا پہلا گورنر جنرل کوف مین تھا۔ قدیم شہر کے قریب ایک چھاؤنی اور روسی آبادی بنائی گئی اور ملک کے کئی علاقوں سے روسی آبادی اور تاجروں کو آباد کیا گیا۔ وسط ایشیا پر اپنا اثر و رسوخ جمانے کے لیے <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/سلطنت روس" target="_blank" >روس</a> اور <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/سلطنت برطانیہ" target="_blank" >برطانیہ</a> کے مابین ہونے والے تنازع، جسے <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/عظیم کھیل" target="_blank" >عظیم کھیل</a> (The great game) کہا جاتا ہے، کے دوران یہ شہر جاسوسی کا گڑھ بن گیا۔ <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/1889ء" target="_blank" >1889ء</a> میں <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/ٹرانس کیسپیئن ریلوے" target="_blank" >ٹرانس کیسپیئن ریلوے</a> کی پٹری یہاں پہنچی اور جن کارکنان نے یہ پٹری تعمیر کی وہ یہیں آباد ہو کر رہ گئے اور انہوں نے <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/بالشویک انقلاب" target="_blank" >بالشویک انقلاب</a> کے بیج یہاں بھی بودیے۔<br />
<strong>20ویں صدی</strong><br />
روسی سلطنت کے خاتمے اور بالشویک انقلاب کے ساتھ ہی یہاں کی صوبائی حکومت نے تاشقند کو اپنے زیر انتظام لے کر روسی استبداد سے آزادی کی کوشش کی جسے بغاوت سے تعبیر کرتے ہوئے سختی سے کچل دیا گیا۔ <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/اپریل" target="_blank" >اپریل</a> 1918ء کو تاشقند کو <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/ترکستان خودمختار سوویت سوشلسٹ جمہوریہ" target="_blank" >ترکستان خودمختار سوویت سوشلسٹ جمہوریہ</a> کا دارالحکومت بنا دیا گیا۔ اس عرصے میں مسلمانوں نے <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/بسماچی تحریک" target="_blank" >بسماچی تحریک</a> کی صورت میں علم بغاوت  بلند کر دیا لیکن روسی سلطنت نے اس ابھرتے ہوئے خطرے کا بھی خاتمہ کر دیا۔ بالآخر 1930ء میں تاشقند کو سمرقند کی جگہ <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/ازبک سوشلسٹ سوویت جمہوریہ" target="_blank" >ازبک سوشلسٹ سوویت جمہوریہ</a> کا دارالحکومت بنا دیا گیا۔<br />
<a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/1920ء" target="_blank" >1920ء</a> اور <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/1930ء" target="_blank" >1930ء</a> کی دہائی میں شہر میں صنعتوں کا جال بچھا دیا گیا خصوصاً <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/دوسری جنگ عظیم" target="_blank" >دوسری جنگ عظیم</a> کے درمیان <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/نازی جرمنی" target="_blank" >نازی جرمنوں</a> کے حملے کے پیش نظر مغربی روس سے بڑی تعداد میں صنعتیں یہاں منتقل کی گئیں۔ ایک خاص منصوبے کے تحت یہاں کے مسلمانوں کی آبادی کے تناسب کو کم کرنے کے لیے بڑی تعداد میں روسی آبادی یہاں منتقل کی گئیں خصوصاً جنگ سے متاثرہ علاقوں کے تمام پناہ گزینوں کو مسلم اکثریتی علاقوں میں منتقل کر دیا گیا تاکہ آبادی میں &#8220;توازن&#8221; قائم کیا جا سکے۔ بالآخر ہدف حاصل کر لیا گیا کہ تاشقند کی نصف آبادی روسی باشندوں پر مشتمل ہو جائے۔<br />
پاکستان اور بھارت کے درمیان 1965ء کی جنگ کے بعد اسی شہر میں معاہدہ طے پایا جو تاریخ میں <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/معاہدہ تاشقند" target="_blank" >معاہدہ تاشقند</a> کے نام سےجانا جاتا ہے۔<br />
<a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/26 اپریل" target="_blank" >26 اپریل</a> <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/1966ء" target="_blank" >1966ء</a> کو آنے والے ایک شدید زلزلے میں تاشقند کو زبردست نقصان پہنچا۔ اس زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.5 تھی۔ اس زلزلے کے نتیجے میں 3 لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔<br />
1991ء میں سوویت روس کے زوال کے وقت تاشقند ملک کا چوتھا بڑا شہر اور سائنس و انجینئرنگ کے شعبہ جات میں تعلیم کا مرکز تھا۔<br />
