<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ابوشامل &#187; Enlightenment</title>
	<atom:link href="http://www.abushamil.com/tag/enlightenment/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.abushamil.com</link>
	<description>مرے ہنگامۂ نو بہ نو کی انتہا کیا ہے</description>
	<lastBuildDate>Wed, 11 Aug 2010 04:31:19 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.1</generator>
		<item>
		<title>ما بعد جدیدیت کا چیلنج اور اسلام- آخری قسط</title>
		<link>http://www.abushamil.com/post-modernism-islam-3/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/post-modernism-islam-3/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 11 Sep 2008 07:03:08 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسلام اور جدیدیت]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام اور عصر حاضر]]></category>
		<category><![CDATA[تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[جدیدیت]]></category>
		<category><![CDATA[absolute false]]></category>
		<category><![CDATA[absolute truth]]></category>
		<category><![CDATA[Add new tag]]></category>
		<category><![CDATA[Age of Desecularisation]]></category>
		<category><![CDATA[Age of No Ideology]]></category>
		<category><![CDATA[Cultural Consensus]]></category>
		<category><![CDATA[decentralisation]]></category>
		<category><![CDATA[Enlightenment]]></category>
		<category><![CDATA[Feminism]]></category>
		<category><![CDATA[Humanism]]></category>
		<category><![CDATA[Islam & Modern Era]]></category>
		<category><![CDATA[Islam & Modernism]]></category>
		<category><![CDATA[Meganarratives]]></category>
		<category><![CDATA[Pluralism of Truth]]></category>
		<category><![CDATA[Postmodern Evangelism]]></category>
		<category><![CDATA[Premodern]]></category>
		<category><![CDATA[Rationalism]]></category>
		<category><![CDATA[relative truth]]></category>
		<category><![CDATA[Renaissance]]></category>
		<category><![CDATA[Revival of Islam]]></category>
		<category><![CDATA[Revivalism]]></category>
		<category><![CDATA[Time and Space]]></category>
		<category><![CDATA[Traditionalism]]></category>
		<category><![CDATA[Transmodern]]></category>
		<category><![CDATA[transmodernity]]></category>
		<category><![CDATA[Utilitarianism]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[روشن خیالی]]></category>
		<category><![CDATA[ما بعد جدیدیت]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://abushamil.urdutech.com/?p=188</guid>
		<description><![CDATA[ما بعد جدیدیت کاچیلنج اور اسلام کی یہ آخری قسط ہے اس سے قبل اس کی دو اقساط پیش کی جا چکی ہیں جو یہاں دیکھی جا سکتی ہیں: قسط اول قسط دوم ما بعد جدیدیت کا ایک محاکمہ ما بعد جدیدیوں کا یہ دعویٰ کہ دنیا میں کسی سچائی کا سرے سے وجود نہیں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ما بعد جدیدیت کاچیلنج اور اسلام کی یہ آخری قسط ہے اس سے قبل اس کی دو اقساط پیش کی جا چکی ہیں جو یہاں دیکھی جا سکتی ہیں: <a href="../post-modernism-islam-1/">قسط اول</a> <a href="../post-modernism-islam-2/">قسط دوم</a></p>
<p>ما بعد جدیدیت کا ایک محاکمہ</p>
<p>ما بعد جدیدیوں کا یہ دعویٰ کہ دنیا میں کسی سچائی کا سرے سے وجود نہیں ہے ایک نہایت غیر منطقی دعویٰ ہے۔ اس دعویٰ میں بہت بڑا ریاضیاتی نقص ہے۔ یہ کہنا کہ &#8216;یہ سچ ہے کہ دنیا میں کوئی سچ نہیں&#8217; ایک بے معنی بات ہے۔ &#8220;دنیا میں کوئی سچ نہیں ہے&#8221; یہ بذات خود ایک دعویٰ اور ایک بیان ہے۔ اگر اس بیان کو درست مان لیا جائے تو اس کی زد سب سے پہلے خود اسی بیان پر پڑے گی، اور یہ بیان جھوٹا قرار دیا جائے گا۔ یہ ماننے کے لیے کہ &#8220;دنیا میں کوئی سچ نہیں ہے&#8221; کم سے کم اس ایک بات کو سچ ماننا پڑے گا۔</p>
<p>ما بعد جدیدی ہر عالم گیر سچائی کے دعوے کو بڑا بول کہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس پیمانے پر خود ما بعد جدیدیت کو بڑا بول کیوں نہ قرار دیا جائے؟ &#8216;خود ساختہ سچائیوں&#8217; کی رد تشکیل کی یہ فکر ایسا جال بچھاتی ہے کہ اس میں خود ہی پھنس جاتی ہے اور خود اپنے اصولوں کے ذریعے اپنے ہی اصولوں کا رد کرتی ہے۔ غالباً یہ انسان فکری تاریخ کا نہایت منفرد واقعہ ہے کہ کوئی فکر اپنے تشکیل کردہ پیمانوں سے اپنی ہی بنیادوں کو ڈھائے۔</p>
<p>منطقی تضاد کے علاوہ اس فکر کے عملی اثرات بھی نہایت بھیانک ہیں۔ اگر سچائی اضافی ہے اور دنیا میں کوئی قدر آفاقی نہیں ہے اور سچائیاں مقامی تہذیبوں کی پیداوار ہيں تو سوال یہ ہے کہ کس بنیاد پر مثلاً نازی ازم کو غلط قرار دیا جائے گا؟ آخر نازی ازم بھی ایک قوم کی اتفاق رائے ہی کا نتیجہ تھا۔ یا مثلاً کس بنیاد پر ایک شخص کو دوسرے کی جیب کاٹنے سے روکا جائے گا؟ اس لیے کہ ہر جیب کترا جس مخصوص تہذیبی پس منظر میں پروان چڑھتا ہے وہ اسے جیب کترنے کے عمل کو ایک ناگزیر حقیقت کے روپ میں ہی دکھاتا ہے، یا اگر کوئی بزرگ افیم کھا کر چلتی ٹرین کے دروازہ سے یہ سمجھ کر نہایت صبر و سکون کے ساتھ باہر نکلنے کی کوشش کریں کہ وہ اپنے گھر کے چمن میں تشریف لے جا رہے ہیں تو آخر کس دلیل سے انہیں اس حماقت سے روکا جائے گا؟ وہ نہایت ایمان داری کے ساتھ وہی سچائی دیکھ رہے ہیں جو افیم کے اثر سے پیدا شدہ ان کے &#8216;مخصوص احوال&#8217; انہیں دکھا رہے ہیں۔ اس لیے تعدد صداقت (Pluralism of Truth) کے نظریے کا تقاضا ہے کہ ان کی اختیار کردہ سچائی کو بھی تسلیم کیا جائے۔ سچائی کی اضافیت کے نظریے کو مان لینے کے بعد اس دنیا کا نظام چل ہی نہیں سکتا۔ جب تک کچھ حقائق پر عالمی اتفاق رائے نہ ہو اور انہیں قطعی حقائق کے طور پر قبول نہ کیا جائے، اس وقت تک تمدن کی گاڑی ایک انچ آگے نہیں بڑھ سکتی۔ جہاں کچھ باتوں پر اختلاف رائے تمدن کو رنگارنگی اور تنوع بخشتا ہے وہیں کچھ باتوں پر اتفاق تمدن کو استحکام عطا کرتا ہے۔ اس لیے اختلاف اوراتفاق دونوں کی بیک وقت ضرورت ہے۔</p>
<p>ما بعد جدیدیت اور اسلام</p>
<p>سچائی کی اضافیت کا نظریہ اسلامی نقطۂ نظر سے ایک باطل نظریہ ہے۔ اسلام اس بات کا قائل ہے کہ عقل انسانی کے ذریعے مستنبط حقائق یقیناً اضافی ہیں اور شک و شبہ سے بالاتر نہیں ہیں۔ اس حد تک ما بعد جدیدیت اسلامی فکر سے ہم آہنگ ہے لیکن اسلام کے نزدیک جن حقائق کا سرچشمہ وحیِ الٰہی ہے وہ حتمی اور قطعی ہیں۔ ان کی جزوی تشریحات و تعبیرات (جس میں فہم انسانی اور عقل انسانی کا دخل ہے) تو اضافی ہو سکتی ہیں، لیکن ان کے واضح معنی ہر اعتبار سے حتمی اور قطعی ہیں۔</p>
<p>اس ساری بحث میں اسلام کا نقطۂ نظر نہایت معتدل، متوازن اور عقل کو اپیل کرنے والا ہے۔ اس نقطۂ نظر میں ما بعد جدیدی مفکرین کے اٹھائے ہوئے سوالات کے جوابات بھی موجود ہیں اور اُن تضادات کی بھی گنجایش نہیں ہے جو ما بعد جدیدیت میں پائے جاتے ہیں۔</p>
<p>یہ بات کہ انسانی عقل حتمی نہیں ہے اور بسا اوقات دھوکا کھا جاتی ہے، اسلام کا مطالعہ کرنے والوں کے لیے کوئی نئی فکر نہیں ہے۔ جدیدیت نے جس طرح عقلِ انسانی کو حتمی اور قطعی مقام دیا اور عقلیات کو حتمی سچائی کے طور پر پیش کیا، اس پر ما بعد جدیدی مفکرین سے بہت پہلے اسلامی مفکرین نے جرح کی۔ بلکہ یہ مبحث صدیوں قبل امام غزالی اور امام ابن تیمیہ کے افکار میں بھی ملتا ہے۔</p>
<p>امام غزالی نے تہافۃ الفلاسفہ میں ارسطو کی منطق پر خود اسی منطق کے اصولوں کا استعمال کرتے ہوئے جو تنقید کی ہے اس کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ وہ عقل کے ذریعے معلوم حقائق کو محض واہمہ قرار دیتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ کائنات کی وسعتیں اور وقت لا محدود ہے اور انسانی عقل لا محدود کا ادراک نہیں کر سکتی۔ اس لیے اس کے مشاہدات اضافی ہیں اور ان مشاہدات کی بنیاد پر اخذ کردہ نتائج بھی اضافی ہیں 23۔ اپنی کتاب معیار العلم میں اس بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے مختلف مثالوں سے ثابت کیا ہے کہ انسانی حسیات کے ذریعے حاصل شدہ معلومات اکثر اوقات دھوکے کا باعث ہوتی ہے۔ صرف آنکھ سے دیکھا جائے تو ستارے چھوٹے ذرات معلومات ہوتے ہیں لیکن حقیقتاً ان میں سے کئی ستارے زمین اور سورج سے بھی بڑے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نظر آنے والے حقائق بھی ضروری نہیں کہ حقائق ہوں۔ وہ محض حقیقت کا سایہ یا واہمہ ہو سکتے ہیں۔ حسیات کا دھوکا عقل سے معلوم ہوتا ہے اور عقل کا دھوکا کسی ایسے ذریعے سے معلوم ہوگا جو عقل سے بالاتر ہے (یعنی وحیِ الٰہی24)۔</p>
<p>علت و معلول کے سلسلے میں امام غزالی اور ابن رشد کی بحث بھی پڑھنے کے لائق ہے25۔ ان کا نقطۂ نظر ہے کہ خالص عقلی طریقوں سے دنیا یا انسان کے بارے میں کسی آفاقی بیان تک نہیں پہنچا جا سکتا، اس لیے کہ جو بیان بھی تشکیل دیا جائے گا وہ اپنے عہد کے مخصوص مادی پس منظر سے ماورا نہیں ہوگا۔ جو لوگ اس موضوع پر تفصیل سے پڑھنا چاہیں وہ خاص طور پر امام غزالی کی تہافۃ الفلاسفہ اور معیار العلم کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔</p>
<p>جدید اسلامی مفکرین نے بھی جدیدیت پر کلام کرتے ہوئے عقل کی تحدید اور عقل کے ذریعے معلوم حقائق کے اضافی ہونے کو ثابت کیا ہے۔ مولانا سید ابو الاعلٰی مودودی رقم طراز ہیں:</p>
<blockquote><p>انسانی فکر کی پہلی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں علم کی غلطی اور محدودیت کا اثر لازماً پایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس خدائی فکر میں غیر محدود علم اور صحیح علم کی شان بالکل نمایاں ہے۔ جو چیز خدا کی طرف سے ہوگی اس میں آپ ایسی کوئی چیز نہیں پا سکتے جو کبھی کسی زمانے میں کسی ثابت شدہ علمی حقیقت کے خلاف ہو یا جس کے متعلق یہ ثابت کیا جا سکے کہ اس کے مصنف کی نظر سے حقیقت کا فلاں پہلو اوجھل رہ گیا ۔۔۔۔ ان کے (علمی قیاسات) غلط ہونے کا اتنا ہی امکان ہوتا ہے جتنا ان کے صحیح ہونے کا، اور تاریخِ علم میں ایسے بہت کم قیاسات و نظریات کی نشان دہی کی جا سکتی ہے جو بالآخر غلط ثابت نہیں ہوئے ہیں26۔</p></blockquote>
<p>علامہ اقبال فرماتے ہیں :</p>
<blockquote><p>عقلِ بے مایہ امامت کی سزاوار نہیں</p>
