سقوط کریمیا: مسلم ہولوکاسٹ – قسط 2
کریمیا میں مسلمانوں کے قتل عام کے حوالے سے گزشتہ تحریر میں خطے کے مسلمانوں کی ابتدائی تاریخ سے لے کر روس کے قبضے تک کا احوال درج کیا گیا۔ اس پر قارئین کے سیر حاصل تبصروں نے مضمون کو حقیقتاً چار چاند لگا دیے اور موضوع کو دیگر کئی زاویوں سے دیکھنے میں بھی مدد ملی۔ اس پر تمام قارئین بالخصوص محترم جاوید گوندل کا مشکور ہوں جنہوں نے گزشتہ قسط کے چند متنازع پہلوؤں پر گہری نظر ڈالی اور اس ناچیز سمیت تاریخ کے کئی طالبعلموں کی معلومات میں زبردست اضافہ کیا۔
یہ سقوط کریمیا کے سلسلے کی دوسری و آخری قسط ہے۔ اس میں حوالہ جات اور موضوع کے مطابق کتب کی فہرست بھی شامل ہے۔ جبکہ تحریر کے دوران دیے گئے روابط بھی مفید معلومات کے حامل ہیں۔
اس سلسلے کی پہلی قسط یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔
زار کے عہد میں
1771ء میں روس نے جزیرہ نما کریمیا میں در اندازی کی اور عثمانیوں سے ایک معاہدے کے تحت 1772ء سے 1783ء کے دوران یہ علاقہ اس کے زیر تحفظ رہا۔ 1783 میں ملکہ کیتھرین ثانی نے عثمانیوں سے کیے گئے تمام تر معاہدوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کریمیا کو براہ راست روسی قلمرو میں شامل کر لیا۔
کریمیا اور ملحقہ علاقوں پر روسی قبضے کے بعد وہاں اس طرح کے حالات پیدا کیے گئے تاکہ مسلمان از خود علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔ اس کی وجوہات داخلی سے زیادہ خارجی تھیں۔ کیونکہ بحیرہ اسود میں بحری قوت کو مضبوط بنانا اور خصوصاً قسطنطنیہ پر قبضے کے ذریعے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو تقویت دینا روس کا پرانا خواب تھا اس لیے اپنی ‘منزل’ کو پانے کے لیے پہلی رکاوٹ یعنی کریمیا کو ہٹانا ضروری تھا اور یہ حکمت عملی صرف زار کے عہد میں ہی اختیار نہیں کی گئی بلکہ جب جنگ عظیم دوئم میں فتح کے بعد توسیع پسندانہ عزائم کو مزید تحریک ملی تو اس خواب کی تعبیر کی ایک مرتبہ پھر کوشش کی گئی اور درحقیقت کریمیائی مسلمانوں کو جبری ہجرت پر مجبور کرنا اسی حکمت عملی کا نتیجہ تھا۔
اس سلسلے میں سب سے پہلا کام زراعت پر محصولات میں زبردست اضافے کے ذریعے کیا گیا جس کے بعد مذہب کی جبری تبدیلی کے ذریعے مسلمانوں کو زیر کرنے کی کوشش کی گئی جب دونوں حربے ناکام رہے تو آخری حربے کے طور پر غیر مقامی باشندوں یعنی سلافی (slav) نسل کے عیسائیوں کو آباد کرنا شروع کر دیا گیا اور اس پر طرّہ یہ کہ مقامی زمینیں ان نو آباد کاروں کو دے دی گئیں۔ اس سہ طرفہ زیادتی کے نتیجے میں مسلمانوں کی بڑی اکثریت اپنے ہم مذہب اور ہم نسل عثمانی علاقوں کی طرف ہجرت کر گئی جو معاشی طور پر بھی ان کے لیے فائدہ مند تو تھی لیکن اس جبری ہجرت کا نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ ہی عرصے میں کریمیا مسلم اقلیتی علاقہ بن گیا اور محض 6 سال کے عرصے میں تین لاکھ مسلمانوں کو عثمانی علاقوں کی جانب ہجرت کرنا پڑی[1]۔
انقلاب روس اور ابتدائی خوشگوار دور
