ٹیگ: ’Geography‘


کرۂ ارض بوقتِ شب

یہ ہے زمین کا وہ نظارہ جسے کبھی حقیقی آنکھ سے نہ دیکھا جا سکے، یعنی پورے کرۂ ارض کو بیک وقت رات میں دیکھنا، لیکن اسے ممکن بنایا ہے امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے (ناسا) کے مصنوعی سیاروں سے کھینچی گئی ان کی بھر ہزاروں تصاویر نے، جو دنیا کے ہر علاقے سے رات کے وقت لی گئیں۔ اور پھر انہیں جوڑ کر یہ شاہکار تخلیق کیا گیا۔ کیا آپ کو اس میں اپنا ملک یا شہر نظر آ رہا ہے؟
اصل میں زمین کے مختلف علاقوں کی جو خلائی تصاویر دن کے وقت حاصل کی جاتی ہیں، ان میں آبادیاں نمایاں نہیں ہوپاتیں لیکن رات کے وقت یہ ممکن ہے کیونکہ انسانوں کی جگمگاتی بستیاں اور ہزاروں “روشنیوں کے شہر” کے وقت کی روشنیاں ایسا ممکن بنا دیتے ہیں۔ اس نقشے کی بدولت آپ کو زمین کے خوشحال ترین علاقے انتہائی روشن دکھائی دے رہے ہیں۔
ریاستہائے متحدہ امریکہ، یورپ اور جاپان سے رنگ و نور کا سیلاب امنڈتا دکھ رہا ہے۔ اس تصویر کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اس سے دنیا میں انسانی آبادی کی تقسیم کا اندازہ بھی ہو رہا ہے اور اس ضمن میں جو ایک چیز بالکل واضح ہو کر سامنے آ رہی ہے وہ یہ کہ دنیا کی بیشتر آبادی دریاؤں اور سمندروں کے کنارے آباد ہے۔ دریائے سندھ، دریائے گنگا اور دریائے نیل کے کنارے، جہاں دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں نے جنم لیا، وہیں یہ علاقے آج بھی ایک طویل چمکتی ہوئی لکیر کے ساتھ اس امر کے گواہ ہیں کہ یہ آج بھی جدید تہذیب کے باسیوں کی پسندیدہ قیام گاہیں ہیں۔ روس میں سائبیریا کے وسط سے نکلنے والی روشنیوں کی لکیریں ٹرانس سائبیرین ریلوے سے ملحقہ علاقوں کو ظاہر کر رہی ہے۔ دوسری جانب کئی خطوں پر تاریکی بھی دکھائی دے رہی ہے جن میں شمالی سائبیریا، تبت، پامیر، صحرائے تکلا مکان، کاراکم، افغانستان، تھر، گوبی، ربع الخالی، صحرائے اعظم، سب صحارا افریقہ کے جنگلات، صحرائے نمیب، ایمیزن کے جنگلات شمالی کینیڈا اور آسٹریلیا بالکل واضح ہیں۔ ذیل میں دی گئی تصویر پر کلک کیجیے اور
یہ شاہکار تصویر دیکھیے:

Google Buzz