<p>راہبر ہو ظن و تخمیں تو زبوں کارِ حیات</p>
<p>فکر بے نور ترا، جذبِ عمل بے بنیاد</p>
<p>سخت مشکل ہے کہ روشن ہو شبِ تارِ حیات</p></blockquote>
<p>یا</p>
<blockquote><p>وہ علم، کم بصری جس میں ہم کنار نہیں</p>
<p>تجلیاتِ کلیم و مشاہداتِ حکیم</p></blockquote>
<p>اسلام کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ علمِ حقیقی (یا حتمی اور قطعی سچائی) کا سرچشمہ باری تعالٰی کی ذات ہے۔ اس نے اپنے علم سے انسان کو اتنا ہی معمولی سا حصہ بخشا ہے جتنا وہ چاہتا ہے:</p>
<blockquote><p>إِنَّ اللّہ لاَ يَخْفَی عَلَيْہ شَيْءٌ فِي الأَرْضِ وَلاَ فِي السَّمَاء (آل عمران: آیت 5)</p>
<p>بیشک اللہ وہ ہے جس سے نہ زمین کی کوئی چیز مخفی ہے نہ آسمان کی۔</p></blockquote>
<blockquote><p>يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيہمْ وَمَا خَلْفَہمْ وَلاَ يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِہ إِلاَّ بِمَا شَاء (البقرۃ: آیت 255)</p>
<p>جو کچھ ان کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے وہ بھی اس کے علم میں ہے اور لوگ اس کے علم میں کسی چیز پر بھی حاوی نہیں ہو سکتے بجز ان چیزوں کے جن کا علم وہ خود ان کو دینا چاہے۔</p></blockquote>
<p>اس طرح جو حقائق علم حقیقی کے سرچشمہ یعنی باری تعالٰی کی جانب سے وحیِ الٰہی یا اس کے پیغمبر کی منصوص سنت کی صورت میں ظہور پذیر ہوئے ہیں وہ حتمی صداقت (absolute truth) ہیں اور ان کے ماسوا دنیا میں حقیقت کے جتنے دعوے پائے جاتے ہیں، ان کی دو قسمیں ہیں۔ اگر وہ وحیِ الٰہی سے متصادم ہیں تو وہ باطل مطلق (absolute false) ہیں اور اگر متصادم نہیں ہیں تو ان کی حیثیت اضافی صداقت یا relative truth کی ہے جو صحیح بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی۔ مختلف معاملات میں عقلی غلطی کا امکان عام انسان تو کجا نبی کے لیے بھی موجود ہے۔ مسئلے کی نزاکت کے پیش نظر ہم اس بات کو علامہ سید سلیمان ندوی کے الفاظ میں نقل کرتے ہیں:</p>
<p>اس میں بھی شک نہیں کہ وحی اور ملکۂ نبوت کے علاوہ نبی میں نبوت و رسالت سے باہر کی چیزوں میں وہی عقل ہوتی ہے جو عام انسان کی ہوتی ہے اور جس میں اجتہادی غلطی کا ہر وقت امکان ہے۔ شاہ ولی اللہ صاحب کے نزدیک اجتہاد کی یہی وہ دوسری قسم ہے جس میں نبی سے بھی غلطی ہو سکتی ہے کہ اس کا مدار وحی و الہام اور ملکۂ نبوت پر نہیں بلکہ انسانی علم و تجربہ پر ہوتا ہے24۔</p>
<p>اس بحث سے یہ بات واضح ہے کہ وحیِ الٰہی سے منصوص حقائق کے ماسوا تمام امور، خواہ وہ سائنسی اصول و ضوابط ہوں یا ریاضی و منطق، یا معاشیات و سیاسیات یا سماجیات و عمرانیات سے متعلق امور، تمام دعوے اضافی ہیں۔</p>
<p>عملی زندگی میں قانون سازی اور ضابطہ سازی کے معاملے میں بھی اسلام نے یہی موقف اختیار کیا ہے۔ جدیدیت کی طرح نہ وہ ہر ضابطے اور اصول کو آفاقی حیثیت دیتا ہے اور نہ ما بعد جدیدیت کی طرح ہر آفاقی ضابطہ و اصول سے انکار کرتا ہے۔ وحیِ الہی کی صورت میں وہ بنیادی اصولوں اور سمت کو آفاقی حیثيت دیتا ہے، ان اصولوں کو زمان و مکان (Time and Space)  سے بالاتر یا ماورا قرار دیتا ہے اور ان آفاقی اصولوں کی روشنی میں مخصوص وقت، مخصوص مقام اور مخصوص احوال کے لیے اجتہاد کا دروازہ کھلا رکھتا ہے۔ بلکہ اجتہادی اور غیر منصوص احکام میں &#8216;عرف&#8217; کا لحاظ رکھتا ہے۔ جسے مابعد جدیدی، تہذیبی اتفاق رائے (Cultural Consensus) کہتے ہیں۔</p>
<p>ضیاء الدین سردار نے اسلام کو ما بعد جدیدیت کے مقابلے میں ماورائے جدیدیت (transmodernity) کی حیثیت سے پیش کیا ہے28۔ بنیادی اصولوں (قرآن و سنت کی تعلیمات) سے گہری وابستگی کے ساتھ تغیر پذیر زمانے کے مطابق تبدیلیوں کو اختیار کرنے کا عمل ماورائے جدیدیت ہے۔ اسلامی معاشروں میں ابدی قدروں سے وابستگی موجود ہے۔ اس لیے وہ جدید یا ما بعد جدید نہیں ہیں اور چونکہ یہ قدریں حیات بخش ہیں اور ان کے اندر نہ صرف نئے زمانے کا ساتھ دینے کی صلاحیت موجود ہے، بلکہ نئے ضابطوں اور طرز ہائے حیات کی تشکیل کی صلاحیت اور گنجایش بھی موجود ہے، اس لیے ان کی بنیاد پر قائم سماج کو ما قبل جدید (Premodern) یا روایت پرست بھی نہیں کہا جا سکتا۔ وحیِ الٰہی کی بنیادوں پر چند آفاقی قدروں اور اصولوں کی حتمیت اور ان کے دائرے کے باہر وسیع تر معاملات میں وحیِ الٰہی کی روشنی میں نئے طریقوں، ضابطوں اور راستوں کی تشکیل کی راستہ ایک ایسا معتدل راستہ ہے جو اسلام کو بیک وقت دائمی، آفاقی، تغیر پذیر اور مقامی احوال کے مطابق بناتا ہے اور زمان و مکان کے اختلافات سے ماورا کر دیتا ہے۔ اس لیے اسلام کی بنیاد پر صحیح طور پر بننے والا معاشرہ ماورائے جدید (Transmodern) معاشرہ ہوتا ہے۔</p>
<p>ختم نبوت کا نظریہ یعنی یہ عقیدہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب قیامت تک کوئی نبی مبعوث ہونے والا نہیں ہے اور وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا اور اب قیامت تک قرآن ہی اللہ کی کتاب اور بنی نوع انسان کی ہدایت کا ذریعہ ہے، اسلام کا ایک بنیادی نظریہ ہے۔ اس نظریے کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اب زمانے میں کسی ایسی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے جو بنیادی اصولوں میں کسی ترمیم کی متقاضی ہو۔ آنے والی ہر جدت کی نوعیت جزوی اور ذیلی ہی ہوگی۔ اس لیے یہ کہنا کہ اب ہم جدیدیت کے عہد میں ہیں، اس لیے ما قبل جدیدیت کے عہد کی ہر چیز تبدیل ہونی ہے یا یہ کہ اب ہم ما بعد جدیدیت کے عہد میں ہیں اس لیے جدیدیت کی ہر جڑ کی رد تشکیل ضروری ہے، ایک نہایت لغو بات ہے۔ انسانیت حیات میں بیک وقت دائمی اور تغیر پذیر دونوں طرح کے عناصر کارفرما ہیں۔ مولانا مودودی نے اس مسئلے پر اپنی تحریر &#8216;دین حق&#8217; میں بہت دل چسپ اور دل نشیں انداز میں بحث کی ہے۔ لکھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>کیا یہ واقعہ نہیں کہ تمام جغرافیائی، نسلی اور قومی اختلافات کے باوجود وہ قوانینِ طبعی یکساں ہیں جن کے تحت انسان دنیا میں زندگی بسر کر رہا ہے۔ وہ نظامِ جسمانی یکساں ہے جس پر انسان کی تخلیق ہوئی ہے۔ وہ خصوصیات یکساں ہیں جن کی بنا پر انسان دوسری موجودات سے الگ ایک مستقل نوع قرار پاتا ہے۔ وہ فطری داعیات اور مطالبات یکساں ہیں جو انسان کے اندر ودیعت کیے گئے ہیں۔ وہ قوتیں یکساں ہیں جن کے مجموعے کو ہم نفس انسانی کہتے ہیں۔ بنیادی طور پر وہ تمام طبعی، نفسیاتی، تاریخی، تمدنی، معاشی عوامل بھی یکساں ہیں جو انسانی زندگی میں کارفرما ہیں۔ اگر یہ واقعہ ہے اور کون کہہ سکتا ہے کہ یہ واقعہ نہیں ہے تو جو اصول انسان بحیثیت انسان کی فلاح کے لیے صحیح ہوں، ان کو عالم گیر ہونا چاہیے29۔</p></blockquote>
<p>بعینہ یہی بات زمانی اختلافات کے سلسلے میں بھی کہی جا سکتی ہے:</p>
<blockquote><p>زمانہ ایک حیات ایک، کائنات بھی ایک</p>
<p>دلیلِ کم نظری قصۂ جدید و قدیم</p></blockquote>
<p>ما بعد جدیدیت اور فروغِ اسلام</p>
<p>ما بعد جدیدیت کا نظریہ اسلام اور اسلامی تحریک کے لیے بیک وقت چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے اور امکان (opportunity) کی بھی۔ جدیدیت کی طرح اس تحریک نے بھی بعض سنجیدہ نظریاتی مسائل کھڑے کیے ہیں جن سے مسلمانوں کو فکری طور پر نبرد آزما ہونا ہے۔جدیدیت کے زمانے میں مفکرینِ اسلام نے اس کے اٹھائے ہوئے سوالات کے مسکت جواب دیے تھے، لیکن ساتھ ہی جدیدیت نے جو حالات اور رویے پیدا کیے تھے، تحریک اسلامی نے اپنی حکمت عملی میں ان کا لحاظ بھی کیا تھا۔ جدیدیت نے عقل کو اہمیت دینے کا مزاج بنایا تھا تو تحریک نے عقلی طریقوں سے اسلام کی دعوت پیش کی تھی۔ تحریک کی صورت گری اور اس کے لیے بنائی گئی جماعت کے ڈھانچے کی تشکیل میں بھی جائز حدود میں جدید طریقوں کا استعمال کیا گیا تھا۔</p>
<p>ٹھیک یہی ردعمل ما بعد جدیدیت کے بارے میں بھی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف ان فکری چیلنجوں کا مقابلہ کرنا ہے جو ما بعد جدیدیت نے پیش کیے ہیں اور دوسری طرف اسلام کی دعوت، اس کے مباحث اور طریق کار میں ان کیفیتوں، مزاجوں اور رویوں کا لحاظ رکھنا ہے جو ما بعد جدیدیت نے پیدا کیے ہیں۔</p>
<p>اسی پس منظر میں مسلمان مفکرین اور اسلام کے فروغ اور غلبے کے لیے کام کرنے والے درج ذیل نکات کے حوالے سے لائحہ عمل بنا سکتے ہیں۔ یہ حرفِ آخر نہیں، ان پر گفتگو ہو سکتی ہے، بلکہ ہونا چاہیے۔</p>
<p>1۔ تحریک اسلامی کا مقابلہ آج بھی جدیدیت کے فلسفوں سے ہے۔ ما بعد جدیدیت کی طاقت ور تحریک کے باوجود اب بھی عقلیت کا فریب پوری طرح بے نقاب نہیں ہو پایا ہے۔ سیاسی سطح پر عالمی استعماری قوتیں اسلامی قوتوں کی اصل حریف ہیں اور وہ آج بھی جدیدیت ہی کی مظہر ہیں۔ اسلامی دنیا میں اسلامی تحریکوں کو کچلنے والے تمام حکمران جدیدیت کے منصوبے ہی کے علم بردار ہیں۔ اس تناظر میں ما بعد جدیدی ہمارے اہم حلیف ثابت ہو سکتے ہیں۔ ما بعد جدیدی مفکرین مغرب اور مغربی تہذیب کی شان و شوکت، سرمایہ دارانہ معیشت کی چکاچوند اور مغربی افکار اور عقلیت کے سحر کو توڑنے میں ہمارے معاون ہو سکتے ہیں۔ تحریک اسلامی کو بڑا چیلنج اُن قوتوں سے درپیش ہے، جو تحریک کو رجعت پسندی قرار دیتے ہیں اور اسلام کے مقابلے میں جمہوریت، مرد و زن کی مساوات وغیرہ کے مغربی تصورات کو اسلامی معاشروں کے لیے راہِ نجات قرار دیتے ہیں۔ ما بعد جدیدیت کے علم بردار بڑے زور و شور سے ان &#8216;عظیم بیانات&#8217; کی ردتشکیل میںمصروف ہیں۔ لہٰذا اس معاملے میں یہ ہمارے حلیف ثابت ہو سکتے ہیں۔ ما بعد جدیدی مفکرین نے جدید مغرب کے &#8216;عظیم بیانات&#8217; پر جو سوالات کھڑے کیے ہیں ہمیں ان کا مؤثر استعمال کرنا چاہیے اور جدیدیت اور جدید مغرب کو شکست دینی چاہیے۔</p>
<p>2۔ ما بعد جدیدیت نے روحانیت اور روایات (Traditions) کا احیا کیا ہے اور مذہب کی طرف واپسی کی راہیں ہموار کی ہیں۔ اگرچہ ما بعد جدیدی مذہب کو آفاقی سچائی کا مقام دینے کے لیے تیار نہیں، لیکن اگر روحانی سکون کے لیے کوئی شخص مذہب اختیار کرتا ہے یا کوئی معاشرہ اپنے لیے مذہبی قانون پسندکرتا ہے تو ما بعد جدیدی مفکرین اسے قابل اعتراض نہیں سمجھتے۔ یہ صورتِ حال بھی تحریک کے لیے سازگار ہے۔</p>