اس کے باوجود جو مسلمان وہاں رہ گئے وہ وہ ملوکیت کے جبر تلے گھٹ گھٹ کر جیتے رہے حتیٰ کہ روس میں انقلاب کی صدائیں آنے لگیں۔ کریمیا کے مسلمانوں کے لیے مساوات اور مزدور دوستی کے نعرے بہت خوشگوار تھے اس لیے انہوں نے انقلابیوں کا بھرپور ساتھ دیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بعد از انقلاب مسلمانوں کو اقلیت میں ہونے کے باوجود کریمیا میں خوب مراعات ملیں حتیٰ کہ Nativization کے عہد میں انہیں جزیرہ نما کریمیا کے اصل باشندے تک قرار دے دیا گیا۔
کشیدگی کا آغاز
لیکن 1930ء کی دہائی میں زراعت کو قومیانے کے عمل نے تاتاریوں کو اشتراکی حکومت سے برگشتہ کر دیا اورحکومت سے ان کے تعلقات کشیدہ ہونا شروع ہو گئے۔ یہ مسلمانوں پر معاشی صورت میں پہلی ضرب تھی کیونکہ مسلمانوں کا تمام تر انحصار زراعت پر تھا اور اسے قومیانے کا عمل معاشی طور پر تاتاریوں کے قتل عام کے مترادف تھا اس لیے اس کی زبردست مخالفت کی گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کشیدگی کے باعث علاقے میں زراعت تباہ ہو کر رہ گئی اور 1932ء میں علاقے میں زبردست قحط آیا جس نے حکومت اور تاتاریوں کے درمیان رہی سہی امیدوں کا بھی خاتمہ کر دیا۔
اسٹالن حکومت کا اگلا ہدف تاتاری ثقافت تھی جو 1935ء میں زیر قبضہ علاقوں کو روسیانے کی پالیسی کا نشانہ بنی۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے ان کے ثقافتی مراکز کو بند کیا گیا اور 1935ء سے 38ء کے دوران کریمیائی تاتاری زبان کے 23 میں سے 14 جرائد و رسائل کو بندش کا سامنا کرنا پڑا[2] ۔ 1937ء اور 38ء کے دوران کئی دانشوروں کو قتل کیا گیا[3]۔ قتل ہونے والے مسلمان دانشوروں میں ولی ابراہیموف اور بکر چوبان زادہ بھی شامل تھے۔
دوسری جنگ عظیم
دوسری جنگ عظیم سے کریمیا کے تاتاریوں کی تاریخ کا ایک اہم باب شروع ہوتا ہے کیونکہ اس کےدوران روسی اور جرمن دونوں جانب سے تاتاریوں نے جنگ میں حصہ لیا۔ جرمنی نے 1942ء میں کریمیا پر قبضہ کیا لیکن روس کی خفیہ فوج اور اس کےجنگجوؤں کی گوریلا کاروائیاں 1944ء تک جاری رہیں جس کا مقابلہ کرنے کے لیے جرمنی نے مقامی آبادیوں کے تحفظ کے لیے کریمیائی تاتاری جنگی قیدیوں پر مشتمل ایک مزاحمتی گروپ تشکیل دیا اور یہی وہ جرم تھا جس کی بنیاد پر کریمیا کے تاتاریوں کو تاریخ کے بدترین مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔ جنگی قیدیوں نے محض اس بنیاد پر مزاحمتی گروپ میں شمولیت پر رضامندی کا اظہار کیا کہ انہیں کیمپوں کی زندگی سے چھٹکارا ملا اور بہتر غذائی سہولیات بھی میسر آئیں۔
کریمیائی تاتاریوں کے حوالے سے لکھی گئی ایلن فشر کی مشہور کتاب “The Crimean Tatars” کے مطابق بحیثیت مجموعی ان گوریلوں کی تعداد تقریباً 20 ہزار تھی[4]۔جبکہ ان کی مدمقابل روسی افواج میں شامل کریمیائی باشندوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔ روسی افواج میں کریمیائی تاتاریوں کی تعداد کا ذرا سا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جنگ کے بعد تاتاری نسل کے 8 فوجیوں کو Hero of the Soviet Union جیسا اعلیٰ اعزاز بھی عطا کیا گیا۔
اشتراکی روس کے لیے اپنے ہی ملک کی آبادی کا دشمن کے ساتھ مل جانا بہت بڑا صدمہ تھا اس لیے بحیثیت مجموعی پوری کریمیائی تاتاری قوم کو اس کی کڑی سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا اوراس سے کسی کو مستثنیٰ قرار نہیں دیا گیا ۔ اس سلسلے میں پہلا قدم 1942ء میں اٹھایا گیا جب جرمن، رومانیوں اور یونانیوں کے علاوہ کریمیائی تاتاریوں کے بھی روس میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی اور ان کی تمام آبادیوں کو خالی کرا دینے کے احکامات صادر کیے گئے۔