سوویت اتحاد سے آزادی کے بعد تاشقند نومولود ریاست ازبکستان کا دارالحکومت قرار پایا۔ شہر میں آج بھی روسی آبادی کثیر تعداد میں موجود ہے۔ شہر اپنی سرسبز شاہراہوں، فواروں اور دلفریب باغات کے باعث مشہور ہے۔ تاشقند متعدد بار دہشت گرد حملوں کا نشانہ بھی بن چکا ہے جس کا الزام حکومت مبینہ اسلامی عسکریت  پسندوں پر عائد کرتی ہے۔<br />
<a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/1991ء" target="_blank" >1991ء</a> میں آزادی کے بعد شہر میں اقتصادی، ثقافتی اور تعمیراتی اعتبار سے کافی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ جس جگہ <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/ولادیمیر لینن" target="_blank" >ولادیمیر لینن</a> کا سب سے بڑا مجسمہ ایستادہ تھا آج اس کی جگہ ایک کرۂ زمین (گلوب) نصب کر دیا گیا ہے۔ سوویت دور کی عمارتوں کی جگہ اب جدید عمارتیں لے رہی ہیں جس کی ایک مثال تاشقند کا مرکزی تجارتی علاقہ ہے جہاں 22 منزلہ این بی یو بینک، انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل، انٹرنیشنل بزنس سینٹر اور پلازہ بلڈنگ کی صورت میں فلک بوس عمارتیں کھڑی ہیں۔<br />
سوویت دور کی پابندیوں کے بعد یہاں کے مسلمانوں کو اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی اور اپنی عبادت گاہوں کی دیکھ بھال کی کھلی اجازت ملی۔ 2007ء میں تاشقند کو <a href="http://mnweekly.ru/world/20070524/55252222.html">اسلامی دنیا کا ثقافتی دارالحکومت قرار دیا گیا</a>۔<br />
<strong>قابل دید مقامات</strong><br />
1917ء میں انقلاب روس کے بعد شہر کی کئی قدیم خصوصاً مذہبی عمارات کو تباہ کر دیا گیا اور رہی سہی کسر سوویت دور کے  صنعتی انقلاب اور بعد ازاں 1966ء کے زلزلے نے پوری کر دی۔ اس لیے تاشقند کے عظیم ثقافتی و تعمیراتی ورثے کا بہت کم حصہ ہی بچا ہے۔ اس کے باوجود تاشقند میں عجائب گھر اور سوویت دور کی کثیر یادگاریں موجود ہیں۔<br />
<strong>کوکلداش مدرسہ</strong><br />
<a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/1557ء" target="_blank" >1557ء</a> سے <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/1598ء" target="_blank" >1598ء</a> تک برسر اقتدار رہنے والے <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/عبد اللہ خان" target="_blank" >عبد اللہ خان</a> کے زمانے سے قائم ہونے والا <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/مسجد" target="_blank" >مسجد</a> و <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/مدرسہ" target="_blank" >مدرسہ</a> اب مسلمانانِ <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/ماوراء النہر" target="_blank" >ماوراء النہر</a> کے صوبائی مذہبی بورڈ نے بحال کیا ہے۔ اسے ایک عجائب گھر میں تبدیل کرنے کی سفارشات ہیں لیکن فی الوقت یہ بطور مسجد استعمال ہو رہا ہے۔<br />
<strong>کورشو بازار</strong><br />
کوکلداش مدرسہ کے قریب ایک بہت بڑا بازار ہے جو قدیم شہر تاشقند کا مرکز تھا۔ یہاں ضروریات زندگی کی تمام اشیاء دستیاب ہیں۔<br />
<strong>خشت امام مسجد</strong><br />
اس مسجد کی خاص بات ہے یہاں صحیفہ عثمانی کی موجودگي جو خلیفہ ثالث حضرت <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/عثمان غنی" target="_blank" >عثمان غنی</a> رضی اللہ عنہ کے زیر استعمال <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/قرآن" target="_blank" >قرآن</a> ہے۔ یہ دنیا کا قدیم ترین نسخہ قرآن ہے۔ <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/655ء" target="_blank" >655ء</a> کے اس نایاب نسخے پر خون کے کچھ نشانات بھی ہیں جو شہادت عثمان سے وابستہ کیے جاتے ہیں۔ یہ نسخہ <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/امیر تیمور" target="_blank" >امیر تیمور</a> اپنے ساتھ سمرقند لایا تھا جسے روسیوں نے قبضے کے بعد <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/سینٹ پیٹرز برگ" target="_blank" >سینٹ پیٹرز برگ</a> منتقل کر دیا۔ <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/1989ء" target="_blank" >1989ء</a> میں یہ نسخہ ازبکستان کو واپس دیا گیا۔<br />