<p>3۔ اس وقت دنیا بھر میں تکثیری معاشرے (pluralistic societies) وجود میں آ رہے ہیں۔ ان معاشروں میں اہل اسلام کے لیے ایک بڑا مسئلہ اپنی اسلامی شناخت اور تشخص کا تحفظ ہے۔ ما بعد جدیدی افکار یہاں بھی تحریک کے لیے معاون بنتے ہیں۔ مثلاً یکساں سول کوڈ کا تصور جدیدیت کا تصور ہے،جب کہ ما بعد جدیدی مفکرین کے نقطۂ نظر سےایک ہی ملک میں اپنی اپنی پسند کے علاحدہ علاحدہ قوانین کی نہ صرف گنجایش ہے، بلکہ یہ تکثریت قابلِ تحسین ہے۔ میرا خیال ہے کہ تحریک اسلامی ما بعد جدیدیت کے علم برداروں کو دوسری مذہبی اقلیتوں کے لیے اسلامی تعلیمات کے حق میں ہموار کر سکتی ہے جن کے مطابق ہر مذہبی گروہ کو اپنے مذہبی قوانین کے مطابق اپنے معاملات چلانے کا حق حاصل رہتا ہے۔</p>
<p>4۔ ما بعد جدید مفکرین کے ساتھ اس تال میل کے ذریعے، تحریک اسلامی کی سچائی اور قدروں کی اضافیت کے نظریے کو پُر زور طریقے سے چیلنج کرنا چاہیے۔ ان مفکرین کے اٹھائے ہوئے سوالات پر اسلام کا متوازن موقف گذشتہ سطور میں واضح کیا جا چکا ہے۔ یہ موقف ما بعد جدیدیت کے اندرونی تضاد سے بھی پاک ہے اور جدیدیت کی ان الجھنوں کو بھی نہایت خوبصورتی سے حل کرتا ہے جن کے حل کے لیے ما بعد جدیدیت کی تحریک برپا ہوئی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ موقف پُر زور طریقے سے دنیا کے سامنے لایا جائے۔</p>
<p>5۔ اس وقت دنیا بھر کے مذہبی اور نظریاتی فلسفے اپنے پیغام اور طرز پیش کش کو ما بعد جدید ذہن کے حسب حال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیتھولک چرچ نے تو اس کی باقاعدہ منظم کوشش شروع کی ہے۔ اور عیسائی مطالعات میں Postmodern Evangelism باقاعدہ ایک ڈسپلن کی حیثیت اختیار کر چکا ہے30۔ مارکسزم کی نئي پیش کش نیو مارکسزم کی صورت میں سامنے آ رہی ہے۔ اسلام کے داعیوں کو بھی اپنی پیش کش میں بدلے ہوئے ذہن کا لحاظ رکھنا ہوگا۔</p>
<p>ابھی تک ہمارا مخاطب جدید دور کا وہ قاری تھا جس کے اپنے نظریات اور خیالات تھے۔ ہمارا ہدف یہ تھا کہ اس کے نظریات اور خیالات کو غلط ثابت کیا جائے اور اس کے مقابلے میں اپنی دعوت کی معقولیت ثآبت کی جائے۔ اب ہمارا سامنا ایک ایسے ذہن سے ہے جو کسی نظریے اور خیال کی ضرورت کا ہی قائل نہیں ہے۔ وہ بیک وقت ہماری دعوت اور ہمارے مخالف کی دعوت دونوں کو صحیح اور دونوں کو غلط سمجھتا ہے۔ وہ نظریہ اور فکر کے معاملے میں سنجیدہ ہی نہیں ہے۔ وہ مذہب کے ساتھ ساتھ فکر اور نظریے کو بھی انسان کا انفرادی معاملہ سمجھتا ہے جس پر بحث کرنے اور لڑنے کی کوئی ضرورت ہے نہ جواز۔ یہ بدلی ہوئی صورت حال عالمی و فکری مباحث کے پورے منظر نامے کو بدل کر رکھ دیتی ہے اور اس کا لحاظ کیے بغیر ہم اپنی حکمت عملی کا صحیح طور پر تعین نہیں کر سکتے۔</p>
<p>6۔ ما بعد جدیدیت نے معقولیات اور علمی دلائل کی اہمیت اس قدر گھٹا دی ہے کہ فلسفہ، سماجیات، تہذیبی مطالعات وغیرہ میں اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے کے بالکل نئے طریقے وجود میں آ چکے ہیں۔ معقولات کے مقابلے میں کہانیاں، قصے اور داستانیں، عقل کے مقابلے میں جذباتی اپیل اور منظم اور مربوط بحث کے مقابلے میں ہلکی پھلکی اپیلیں ما بعد جدید ذہن سے زیادہ قریب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعدی اور رومی اس وقت اسلامی دنیا سے زیادہ مغربی دنیا میں مقبول ہیں۔ ہمیں اپنی دعوت کی پیش کش میں اس تبدیلی کو بھی ملحوظ رکھنا ہوگا اور ایسے مطالعات تیار کرنے ہوں گے جن کے مقدمات ما بعد جدید ذہن کو اپیل کر سکیں۔</p>
<p>7۔ معلومات اور اطلاعات کی اُس غیر معمولی اہمیت کا جسے ما بعد جدید عہد میں طاقت کے سب سے بڑے سرچشمے کا مقام مل چکا ہے، تقاضا ہے کہ تحریک اسلامی اس محاذ پر توجہ دے۔ کہا جا رہا ہے کہ ما بعد جدید دور میں سب سے بڑی قوت معلومات کی قوت ہی ہے۔ لیوٹارڈ نے لسانی کھیلوں کے حوالے سے ثابت کیا ہے کہ نئے دور میں معلومات کی ہر چال طاقت کی ایک وضع کی حامل ہے31۔ اور بین ملکی طاقت کے کھیل میں کمپیوٹرائزڈ معلومات کا بڑا حصہ ہوگا۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ قوموں اور ملکوں کی آیندہ رقابتیں اور دشمنیاں معلومات کے ذخیروں پر قدرت حاصل کرنے کے لیے ہوں گی یعنی معلومات گیری ملک گیری کی طرح عالمی سطح پر ہوس کا درجہ اختیار کر لے گی32۔</p>
<p>اس صورت حال کا نتیجہ ہے کہ تقریباً ہر ملک اپنی معلومات پالیسی (Knowledge Policy) وضع کر رہا ہے اور معلومات کے انتظام (Information Management) کو غیر معمولی اہمیت دے رہا ہے۔ اس تناظر میں تحریک اسلام بھی معلومات سے صرفِ نظر نہیں کر سکتی۔ اسے معلومات اور ڈیٹا (data) کے جمع و انتظام اور استعمال پر خصوصی توجہ دینی ہوگی اور اپنی معلوماتی پالیسی وضع کرنی ہوگی۔</p>
<p>8۔ جہاں تک تحریک کے جماعتی ڈھانچے کا سوال ہے ما بعد جدیدیت کے بعض طالب علموں کا خیال ہے کہ یہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تشکیل دیا گیا ہے اور ما بعد جدیدی عہدکی کیفیتوں کا ساتھ دینے کی اس میں صلاحیت نہیں ہے۔ یہ ایک انتہا پسندانہ نقطۂ نظر ہے۔ دنیا بھر میں بڑی بڑی تنظیمیں مخصوص نظم جماعت کے ساتھ کامیابی سے کام کر رہی ہیں۔ البتہ یہ صحیح ہے کہ نئے تقاضوں کا ساتھ دینے کے لیے ہمارے تنظیمی سانچے میں بعض بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔ علم انتظامیات (Management Sciences)  کے تصورات میں ما بعد جدیدی افکار نے بڑی انقلابی تبدیلیاں کی ہیں۔ مرکزیت، طاقت کا ارتکاز، سرخ فیتہ شاہی، ضابطوں کی سخت گیری، فیصلہ سازی اور مشاورت کے عمل کی مخصوص اداروں تک محدودیت، جواب دہی اور باز پرس کی میکانیت وغیرہ جیسے امور، جو نو آبادیاتی علم انتظامیات کی نمایاں خصوصیات تھیں اب دنیا بھر میں رد کی جا رہی ہیں۔ اور ما بعد جدید ذہن نہ انہیں قبول کرنے کے لیے تیار ہیں، نہ اس سیٹ اَپ میں کام کرنے کے لیے۔ تحریک اسلامی کو اس تبدیلی پر بھی توجہ دینا ہوگی۔</p>
<p>خلاصۂ بحث</p>
<p>ما بعد جدیدیت، جدیدیت کا ایک منفی ردعمل ہے اور اس گھٹاٹوپ اندھیرے کا مظہر ہے جس میں مسلسل کئی نظریات کی ناکامی اور ابطال کے بعد ہمارے عہد کا پڑھا لکھا انسان بھٹک رہا ہے۔ افکار، نظریات اور فلسفوں کی عالی شان عمارتیں اس بری طرح سے زمین بوس ہو گئیں کہ نئے زمانہ کے فلسفیوں نے عافیت اسی میں محسوس کی کہ سوچنا ہی چھوڑ دیا جائے۔ فکر و خیال اور سچائی کے تصورات ہی کو واہمہ قرار دیا جائے۔ نظریے اور آئیڈیالوجی کو ایک ناپسندیدہ شے باور کیا جائے اور حیات انسانی کو حالات اور افراتفری کے حوالے کر کے ما بعد جدیدیت کی جنت میں چین کی بانسری بجائی جائے۔ تمام جھوٹے خداؤں کے زمین بوس ہو جانے کے بعد ما بعد جدیدیت دراصل لا الٰہ کا اعلان ہے۔ الا اللہ کا اعلان باقی ہے جو ان شاء اللہ موجودہ کیفیت کا لازمی اور منطقی انجام ہوگا۔</p>
<p>حوالہ جات:</p>
<p>23۔ اس موضوع پر امام غزالی نے جو بحث کی ہے اس کے لیے ملاحظہ فرمائیے</p>
<p>Ghazali Abu Hamid Muhammad (2000) The Incoherence of the Philosophers (Translation of Tahafatul Falasafa by Michael E. Marmura) Provo. Brigham Young University Press</p>
<p>24۔ الغزالی، ابو حامد محمد (1965ء) معیار العلم، تحقیق الدکتور سلیمان دنیا، قاہرہ: دار المعارف ص 42-60</p>
<p>25۔ www.ghazali.org/site/dissert.htm</p>
<p>26۔ مودودی، سیدابو الاعلٰی (2007) دین حق، نئی دہلی: مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، ص 22</p>
<p>27۔ ندوی علامہ سید سلیمان (1991) سیرت النبی، جلد چہارم، لاہور: الفیصل ناشران کتب، ص 84</p>
<p>28۔ Sardar Ziauddin http://www.islmiconline.net/english/contemporary/2002/05/article20.shtml</p>
<p>29۔ مودودی، سید ابو الاعلٰی (2007) دین حق، نئی دہلی: مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، ص 10</p>
<p>30۔ http://www.gettysburgsemorg/mhoffman/other/pomoevangelism.htm</p>
<p>31۔Lynord, J.F. (1984) The Postmodern condition: A Report on Knowledge, Geoff Bennington and Brian Massumi (translation), Minneapolis: University of Minnesota Press: p 9-11</p>
<p>32۔ گوپی چند نارنگ، حوالہ سابق
<div class="tweetmeme_button" style="float: right; margin-left: 10px;">
			<a href="http://api.tweetmeme.com/share?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Fpost-modernism-islam-3%2F"><br />
				<img src="http://api.tweetmeme.com/imagebutton.gif?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Fpost-modernism-islam-3%2F&amp;style=normal&amp;service=TinyURL.com" height="61" width="50" /><br />
			</a>
		</div>
<a class="google_buzz"  
href="http://www.google.com/reader/link?url=http://www.abushamil.com/post-modernism-islam-3/&title=ما+بعد+جدیدیت+کا+چیلنج+اور+اسلام-+آخری+قسط&srcURL=http://www.abushamil.com" target="_blank" rel="nofollow"><img
src="http://www.abushamil.com/wp-content/plugins/google-buzz-button-for-wordpress/images/google-buzz.png" alt="Google Buzz" /></a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/post-modernism-islam-3/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ما بعد جدیدیت کا چیلنج اور اسلام قسط 2</title>
		<link>http://www.abushamil.com/post-modernism-islam-2/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/post-modernism-islam-2/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 03 Sep 2008 04:22:08 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسلام اور جدیدیت]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام اور عصر حاضر]]></category>
		<category><![CDATA[تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[جدیدیت]]></category>
		<category><![CDATA[Age of Desecularisation]]></category>
		<category><![CDATA[Age of No Ideology]]></category>
		<category><![CDATA[decentralisation]]></category>
		<category><![CDATA[Enlightenment]]></category>
		<category><![CDATA[Feminism]]></category>
		<category><![CDATA[Humanism]]></category>
		<category><![CDATA[Islam & Modern Era]]></category>
		<category><![CDATA[Islam & Modernism]]></category>
		<category><![CDATA[Meganarratives]]></category>
		<category><![CDATA[Rationalism]]></category>
		<category><![CDATA[Renaissance]]></category>
		<category><![CDATA[Revival of Islam]]></category>
		<category><![CDATA[Revivalism]]></category>
		<category><![CDATA[Traditionalism]]></category>