ویسے تو روس کے کئی علاقوں سے مسلمانوں کو جبری ہجرت کرائی گئی لیکن ان میں سے بیشتر دیہی علاقوں کے رہنے والے تھے لیکن کریمیا کے تاتاری ایک جیتی جاگتی ثقافت رکھتے تھے اور ان کی آبادی کی بڑی تعداد شہری علاقوں میں رہتی تھی [5]اور جدیدیت کی جو تحریک زار روس کے آخری ایام میں روس میں اٹھی تھی وہ بھی کریمیا اور قازان سے اٹھی تھی۔ اسماعیل گسپرالی جیسا عظیم رہنما بھی کریمیائی تاتار تھا جو اپنے کارناموں کے باعث بلاشبہ “روس کے سرسید” کہلانے کے قابل ہے۔
دور ابتلاء
11 مئی 1944ء کو جب روس کی “سرخ افواج” نے جزیرہ نما کریمیا میں آخری جرمن مقبوضہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کیا تو اسی روز جوزف اسٹالن کے دستخط کے ساتھ ایک پروانہ (GKO resolution N5859ss)جاری کیا گیا جس میں کریمیائی تاتاریوں کی مکمل آبادی کی جبری طور پر ازبکستان بے دخل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس اہم کام کا بیڑا خفیہ پولیس NKVD کے بدنام زمانہ سربراہ لیورنتی بیریا اور عوامی رسد رساں برائے ذرائع نقل و حمل (NKPS) کے جلاد صفت سربراہ لازار کاگانووِچ کو سونپے گئے۔ حکم نامے کے تحت کریمیائی تاتار باشندوں کے گھر، فرنیچر، پالتو جانور اور زرعی زمین و پیداوار روسی حکومت کی ملکیت قرار دی گئی اور ہجرت کرنے والے ہر خاندان کو زیادہ سے زیادہ 500 کلو سامان اٹھانے کی اجازت دی گئی۔ حالانکہ قرارداد کے تحت انہیں گھر کے بدلے میں زر تلافی ادا کیا جانا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی ایک باشندے کو معمولی ادائیگی بھی نہیں کی گئی۔ حتیٰ کہ 1956ء میں روسی حکومت نے واضح و باقاعدہ اعلان کر دیا کہ وہ جبری ہجرت کے دوران جائیداد سے محروم ہو جانے والے کسی بھی کریمیائی باشندے کو کوئی زر تلافی ادا نہیں کرے گی لیکن جائیداد کا کھو جانا ان مسلمانوں کے لیے اتنا بڑا المیہ نہیں تھا جتنا ان کی قومی شناخت اور آبائی زمین چھین لینا تھا۔
20 ہزار کریمیائی گوریلوں کی بڑی تعداد نے تو شکست کے بعد جرمنی میں پناہ حاصل کر لی لیکن مسلمانوں کی بڑی تعداد اب بھی جزیرہ نما میں موجود تھی اور جب قرارداد کی صورت میں ہجرت کا پروانہ جاری ہوا تو بیشتر مسلم آبادی عورتوں اور بچوں پر مشتمل تھی[6]۔ اشتراکیوں نے بلا تخصیص تمام مسلمانوں کو ایسی ٹرینوں میں ٹھونس دیا جن میں شاید جانوروں کو بھی سفر نہ کرایا جاتا ہو۔ جبری ہجرت کا نشانہ بننے والوں میں بچوں، عورتوں اور بزرگوں کے علاوہ کمیونسٹ پارٹی کے اراکین اور سابق فوجی بھی شامل تھے، جن کا واحد ‘قصور’ یہ تھا کہ وہ ‘باغی’ مسلمان تھے۔
جبری ہجرت
جبری بے دخلی کا یہ آپریشن روس کے NKVD اسکواڈز نے کیا جنہوں نے بغیر کو پیشگی نوٹس دیے قصبوں اور دیہات کو خالی کرانا شروع کر دیا اور کریمیا میں تاتاری باشندوں کو صرف پندرہ منٹ میں اپنے گھر خالی کرنے کے احکام دیے گئے[7]۔
