<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ابوشامل &#187; IPL</title>
	<atom:link href="http://www.abushamil.com/tag/ipl/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.abushamil.com</link>
	<description>مرے ہنگامۂ نو بہ نو کی انتہا کیا ہے</description>
	<lastBuildDate>Wed, 11 Aug 2010 04:31:19 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.1</generator>
		<item>
		<title>امن کی آشا کے جواب میں بھارت کی بھاشا</title>
		<link>http://www.abushamil.com/ipl-pakistani-players/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/ipl-pakistani-players/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 20 Jan 2010 12:09:55 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[کھیل کھلاڑی]]></category>
		<category><![CDATA[Indian Premier League]]></category>
		<category><![CDATA[IPL]]></category>
		<category><![CDATA[Muhammad Amir]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistan Cricket]]></category>
		<category><![CDATA[Shahid Afridi]]></category>
		<category><![CDATA[آئی پی ایل]]></category>
		<category><![CDATA[انڈین پریمیر لیگ]]></category>
		<category><![CDATA[شاہد آفریدی]]></category>
		<category><![CDATA[محمد عامر]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان کرکٹ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.abushamil.com/?p=974</guid>
		<description><![CDATA[انڈین پریمیر لیگ کے لیے کھلاڑیوں کی &#8220;نیلامی&#8221; کے موقع پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ جس طرح کا رویہ اختیار کیا گیا وہ اس بات کا عکاس ہے کہ &#8220;امن کی آشا&#8221; رکھنے والے کتنی بڑی بھول کا شکار ہیں۔ جب کرکٹ جیسے معمولی کھیل میں بھی بھارت پاکستانی کھلاڑیوں کے حصہ لینے کا روادار نہیں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://www.iplt20.com/">انڈین پریمیر لیگ</a> کے لیے کھلاڑیوں کی &#8220;نیلامی&#8221; کے موقع پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ جس طرح کا رویہ اختیار کیا گیا وہ اس بات کا عکاس ہے کہ &#8220;امن کی آشا&#8221; رکھنے والے کتنی بڑی بھول کا شکار ہیں۔ جب کرکٹ جیسے معمولی کھیل میں بھی بھارت پاکستانی کھلاڑیوں کے حصہ لینے کا روادار نہیں تو بڑے پیمانے پر کس طرح دونوں ممالک ساتھ چل سکتے ہیں۔ بھارت نے یہی حرکت <a href="http://www.clt20.com/">ٹوئنٹی 20 چیمپینز لیگ</a> کے موقع پر بھی کی تھی، جب پاکستان کی قومی ٹوئنٹی 20 چیمپین ٹیم سیالکوٹ اسٹالینز کو شرکت نہیں کرنے دی گئی اور یوں چند سال قبل برطانیہ میں دنیا بھر کی قومی ٹوئنٹی 20 چیمپین ٹیموں کو شکست دینے والی ٹیم یہ ٹورنامنٹ ٹی وی پر ہی دیکھ پائی۔</p>
<p>دنیا بھر میں آئی پی ایل کے اس قدم کو حیران کن سمجھا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان ٹوئنٹی 20 کرکٹ کا موجودہ عالمی چیمپین ہے اور اس طرز میں دنیا کے بہترین کھلاڑی پاکستان کے پاس ہیں۔ ٹوئنٹی 20 میں پاکستان دنیا کی تمام بڑی ٹیموں کو شکست دے چکا ہے، چاہے ٹیسٹ اور ون ڈے میں اس کی کارکردگی کیسی بھی ہو۔ اس صورتحال میں دنیا کی سب سے بڑی لیگ میں دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کی شمولیت کو روکنا سمجھ سے باہر ہے۔</p>
<p>حیران کن امر یہ ہے کہ جن کھلاڑیوں کو آخری بولی میں پاکستانیوں پر ترجیح دے کر خریدا گیا ہے وہ یا تو انتہائی کم تجربہ کار ہیں یا چلے ہوئے گھوڑے ہیں، جن کی اب کسی ٹیم میں کوئی جگہ نہیں۔ جن کھلاڑیوں کو سب سے زیادہ قیمت میں خریدا گیا ان کا ریکارڈ ملاحظہ کیجیے۔ <a href="http://www.cricinfo.com/westindies/content/player/230559.html">کیرون پولارڈ</a> کو 7 لاکھ 50 ہزار ڈالرز میں خریدا گیا جبکہ انہوں نے اب تک صرف 10 ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنل میچز کھیلے ہیں جن میں 7 اننگ میں صرف 86 رنز اسکور اور 7 وکٹیں لے رکھی ہیں۔ دوسری جانب اسی قیمت پر خریدے گئے <a href="http://www.cricinfo.com/newzealand/content/player/36326.html">شین بونڈ</a> مسلسل اپنی فٹنس سے مقابلہ کر رہے ہیں اور حال ہی میں انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ سے صرف اس لیے ریٹائرمنٹ لی کیونکہ وہ چھوٹی طرز کی کرکٹ پر اپنی توجہ مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔ اس وقت شین بونڈ کی عمر 34 سال ہے اور بلاشبہ وہ ہر گز 18 سالہ محمد عامر سے اچھا آپشن نہیں ہیں۔ ٹوئنٹی 20 کھیلنے کا ان کا تجربہ بھی محض 13 مقابلوں کا ہے جس میں 17 وکٹیں ان کے ہاتھ لگی ہیں۔ کیا یہ کھلاڑی کسی بھی طرح عامر یا عمر گل یا شاہد آفریدی کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جن پاکستانی کھلاڑیوں کو ٹھکرایا گیا ان میں آئی پی ایل کے پہلے ایڈیشن کے بہترین کھلاڑی سہیل تنویر، متنازع انڈین کرکٹ لیگ کے شعلہ فشاں بلے باز عمران نذیر، اکمل برادران اور ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ وکٹیں رکھنے والے عمر گل بھی شامل تھے۔</p>