		<category><![CDATA[Utilitarianism]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[روشن خیالی]]></category>
		<category><![CDATA[ما بعد جدیدیت]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://abushamil.urdutech.com/?p=175</guid>
		<description><![CDATA[ما بعد جدیدیت (Post Modernism) کا چیلنج اور اسلام کے عنوان سے شروع کردہ سلسلے کی یہ دوسری قسط حاضرِ خدمت ہے۔ پہلی قسط یہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ ما بعد جدیدیت کیا ہے؟ جدیدیت کے علم برداروں نے اپنے مخصوص افکار پر جس شد و مد کے ساتھ اصرار کیا اور ان کی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ما بعد جدیدیت (Post Modernism) کا چیلنج اور اسلام کے عنوان سے شروع کردہ سلسلے کی یہ دوسری قسط حاضرِ خدمت ہے۔ پہلی قسط <a href="../post-modernism-islam-1/">یہاں</a> ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>ما بعد جدیدیت کیا ہے؟</p>
<p>جدیدیت کے علم برداروں نے اپنے مخصوص افکار پر جس شد و مد کے ساتھ اصرار کیا اور ان کی تنفیذ کے لیے جس طرح طاقت اور حکومت کا بے دریغ استعمال کیا اس نے فکری استبداد کی وہی صورت حال پیدا کر دی، جو عہد وسطٰی کے یورپ میں مذہبی روایت پسندی نے پیدا کی تھی اور جس کے ردعمل میں جدیدیت کی تحریک برپا ہوئی تھی۔ اس استبداد کا لازمی نتیجہ شدید ردعمل کی شکل میں رونما ہوا اور یہی ردعمل ما بعد جدیدیت (Post Modernism) کہلاتا ہے۔</p>
<p>ما بعد جدیدیت ان افکار کے مجموعے کا نام ہے جو جدیدیت کے بعد اور اکثر اس کے ردعمل میں ظہور پذیر ہوئے۔ اس کے علم بردار نہ تو کسی منظم نظامِ فکر کے قائل ہیں اور نہ منظم تحریکوں کے۔ اس لیے یہ فکر اشتراکیت یا جدیدیت کی طرح کوئی مبسوط یا منظم فکر نہیں ہے اور نہ اس کی پشت پر کوئی منظم تحریک ہی موجود ہے۔ بلکہ ما بعد جدیدیت کے عمل بردار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ کسی نظریے کا نام نہیں ہے، بلکہ اُس عہد کا نام ہے جس سے ہم گزر رہے ہیں اور اُن کیفیتوں کا نام ہے جو اس عہد کی امتیازی خصوصیات ہیں11۔ ظاہر ہے کہ یہ محض دعویٰ ہے اور چونکہ وہ اپنے خیالات کی تائید میں کتابیں لکھ رہے ہیں، فلسفیانہ مباحث چھیڑ رہے ہیں اور بحثیں کر رہے ہیں اس لیے دنیا ان کے خیالات کو ایک آئیڈیالوجی ماننے پر مجبور ہیں۔</p>
<p>اکثر امور میں ما بعد جدیدیت کے مفکروں میں اتفاق رائے بھی نہیں ہے اور علمی حلقوں میں یہ اصطلاح مختلف معنوں میں استعمال ہوتی رہی ہے۔ اس لیے اس کی تعریف بیان کرنا بھی بہت مشکل ہے۔ تاہم بعض خیالات ما بعد جدیدیت مفکرین میں بھی مشترک ہیں اور یہی مشترک فکر اُن کا امتیاز ہے۔ لیوٹارڈ، جس کا اس فکر کے بانیوں میں شمار ہوتا ہے، اس نے اس کی تعریف یوں بیان کی ہے:</p>
<blockquote><p>I define Postmodernism as incredulity towards meganarratives12</p>
<p>(میرے نزدیک ما بعد جدیدیت کا مطلب عظیم بیانات پر عدم یقین ہے)</p></blockquote>
<p>ما بعد جدیدیت کے حامی کہتے ہیں کہ جدیدیت نے عقل کی بالاتری، آزادی، جمہوریت، ترقی، کھلی منڈی اور اشتراکیت جیسے خیالات عالم گیر سچائیوں کی حیثیت سے پیش کیے۔ یہ ایک کھلا فریب تھا۔ زمانہ کے امتداد نے ان ساری خود ساختہ حقیقتوں کا جھوٹ واضح کر دیا ہے، اس لیے اب اس عہد میں اس طرح کے عظیم بیانات (Meganarratives) نہیں چلیں گے۔ یہ اس عہد کا خاصہ ہے۔ اس میں جدیدیت کے تمام دعوؤں کی عمارت ڈھا دی گئی ہے۔ اور اس عہد کی یہ خصوصیت ہی ما بعد جدیدیت ہے13۔</p>
<p>سچائی کی اضافیت کا نظریہ</p>
<p>ما بعد جدیدیت کے تصور کے مطابق دنیا میں کسی آفاقی سچائی کا وجود نہیں ہے۔ بلکہ آفاقی سچائی کا تصور ان کے نزدیک محض ایک خیالی تصور (Utopia) ہے۔ جدیدیت کے علم برداروں کا خیال ہے کہ جمہوریت،آزادی و مساوات، سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت (یا اشتراکیوں کے نزدیک اشتراکیت) اور ٹکنالوجیکل ترقی وغیرہ پر مبنی جو ماڈل یورپ میں اختیار کیا گیا، اس کی حیثیت ایک عالمی سچائی کی ہے اور ساری دنیا کو اپنی روایات چھوڑ کر ان عالمی سچائیوں کو قبول کرنا چاہیے۔ چنانچہ 20 ویں صدی میں ساری دنیا کو جدید بنانے کا کام شروع ہوا۔ روایتی معاشروں سے کہا گیا کہ وہ صنعتیں قائم کریں، شہر بسائیں، آزادی کی قدروں کو نافذ کریں،جمہوری طرز حکومت اپنائیں،جدید ٹکنالوجی کو اختیار کریں اور اس طرح جدید بنیں کہ فلاح و ترقی کا یہی واحد راستہ ہے۔ ما بعد جدیدی دوسری انتہا پر جا کر عالمی یا آفاقی سچائی کے وجود ہی سے انکار کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک چاہے سچائی ہو یا کوئی اخلاقی قدر، حسن و خوبصورتی کا احساس ہو یا کوئی ذوق، یہ سب اضافی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا تعلق انفرادی پسند و ناپسند اور حالات سے ہے۔ یعنی ایک ہی بات کسی مخصوص مقام یا مخصوص صورتوں میں سچ اور دوسری صورتوں میں جھوٹ ہو سکتی ہے۔ دنیا میں کوئی بات ایسی نہیں ہے جو ہمیشہ اور ہر مقام پر سچ ہو۔ تصورِ جہاں (World view) سچائی کی پیداوار نہیں ہوتا بلکہ طاقت کی لڑائی میں ایک  محض ایک ہتھیار ہوتا ہے۔ لوگوں نے دنیا پر حکومت کرنے اور عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے اپنے من پسند خیالات کو عالم گیر سچائیوں کے طور پر ان پر مسلط کیا ہے۔ اس طرح وہ سرمایہ داری، جمہوریت اور اشتراکیت وغیرہ جیسے نظریات کے سخت ناقد ہیں، جو اپنے خیالات کو عالم گیر سچائی کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ مذہبی عقائد اور تصورات کے بھی منکر ہیں کیونکہ مذاہب کا دعویٰ بھی یہی ہے کہ ان کے معتقدات کی حیثیت اٹل حقائق کی ہے14۔</p>
<p>اس نظریے کی تائید میں ان کی دلیل یہ ہے کہ صدیوں کی علمی جستجو کے باوجود انسانی ذہن کسی ایک سچائی پر متفق نہیں ہو سکا۔ آج بھی صورت حال یہ ہے کہ ہمارے اطراف کئی ایک اور بسا اوقات باہم متضاد سچائیاں (یعنی سچ کے دعوے) پائی جاتی ہیں۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ ہم سچائی سے متعلق اپنے نقطۂ نظر کو ہی بدل لیں اور یہ تسلیم کر لیں کہ سچائی نام کی کوئی چیز سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ سچائی محض ہمارے مشاہدے کا نتیجہ ہوتی ہے اور مشاہدہ ہمارے ذہن کی تخلیق۔ سچائی کی تلاش نہیں، بلکہ سچائی کی تشکیل ہوتی ہے۔ حالات کے مطابق ہمارا ذہن سچائی کی تخلیق کرتا ہے۔ اور چونکہ بیک وقت ایسی کئی تخلیقات ممکن ہیں اس لیے یہ ماننا چاہیے کہ کوئی بھی تخلیق حتمی نہیں ہے۔</p>
<p>ما بعد جدیدیت کے ماننے والے سائنس کو بھی حتمی سچائی کی حیثیت سے قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ لیوٹارڈ کہتا ہے:</p>
<blockquote><p>سائنس کی زبان اور اخلاقیات،اور سیاسیات کی زبان میں گہرا تعلق ہے اور یہ تعلق ہی مغرب کی تہذیبی تناظر کی تشکیل کرتا ہے 15۔</p></blockquote>
<p>یعنی سائنس بھی مغرب کی سیاست اور اخلاقی فلسفوں سے آزاد نہیں ہے۔</p>
<p>دنیا کے غیر حقیقی ہونے کا نظریہ</p>
<p>ما بعد جدیدیت کے مطابق جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں،اس کی حیثیت سچائی کی نہیں ہے۔ اس کے علم برداروں کا خیال ہے کہ ہم وہی دیکھتے ہیں جو دیکھنا چاہتے ہیں اور ہم وہی دیکھتے ہیں جو مخصوص وقت اور مخصوص مقام پر مخصوص احوال خود کو دکھانا چاہتے ہیں۔ وہ دنیا کو حقیقی اور ٹھوس اشیا اور مناظر کی بجائے ایسے عکسوں (images) اور مظاہر (representations) سے عبارت سمجھتے ہیں جو غیر حقیقی (unreal) اور غیر محسوس (untangible) ہیں۔ یعنی پوسٹ ماڈرن ازم کے نزدیک یہ دنیا محض ایک وڈیو گیم ہے جس میں ہم اپنی پسند کی سچائیاں دیکھتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں۔ ضیاء الدین سردار نے اس کی تشریح یوں کی ہے:</p>
<blockquote><p>اس کا مطلب ہے کہ یہ دنیا ایک ایسی تھیٹر ہے جس میں ہر چیز مصنوعی طور پر تشکیل کر دہ ہے۔ سیاست عوامی استعمال کے لیے کھیلا جانے والا ایک ڈراما ہے۔ ٹیلی وژن پر دستاویزی فلمیں تفریحات کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔ صحافت حقیقت اور افسانے کے بیچ فرق کو دھندلا دیتی ہے۔ زندہ افراد، سوپ اوپیرا کے کردار بن جاتے ہیں اور افسانوی کردار زندہ انسانوں کی جگہ لے لیتے ہیں۔ ہر چیز اچانک واقع ہو جاتی ہے اور ہر شخص عالمی تھیٹر میں واقع ہونے والی ہر چیز کا بر موقع نظارہ کرتا ہے17۔</p></blockquote>
<p>رد تشکیل کا نظریہ</p>
<p>جیسا کہ عرض کیا گیا، ما بعد جدیدیت کے نزدیک جمہوریت، ترقی، آزادی، مذہب، خدا، اشتراکیت اور اس طرح کے دعوؤں کی وہی حیثیت ہے جو دیومالائی داستانوں اور عقیدوں کی ہے۔ اس لیے انہوں نے ان تمام دعوؤں کو عظیم بیانوں (meganarratives) کا نام دیا ہے۔ جدیدیت کے مفکرین کا خیال ہے کہ انہوں نے بہت سی &#8216;سچائیاں&#8217; تشکیل دی ہیں اور چاہے مذاہب ہوں یا جدید نظریات، ان کی بنیاد کچھ خود ساختہ عالمی سچائیوں پر ہے، اس لیے جدیدیت کے دور کی تہذیب، علم وغیرہ انہی مفروضہ سچائیوں پر استوار ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان تشکیل شدہ سچائیوں کی رد تشکیل (deconstruction) کی جائے، یعنی انہیں ڈھا دیا جائے۔ چنانچہ ادب، فنون لطیفہ، آرٹ، سماجی اصول و ضابطے ہر جگہ ان کے نزدیک خود ساختہ سچائیاں اور عظیم بیانے ہیں جن کی رد تشکیل ضروری ہے تاکہ ما بعد جدیدی ادب فنون لطیفہ وغیرہ میں ایسے &#8216;غلط مفروضوں&#8217; کا عمل دخل نہ ہو۔ جیسا کہ ما بعد جدیدیت کا ایک تجزیہ نگار لکھتا ہے:</p>
<blockquote><p>ما بعد جدید مفکرین کا خیال ہے کہ ہماری طرح کے ایک آفاقی اور غیر مرکزی سماج میں خود بخود ما بعد جدید کی طرح کے ردعمل جنم لیتے ہیں۔ یعنی عظیم بیانات کے فکری استبداد کا استرداد، ساخت اور طرز کی وحدت کے روایتی سانچوں کی شکست و ریخت اور منطق کی مرکزیت اور اس طرح کے دیگر مصنوعی طور پر مسلط کردہ نظاموں کو اٹھا کر پھینک دینے کا عمل18۔</p></blockquote>
<p>شاید بحث پیچیدہ اور فلسفیانہ ہو گئی۔ لیکن چونکہ اس فکر کی بنیادی فلسفیانہ ہیں اس لیے اس مختصر فلسفیانہ بحث کے بغیر اس نظریے پر کماحقہ روشنی نہیں ڈالی جا سکتی تھی۔</p>
<p>ما بعد جدیدیت کے عملی اثرات</p>