ہر مرد بچے اور عورت کو جانوروں کے ڈھونے والی گاڑیوں میں لاد دیا گیا اور ٹرینوں کے ذریعے ازبکستان جا کر چھوڑ دیا گیا۔ دوران سفر غذا اور پانی کی کمی اور صفائی ستھرائی کے انتظامات نہ ہونے کے باعث 45 فیصد افراد رستے میں ہی لقمہ اجل بن گئے۔ نئے مقامات پر پہنچنے کے بعد انہیں خالی و بنجر میدانوں میں لے جا کر چھوڑ دیا گیا جہاں نہ کسی قسم کی رہائش گاہیں نہ تھیں یوں وہ مکمل طور پر مقامی حکومتی عہدیداروں کے رحم و کرم پر تھے اور خیراتی اداروں کے محتاج ہو گئے[8]۔
وسط ایشیا کی جانب بے دخل کیے گئے ان مہاجرین کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ تھے۔ اس ‘دہشت گردی’ کا ایک واضح پہلو “کھلی نسل پرستی” تھا۔ زیر عتاب قومیت سے تعلق رکھنے والے ہر فرد کو بلا تخصیص رویہ، ماضی و طبقہ اس “جرم” کی سزا دی گئی حتیٰ کہ کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹریوں کے ساتھ ساتھ فنکاروں، مزارعوں اور کارکنوں کو بھی جبراً علاقے سے بے دخل کر کے عقوبت گاہ نما کیمپوں میں مقید کر دیا گیا[9]۔
روسی دستاویزات کے مطابق مارچ 1949ء میں کی گئی مردم شماری میں 9 ہزار ایسے کریمیائی تاتاری نکلے جو سرخ فوج میں خدمات انجام دے چکے تھے جن میں 534 افسران، 1392 سارجنٹ اور 7079 عام فوجی تھے۔ 742 کمیونسٹ پارٹی اراکین بھی ہجرت پر مجبور کیے گئے۔
صرف یہی بات کریمیائی مسلمانوں پر تاریخ کا عظیم ترین ظلم کرنے کے لیے کافی گردانی گئی کہ ان کے ایک چھوٹے سے گروہ نے بیرونی جارحیت کا ساتھ دیا اور اسٹالن اور این کے وی ڈی کے سربراہ لیورینتی بیریا کے ہاتھوں یہ سزا پوری قوم کا مقدر ٹھیری[10]۔
روس بھر میں مسلمانوں کا قتل عام
ملک بھر میں “مادر وطن سے غداری” کے الزام میں جن افراد کو موت کا سامنا کرنا پڑا ان میں سب سے اہم 20 لاکھ روسی مسلمانوں کا قتل عام ہے جن میں چیچن، انگش، کریمیائی تاتاری، تاجک، باشکر اور قازق شامل ہیں۔ آج چیچنیا میں آزادی کی جنگ لڑنے والے جانباز سوویت عقوبت گاہوں سے بچنے والے افراد ہی کی اولاد ہیں۔
اسٹالن کے دور میں اپنے ہی عوام پر مسلط کی گئی اس جنگ میں خفیہ پولیس کے اسکواڈ کو جماعت مخالف عناصر کے خاتمے کا حکم دیا گیا اور اسٹالن کے مقرر کردہ جلاد لازار کاگانووِچ نے فی ہفتہ 10 ہزار افراد کے قتل کا ہدف مقرر کر رکھا تھا۔ اس عظیم قتل عام میں یوکرین سے تعلق رکھنے والے اسی فیصد دانشوروں کو قتل کیا گیا۔ 1932ء اور 33ء کی سخت سردیوں میں یوکرین میں ہر روز 25 ہزار افراد روسی افواج کی گولیوں یا بھوک و سردی سے موت کا نشانہ کنتے۔ مورخ رابرٹ کوئسٹ کے مطابق یوکرین ایک بڑے مذبح خانے کا منظر پیش کر رہا تھا۔
معروف صحافی ایرک مارگولس 1998ء میں یوکرین کی انہی اقوام گم گشتہ پر قلم اٹھایا۔ “The Forgotten Genocide” میں مارگولس کہتے ہیں کہ روس بھر میں 70 لاکھ افراد کے اس عظیم قتل عام اور 20 لاکھ افراد کی جلاوطنی کو سوویت پروپیگنڈے کے پردوں میں چھپایا گیا۔ ان میں 30 لاکھ مسلمان بھی شامل تھے جن میں 15 لاکھ کریمیائی اور قازق تھے۔ اس عظیم قتل عام پر بھی ان لوگوں کی یاد میں کوئی “ہولوکاسٹ یادگار” قائم نہیں کی گئی۔
مارگولس کمیونسٹ نواز مغربی دانشوروں کا بھی رونا روتے ہیں کہ انہوں نے روسیوں کے ہاتھوں اس قتل عام کا اقرار نہیں کیا بلکہ اس کےخلاف آواز اٹھانے والوں کو فاشسٹ ایجنٹ کہا۔ امریکی، برطانوی اور کینیڈا کی حکومتوں نے علم ہونے کے باوجود اپنی آنکھیں بند رکھیں حتی کہ امدادی گروپوں کو بھی یوکرین جانے سے روکا گیا۔