15 ویں صدی کے چند مزارات کو بھی 19 ویں صدی میں بحال کیا گیا جس میں <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/مغلیہ سلطنت" target="_blank" >مغلیہ سلطنت</a> کے بانی <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/ظہیر الدین بابر" target="_blank" >ظہیر الدین بابر</a> کے دادا یونس خان کا مقبرہ بھی شامل ہے۔<br />
<strong>شہزادہ رومانوف کا محل</strong><br />
19 ویں صدی میں <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/الیگزینڈر ثالث" target="_blank" >الیگزینڈر ثالث</a> کے قریبی عزیز <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/نکولائی کونسٹاٹینووچ" target="_blank" >نکولائی کونسٹاٹینووچ</a> کو روسی شاہی جواہرات کی مشتبہ سودے بازیاں کرنے پر تاشقند جلاوطن کر دیا گیا۔ ان کی قیام گاہ آج بھی مرکز شہر میں موجود ہے۔<br />
وزارت امور خارجہ کے زیر اہتمام اس عجائب گھر قرار دیے جانے والے محل میں قبل از روس کی تاریخ کے مجسمے، فن پارے اور 19 ویں اور 20 ویں صدی کے دستکاریوں کے کئی نمونےموجود ہیں۔ علاوہ ازیں یہاں رومانوف کی جانب سے لائی گئی تصاویر کا وسیع مجموعہ بھی دیکھنے لائق ہے۔ عجائب گھر کے عقب میں ایک چھوٹا سا باغیچہ ہے جس میں 1917ء کے انقلاب روس میں مارے گئے بالشویک انقلابیوں کے علاوہ پہلے ازبکستانی صدر <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/یلدش اخون بابایف" target="_blank" >یلدش اخون بابایف</a> کی قبریں موجود ہیں۔<br />
<strong>علی شیر نوائی اوپیرا اور بیلے تھیٹر</strong><br />
ماسکو میں لینن کا مقبرہ تعمیر کرنے والے ماہر تعمیرات <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/الیکسی شوسیف" target="_blank" >الیکسی شوسیف</a> کے ذہن کی ایک اور تخلیقی کاوش اس شہر میں واقع یہ تھیٹر ہے۔ اس تھیٹر کی تعمیر میں <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/دوسری جنگ عظیم" target="_blank" >دوسری جنگ عظیم</a> میں پکڑے گئے <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/جاپان" target="_blank" >جاپانی</a> قیدیوں کو بطور مزدور استعمال کیا گیا تھا۔<br />
<strong>تاریخی عجائب گھر</strong><br />
سابق لینن عجائب گھر میں واقع یہ تاشقند کا سب سے بڑا <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/عجائب گھر" target="_blank" >عجائب گھر</a> ہے۔<br />
<strong>امیر تیمور عجائب گھر</strong><br />
نیلے گنبد اور آراستہ و پیراستہ اندرونی دیواروں کی حامل یہ متاثر کن عمارت میں <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/امیر تیمور" target="_blank" >امیر تیمور</a> اور صدر <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/اسلام کریموف" target="_blank" >اسلام کریموف</a> کی یادگاریں موجودہیں۔ عجائب گھر کے باہر واقع باغیچہ میں گھوڑے پر سوار امیر تیمور کا ایک مجسمہ ایستادہ ہے۔ عجائب گھر کے گرد شہر کے خوبصورت ترین باغ اور فوارے واقع ہیں۔<br />
<strong>انفرادی خصوصیات</strong><br />
یہاں وسط ایشیا کا واحد زیر زمین ریلوے نظام واقع ہے۔ (<a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/استانا" target="_blank" >استانا</a> اور <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/الماتے" target="_blank" >الماتے</a> میں ابھی یہ نظام تعمیراتی مراحل میں ہے)<br />
تاشقند میں ملک کا سب سے بڑا <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/ہوائی اڈہ" target="_blank" >ہوائی اڈہ</a> واقع ہے جو شہر کو <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/ایشیا" target="_blank" >ایشیا</a>، <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/یورپ" target="_blank" >یورپ</a> اور <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/امریکین" target="_blank" >امریکین</a> سے جوڑتا ہے۔<br />
شہر کا سب سے بڑا چوراہا، جو سوویت دور میں آزادی چوک کہلاتا تھا، سوویت دور میں لینن کے سب سے طویل القامت (30 میٹر) مجسمے کا حامل تھا۔ 1992ء میں لینن کے مجسمہ کی جگہ یہاں دنیا ایک کرۂ زمین نصب کر دیا گیا ہے جس پر ازبکستان کو واضح کیا گیا ہے۔<br />
