پھر شہر کے مردہ خانے میں اک لاش آئی
ممکن ہے کسی کا باپ ہو یہ ، یا بیٹا ہو یا بھائی ہو
اس کے ماں باپ اور بھائی بہن
یا پھر اس کے بیوی بچے
جب رستہ دیکھ کے تھک جائیں
اور اندیشے دل دہلائیں
پھر کوئی پڑوسی بتلائے
یا اور کسی کا فون آئے (more…)
اخبارات میں پیش کی گئی اردو کا گلہ تو اس بلاگ پر ہو چکا ہے لیکن معروف مزاحیہ شاعر عنایت علی خان کو کاتب اور کمپوزر حضرات سے شکوہ ہے جو بے جا بھی نہیں۔ کمپوزر حضرات نے وہ عظیم مزاحیہ شاہکار تخلیق کیے ہیں کہ اگر ان کو اکٹھا کر کے ایک مجموعے کی شکل دی جائے تو اردو کی مزاحیہ کتب میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب کہلائے گی۔ خیر! عنایت علی خان نے اپنے ایک حالیہ کالم میں جس انداز سے کمپوزر حضرات کی غلطیوں کو “چُن چُن” کر بیان کیا ہے وہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ شاعری میں نہیں بلکہ نثر پر بھی کافی عبور رکھتے ہیں اور موضوع کو گرفت سے نہیں نکلنے دیتے۔ ان کے ایک کالم کے چند گوشے درج ذیل ہیں:
کاتب یا کمپوزر کاتبانِ تقدیر تو ہیں نہیں کہ ان سے سہو نہ ہو جبکہ غالب نے تو اًن کی کتابت پر بھی اعتراض جڑ دیا تھا کہ
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا
ہمارے آدمی سے مراد اُن کی غالباً پروف ریڈر ہی ہوگا جو ان کی تحریر کی املا درست کرتا۔
مغربی ممالک سے درآمد شدہ انگریزی کی کتب میں ہمیں
کی کوئی غلطی نظر نہیں آتی۔ ہمارے خیال میں اس کی دو وجوہ ہیں، ایک تو یہ کہ کہتے ہیں کہ وہاں ایک نہیں تین تین دیدہ ریز (پروف ریڈر) یہ کام یکے بعد دیگرے سر انجام دیتے ہیں۔ دوسری یہ کہ خود ہماری اپنی اسپیلنگ اتنی معتبر نہیں کہ صحیح اور غلط املا کا فیصلہ کر سکے۔ یوں تو ماضی قریب میں یہ کام کرنے والے افراد یعنی کاتبانِ تحریر زیادہ لکھے ہی لکھے ہوتے تھے پڑھے کم ہوتے تھے ، پھر بھی انہیں عربی اور فارسی کی تھوڑی بہت شُد بُد ضرور ہوتی تھی اس لیے شبلی نعمانی کو سُتلی نو عدد جیسے لطیفے شاذ و نادر ہی پڑھنے میں آتے تھے لیکن اس کمپیوٹری دور میں کیونکہ زباں دانی کی جگہ انگشت روانی نے لے لی ہے جس کے لیے عربی اور فارسی تو کجا اردو دان بھی مل جائیں تو غنیمت ہے، ہاں اردو دان ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔ پھر تحریر بھی مجھ جیسے بد خط فرد کی ہو جس کی ایم اے اردو میں اول بدرجۂ اول، کامیاب ہونے کی خبر سن کر والد محترم نے تعجب سے کہا تھا “اسی ہینڈ رائٹنگ کے ساتھ” تو سمند ناز کو ایک اور تازیانے کے مصداق پھر دیکھ بہار کتابت کی۔
سامنے کی مثال میرے سابقہ کالم میں کمپوزر صاحب نے دو جگہ تصرف فرمایا تھا۔ میرا جملہ تھا “اللہ تعالٰی نے انسان کی سرشت میں سعادت و شقاوت یعنی نیکی اور بدی دونوں کے داعیات رکھ دیے ہیں” کمپوزر صاحب چونکہ خود شقاوتِ قلب سے محفوظ تھے چنانچہ انہوں نے شقاوت کو ایک بہتر معنی والے لفظ “شفادت” سے بدل دیا۔ اسی طرح ایک اور جگہ نوسربازوں (پاکٹ ماروں) کے حوالے سے لکھا تھا کہ ان لوگوں نے نت نئے شاطرانہ طریقہ ہائے واردات ایجاد کر لیے ہیں یہاں غالباً میری موزونیتِ طبع کا لحاظ کرتے ہوئے شاطرانہ کو کمپوزر صاحب نے “شاعرانہ” طریقہ ہائے واردات میں بدل دیا تھا۔
کافی عرصہ ہوا کہ ایک مقامی اردو اخبار میں کاتب نے خبر کی عبارت لکھی: “نوید قمر الزماں صاحب کی گمشدگی کو آج پانچواں روز ہے گذشتہ چار دنوں سے ان کا سوراخ نہیں مل سکا ہے” اسی اخبار میں ایک تعزیتی بیان کا اختتام کچھ اس طرح تھا “اللہ تعالٰی مرحوم کو جنت الفردوس اور لواحقین کو قبرِ جمیل عطا فرمائے۔” بزم تعمیر ادب کی تشکیل کے بارے میں خبر تھی کہ چند چغد لوگوں نے اس کام کا بیڑا (جو اب بیڑے کی شکل اختیار کر گیا ہے) اٹھایا ہے ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں۔ ان چغد (یعنی چند) لوگوں میں جناب ماسٹر عبد العزیز، جناب انور بریلوی، جناب واجد سعیدی کے ساتھ میرا نام بھی شامل تھا۔
تقسیم ملک کے وقت مشرقی پنجاب کے مہاجرین پر حملہ آور ہونے والے مسلم سکھوں (مسلح سکھوں) کا بھی تذکرہ پڑھنے کو ملا تھا اور “باوردی” سرنگوں سے ہونے والے دھماکے کا ذکر تو حال ہی کا واقعہ ہے۔