ٹیگ: ’indian muslims‘


بھارت: جدت سے انتہاپسندی کی جانب سفر

ممبئی فسادات کے بعد جو مسلم اور پاکستان مخالف رحجان بھارت میں تقویت پاتا جا رہا ہے اس سے یہ بات بالکل عیاں ہو کر سامنے آ گئی ہے کہ بھارت میں اگلے انتخابات میں مسلم مخالف اور پاکستان دشمن جذبات پر سیاست کھیلی جائے گی اور گزشتہ دنوں چند بیانات سے بھارتی سیاسی منظرنامے میں ہلچل مچا دی ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں میں بھارت نے اقتصادی سطح پر جو ترقی کی اس نے مسلسل اس تاثر کو تقویت پہنچائی کہ بھارت اب تنگ نظری و انتہا پسندی کی دلدل سے نکلتا جائے گا اور اقتصادی مجبوریاں اس کی پاؤں کی بیڑیاں بنیں گی۔ لیکن 2002ء کے گجرات فسادات نے ان تمام خوش فہمیوں کا خاتمہ کر دیا اور حالیہ واقعات کے بعد ایسا لگتا ہے کہ مستقبل کا بھارت ہندو انتہا پسندوں کے رحم و کرم پر ہوگا۔ سرکاری سرپرستی میں ہونے والے مسلم کش گجرات فسادات اس حقیقت کا اظہار تھے کہ بھارت انتہاپسندی کے آتش فشاں پر بیٹھا ہے۔

گجرات فسادات میں حکومتی کردار اس قدر واضح تھا کہ اس سے نظریں چرانا ممکن ہی نہیں خصوصاً ریاستی وزیر اعلی نریندر مودی کے بیانات اس حقیقت کا کھلا اظہار تھے کہ وہ اور ان کی جماعت (بھارتیہ جنتا پارٹی) بھارت کو صرف اور صرف ایک ہندو ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے۔ گجرات فسادات میں ڈھائی ہزار مسلمانوں کا قتل عام اور ہزاروں کے سماجی مقاطعے (social boycott) کے واقعات “دمکتے بھارت” کے اصل چہرے کو بے نقاب اور وہاں کے مسلمانوں کی حالت زار کو بیان کرنے کے لیے کافی تھے۔

گجرات فسادات اور کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں اس ردعمل کا باعث بنیں جسے “مسلم انتہاپسندی” کا نام دیا گیا۔ لیکن سالِ گزشتہ کے اواخر میں ممبئی حملوں کے بعد ہندو توا کے علمبرداروں کو پاکستان کی آڑ میں مسلم دشمنی کا نیا موقع ملا۔اور اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے اگلے انتخابات کا انتظار کیا جا رہا ہے اور تب تک “پاکستان مخالف بیانات” کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

اگر صرف ریاست گجرات کے تناظر میں بات کی جائے تو بھارت کی موجودہ اقتصادی ترقی میں ریاست گجرات بلاشبہ بہت اہمیت کی حامل ہے اور اس اہم ریاست میں ہندو انتہا پسندوں کا اثر و رسوخ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ وزیراعلٰی نریندر مودی گزشتہ تین ادوار سے اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھے ہیں اور اب لگتا ہے کہ پاکستان اور مسلم دشمنی کے موجودہ رحجان سے فائدہ سمیٹنے کے لیے بھارت کی انتہاپسند ہندو قیادت کی نگاہیں انہی پر جا ٹھہری ہیں۔ بھارتی معیشت کے دو بڑے ناموں سنیل متل اور انیل ا مبانی نے بھارتی ریاست گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو قومی سطح کا رہنما قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بھارت کی مستقبل کی قیادت ہیں۔ دونوں کاروباری شخصیات گجرات میں منعقدہ چوتھی “وائبرینٹ گجرات گلوبل انوسٹرز سمٹ” سے خطاب کر رہی تھیں۔
انیل ا مبانی نے کہا کہ “نریندربھائی کی زیر قیادت گجرات نے تمام شعبوں میں زبردست ترقی کی ہے اس لیے تصور کیجیے کہ جب وہ بھارت کی قیادت کریں گے تو کیا ہوگا۔ ان جیسی شخصیت کو تو ملک کا اگلا رہنما ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میرے والد دھیروبھائی کہا کرتے تھے کہ “مودی تو لمبی ریس کا گھوڑا ہے”۔

