ٹیگ: ’History of Electronic Media in Pakistan‘


آہ موسٰی خان

سوات میں “قیام امن” کے معاہدے کے محض چند گھنٹوں کے اندر معروف مقامی صحافی موسی خان خیل کا قتل صحافتی برادری کے لیے ایک اندوہناک واقعہ تھا۔ یہ خبر جہاں جنگ و شورش زدہ علاقوں میں صحافیوں کو درپیش مشکلات کو ظاہر کرتی ہے وہیں وابستہ اداروں کی بے پروائی کی بھی قلعی کھولتی ہے۔
جنگ و شورش زدہ علاقوں میں کام کرنے والے صحافی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر جس طرح رپورٹنگ کرتے ہیں، سامنے آنے والی خبر میں اس کا بہت کم اندازہ ہو پاتا ہے۔
اس حوالے سے معروف صحافی عبد الحئی کاکڑ کا کہنا صد فی صد درست ہے کہ اخبارات و چینل مالکان کی اشتہاری دوڑ اور بریکنگ نیوز کلچر نے ایک اور صحافی کو ہم سے محروم کر دیا۔
چاہے موسی خان کو کسی نے بھی قتل کیا ہو لیکن اس کی ذمہ داری اس ادارے پر بھی عائد ہوتی ہے جس سے وہ وابستہ تھے۔
احتجاج و مذمتوں کے ڈھنڈورے تو بہت پیٹے جاتے ہیں لیکن کبھی جنگ زدہ علاقوں میں کام کرنے کی تربیت دینے یا خبر کے بجائے اپنی جان کو اولیت دینے کا اصول نہیں سکھایا جاتا۔ آزادی صحافت کی نام لیوا تنظیموں کو شورش زدہ علاقوں میں رپورٹنگ کے اصول مرتب کرنے اور اس حوالے سے صحافیوں کی تربیت کرنے کی کبھی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔
ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں ٹی وی چینلز یہ بھول جاتے ہیں کہ رپورٹر کس کس عذاب کا شکار ہے اور کن گروہوں کی دھمکیوں کے باوجود ادارے کو خبریں بھیج رہا ہے۔ اس کے باوجود “ھل من مزید” کی صدا اور ہر وقت سر پر نوکری سے نکالے جانے کی لٹکتی ہوئی تلوار اس کا مقدر ہوتی ہے۔
دوسری جانب ایڈیٹرز، پروڈیوسرز اور نیوز کاسٹرز کو بھی اس امر کی تربیت نہیں دی جاتی کہ انہوں نے شورش زدہ علاقوں میں موجود رپورٹرز سے کوئی ایسا سوال ہر گز نہیں کرنا جس کا جواب دینے پر وہ کسی گروہ کی “ہٹ لسٹ” پر آ جائے۔
چینل مالکان براہ راست نشریات کے ذریعے دوسرے چینل سے سبقت لے جانے کے لیے کروڑوں روپے کی ڈی ایس این جی وین بھیجنے کو تو تیار ہیں لیکن صحافیوں کو تربیت دینے کو تیار نہیں کیونکہ انہیں اپنے رپورٹرز کی جان کی پروا ہی نہیں۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ دھمکیاں ملنے کے بعد موسٰی خان مٹہ نہیں جانا چاہ رہے تھے لیکن ادارے کے اعلٰی حکام کی جانب سے دباؤ اور نوکری سے نکالے جانے کی دھمکیوں کے بعد وہ مذکورہ علاقے میں جانے پر مجبور ہوئے اور بالآخر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ واللہ اعلم۔

Google Buzz

پاکستانی ذرائع ابلاغ اور ضابطۂ “اخلاق”