<p>ما بعد جدیدیت ایک دقیق فلسفیانہ بحث ہے۔ لیکن اس کے پیش رو، جدیدیت کے افکار بھی ایسے ہی دقیق فلسفے تھے۔ عام لوگ ان گہرے فلسفوں کا مطالعہ نہیں کرتے لیکن عملی زندگی میں ان کے اثرات قبول کرتے ہیں۔ جدیدیت کے عروج کے زمانے میں بھی سب لوگ والٹیر اور روسو کی دقیق کتابیں نہیں پڑھتے تھے، لیکن آزادی، مساوات، جمہوریت، اپنے حقوق کا احساس، مساوات مرد و زن، روایات کے خلاف بغاوت اور عقل پر اصرار جیسی چیزیں عام آدمی کے رویوں کا بھی حصہ تھی۔ ٹھیک اسی طرح ہمارے عہد میں بھی عام لوگ چاہے ما بعد جدیدیت کی اصطلاحات اور بحثوں سے واقف نہ ہو، لیکن محسوس اور غیر محسوس طریقوں سے اپنی عملی زندگی اور رویوں میں اس کے اثرات قبول کر رہے ہیں۔ مسلمان اور بعض اوقات اسلام کے فروغ کے لیے کام کرنے والے بھی اس کے اثرات سے خود کو نہیں بچا پا رہے ہیں۔</p>
<p>ما بعد جدیدیت کا سب سے نمایاں اثر یہ ہے کہ افکار، نظریات اور آئیڈیالوجی سے لوگوں کی دل چسپی نہایت کم ہو گئی ہے۔ عہد جدید کا انسان مخصوص افکار و نظریات سے وفاداری رکھتا تھا اور ان کی تبلیغ و اشاعت کے لیے پُر جوش و سرگرم رہتا تھا۔ ما بعد جدید دور کے انسان کے نہ کوئی آدرش ہیں نہ اصول۔ اس کے سامنے کسی بھی موضوع پر نظری بحث شروع کیجیے دامن جھاڑ کر اُٹھ جائے گا۔ اس لیے بعض مفکرین اس عہد کو &#8216;عدم نظریہ کا عہد&#8217; Age of No Ideology قرار دیا ہے 19۔  اصول اور افکار کے مبسوط نظام (doctrine) کے بالمقابل ما بعد جدید انسان کے پاس صرف جذبات و احساسات ہیں یا عملی مسائل (pragmatic issues)۔ ما بعد جدیدیت کا کہنا ہے کہ زندگی کی تمام بحثیں &#8216;مسئلہ&#8217; اور &#8216;حل&#8217; (problem and solution) تک محدود کی جا سکتی ہیں۔ اس لیے اصولوں اور نظریوں کے بجائے ایک ایک مسئلے کو الگ الگ لیا جانا چاہیے اور اس کے حل پر بات ہونی چاہیے۔ چنانچہ ما بعد جدیدی انسان کی بحث و گفت گو کا سارا زور یا تو روز مرہ کے عملی مسائل پر ہے یا روابط و تعلقات کی جذباتیت پر۔ مختلف فیہ اور متنازعہ فیہ مسائل میں وہ باہم متضاد خیالات میں سے ہر خیال کو بیک وقت درست سمجھتا ہے، ان کی تنقیح اور درست فیصلے سے اسے کوئی دل چسپی نہیں۔</p>
<p>مذہبی معاملات میں وحدت ادیان کا نظریہ بہت قدیم ہے۔ ما بعد جدیدیت نے اس طرزِ فکر کو تقویت دی ہے۔ اب دنیا بھر میں لوگ بیک وقت سارے مذاہب کو سچ ماننے کے لیے تیار ہیں۔ اور بین المذاہب مکالمات و مباحث سے لوگوں کی دل چسپی رو بہ زوال ہے۔ جبکہ دوسری طرف الحاد و مذہب بیزاری کی شدت بھی ختم ہو رہی ہے۔ چونکہ الحاد بھی ایک &#8216;دین&#8217; یا ایک &#8216;دعویٰ&#8217; ہے، اس لیے ما بعد جدید انسان اسے بھی ایک مسلک کے طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس لیے اس عہد کو لادینیت کے خاتمے کا عہد (Age of Desecularisation) بھی کہا جاتا ہے20۔ ایک شخص خدا پر یقین نہ رکھتے ہوئے بھی روحانی سکون کی تلاش میں کسی مذہبی پیشوا سے رجوع کر سکتا ہے۔ اور آج اسے کسی ہندو بابا کے ہاں سکون ملتا ہے تو کل کوئی عیسائی راہب اسے مطمئن کر سکتا ہے۔ یہ ما بعد جدیدیت ہے۔</p>
<p>قدروں کی اضافیت کے نظریے سے سماجی اداروں اور انضباطی عوامل (Regulating Factors) کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ خاندانی نظام اور شادی بیاہ کے بندھنوں کا انکار ہے نہ اقرار۔ عفت، ازدواجی وفاداری اور شادی کے بندھن ما بعد جدیدیوں کے ہاں &#8216;عظیم بیانات&#8217; ہیں۔ اسی طرح جنسوں کی بنیاد پر علیحدہ علیحدہ رول کو بھی وہ آفاقی نہیں مانتے۔ نہ صرف مرد عورت کے درمیان تقسیم کار کے روایتی فارمولوں کے وہ منکر ہیں، بلکہ جنسی زندگی میں بھی مرد اور عورت کے جوڑے کو ضروری نہیں سمجھتے۔ شادی مرد اور عورت کے درمیان بھی ہو سکتی ہے، اور مرد مرد اور عورت عورت کے درمیان بھی، کوئی چاہے تو اپنے آپ سے بھی کر سکتا ہے۔ مرد اور عورت شادی کے بغیر ایک ساتھ رہنا پسند کریں تو اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ایک ساتھ بھی نہیں رہنا ہے تو صرف تکمیل خواہش کا معاہدہ ہو سکتا ہے۔ یہ سب ذاتی پسند اور ذوق کی بات ہے۔ فیشن، لباس، طرز زندگی ہر معاملے میں کوئی بھی ضابطہ بندی گوارا نہیں ہے۔ مرد بال بڑھا سکتا ہے، چوٹی رکھ سکتا ہے، اسکرٹ پہن سکتا ہے، زنانہ نام رکھ سکتا ہے، کسی بھی رنگ اور ڈیزائن کا لباس پہن سکتا ہے۔ سوسائٹی کو کسی بھی رویے کو ناپسند کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ حتٰی کہ اگر کوئی مادر زاد برہنہ رہنا چاہے تو سوسائٹی اس پر بھی معترض نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ بعض ما بعد جدیدی، لباس کو آفاقی ضرورت قرار دینے پر معترض ہیں۔ آدمی اگر موسم اور اپنے ذوق کی مناسبت سے کوئی لباس پسند کرنا چاہے تو کرے اور اگر عریاں رہنا چاہے تو انسانی جسم سے بڑھ کر خوبصورت لباس اور کیا ہو سکتا ہے؟ وہ عریانیت کی تبلیغ کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر اس طرز زندگی کے فروغ کے لیے ویب سائٹس، ہیلپ لائنیں، ڈسکشن فورمز اور نہ جانے کیا کیا ہیں۔</p>
<p>سیاسی محاذ پر ما بعد جدیدی، قوموں کے وجود اور قوم پرستی کے منکر ہیں۔ ان کے نزدیک قوم، قومی مفاد، قومی تفاخر، قومی کردار، قومی فرائض، یہ سب &#8216;عظیم بیانات&#8217; ہیں۔ ان کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ضرورت اور مفاد کے مطابق افراد کسی بھی قسم کے دوسرے افراد سے تعامل کرتے ہیں اور اس طرح گروہوں کی تشکیل ہوتی ہے۔ یہ تشکیل ضروری نہیں کہ قوم اور نسل کی بنیاد پر ہو۔ قوموں کے اقتدارِ اعلٰی کا تصور بھی ان کے نزدیک &#8216;عظیم بیان&#8217; ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ما بعد جدیدی سماج میں ایک طرف گلوبلائزیشن کے عمل کے نتیجے میں ریاست کے اقتدارِ اعلٰی کو عالمی معاشی قوتوں کے تابع کر دیا گیا اور دوسری طرف مقامی معاشروں کے مفادات کو بھی ریاست کے اقتدار اعلٰی پر فوقیت اور بالاتری دے دی گئی۔ اگر کوئی علاقہ، قبیلہ یا گروہ ریاست کے اقتدار سے خوش نہیں تو ریاست کو اس پر زبردستی کا کوئی حق نہیں 21۔</p>
<p>اس طرح پالیسی کی سطح پر &#8216;ترقی&#8217; ٹکنالوجی وغیرہ جیسے تصورات کو چیلنج کیا گیا۔ ما بعد جدیدی ترقی کے &#8216;یکساں فارمولے&#8217; کے خلاف ہیں۔ یہ بات کہ جدید شہروں کی شان و شوکت اور ٹکنالوجی پر مبنی تعیشات پس ماندہ علاقوں کی منزل اور ان کی کاوشوں کا ہدف ہونا چاہیے، اب مسلّمہ نہیں رہی۔ ما بعد جدید تحریکوں نے دیہی زندگی اور روایتی معاشروں کی افادیت بھی اجاگر کی۔ اگر باسی اپنے قبائلی طرزِ زندگی سے مطمئن اور خوش ہیں تو کوئی ضروری نہیں کہ انہیں جدید شہری ترقی کے لیے مجبور کیا جائے۔ ان کے نزدیک جنگل کی آزاد فضا ہی سچائی ہے۔ دیہی لوگوں کو ان کی زمین سے ہٹا کر وہاں نئی صنعتیں قائم کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے، خواہ اس کے بدلے میں ان کو زیادہ آرام دہ زندگی ہی کیوں نہ میسر آئے۔ ما بعد جدید پالیسی کا حاصل یہ ہے کہ ہر فرد کو اس کی مرضی اور پسند کی زندگی گزارنے کی آزادی دی جانی چاہیے اور تعلیم، سائنس، ٹکنالوجی، ترقی اور نہ تعیشات، کوئی بھی چیز اس پر مسلط نہیں کی جانی چاہیے۔</p>
<p>آرٹ اور فنون لطیفہ میں وہ ہر طرح کے نظم اور پابندی کے خلاف ہیں۔ جدیدیت نے ان محاذوں پر جو اصول تشکیل دیے تھے، ما بعد جدیدی ان کی رد تشکیل کرنا چاہتے ہیں۔ گوپی چند نارنگ کے الفاظ میں:</p>
<blockquote><p>ہر طرح کی نظری ادعائیت سے گریز اور تخلیقی آزادی پر اصرار ما بعدجدیدیت ہے 22</p></blockquote>
<p>ما بعد جدیدی کہتے ہیں کہ ادب اور فنون لطیفہ حقیقت کی ترجمانی کے لیے نہیں بلکہ حقیقت کی تخلیق کے لیے ہیں۔ اس لیے وہ آرٹ کو ہر طرح کے ادبی، سیاسی اور مذہبی دعوؤں سے آزاد کرانا چاہتے ہیں۔</p>
<p>اس طرح ما بعد جدیدیت کی تحریک نے سوسائٹی میں ہر جگہ مقتدر افسر شاہی اور ضابطوں اور اصولوں کی سخت گیری کو چیلنج کیا۔ نظام مراتب (hierarchy) کے مقابلے میں انارکی، بندشوں کے مقابلے میں آزادی، اختیارات کی مرکزیت (centralisation)  کے مقابلے میں غیر مرکزیت (decentralisation) اور ضابطے اور اصول کے مقابلے میں انفرادی پسند اور آزادی کا احترام وغیرہ اس تحریک کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ اس صورت حال نے منظم ہمہ گیر تحریکوں کے مقابلے میں ایشوز پر مبنی وقتی اور موضوعاتی تحریکیں، سخت گیر بیوروکریٹک انتظام کے مقابلے میں ڈھیلی ڈھالی قیادت وغیرہ کی کیفیتیں پیدا کیں۔ عملی زندگی کے مختلف معاملات میں ما بعد جدیدی کی ہر طرح کی روایت، اصول اور ضوابط کی عالم گیری کے خلاف ہیں اور ذاتی پسند و نا پسند کو اہمیت دیتے ہیں۔ طرز ہائے زندگی سے متعلق معاملات میں ذاتی پسند افراد کی ہوتی ہے۔ اس کو منضبط کرنے کا معاشرے کو کوئی حق نہیں ہے اور اجتماعی معاملات میں پسند و نا پسند قبیلوں، آبادیوں، تنظیموں یا کسی بھی اجتماعی گروہ کی ہو سکتی ہے۔ اس پر کنٹرول کے لیے کسی عالمی یا قومی ادارے کو کوئی حق حاصل نہیں ہے۔</p>
<p>حوالہ جات:<br />
11۔ اس موضوع پر تفصیلی مطالعے کے لیے دیکھیے:<br />
Bauman, Zgmunt (2000) Liquid Modernity, Cambridge: Polity Press.<br />
12۔Lyotard, J. F. (1984) The Postmodern Condition: A report on knowledge, Geoff Bennington and Brian Massumi (trans.) Minneapolis: University of Minnesota Press p. xxiv<br />
13۔ Anderson, Walter Truett (1995) The truth about Truth: De-confusing and Re-constructing the Postmodern World. New York: Penguin p 239-44<br />
14۔ حوالہ سابق، ص 111<br />
15۔ A report on Lyotard, J. F. (1984) The Postmodern Condition: knowledge, Geoff Bennington and Brian Massumi (trans.) Minneapolis: University of Minnesota Press p. 8<br />
16۔ حوالہ سابق p. xxiii<br />
17۔ Sardar, Ziauddin (1998) Postmodernism and the other, the New Imperialism of Western Culture, London: Pluto Press p. 23<br />
18۔ Charles Upton (2001) The System of Antichrist Truth &amp; Falsehood in Postmodernism &amp; the New Age Sophia: Perennis p. 45<br />
19۔ Stephens Mitchel (2007) We are all Postmodern Now, at http://journalism.nyu.edu/faculty/files/stephens-postmodern.pdf<br />
20۔ لادینیت کے خاتمے کی بحث کے لیے دیکھیے ایک دل چسپ کتاب:<br />
Peter L. Berger (1999) The Desecularization of the World, Resurgent Religion and World Politics; Michigan: William B. Eerdmans Publishing Co.<br />
21۔ Anderson Walter Truett (1991) Postmodern Politics in Context#30 (Reclaiming Politics) Fall/Winter 1991, Langley p. 32.<br />
22۔ گوپی چند نارنگ (2004ء) ساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات، نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، ص 530