بھارتی متل نے کہا کہ “وزیراعلی مودی سی ای او کے طور پر جانے جاتے ہیں درحقیقت وہ سی ای او نہیں ہیں کیونکہ وہ کسی ادارے یا شعبے کو نہیں چلاتے۔ وہ ایک ریاست کو چلا رہے ہیں اور ملک کو بھی چلا سکتے ہیں۔”

دونوں اہم شخصیات کے اس بیان نے بھارتی سیاست کے میدانوں میں زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ اور لگتا ہے کہ اگلے انتخابات کے لیے دونوں اہم سیاسی جماعتیں پاکستان اور انتہاپسندی کی آڑ میں مسلم مخالف کارڈ کھیلیں گی اور نریندر مودی کے حوالے سے جاری بیانات اس کا واضح اظہار ہیں۔ کانگریس ہر گز یہ نہ چاہے گی کہ پاکستان مخالف رحجان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی اسے اقتدار سے نکال باہر کرے جبکہ بی جے پی کی پوری کوشش ہے کہ وہ اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھائے۔ کانگریس نے متل اور امبانی کو کہا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کا بیان دینے سے پہلے “گجرات قتل عام” کو ذہن میں رکھیں۔ کانگریس نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ مودی کی حکومت “معصوم لوگوں کی لاشوں” پر کھڑی ہے۔
مؤقر بھارتی روزنامے ہندوستان ٹائمز نے بھی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ بی جے پی کی نچلی سطح کی قیادت نریندر مودی کو وزارت عظمٰی کا امیدوار دیکھنا چاہتی ہے اور انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ مودی کے امیدوار ہونے کی صورت میں انہیں 30 فیصد زیادہ ووٹ ملیں گے۔
آثار کہہ رہے ہیں کہ ان بیانات کے نتیجے میں بی جے پی میں زبردست اکھاڑ پچھاڑ ہو سکتی ہے اور “نئی قیادت” سامنے آ سکتی ہے جو اگلے انتخابات میں کانگریس جیسی نام نہاد “سیکولر” تنظیم کی بہت سخت حریف ثابت ہوگی۔

Google Buzz

خوف کے بادل چھٹنے لگے؟

2002ء میں گجرات فسادات کے بعد اب ریاست کے مسلمان آہستہ آہستہ خوف کے سائے سے پیچھا چھڑا رہے ہیں۔ معروف بھارتی روزنامے ہندوستان ٹائمز کی خبر کے مطابق فسادات کے 6 سال بعد اب ریاست کے مسلمان اب خاص نمبر پلیٹوں کی نیلامی میں ایک مرتبہ پھر “786″ کے حصول کی کوششیں کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جسے “بسم اللہ الرحمٰن الرحیم” کا متبادل سمجھا جاتا ہے۔
فسادات سے قبل مسلمان زیادہ سے زیادہ بولی لگا کر اپنی گاڑیوں کے لیے ایسی نمبر پلیٹیں حاصل کیا کرتے تھے لیکن 2002ء کے اوائل سے ایسی نمبر پلیٹوں کی نیلامی روک دی گئی تھی جن پر 786 درج ہوتا تھا اور ان فسادات کے بعد ریاست میں پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث مسلمان اپنی شناخت چھپانے اور ہندو انتہا پسندوں کے عتاب کا نشانہ بننے سے بچنے کے لیے ایسی نمبر پلیٹوں سے گریز کرنے لگے۔
اخبار کے مطابق گزشتہ ماہ ہونے والی ایک نیلامی میں مسلمان ایک مرتبہ پھر 786 کے حصول کے لیے کوشاں دکھائی دیے اور پرویز شیخ نامی ایک مسلمان نے نیلامی میں 4186 روپے کی ادائیگی کر کے اپنی موٹر سائیکل کے لیے 786 کے نمبر کی حامل پلیٹ حاصل کر لی۔
بھارتی گجرات میں 2002ء فسادات کے بعد مسلمانوں کی حالت کی بہتری کے لیے کیا اقدامات اٹھائے گئے؟ اور کیا اٹھائے جا رہے ہیں؟ اور کیا واقعی ریاست گجرات میں صورتحال میں بہتری آ رہی ہے؟ کیا دو ہزار مسلمانوں کے قتل عام کو اتنی آسانی سے بھلایا جا سکتا ہے؟ کیا آج بھی اسی وزیر اعلٰی کی موجودگی میں مسلمان سکھ کا سانس لے سکتے ہیں؟ کیا 786 نمبر والیتختیوں کی نیلامی اس امر کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو آج بھی ہر اس شخص کے ذہن میں ابھر رہے ہیں جو خود کو امت واحدہ کا حصہ سمجھتا ہے۔

Google Buzz