<p>فرنچائزز کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستانی کھلاڑیوں کو نہ خریدنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ وہ کسی ایسے کھلاڑی پر رقم نہیں لگانا چاہتے جس کی شرکت یقینی نہ ہو۔ لیکن  آخری بولی سے چند روز قبل ہی سے <a href="http://www.cricinfo.com/ipl2010/content/story/444616.html">یہ افواہیں</a> گردش میں تھیں کہ آئی پی ایل انتظامیہ نے فرنچائزز کو پاکستانی کھلاڑیوں کی بولی نہ لگانے کی ہدایت کر دی ہے۔ گو کہ انتظامیہ نے ان افواہوں کی تردید کی لیکن بولی میں پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ ہتک آمیز سلوک اور پھر للت مودی کے بیان نے واضح کر دیا کہ انتظامیہ اور فرنچائزز نے پہلے ہی طے کر لیا تھا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو آئی پی ایل میں شامل نہیں کرنا۔</p>
<p>پاکستان کے کئی کھلاڑیوں نے آئی پی ایل کے پہلے ایڈیشن میں شرکت کی تھی جن میں سے سہیل تنویر کو شاندار کارکردگی کی بدولت پلیئر آف دی ٹورنامنٹ قرار دیا گیا تھا۔ سہیل کی ٹیم راجھستان رائلز نے پہلے ایڈیشن میں فتح حاصل کی تھی۔ اگلے سال ممبئی حملوں کے باعث پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کو بھارت جانے سے روک دیا اور رواں سال انہیں اجازت دی گئی جس پر 26 پاکستانی کھلاڑیوں نے آئی پی ایل کو اپنی دستیابی سے آگاہ کیا۔ جن میں سے 11 کو حتمی فہرست میں شامل کیا گیا، جنہیں بولی کے موقع پر کسی نے نہیں خریدا۔</p>
<p>موجودہ صورتحال میں پاکستانی کھلاڑیوں کو حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے، خصوصاً بھارت کے حوالے سے انہیں کسی خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ جب اس سال آئی پی ایل کے لیے پاکستانی کھلاڑیوں نے نام دیے اور کھیلوں کے کئی ملکی تجزیہ کاروں نے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن شاید کھلاڑی اور بورڈ آئی پی ایل انتظامیہ کے حوالے سے کسی خوش فہمی کا شکار تھا، جو اب دور ہو گئی ہوگی۔ اب پاکستانی کھلاڑیوں کو اپنی تمام تر توجہ قومی کرکٹ ٹیم پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، جو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں بری طرح شکست کھانے کے بعد ممکنہ طور پر تبدیلی کے بہت بڑے عمل سے گزرے گی۔ دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی مقامی سطح پر کوئی بڑا مقابلہ کرانے کی ضرورت ہے جس میں ملکی حالات کے باعث غیر ملکی کھلاڑیوں کی شرکت تو ممکن نہیں ہوگی، لیکن قومی ٹوئنٹی 20 چیمپین شپ کی طرز کا کوئی کامیاب مقابلہ منعقد کروایا جا سکتا ہے تاکہ کھلاڑیوں کے اعتماد کو بحال کیا جا سکے۔</p>
<div class="tweetmeme_button" style="float: right; margin-left: 10px;">
			<a href="http://api.tweetmeme.com/share?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Fipl-pakistani-players%2F"><br />
				<img src="http://api.tweetmeme.com/imagebutton.gif?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Fipl-pakistani-players%2F&amp;style=normal&amp;service=TinyURL.com" height="61" width="50" /><br />
			</a>
		</div>
<a class="google_buzz"  
href="http://www.google.com/reader/link?url=http://www.abushamil.com/ipl-pakistani-players/&title=امن+کی+آشا+کے+جواب+میں+بھارت+کی+بھاشا&srcURL=http://www.abushamil.com" target="_blank" rel="nofollow"><img
src="http://www.abushamil.com/wp-content/plugins/google-buzz-button-for-wordpress/images/google-buzz.png" alt="Google Buzz" /></a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/ipl-pakistani-players/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>21</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