<div class="tweetmeme_button" style="float: right; margin-left: 10px;">
			<a href="http://api.tweetmeme.com/share?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Fpost-modernism-islam-2%2F"><br />
				<img src="http://api.tweetmeme.com/imagebutton.gif?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Fpost-modernism-islam-2%2F&amp;style=normal&amp;service=TinyURL.com" height="61" width="50" /><br />
			</a>
		</div>
<a class="google_buzz"  
href="http://www.google.com/reader/link?url=http://www.abushamil.com/post-modernism-islam-2/&title=ما+بعد+جدیدیت+کا+چیلنج+اور+اسلام+قسط+2&srcURL=http://www.abushamil.com" target="_blank" rel="nofollow"><img
src="http://www.abushamil.com/wp-content/plugins/google-buzz-button-for-wordpress/images/google-buzz.png" alt="Google Buzz" /></a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/post-modernism-islam-2/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ما بعد جدیدیت کا چیلنج اور اسلام قسط 1</title>
		<link>http://www.abushamil.com/post-modernism-islam-1/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/post-modernism-islam-1/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 22 Aug 2008 08:51:31 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسلام اور جدیدیت]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام اور عصر حاضر]]></category>
		<category><![CDATA[تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[حاصل مطالعہ]]></category>
		<category><![CDATA[روشن خیالی]]></category>
		<category><![CDATA[Enlightenment]]></category>
		<category><![CDATA[Feminism]]></category>
		<category><![CDATA[Humanism]]></category>
		<category><![CDATA[Islam & Modern Era]]></category>
		<category><![CDATA[Islam & Modernism]]></category>
		<category><![CDATA[Rationalism]]></category>
		<category><![CDATA[Renaissance]]></category>
		<category><![CDATA[Revival of Islam]]></category>
		<category><![CDATA[Revivalism]]></category>
		<category><![CDATA[Traditionalism]]></category>
		<category><![CDATA[Utilitarianism]]></category>
		<category><![CDATA[جدیدیت]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://abushamil.urdutech.com/?p=154</guid>
		<description><![CDATA[جدیدیت ان نظریاتی، تہذیبی، سیاسی اور سماجی تحریکوں کے مجموعے کا نام ہے جو 17 ویں اور 18 ویں کے یورپ میں روایت پسندی (Traditionalism) اور کلیسائی استبداد کے ردعمل میں پیدا ہوئیں۔ یہ وہ دور تھا، جب یورپ میں کلیسا کا ظلم اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا۔ تنگ نظر پادریوں نے قدیم یونانی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>جدیدیت ان نظریاتی، تہذیبی، سیاسی اور سماجی تحریکوں کے مجموعے کا نام ہے جو 17 ویں اور 18 ویں کے یورپ میں روایت پسندی (Traditionalism) اور کلیسائی استبداد کے ردعمل میں پیدا ہوئیں۔<br />
یہ وہ دور تھا، جب یورپ میں کلیسا کا ظلم اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا۔ تنگ نظر پادریوں نے قدیم یونانی فلسفہ اور عیسائی معتقدات کے امتزاج سے کچھ خود ساختہ نظریات قائم کر رکھے تھے اور ان نظریات کے خلاف اٹھنے والی کسی بھی آواز کو وہ مذہب کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔ شاہی حکومتوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے انہوں نے ایک ایسا استبدادی نظام قائم کر رکھا تھا جس میں کسی بھی آزاد علمی تحریک کے لیے کوئی گنجائش نہ تھی۔<br />
دوسری طرف اسپین کی اسلامی تہذیب کے ساتھ طویل تعامل کی وجہ سے عیسائی دنیا میں بھی حریت فکر کی ہوائیں آنے لگی تھیں۔ قرطبہ اور غرناطہ میں حاصل شدہ تجرباتی سائنس کے درس رنگ لا رہے تھے اور یورپ کے سائنس دان آزاد تجربات کرنے لگے تھے۔ حریت انسانی اور مساوات کے اسلامی تصور کے اثرات نے جنوبی اٹلی اور صقلیہ میں انسان دوستی (Humanism) کی جدید تحریکیں پیدا کی تھیں1۔<br />
ان سب عوامل نے مل کر کلیسا کے استبداد کے خلاف شدید ردعمل پیدا کیا اور جدیدیت کی تحریک شروع ہوئی۔ چونکہ اس تحریک سے قبل یورپ میں شدید نوعیت کی دقیانوسیت اور روایت پرستی کا دور دورہ تھا، اس لیے اس تحریک نے پورے عہدِ وسطٰی کو تاریک دور قرار دیا۔ مذہبی عصبیتوں، روایت پسندی اور تنگ نظری کے خاتمے کو اپنا اصل ہدف بنایا۔ شدید ردعمل نے اس تحریک کو دوسری انتہا پر پہنچا دیا اور روایت پرستی اور عصبیت کے خلاف جدوجہد کرتے کرتے یہ تحریک مذہب اور مذہبی معتقدات ہی کے خلاف ہو گئی۔<br />
جدیدیت کی اس تحریک کی نظریاتی بنیادیں فرانسس بیکن2، رینے ڈیکارٹ3، تھامس ہوبس4 وغیرہ کے افکار میں پائی جاتی ہیں، جن کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ یہ دنیا اور کائنات عقل، تجربے اور مشاہدے کے ذریعے قابلِ دریافت (knowable) ہے اور اس کے تمام حقائق تک سائنسی طریقوں سے ہی رسائی ممکن ہے۔ اس لیے حقائق کی دریافت کے لیے کسی اور سرچشمہ کی نہ کوئی ضرورت ہے اور نہ اس کا کہیں وجود ہے۔ صرف وہی حقائق قابلِ اعتبار ہیں جو عقل، تجربے اور مشاہدے کی مذکورہ کسوٹیوں پر کھرے ثابت ہوں۔ ان فلسفیوں نے ما بعد الطبیعیاتی مزعومات (metaphysical contentions) اور مذہبی دعوؤں کو اس وجہ سے قابل رد قرار دیا کہ وہ ان کسوٹیوں پر پورے نہیں اترتے۔ ڈیکارٹ نے</p>
<blockquote><p>I think therefore I am<br />
(میں سوچتا ہوں، اس لیے میں ہوں)
</p></blockquote>
<p>کا مشہور اعلان کیا جو جدید مغربی فلسفے کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خودی کا شعوری عمل (Conscious Act of Ego) سچائی تک پہنچنے کا واحد راستہ ہے۔<br />
پاسکل، مانٹسکیو، ڈیڈاراٹ، وسلی، ہیوم، والٹیر جیسے مفکرین نے بھی عقل کی لا محدود بالادستی اور واحد سرچشمۂ علم ہونے کے اس تصور کو عام کیا۔ یہ افکار عقل پرستی (Rationalism) کہلاتے ہیں اور جدیدیت کی بنیاد ہیں۔ چنانچہ جدیدیت کی تعریف ہی یوں کی گئی: جدیدیت وہ روشن خیالی اور انسان دوستی ہے جو کسی بھی ہستی کی بالادستی اور روایت کو مسترد کرتی ہے اور صرف عقل اور سائنسی علوم کو ہی تسلیم کرتی ہے۔ یہ اس مفروضے پر قائم ہے کہ سچائی اور معنی کا واحد منبع خود مختار فرد کی عقل ہے ۔۔۔۔۔۔ کارتیسی اصول: فکر کردم پس ہستم5<br />
اس تحریک نے مذہبی محاذ پر الحاد اور تشکیک کو جنم دیا۔ والٹیر6 جیسے الحاد کے علم برداروں نے مذہب کا کلیتاً انکار کر دیا، جب کہ ہیگل جیسے متشکک مذہب کو تسلیم تو کرتے ہیں، لیکن اسے عقل کے تابع بتاتے ہیں اور مذہبی حقائق کو بھی دیگر عقلی مفروضات کی طرح قابل تغیر قرار دیتے ہیں۔<br />
سیاسی محاذ پر اس تحریک نے انسانی حریت کا تصور پیش کیا۔ آزادئ فکر، آزادئ اظہار اور حقوقِ انسانی کے تصورات عام کیے۔ تھامس ہابس کے حتمی اقتدار اعلٰی (Absolute sovereignty) کے تصور کو سیاسی فلسفے کی بنیاد قرار دیا۔ جان لاک نے اس بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے عوام کو اقتدار اعلٰی کا سرچشمہ قرار دیا۔ والٹیر نے انسانی حریت کا تصور پیش کیا۔ مانٹسکیو7 اور روسو8 نے ایسی ریاست کے تصورات پیش کیے جس میں انسانوں کی آزادی اور ان کے حقوق کا احترام کیا جاتا ہے اور حکمرانوں کے اختیارات محدود ہوتے ہیں۔<br />
جدیدیت کی تحریک نے قوم پرستی اور قومی ریاستوں کا تصور بھی عام کیا۔ انہی افکار کے بطن سے جدید دور میں جمہوریت نے جنم لیا اور یورپ اور شمالی امریکہ کے اکثر ملکوں میں خود مختار، جمہوری قومی ریاستیں قائم ہوئیں۔<br />
معاشی محاذ پر اس تحریک نے اول تو سرمایہ دارانہ معیشت اور نئے صنعتی معاشرے کو جنم دیا جس کی بنیاد ایڈم اسمتھ کی معاشی فکر تھی جو صنعت کاری، آزادانہ معیشت اور کھلے بازار کی پالیسیوں سے عبارت تھی9۔ نئے صنعتی معاشرے میں جب مزدوروں کا استحصال شروع ہوا تو جدیدیت ہی کے بطن سے مارکسی فلسفہ پیدا ہوا، جو ایک ایسے غیر طبقاتی سماج کا تصور پیش کرتا تھا، جس میں محنت کش کو بالادستی حاصل ہو10۔<br />
اخلاقی محاذ پر اس تحریک نے افادتیت (Utilitarianism) کا تصور عام کیا، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اخلاقی قدروں کا تعلق افادیت سے ہے۔ جو رویے سماج کے لیے فائدہ مند ہیں، وہ جائز اور جو سماج کے لیے نقصان دہ ہیں، وہ ناجائز رویے ہیں۔ اور یہ کہ افادیت اخلاق کی واحد کسوٹی ہے۔ افادیت کے تصور نے قدیم جنسی اخلاقیات اور خاندان کے روایتی ادارے کو چیلنج کیا، جس کے نتیجے میں اباحیت (permissiveness) کا آغاز ہوا۔<br />
جدیدیت ہی کے بطن سے نئے صنعتی معاشرے میں نسائیت (Feminism) کی تحریک پیدا ہوئی جو مرد و زون کی مساوات کی علم بردار تھی اور عورتوں کو ہر حیثیت سے مردوں کے مساوی مقام دلانا اس کا نصب العین تھا۔<br />
انقلاب فرانس، برطانیہ میں جمہوریت کی تحریک، امریکہ کی آزادی کی تحریک اور اکثر یورپی ممالک کی تحریکیں جدیدیت کے ان افکار ہی سے متاثر تھیں۔ 20 ویں صدی کے آتے آتے یورپ اور شمالی امریکہ کے اکثر ممالک ان افکار کے پرجوش مبلغ اور داعی بن گئے۔ جدیدیت کو روشن خیالی (Enlightenment) اور نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کے نام بھی دیے گئے اور بڑی طاقتوں کی پشت پناہی سے روشن خیالی کا منصوبہ ایک عالمی منصوبہ بن گیا۔<br />
چنانچہ 20 ویں صدی کے نصف آخر میں مغربی ممالک کا واحد نصب العین تیسری دنیا میں روایت پسندی سے مقابلہ کرنا اور جدیدیت کو فروغ دینا قرار پایا۔ آزادی، جمہوریت، مساواتِ مرد و زون، سائنسی طرز فکر، سیکولرزم وغیرہ جیسی قدروں کو دنیا بھر میں عام کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ معاشی فکر کے معاملے میں مغرب سرمایہ دارانہ اور کمیونسٹ دھڑوں میں ضرور منقسم رہا، لیکن سیاسی، سماجی اور نظریاتی سطح پر جدیدیت کے افکار بالاتفاق جدید مغرب کے رہنما افکار بنے رہے، جن کی دنیا بھر میں اشاعت اور نفاذ کے لیے ترسیل و اشاعت کے علاوہ ترغیب و تنفیذ کے تمام جائز و ناجائز طریقے اختیار کیے گئے۔ تیسری دنیا میں ایسے پٹھو حکمرانوں کو بٹھایا گیا جو عوام کی مرضی کے خلاف زبردستی ترقی کے جدید ماڈل ان پر تھوپنے پر مامور رہے۔ اسلامی دنیا میں خصوصاً اسلامی تہذیبی روایات کی بیخ کنی کو جدیدیت کا اہم ہدف سمجھا گیا۔ ترکی، تیونس اور سابق سوویت یونین میں شامل وسط ایشیا کے علاقوں میں مذہبی روایات سے مقابلے کے لیے ایک سخت ظالمانہ اور استبدادی نظام قائم کیا گیا۔</p>