انتخابات میں ماضی کے حکمرانوں کا “صفایا” ہونے کے بعد جو طبقات سب سے زیادہ مسرور دکھائی دیتے ہیں ان میں سرفہرست ذرائع ابلاغ ہیں۔ پاکستانی صحافت نے 2002ء سے 2008ء بالخصوص 2007ء میں اپنی تاریخ کا سیاہ ترین دور دیکھا ہے۔ اس دور میں اخبارات کو اشتہارات بند کرنے اور ٹیلی وژن چینلوں پر پابندیاں عائد کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ صحافیوں کو بزور قوت روکنے کی کوشش کی گئی اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور کراچی کے علاوہ مختلف شہروں میں پیش آنے والے متعدد واقعات میں درجنوں صحافی زخمی ہوئے بلکہ چند تو اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ پرورش لوح و قلم کا فریضہ انجام دینے کی پاداش میں ان کے ہاتھ قلم کرنے کی پوری کوشش کی گئی۔ حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات ہمیشہ کسی اہم موقع پر اٹھائے جاتے اور ذرائع ابلاغ کے خلاف تشدد کے استعمال سے کوئی اہم معاملہ پس منظر میں چلا جاتا کیونکہ ٹیلی وژن چینل صحافیوں پر تشدد کو حد سے زیادہ کوریج دینے لگ جاتے تھے۔ اس کی مثالیں جیو اور آج ٹی وی پر ہونے والے حملے تھے جن میں دونوں چینلوں کی تمام خبروں کا پورا زور حملے پر تھا نا کہ حقیقی واقعے کی جانب۔
نئی حکومت نے آتے ہی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے پالیسیوں میں تبدیلی لانے کا عندیہ دیا اور نہ صرف وعدے کیے بلکہ اب تو عملی طور پر بھی اقدامات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ چند روز قبل ہی اخبارات میں یہ خبر شہ سرخیوں کے ساتھ شائع ہوئی کہ پیمرا ترمیمی آرڈیننس قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا جس کے بعد ٹی وی چینلز کو بند نہیں کیا جا سکے گا اور براہ راست کوریج کی اجازت دیتے ہوئے آلات قبضے میں لینے کے پیمرا کے اختیارات بھی سلب کر لیے گئے ہیں۔ اب ذرائع ابلاغ کہیں زیادہ مطمئن نظر آتا ہے اور گزشتہ دور میں پابندی کا شکار بننے والے تمام پروگرامات ایک مرتبہ پھر شروع ہو گئے ہیں۔ چاہے وہ آج ٹی وی کا “بولتا پاکستان” یا “لائیو ود طلعت”، یا جیو ٹی وی کا “کیپٹل ٹاک ہو” یا “میرے مطابق”، تمام پروگرامات پوری آب و تاب کے ساتھ ایک مرتبہ پھر ٹیلی وژن اسکرین پر جلوہ گر ہو چکے ہیں۔ اس طرح ایک حد تک ذرائع ابلاغ کے شکوے دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ چینلوں کے لیے “ضابطۂ اخلاق” نہ گزشتہ حکومت نے مرتب کیا اور نہ موجودہ حکومت اس کی خواہاں دکھائی دیتی ہے۔ “ضابطۂ اخلاق” میں میرا زیادہ زور “اخلاق” پر ہے جس سے بلاشبہ ہمارا ذرائع ابلاغ اب تقریبا عاری ہوچکا ہے۔ جس طرح کے پروگرامات نشر ہو رہے ہیں یہ ثقافت حقیقتاً توآپ کو شاذ و نادر ہی دکھے یا پھر وہ ایک مخصوص طبقے اور حلقوں تک محدود ہے۔ حتی کہ سندھی اور پنجابی اور دیگر مقامی زبانوں کے چینل بھی جس طرح کے پروگرامات اور گانے نشر کرتے ہیں اس میں دکھائی گئی ثقافت کا حقیقت سے دور پرے کا واسطہ بھی نہیں ہوتا، کم از کم میں نے تو آج تک سندھ کے کسی گاؤں میں گھومنے والی لڑکی کو جینز پہنے نہیں دیکھا۔ اس پورے عمل کے پیچھے ایک بہت بڑی “حکمت” کار فرما ہے اور وہ یہ کہ ان تمام پروگرامات کا ہدف موجودہ نہیں بلکہ نوجوان نسل ہے جنہوں نے یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد اس کو “عملی جامہ” بھی پہنانا ہے۔
معاشرے میں تاریک خیالی کے فروغ کے سلسلے میں ذرائع ابلاغ جو کردار ادا کر رہا ہے اسے میں “گھناؤنا” سے کم کوئی لفظ نہیں دینا چاہتا بلکہ شاید یہ لفظ اس کا احاطہ ہی نہیں کر سکتا۔ملک کے ایک فیصد سے بھی کم مادر پدر آزاد طبقے کی درآمد شدہ نام نہاد ثقافت کو معاشرے کے تمام طبقات پر نافذ کرنے کے لیے جو طریقۂ کار اختیار کیا جا رہا ہے وہ بالکل ایسا ہے جیسے وہ اس “ثقافت” کو معاشرے پر جبراً نافذ کرنا چاہتے ہیں۔