<strong>تعلیم</strong><br />
شہر کی چند جامعات اور اعلٰی تعلیم کے ادارے:<br />
*تاشقند اسٹیٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی<br />
*انٹرنیشنل بزنس اسکول &#8220;کالجاک علمی&#8221;<br />
*تاشقند یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجیز<br />
*ویسٹ منسٹر انٹرنیشنل یونیورسٹی تاشقند<br />
*قومی جامعہ ازبکستان<br />
*یونیورسٹی آف ورلڈ اکنامی اینڈ ڈپلومیسی<br />
*تاشقند اسٹیٹ اکنامک یونیورسٹی<br />
*تاشقند اسٹیٹ انسٹیٹیوٹ آف لا<br />
*تاشقند انسٹیٹیوٹ آف فنانس<br />
*اسٹیٹ یونیورسٹی آف فارن لینگویجز<br />
*کنزرویٹری آف میوزک<br />
*تاشقند اسٹیٹ میڈیسن اکیڈمی<br />
*انسٹیٹیوٹ آف اورینٹل اسٹیڈیز<br />
*تاشقند اسلامک یونیورسٹی<br />
<strong>ذرائع ابلاغ</strong><br />
شہر سے ازبک زبان کے 9 اور انگریزی زبان کے 4 اخبارات اور روسی زبان کے 9 جرائد شایع ہوتے ہیں۔<br />
متعدد ٹیلی وژن اور کیبل ٹیلی وژن تنصیبات بھی شہر میں موجود ہیں جن میں برجِ تاشقند (تاشقند ٹاور) بھی شامل ہے جو وسطِ ایشیا کی بلند ترین تعمیر ہے۔<br />
جڑواں شہر<br />
<a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/استنبول" target="_blank" >استنبول</a>، <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/ترکی" target="_blank" >ترکی</a><br />
<a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/سیاٹل، واشنگٹن" target="_blank" >سیاٹل، واشنگٹن</a>، <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/امریکہ" target="_blank" >امریکہ</a><br />
<a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/کراچی" target="_blank" >کراچی</a>، <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/پاکستان" target="_blank" >پاکستان</a><br />
<a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/برلن" target="_blank" >برلن</a>، <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/جرمنی" target="_blank" >جرمنی</a><br />
<a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/نیپروپیٹرفسک" target="_blank" >نیپروپیٹرفسک</a>،<a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/یوکرین" target="_blank" >یوکرین</a><br />
<strong>کھیل</strong><br />
تاشقند کا سب سے معروف <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/فٹ بال" target="_blank" >فٹ بال</a> کلب <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/پختاکور تاشقند" target="_blank" >پختاکور تاشقند</a>ہے جو ازبک لیگ میں کھیلتا ہے۔<br />
معروف سائیکلسٹ <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/جمال الدین عبدالجباروف" target="_blank" >جمال الدین عبدالجباروف</a> اور فٹ بالر <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/ویزیلس ہازیپیناگیس" target="_blank" >ویزیلس ہازیپیناگیس</a> اسی شہر میں پیدا ہوئے۔ ٹینس کھلاڑی <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/ڈینس استومن" target="_blank" >ڈینس استومن</a> کا مقام پیدائش و رہائش یہی شہر ہے۔</p>
<p><strong>متعلقہ مضامین</strong><br />
<a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/معاہدہ تاشقند" target="_blank" >معاہدہ تاشقند</a></p>
<p><strong>بیرونی روابط</strong><br />
<a href="http://www.visituzbekistan.eu/">تاشقند کی سیاحت</a><br />
<a href="http://photouz.com/">تاشقند کی تصاویرکا سب سے بڑا مجموعہ </a>روسی زبان میں<br />
<a href="http://gallery.bittabola.com/">تاشقند کی حالیہ تصاویر تبصروں کے ساتھ </a>انگریزی زبان میں
<div class="tweetmeme_button" style="float: right; margin-left: 10px;">
			<a href="http://api.tweetmeme.com/share?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Ftashkent%2F"><br />
				<img src="http://api.tweetmeme.com/imagebutton.gif?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Ftashkent%2F&amp;style=normal&amp;service=TinyURL.com" height="61" width="50" /><br />