<p>حوالہ جات:<br />
1۔ Nasr Seyyed Hossein (1993) A young muslim’s guide to the modern world; Cambridge university press p.156<br />
2- بیکن کے افکار کے مطالعے کے لیے دیکھیے اس کی کتاب:<br />
Bacon Francis (1863) Novum Organum Tr, James Spedding, Robert Leslie Ellis, and Douglas Denon Heath, Boston: laggard and Thomson [As availablein online library http://www.constitution.org/bacon/textnote.htm]<br />
3۔ ڈیکارٹ کے خیالات کے لیے دیکھیے:<br />
Descartes Rene (1983) Principles of Philosophy Trans. V. R. Miller and R.P. Miller. Doddrecht: D. Reidel<br />
4۔ تھامس ہوبس کے افکار کی تفصیل کے لیے دیکھیے اس کی کتاب:<br />
Hobbes Thomas (2007) Leviathan online available at ebooks@adelaide, http://etext.library.adelaide.edu.au/h/hobbes/thomas/h681/<br />
Updated on March 12 2007<br />
5. Electronic Library</p>
<p>http://elab.eserver.org/hfl0242.html</p>
<p>6۔ والٹیر کےخیالات کے لیے ملاحظہ فرمائیے:<br />
Voltaire Francois (1961) Philosophical letters translated by Emest N. Dilworth, New York: Macmillan<br />
7۔ مانٹیسکیو کے نظریات کے لیے ملاحظہ کیجیے:<br />
Montesquieu Baron de (1914), Secondat, Charles de, The Spirit of Laws Tr, by Thomas Nugent, London: G. Bell &#038; Sons [As available at http://www.constitution.org/cm/sol/htm [<br />
8. روسو کے تصورات کے لیے دیکھیے:<br />
Rosseau Jean-Jacques (2004) Emile Tr. By Barbara Foxley online available at http://gutenberg.org/etext/5427<br />
9۔ ایڈم اسمتھ کی معاشی فکر کے مطالعے کے لیے دیکھیے اس کی کتاب:<br />
Smith Adam (2007) An inquiry into the nature and causes of the wealth of nations online available at http://metalibriincubadora.fapesp.br/portal/authors/aninquiryintothenatureandcausesofthewealthofnations#books<br />
10۔ مارکسی فکر کے لیے کمیونسٹ مینی فیسٹو سب سے مستند سرچشمہ مانا جاتا ہے<br />
Marx Karl and Engels Frederick (2006) The Communist Manifesto available at http://www.anu.edu.au/polsci/marx/classics/manifesto.html
<div class="tweetmeme_button" style="float: right; margin-left: 10px;">
			<a href="http://api.tweetmeme.com/share?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Fpost-modernism-islam-1%2F"><br />
				<img src="http://api.tweetmeme.com/imagebutton.gif?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Fpost-modernism-islam-1%2F&amp;style=normal&amp;service=TinyURL.com" height="61" width="50" /><br />
			</a>
		</div>
<a class="google_buzz"  
href="http://www.google.com/reader/link?url=http://www.abushamil.com/post-modernism-islam-1/&title=ما+بعد+جدیدیت+کا+چیلنج+اور+اسلام+قسط+1&srcURL=http://www.abushamil.com" target="_blank" rel="nofollow"><img
src="http://www.abushamil.com/wp-content/plugins/google-buzz-button-for-wordpress/images/google-buzz.png" alt="Google Buzz" /></a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/post-modernism-islam-1/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>7</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>Anoushey knows what??</title>
		<link>http://www.abushamil.com/anoushey-knows/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/anoushey-knows/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 01 Aug 2008 11:25:12 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[ذرائع ابلاغ]]></category>
		<category><![CDATA[روشن خیالی]]></category>
		<category><![CDATA[Enlightenment]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistani English Newspapers]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistani Journalism]]></category>
		<category><![CDATA[انگریزی اخبارات]]></category>
		<category><![CDATA[صحافت]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://abushamil.urdutech.com/?p=136</guid>
		<description><![CDATA[وطن عزیز پاکستان میں &#8220;روشن خیالی&#8221; کے نام پر جو کارنامے انجام دیے جا رہے ہیں ان کے بھیانک اثرات بہت جلد نظر آنا شروع ہوں گے۔ اس سلسلے میں میں پہلے بھی ذرائع ابلاغ کو کردار کو نشانہ بناتا رہا ہوں اور تنقید کا یہ سلسلہ مزید طویل ہو کر آج اس پوسٹ کی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>وطن عزیز پاکستان میں &#8220;روشن خیالی&#8221; کے نام پر جو کارنامے انجام دیے جا رہے ہیں ان کے بھیانک اثرات بہت جلد نظر آنا شروع ہوں گے۔ اس سلسلے میں میں پہلے بھی ذرائع ابلاغ کو کردار کو نشانہ بناتا رہا ہوں اور تنقید کا یہ سلسلہ مزید طویل ہو کر آج اس پوسٹ کی صورت میں آپ کے سامنے آ رہا ہے۔<br />
پاکستان میں خاص طور پر انگریزی صحافت روشن خیالی کے قافلے کا ہراول دستہ ہے۔ وہ اخبارات ہوں یا انگریزی اخبارات کے زیر نگیں چلنے والے انگریزی و اردو ٹیلی وژن چینلز، ان تمام کا بنیادی ہدف عوام میں دین سے دوری اور ملک کے مستقبل کے حوالے سے ناامیدی پیدا کرنا ہے۔ اور ان دونوں بنیادی اہداف کی تکمیل میں کوشاں ذرائع ابلاغ کو ہم روزانہ دیکھتے ہیں اور اس کے لیے کسی ثبوت کو پیش کرنے کی ضرورت بھی نہیں بلکہ یہ روز روشن کی طرح سب پر عیاں ہے۔<br />
انگریزی صحافت میں جس اخبار کو &#8220;روشن خیالی کا سرخیل&#8221; کہا جا سکتا ہے وہ&#8221;<a href="http://dailytimes.com.pk/">ڈیلی ٹائمز </a>ہے۔ <span> </span>یہ اخبار جمعہ کو بچوں کے لیے خصوصی میگزین &#8220;Wikkid &#8221; کے نام سے نکالتا ہے جس میں  Celeb Solution: Anoushey Knows Bestکے نام سے ایک سلسلہ چلتا ہے جس میں بچوں کے الجھنوں کے مسائل بیان کیے جاتے ہیں۔<br />
پاکستان میں جہاں اخبارات و رسائل پڑھنے کا رحجان بہت کم ہے وہیں ہر اخبار کسی مخصوص طبقے کی نمائندگی کرتا دکھائی دیتا ہے اور اس کی جھلک قارئین کے خطوط میں دکھائی دیتی ہے۔ یہی جھلکیاں بچوں کو انوشہ کو بھیجے گئے خطوط میں بھی واضح ہوتی ہیں لیکن سوال چاہے جیسا بھی ہو خاتون کو انفرادی حیثیت میں اور اخبار کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ننھے ذہنوں میں زہر نہیں اُگلنا چاہیے۔ یکم اگست 2008ء کو &#8220;Wikkid&#8221; کی اشاعت میں بھی یہ سلسلہ باقاعدگی سے آیا اور میری نظر سے گزرا۔ پہلا سوال پڑھ کر جھٹکا سا لگا لیکن ساتھ تجسس پیدا ہوا کہ جواب کیا ہوگا؟ ملاحظہ کیجیے، اصل اخبار کا اسکین شدہ ٹکڑا:<br />
<a href="http://abushamil.urdutech.com/wp-content/uploads/2008/08/dailytimeslogo.gif"><img class="size-medium wp-image-138 aligncenter" title="dailytimeslogo" src="http://abushamil.urdutech.com/wp-content/uploads/2008/08/dailytimeslogo-300x63.gif" alt="" width="300" height="63" /></a><br />
<a href="http://abushamil.urdutech.com/wp-content/uploads/2008/08/anoushey-knows-best-1-8-8.jpg"><img class="aligncenter size-full wp-image-137" style="border: 1px solid black;" title="anoushey-knows-best-1-8-8" src="http://abushamil.urdutech.com/wp-content/uploads/2008/08/anoushey-knows-best-1-8-8.jpg" alt="" width="437" height="723" /></a><br />
کیا کسی موقر جریدے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ مذہبی و اخلاقی اقدار کو پامال کرنے ننھے ذہنوں کو پراگندہ کرے؟ چاہے وہ سوال کرنے والا غیر مسلم ہو اور جواب دینے والی بھی لیکن کم از کم اس امر کو تو ملاحظہ کرنا چاہیے کہ ہماری بیشتر آبادی مسلمان ہے اور اسلام میں 6 سال کی عمر کے بعد بچوں کے بستر بھی الگ کر دینے کا حکم ہے تو یہ خاتون کس بنیاد پر سوال کا یہ &#8220;عالمانہ جواب&#8221; دے رہی ہیں۔ میں نے یہ موضوع اس لیے نہیں چھیڑا کہ میری اس صدائے احتجاج پر ڈیلی ٹائمز اپنی پالیسیاں بدل دے گا بلکہ اس لیے کہ وہ لوگ جو لاعلمی میں صرف بچوں کی انگریزی &#8220;بہتر&#8221; بنانے کے لیے گھروں پر انگریزی اخبارات لگواتے ہیں، یہ اخبارات ان کے بچوں کی کیا ذہن سازی کر رہے ہیں؟ آج سے 6 سال قبل روزنامہ جنگ سے وابستہ معروف انگریزی اخبار بھی بچوں کے صفحات پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے وابستہ بائبلی قصہ شائع کرنے کا کارنامہ انجام دے چکا ہے جس میں اسماعیل علیہ السلام کی جگہ اسحاق علیہ السلام کی قربانی کا ذکر تھا۔ اس واقعے کو درج کرنے سے بڑا ظلم یہ کہ اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کارٹونک تصویر بھی شائع ہوئی۔ اس پر بعد ازاں اخبار نے معافی ضرور مانگی اور ذمہ دار افراد کی شاید سرزنش بھی ہوئی لیکن اس تحریر کے نتیجے میں کتنے ذہنوں تک غلط معلومات پہنچی اور انبیاء کی توہین ہوئی اس کا شاید کسی کو اندازہ نہ ہو۔<br />
میری گزارش ہے کہ آج کے پرفتن دور میں اپنے بچوں کو فتنوں سے بچانے کے لیے ان کی سرگرمیوں کو مانیٹر کریں۔ انٹرنیٹ پر وہ کس قسم کی ویب سائٹس ملاحظہ کرتے ہیں، ان کی نصابی کتب میں کیا تعلیم دی جا رہی ہے، وہ کس قسم کا لٹریچر پڑھ رہے ہیں، کس قسم کی محفلوں میں بیٹھ رہے ہیں اور گھر میں جو اخبارات و رسائل آتے ہیں ان میں کس قسم کا مواد ہے جو ان کے زیر مطالعہ ہے۔ یقین جانیں اگر ہم نے ان امور پر آج دھیان نہیں رکھا تو کل سوائے پچھتاوے کے ہمارے پاس کچھ نہ ہوگا۔
<div class="tweetmeme_button" style="float: right; margin-left: 10px;">
			<a href="http://api.tweetmeme.com/share?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Fanoushey-knows%2F"><br />
				<img src="http://api.tweetmeme.com/imagebutton.gif?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Fanoushey-knows%2F&amp;style=normal&amp;service=TinyURL.com" height="61" width="50" /><br />
			</a>
		</div>
<a class="google_buzz"  
href="http://www.google.com/reader/link?url=http://www.abushamil.com/anoushey-knows/&title=Anoushey+knows+what??&srcURL=http://www.abushamil.com" target="_blank" rel="nofollow"><img