صورتحال یہ ہے کہ ملکی ذرائع ابلاغ نے مغربی و ہندو بد تہذیب کا شیطانی رقص ہر گھر میں جلوہ گر کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی جا رہی لیکن دوسری جانب اسے مسلم تہذیب سے اتنی دلی پرخاش ہے کہ مسلم معاشرے کی بنیادی ظاہری علامات تک سے اس طرح قطع نظر کر رہا ہے جیسے وہ بھی “دہشت گردی” کی علامات (Symbol) ہیں۔ بنیادی علامات کا ذکر اس لیے کر رہا ہوں کیونکہ اسلام کی عظیم ترین دعوت اور انقلاب آفریں پیغام کو تو مسلمان کب کے بھلا چکے، اب لے دے کے بنیادی ظاہری علامات نماز، روزہ، حج وغیرہ ہی رہ گئی ہیں۔ لیکن “ٹووپی اور پائنچے” والے اس “بے ضرر اسلام” سے بھی آزادئ اظہار کے ان نام نہاد علمبرداروں کو اتنی چڑ ہے کہ کسی ٹیلی وژن چینل کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوتا ہےنہ اوقات نماز و اذان کے بارے میں کوئی معلومات ملتی ہے، حدیث مبارکہ کا کوئی سلسلہ ہے نہ اسلاف کے عظیم کارناموں کی کوئی خبر، مسلمانوں کی قرون اولی سے کوئی نسبت دکھائی جاتی ہے نہ اسلام کے آفاقی پیغام کو سمجھنے کے لیے کوئی سنجیدہ پروگرام پیش کیا جاتا ہے۔ بس لے دے کر پردہ، موسیقی، جہاد اور مستشرقین کے “ہدایت یافتہ” وہ تمام مسائل نام نہاد “مذاکروں” اور “ٹاک شوز” میں پیش کیے جاتے ہیں جن کا واحد مقصد عوام کے ذہنوں کو مزید منتشر کرنا ہوتا ہے۔ ان پروگرامات کا بنیادی ہدف یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح اسلام کو “جدید روشن خیالی” (حقیقی تاریک خیالی) سے مکمل ہم آہنگ (Compatible) ثابت کر دیا جائے اس کی واضح مثال “الف”، “غامدی” اور اس طرح کے دیگر پروگرامات ہیں۔
یہ حال ہے “اسلام کے قلعہ” کی “توپوں” کا کیونکہ یہ دور ابلاغی جنگ کا ہے اور اس جنگ میں وطن عزیز میں صورتحال یہ ہے کہ اس کی حقیقی اور ابلاغی دونوں توپوں کا رخ اس کی اپنی ہی جانب ہے۔ حقیقی توپیں محب وطن عناصر کا خاتمہ کر رہی ہیں تو ابلاغی توپیں نظریاتی اساس کے درپے ہیں۔
اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ایک چینل ضرور “روشن مینار” کی طرح ایستادہ رہا جو عرف عام میں “ڈاکٹر ذاکر کا چینل” کہلاتا ہے یعنی Peace TV
اسلام اور اس کے حوالے سے “جدید” ذہن کے شبہات کو ختم کرنے، اسلام کو جاہلیت (جدیدیت) سے ہم آہنگ ثابت کرنے کے بجائے اسے مکمل سچائی کے ساتھ بیان کرنے، حق کو حق کہنے کی جرات رکھنے اور مغربی تہذیب کا پردہ چاک کرنے کا بیڑہ اٹھانے والا یہ چینل گزشتہ چند ہفتوں سے پاکستان میں بند ہے اور ہمارے ہاں ایک صحافی کا سر پھٹنے پر شہ سرخیاں لگانے والے اخبارات اور بریکنگ نیوز پیش کرنے والے نیوز چینلز کا یہ حال ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے روزنامے جنگ نے صرف ایک کالمی خبر شائع کی جبکہ ایکسپریس نے خبر سرے سے شائع نہ کر کے “اپنوں” سے وفاداری” کا بھرپور ثبوت دیا۔ سیاست دانوں کے ڈنر مینیو میں شامل اشیاء تک کی خبر دینے والے نیوز چینلوں نے اس خبر کو مکمل طور پر پس پشت ڈال دیا حالانکہ یہ قدم بھی پیمرا نے ہی اٹھایا تھا اور اتنا ہی قابل مذمت تھا جتنا پیمرا کے اس سے پہلے اٹھائے گئے دیگر اقدامات تھے۔ یہ بات بھی عیاں ہے کہ پیس ٹی وی کا تعلق پاکستان سے نہیں، اس لیے پیشہ وارانہ مسابقت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بلکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کے چینل کس طرح کی خبریں پیش کرنے کے حوالے سے پیش پیش رہتے ہیں اور کون سی خبروں سے جان بوجھ کر تجاہل برتتے ہیں۔
اب جبکہ پیمرا کے “کالے قوانین” کا خاتمہ ہونے جا رہا ہے اور ذرائع ابلاغ کے تمام مطالبات منظور ہونے جا رہے ہیں، ساتھ ساتھ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ پیس ٹی وی جیسے معلومات افزاء چینلوں پر سے پابندی اٹھائی جائے بلکہ اسے ان چینلوں کی فہرست میں شامل کیا جائے جسے دکھانا تمام کیبل آپریٹرز کے لیے ضروری ہو۔
علاوہ ازیں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں، جہاں خواندہ باشندے کی تعداد صرف 30 فیصد ہے، ذرائع ابلاغ ذمہ دارانہ کردار ادا کرے اور تہذیب اغیار کے بجائے اپنی ثقافت و تہذیب کو اجاگر کرے اور اس ملک کی نظریاتی اساس کو مضبوط کرنے کے لیے اپنی قوتیں صرف کرے۔

Google Buzz