			</a>
		</div>
<a class="google_buzz"  
href="http://www.google.com/reader/link?url=http://www.abushamil.com/tashkent/&title=تاشقند&srcURL=http://www.abushamil.com" target="_blank" rel="nofollow"><img
src="http://www.abushamil.com/wp-content/plugins/google-buzz-button-for-wordpress/images/google-buzz.png" alt="Google Buzz" /></a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/tashkent/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>وسط ایشیا میں احیائے زبان</title>
		<link>http://www.abushamil.com/tajik-language-persian-script/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/tajik-language-persian-script/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 30 Jan 2009 04:43:07 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[عالمی صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[لسانیات]]></category>
		<category><![CDATA[arabic script]]></category>
		<category><![CDATA[central asia]]></category>
		<category><![CDATA[central asian languages]]></category>
		<category><![CDATA[communism]]></category>
		<category><![CDATA[cyrillic script]]></category>
		<category><![CDATA[tajik language]]></category>
		<category><![CDATA[اشتراکی جبر]]></category>
		<category><![CDATA[رسم الخط]]></category>
		<category><![CDATA[سیریلک رسم الخط]]></category>
		<category><![CDATA[عربی]]></category>
		<category><![CDATA[فارسی]]></category>
		<category><![CDATA[وسط ایشیا]]></category>
		<category><![CDATA[کمیونزم]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://abushamil.urdutech.com/?p=396</guid>
		<description><![CDATA[نو آبادیاتی دور میں مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک تقریباً تمام ہی مسلم ممالک کے غلام مسلمانوں کا مذہبی و قومی تشخص مسخ کرنے کی منظم انداز میں کوششیں کی گئیں لیکن جو انداز روس کے زیر قبضہ وسط ایشیائی ممالک میں اختیار کیا گیا وہ شاید پرتگال کے زیر نگیں انگولا اور بیلجیم [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Colonial_era">نو آبادیاتی دور</a> میں <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/مراکش" target="_blank" >مراکش</a> سے لے کر <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/انڈونیشیا" target="_blank" >انڈونیشیا</a> تک تقریباً تمام ہی مسلم ممالک کے غلام مسلمانوں کا مذہبی و قومی تشخص مسخ کرنے کی منظم انداز میں کوششیں کی گئیں لیکن جو انداز <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/روس" target="_blank" >روس</a> کے زیر قبضہ <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/وسط ایشیا" target="_blank" >وسط ایشیائی ممالک</a> میں اختیار کیا گیا وہ شاید <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/پرتگال" target="_blank" >پرتگال</a> کے زیر نگیں <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/انگولا" target="_blank" >انگولا</a> اور <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/بیلجیم" target="_blank" >بیلجیم</a> کے زیر قبضہ <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/کانگو" target="_blank" >کانگو</a> میں بھی نہ تھا۔ بس وہ مظالم اس لیے &#8220;<a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/ہولوکاسٹ" target="_blank" >ہولوکاسٹ</a>&#8221; نہیں کہلائے کیونکہ ایک تو وہ مظلوم مسلمانوں کا لہو تھا، دوسرا مسلمانوں کے پاس یہودیوں جیسا طاقتور میڈیا نہ تھا اور نہ ہے۔ اس کے علاوہ کمیونسٹ استبداد ذرائع ابلاغ کی معمولی آزادی کا بھی قائل نہ تھا اس لیے مسلمانوں کے قتل عام اور ان کے تشخص و ثقافت کی پامالی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا عشر عشیر بھی دنیا پر ظاہر نہ ہو سکا۔<br />