src="http://www.abushamil.com/wp-content/plugins/google-buzz-button-for-wordpress/images/google-buzz.png" alt="Google Buzz" /></a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/anoushey-knows/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>20</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>روشن خیالی یا رُو سیاہی</title>
		<link>http://www.abushamil.com/roshan-khayali-roo-sayahi/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/roshan-khayali-roo-sayahi/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 30 Apr 2008 12:48:51 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[ذرائع ابلاغ]]></category>
		<category><![CDATA[روشن خیالی]]></category>
		<category><![CDATA[Enlightenment]]></category>
		<category><![CDATA[Jamal Shah]]></category>
		<category><![CDATA[Nude art]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistan National Art Gallery]]></category>
		<category><![CDATA[جمال شاہ]]></category>
		<category><![CDATA[عریاں آرٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان میں روشن خیال تہذیب]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان نیشنل آرٹ گیلری]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://abushamil.urdutech.com/?p=97</guid>
		<description><![CDATA[ماضی میں قوم پرستی، سوشلسٹ اسلام، شرعی ریاست اور جمہوری ریاست کے نعروں کے بعد جب ملک کی بدقسمتی اور قوم کی بد اعمالیوں کے باعث ایک اور فوجی دور حکومت آیا تو ایک مرتبہ پھر نیا نعرہ بلند کیا گیا جس نے ہمارے طبقہ اشرافیہ (Elite Class) میں خوب شرفِ قبولیت حاصل کیا اور [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ماضی میں قوم پرستی، سوشلسٹ اسلام، شرعی ریاست اور جمہوری ریاست کے نعروں کے بعد جب ملک کی بدقسمتی اور قوم کی بد اعمالیوں کے باعث ایک اور فوجی دور حکومت آیا تو ایک مرتبہ پھر نیا نعرہ بلند کیا گیا جس نے ہمارے طبقہ اشرافیہ (Elite Class) میں خوب شرفِ قبولیت حاصل کیا اور انہوں نے آگے بڑھ کر اس کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ یہ نعرہ تھا &#8220;روشن خیالی&#8221; کا اور 11 ستمبر 2001ء کے بعد اس نعرے کی عملی تفسیر کے لیے جب بیرونی وسائل بھی فراہم کیے جانے لگے تو گویا دھن آسمان سے پانی کی طرح برسنے لگا اور اس طبقے کی پانچویں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں آ گیا۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ اِسے نجی ذرائع ابلاغ کی صورت میں روشن خیالی کی ترویج کا ایک ایسا زبردست پلیٹ فارم بھی مل گیا جس کی رسائی جھونپڑیوں سے لے کر محلات تک تھی۔ اس طرح روشن خیالی کی عملی تفسیر مختلف صورتوں میں مختلف ذرائع سے عوام پر ظاہر ہونے لگی، چہرے مختلف، موضوعات مختلف لیکن مقصد واحد اور واضح۔<br />
لیکن گزشتہ دنوں اسلام کے شہر (اسلام آباد)، جو اسلام کے قلعے کا دارالحکومت بھی ہے، سے ایک ایسی خبر منظر عام پر آئی جو روشن خیالی کی معراج کی جانب ملک و قوم کی ایک بہت بڑی جَست قرار دی جا سکتی ہے بلکہ بقول شاعر &#8220;عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام&#8221; والی بات زیادہ بہتر رہے گی۔<br />
روشن خیالی کے بڑے ترجمان انگریزی روزنامے <a href="http://dailytimes.com.pk/">ڈیلی ٹائمز</a> نے ایک <a href="http://dailytimes.com.pk/default.asp?page=2008\04\27\story_27-4-2008_pg11_6">خبر</a> شائع کی کہ نیشنل آرٹ گیلری (این اے جی) میں ایسے فن پاروں کو نمایاں طور پر آویزاں کیا گیا ہے جن میں عورتوں کو عُریاں دکھایا گیا ہے۔ یہ کارنامہ نیشنل آرٹ گیلری میں واقع &#8220;خزانہ سووینئر شاپ&#8221; نے انجام دیا ہے اور یقیناً یہ قدم اٹھانے پر &#8220;روشن دماغوں&#8221; کی جانب سے خوب داد تحسین سمیٹی ہوگی۔<br />
گیلری انتظامیہ کی جانب سے اس طرح کے اقدامات کوئی نئے نہیں بلکہ وہ اس سے قبل اپنی افتتاحی تقریب کے موقع پر بھی مرد و عورتوں کی عُریاں تصاویر پیش کر کے &#8220;خواص&#8221; اور &#8220;روشن خیال&#8221; ذرائع ابلاغ کے علاوہ &#8220;ہدایت کار&#8221; سے بھی داد سمیٹ چکا ہے لیکن اب مستقل بنیادوں پر ان تصاویر کو ملکی ثقافت کا حصہ بنا کر دکھانا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ انہوں نے ماضی کی عوامی شکایات کو ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیا ہے۔ زیادہ افسوسناک بات یہی ہے کہ سووینئر شاپ کسی بھی عجائب گھر یا ثقافتی مقام میں ایک اہم حیثیت رکھتی ہے کیونکہ وہاں سے خریدی گئی چیز ہر شخص کو اُس دورے کی ہمیشہ یاد دلاتی رہتی ہے۔ جبکہ اسلام آباد میں کئی غیر ملکی (خصوصاً برادر مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے) اس دکان کا دورہ کرنے کے بعد پاکستانیوں کے بارے میں کیا تاثر قائم کریں گے؟ اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔<br />
دوسری جانب یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ عُریاں آرٹ مغربی معاشرے تک میں قبولیت عام کا درجہ نہیں رکھتا بلکہ وہاں بھی عوام (چاہے قلیل تعداد ہی سہی) اسے ناقابل قبول قرار دیتے ہیں اور وہاں عُریاں ثقافت کی ترویج کے خاتمے کی تجاویز بھی موضوعِ بحث بنی ہوئی ہیں۔ عین اسی دورِ خانہ خراب میں پاکستان جیسے قدامت پسند معاشرے میں عُریاں تصاویر کی خم ٹھونک کر کی جانے والی نمائش عوام کے لیے دھچکے سے کم نہیں ہے۔<br />
خزانہ&#8221; کی اس &#8220;جرات رندانہ&#8221; پر وہاں آنے والے شائقین کی اکثریت کو جس خفت و پشیمانی کا سامنا ہے اس کا اندازہ خبر میں چند افراد کی گفتگو سے لگایا جا سکتا ہے۔</p>
<blockquote><p>ہر معاشرہ اخلاقی و مذہبی اقدار کے مجموعے کا حامل ہوتا ہے جس سے صَرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔ اب عُریاں تصاویر کی نمائش کا واحد مقصد معاشرے کے ایک خاص طبقے کو خوش کرنا لگتا ہے۔</p></blockquote>
<blockquote><p>اگر پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) کی انتظامیہ این اے جی کو عوامی ملکیت قرار دیتی ہے تو اسے اُسی فن و ثقافت کی ترویج کرنی چاہیے جو شائقین کی جمالیاتی حس کو جِلا بخشے نہ کہ ان کے جذبات کو برانگیختہ کرے۔ </p></blockquote>
<blockquote><p>یہ عورت کی تذلیل و تضحیک کے علاوہ کچھ بھی نہیں، اس عظیم الشان گیلری کا قیام عوام کے خون پسینے کی کمائی سے عمل میں آیا لیکن لیکن اب عوام کا یہاں آنا سوائے شرمندگی اور خِفْت اٹھانے کے کچھ بھی نہیں۔</p></blockquote>
<p>دوسری جانب مصوروں کی اکثریت نے بھی گیلری انتظامیہ کی جانب سے اِن تصاویر کی نمائش کی مذمت کی ہے۔<br />
ایک مصور نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اخبار کو بتایا کہ</p>
<blockquote><p>این اے جی انتظامیہ کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ گیلری عوامی ملکیت ہے اور صرف اُن فن پاروں کو اس میں جگہ دینی چاہیے جو عوامی دلچسپی کے حامل ہوں۔ کسی نجی گیلری میں تو کوئی مصور اپنے من پسند فن پارے پیش کر سکتا ہے لیکن این اے جی جیسے عوامی اداروں کو اپنے &#8220;من پسند فن&#8221; کی ترویج کا خطرہ مول نہیں لینا چاہیے۔
</p></blockquote>
<p>گیلری انتظامیہ &#8220;روشن خیالی&#8221; و &#8221; اعتدال پسندی&#8221; کے دستور کے مطابق عورت کو شوپیس اور شمعِ محفل کے طور پر نمایاں کرنے کے مذموم مقاصد کی تکمیل کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔ زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ &#8220;خزانہ&#8221; سووینئر شاپ تین عورتوں نگین رحمان، غانیہ بدر اور عطیہ ظفر کی ملکیت ہے جنہوں نے پی این سی اے 4 سالہ ٹھیکہ کا معاہدہ کر رکھا ہے۔<br />
قوم کے عظیم سرمائے سے قائم ہونے والی اس گیلری کی انتظامیہ حکومت کی طرح مذہب کو تو کسی کھاتے میں ہی نہیں لاتی لیکن اب تو بنیادی اخلاقیات سے بھی اس کا دامن خالی ہوتا جا رہا ہے اور اس کا حقیقی اظہار اس گھٹیا قدم کی حمایت کی صورت میں سامنے آتا ہے اور یہ سب کچھ آرٹ کی ترویج کے نام پر کیا جا رہا ہے۔<br />
ذرا عذرِ گناہ بدتر از گناہ کی عملی مثال ملاحظہ کیجیے، پی این سی اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر (اور معروف مصور و اداکار) جمال شاہ نے اِس &#8220;قابلِ فخر&#8221; کارنامے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نمونہ معروف مصور نسیم حافظ قاضی کی تخلیق ہے اور اسے صرف عارضی بنیادوں پر پیش کیا گیا ہے ساتھ ہی انہوں نے عوام کی عدم مقبولیت کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ یہ ایک الزام ہے کہ عوام اس آرٹ کو پسند نہیں کرتے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ عوام کی بڑی تعداد اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔<br />
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے عجائب گھر اور گیلریاں اس فن کی ترویج کرتی ہیں تو پاکستان کیوں نہیں کرسکتا؟ گیلری کو تمام اقسام کے آرٹ کو پیش کرنا چاہیے اور جبکہ لوگوں کی بڑی تعداد اس کو پسند کرتی ہے تو اس لیے اس کو پیش کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔<br />
روشن خیالی و اعتدال پسندی اور کیا کیا گُل کھلائے گی؟
<div class="tweetmeme_button" style="float: right; margin-left: 10px;">
			<a href="http://api.tweetmeme.com/share?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Froshan-khayali-roo-sayahi%2F"><br />
				<img src="http://api.tweetmeme.com/imagebutton.gif?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Froshan-khayali-roo-sayahi%2F&amp;style=normal&amp;service=TinyURL.com" height="61" width="50" /><br />
			</a>
		</div>
<a class="google_buzz"  
href="http://www.google.com/reader/link?url=http://www.abushamil.com/roshan-khayali-roo-sayahi/&title=روشن+خیالی+یا+رُو+سیاہی&srcURL=http://www.abushamil.com" target="_blank" rel="nofollow"><img
src="http://www.abushamil.com/wp-content/plugins/google-buzz-button-for-wordpress/images/google-buzz.png" alt="Google Buzz" /></a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/roshan-khayali-roo-sayahi/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>11</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