روس میں زار کے دور میں ڈھائے گئے مظالم کو تو ملوکیت کا جبر سمجھا جا سکتا ہے لیکن (نام نہاد) مساوات کی قائل اشتراکی حکومت نے پسے ہوئے مسلمانوں جبر کے جو پہاڑ توڑے وہ مساوات کے نام پر دھبہ ہیں۔ اشتراکی حکومت کی پہلی کوشش تھی کہ مسلمانوں کو ان کے دین سے جدا کر دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے جہاں فوری طور پر مدارس و مساجد کو بند کیا گیا وہیں ایسا ادب پھیلایا گیا جو نوجوان نسل کو اپنے دین سے برگشتہ کردے۔<br />
اس لیے منظم اشتراکی کوششوں کا پہلا نشانہ بھی مسلم ادب ہی بنا اور مسلمانوں کو اپنی کتابوں سے بیگانہ کرنے کے لیے سب سے پہلے <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Arabic_alphabet">عربی رسم الخط </a>کی بے ثباتی کا ڈھنڈورا پیٹا گیا۔ کانفرنسوں کا انعقاد کیا گیا اور باقاعدہ قراردادیں منظور کر کے اس امر کو ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ عربی رسم الخط جدید دور کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا اس لیے ضروری ہے کہ عربی رسم الخط میں لکھی جانے والی زبانوں <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Latin_script">لاطینی رسم الخط </a>پر منتقل کیا جائے۔ اور یوں ان نام نہاد کانفرنسوں کی قراردادوں پر لبیک کہتے ہوئے بیک جنبش قلم مسلمانوں کا اپنے ماضی سے ناطہ توڑ دیا گیا اور وسط ایشیا کے مسلمانوں کی تمام زبانوں کو لاطینی رسم الخط میں منتقل کر دیا گیا۔<br />
لیکن جب <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/ترکی" target="_blank" >ترکی</a> نے 1928ء میں <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/ترک زبان" target="_blank" >ترک زبان</a> کو عربی رسم الخط سے لاطینی رسم الخط پر منتقل کرنے کا اعلان کیا تو گویا اس امر سے بھی خطرہ محسوس کیا گیا کہ مسلمانوں کے لیے ترک سیکولر ازم بھی &#8220;ذریعۂ ہدایت&#8221; ہو سکتا ہے اس لیے وسط ایشیائی زبانوں کو لاطینی کے بجائے <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Cyrillic_alphabet">سیریلک (Cyrillic)، یعنی روسی، رسم الخط </a>میں لکھنے کا اعلان کیا گیا اور یوں وسط ایشیائی باشندے اپنے تاریخی ادبی ورثے سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو گئے اور انہیں انجان راہوں پر ڈال دیا گیا۔<br />
واضح رہے کہ وسط ایشیائی مسلمان <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Uzbek_language">ازبک</a>، <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Tatar_language">تاتار</a>، <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Kazakh_language">قازق</a>، <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Kyrgyz_language">کرغز </a>اور <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Altay_language">التائی </a>زبانیں بولتے ہیں جو تمام کی تمام ترک زبان سے قریبی تعلق رکھتی ہیں جبکہ <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Tajik_language">تاجک زبان </a>پر <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/فارسی" target="_blank" >فارسی</a> اثرات بہت زیادہ ہیں۔ لیکن رسم الخط کی تبدیلی نے ان زبانوں کو اپنی قریبی زبانوں اور اپنے ثقافتی و تاریخی ورثے سے کاٹ کر رکھ دیا اور ایک ایسے نامانوس ماحول میں لا کھڑا کردیا، جہاں صرف اور صرف اشتراکیت و الحاد کا غلغلہ تھا۔<br />
بہرحال جبر کی یہ ریاست 1990ء کی دہائی کے اوائل میں اپنے انجام کو پہنچی۔ جہاں بیشتر نو آزاد ریاستوں نے تو اس &#8220;سنہری قفس کو ہی آشیاں&#8221; سمجھ کر قبول کر لیا وہیں چند وسط ایشیائی ریاستوں نے ایک بار پھر اپنے ماضی سے رشتہ جوڑنےکی کوششوں کا آغاز کیا۔ اس سلسلے میں تاجکستان نے کوششوں کا آغاز کیا ہے کہ &#8220;ٹوٹے ہوئے سلسلے&#8221; کو دوبارہ جوڑا جائے۔ اس حوالے سے ماضی قریب میں تاجکستان کی جانب سے اس <a href="http://www.presstv.ir/detail.aspx?id=53991&amp;sectionid=351020406">خواہش کا بھی شدت سے اظہار</a> کیا گیا ہے کہ تاجک زبان کو ایک مرتبہ پھر فارسی رسم الخط میں تبدیل کیا جائے لیکن دہائیوں کے بعد حقیقی زبان کا احیاء مشکل تو ضرور ہوگا لیکن ناممکن نہیں اور اس کے لیے اتنا ہی وقت درکار ہوگا جتنا لاطینی و سیریلک رسم الخط کے قبولیت عام حاصل کرنے میں لگا تھا۔<br />
رسم الخط کے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے حال ہی میں ایک <a href="http://www.centralasiaonline.com/ur/articles/090117_spelling_arabic_bus/">سافٹ ویئر جاری </a>کیا گیا ہے جو سیریلک رسم الخط میں لکھی گئی تاجک زبان کو فارسی یعنی عربی رسم الخط میں تبدیل کر دے گا۔ اس سافٹ ویئر کو اس لیے اہم پیشرفت سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں تاجک عوام تیزی سے فارسی رسم الخط سے دوبارہ آشنائی حاصل کریں گے اور نتیجتاً حکومت کو اپنی اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کا جلد موقع ملے گا جس کا اظہار گزشتہ سال تاجک نائب وزیر ثقافت نے ایک انٹرویو میں کیا تھا۔<br />
یہ سافٹ ویئر ریاضی کے طالب علموں لیونڈ گریشچینکو اور الیکسے فومن نے ماہرِ تعلیم ظفر عثمانوف اور دودیخودو سیمع الدینوف کی زیر نگرانی تشکیل دیا ہے۔ فومن کے مطابق یہ پروگرام اب اس قابل ہو گیا ہے کہ وہ کسی بھی لکھی ہوئی تاجک تحریر کو سیکنڈوں میں فارسی تحریر میں بدل دے اور یہ تحریر 90 فیصد درست ہو گی۔<br />
ظفر عثمانوف نے اس سلسلے میں بتایا کہ لاطینی رسم الخط اور پھر سیریلک رسم الخط کی جانب منتقلی سے تاجک زبان اپنے سالوں کے سائنسی و ثقافتی ورثے سے محروم ہو گئی۔ 1980ء کی دہائی میں ماضی سے یہ رشتہ دوبارہ استوار کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اس وقت ایسی ٹیکنالوجی موجود نہ تھی جو اس مسئلے کو حل کر سکے۔
<div class="tweetmeme_button" style="float: right; margin-left: 10px;">
			<a href="http://api.tweetmeme.com/share?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Ftajik-language-persian-script%2F"><br />
				<img src="http://api.tweetmeme.com/imagebutton.gif?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Ftajik-language-persian-script%2F&amp;style=normal&amp;service=TinyURL.com" height="61" width="50" /><br />
			</a>
		</div>
<a class="google_buzz"  
href="http://www.google.com/reader/link?url=http://www.abushamil.com/tajik-language-persian-script/&title=وسط+ایشیا+میں+احیائے+زبان&srcURL=http://www.abushamil.com" target="_blank" rel="nofollow"><img
src="http://www.abushamil.com/wp-content/plugins/google-buzz-button-for-wordpress/images/google-buzz.png" alt="Google Buzz" /></a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/tajik-language-persian-script/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>8</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>آئینِ جواں مرداں</title>
		<link>http://www.abushamil.com/%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%d9%90-%d8%ac%d9%88%d8%a7%da%ba-%d9%85%d8%b1%d8%af%d8%a7%da%ba/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%d9%90-%d8%ac%d9%88%d8%a7%da%ba-%d9%85%d8%b1%d8%af%d8%a7%da%ba/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 24 Nov 2007 12:58:17 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[حاصل مطالعہ]]></category>
		<category><![CDATA[Caucasus]]></category>
		<category><![CDATA[central asia]]></category>
		<category><![CDATA[Chechnya]]></category>
		<category><![CDATA[Daghestan]]></category>
		<category><![CDATA[History of Muslim Central Asia]]></category>
		<category><![CDATA[Imam Shamil]]></category>
		<category><![CDATA[Russian occupation of Muslim land]]></category>
		<category><![CDATA[امام شامل]]></category>
		<category><![CDATA[تاریخ وسط ایشیا]]></category>
		<category><![CDATA[داغستان]]></category>
		<category><![CDATA[قفقاز]]></category>
		<category><![CDATA[مسلم علاقوں پر روسی قبضہ]]></category>
		<category><![CDATA[چیچنیا]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://abushamil.urdutech.com/?p=30</guid>
		<description><![CDATA[روسی استبداد کے خلاف سالہا سال تک برسرِ پیکار رہنے والے عالمِ اسلام کے عظیم چھاپہ مار رہنما امام شامل رحمۃ اللہ علیہ کو روسی جرنیل وارنسٹوف نے ستمبر 1844ء میں قفقار پہنچ کر ایک خط لکھا کہ تم پانچ لفظوں اطاعت، فرماں برداری، ماتحتی، باج گزاری اور درخواست میں سے جو چاہو منتخب کرلو۔اس [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>روسی استبداد کے خلاف سالہا سال تک برسرِ پیکار رہنے والے عالمِ اسلام کے عظیم چھاپہ مار رہنما <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/امام شامل" target="_blank" >امام شامل</a> رحمۃ اللہ علیہ کو روسی جرنیل وارنسٹوف نے ستمبر 1844ء میں قفقار پہنچ کر ایک خط لکھا کہ تم پانچ لفظوں اطاعت، فرماں برداری، ماتحتی، باج گزاری اور درخواست میں سے جو چاہو منتخب کرلو۔اس کے جواب میں امام شامل رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا:</p>
<blockquote><p>وارنسٹوف مجھے تمہارے شہنشاہ پر ترس آتا ہے کہ وہ تم جیسے بوڑھے اور ازکارِرفتہ نام نہاد جرنیل کا سہارا لینے پر مجبور ہو گیا ہے۔ اگر تم حقیقی جرنیل ہوتے تو تمہیں یہ علم ضرور ہوتا ہے ایک سپہ سالار دوسرے سپہ سالار سے کس طرح بات کرتا ہے۔تمہیں تو اتنا بھی علم نہیں کہ سپاہی گفتگو کا آغاز تلوار سے کرتاہے۔زبان کے استعمال کی نوبت اس وقت آتی ہے جب تلوارغالب یا عاجز آجائے۔ تمہاری اطلاع کے لیے یہ عرض ہے کہ قفقار میں کوئی یہ نہیں جانتاہے وارنسٹوف کس چڑیا کا نام ہے۔مگر ایک نام ایسا ہے جسے صرف جنوبی روس ہی میں نہیں،پورے روس میں،پورے قفقار میں ہر کوئی جانتاہے۔تمہارے زاروں، جرنیلوں ،افسروں اور سپاہیوں کے قبرستانوں میں مدفون لاکھوں لوگوں کی روحیں بھی اس نام سے واقف ہیں اوریہ نام ہے’شامل‘۔<br />
ہاں ہم غیر مہذب ہیں کیونکہ<br />
ہم دوسروں کے ملک پر قبضہ نہیں کرتے،<br />
ہم دوسروں کو اپنا غلام نہیں بناتے،<br />
ہم مخالفوں کے باغات،کھیتیاں اور گھر نذرِ آتش نہیں کرتے اور ان کے کنویں بند کرکے اُنہیں پیاس سے نہیں تڑپاتے،<br />
ہم کسی فانی انسان کو اپنا خداوند،آقا اور اپنی زندگیوں کا مالک نہیں تسلیم کرتے۔<br />
ہم غیر مہذب ہیں کیونکہ<br />
ہمارے یہاں ماتحتوں کی بیویاں اپنے اعلیٰ افسروں کی بانہوں میں نہیں جھولتیں،<br />
ہمارے یہاں غریب مائیں اپنی چھاتیاں اپنے آقاوں کے کتوں کے منہ میں نہیں دیتیں،<br />
ہمارے یہاں خادم اپنے آقاوں کے کتوں کو گرمی پہنچانے کے لیے ساری رات اپنی گود میں لے کر نہیں بیٹھتے۔<br />
وارنسٹوف!<br />
تم نے کہا کہ میں پانچ الفاظ میں سے ایک لفظ منتخب کرلوں۔میں تمہارے پانچوں الفاظ مسترد کرتا ہوں۔میرے منتخب کردہ پانچ الفاظ یہ ہیں<br />
اللہ کی راہ میں جہاد</p></blockquote>
<div class="tweetmeme_button" style="float: right; margin-left: 10px;">
			<a href="http://api.tweetmeme.com/share?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2F%25d8%25a2%25d8%25a6%25db%258c%25d9%2586%25d9%2590-%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25a7%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25af%25d8%25a7%25da%25ba%2F"><br />
				<img src="http://api.tweetmeme.com/imagebutton.gif?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2F%25d8%25a2%25d8%25a6%25db%258c%25d9%2586%25d9%2590-%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25a7%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25af%25d8%25a7%25da%25ba%2F&amp;style=normal&amp;service=TinyURL.com" height="61" width="50" /><br />
			</a>
		</div>
<a class="google_buzz"  
href="http://www.google.com/reader/link?url=http://www.abushamil.com/%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%d9%90-%d8%ac%d9%88%d8%a7%da%ba-%d9%85%d8%b1%d8%af%d8%a7%da%ba/&title=آئینِ+جواں+مرداں&srcURL=http://www.abushamil.com" target="_blank" rel="nofollow"><img
src="http://www.abushamil.com/wp-content/plugins/google-buzz-button-for-wordpress/images/google-buzz.png" alt="Google Buzz" /></a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%d9%90-%d8%ac%d9%88%d8%a7%da%ba-%d9%85%d8%b1%d8%af%d8%a7%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>3</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