وہ کہتے ہیں کہ جب دوسری جنگ عظیم کا آغاز ہوا اور امریکی صدر روز ویلٹ اور برطانوی وزیراعظم چرچل نے اسٹالن سے قربتیں بڑھائیں، اس امر کا علم ہونے کے باوجود کہ اس کے ہاتھ کم از کم 30 لاکھ افراد کے خون سے رنگے ہیں اور یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب ہٹلر نے یہودیوں کے قتل عام کا آغاز بھی نہ کیا تھا۔ تو پھر حیرت ہوتی ہے کہ یہودیوں کے قتل عام کا اتنا واویلا کیوں کیا گیا اور جرمنوں کو مورد الزام ٹھیرا کر اس کا خراج مسلمانوں سے کیوں وصول کیا گیا؟
اسٹالن نے ہٹلر سے تین گنا زیادہ افراد کا قتل کیا اور برطانیہ اور امریکہ کا روس کے ساتھ اتحاد کرنا دراصل اس قتل عام میں شرکت کے مترادف تھا۔
ذرائع ابلاغ کا پروپیگنڈہ
حیرت کی بات یہ ہے کہ سوویت مظالم پر پردہ ڈالنے کی اتنی بھونڈی کوششیں کی گئیں کہ ژاں پال سارتر اس امر تک سے منکر ہو گئے کہ گولاگ (بطور سزا جبری مشقت کا سوویت طریقہ، Gulag) کا وجود بھی ہے اور وہ اسے ذرائع ابلاغ کا پروپیگنڈہ قرار دیتے رہے۔ اتحادیوں کے لیے صرف نازی ازم ہی سب سے بڑا شیطان تھا اور اس کے لیے انہوں نے یہودیوں کے قتل عام “ہولوکاسٹ” کی ترویج کا سہارا لیا اور اس کو اتنا بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا کہ روسیوں کے ہاتھوں کیے گئے قتل عام کہیں چھپ گئے۔ یہودی اپنے عظیم قتل عام کو تاریخ کا منفرد ترین واقعہ سمجھتے ہیں حالانکہ ان سےچند سال قبل روسی علاقوں کے مسلمان کا ان سے کہیں زیادہ منظم قتل عام کیا گیا۔
ادبی و ابلاغی سطح پر حتی کہ فلموں میں بھی یہودیوں کے قتل عام کو نمایاں جگہ دی جاتی ہے۔ یوکرین میں قتل عام کی تصاویر بھی بہت کم موجود ہیں اور اس سے بچنے والے افراد بھی۔ روس نے اپنے کسی جلاد صفت قاتل پر کوئی مقدمہ نہیں چلایا جیسا کہ جرمنی نے کیا۔
اسی پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اب لوگوں کی بڑی تعداد نازی قاتلوں ایڈولف ایش مان اور ہنرخ ہیملر اور بابی یار کے بارے میں تو جانتی ہے لیکن اشتراکی جلادوں زیرزنسکی، کاگانووچ، یاگودا، یے زوف اور بیریا کے بارے میں کون جانتا ہے؟ آشوٹز اور دیگر قتل گاہوں کا علم رکھنے والے کتنے لوگ مگادان، کولیما اور وورکوتا کی عقوبت گاہوں کے بارے میں جانتے ہیں؟ نازی شیطانیت کے بارے میں ایک کے بعد ایک فلم جاری کی جاتی ہے لیکن روسی مظالم پر کتنی فلمیں بنائی گئیں؟
مرے وطن تیری جنت میں۔۔۔۔!
نکیتا خروشیف کو اپنی حکومت کے ابتدائی دنوں میں اسٹالن کے بد ترین جرائم سے نمٹنا تھا جو Destalinization کا عہد کہلاتا ہے۔ جبراً بے دخل کی جانے والی اقوام کی آبائی علاقوں کی جانب واپسی کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا تھا اور حکومت کے لیے یہ ایک بڑا درد سر تھا کیونکہ ان افراد کی آبائی علاقوں کی جانب واپسی نسلی بنیادوں پر نئے تنازعات اور فسادات کا باعث بن سکتی تھی۔ جبراُ بے دخل کیے گئے افراد کی ملکیت اور رہائش گاہیں اب دوسرے لوگوں کے زیر تصرف تھیں۔ 1957ء میں جب چیچن، انگش، کراچئی اور بلکار قوموں کے باشندوں کو قفقاز واپسی کی اجازت دی گئی تو انہیں نوآبادکار روسی باشندوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور 1958ء میں گروزنی نسلی فسادات کا نشانہ بنا۔
انہی اقوام گم گشتہ میں سے کریمیا کے تاتاری باشندے بھی شامل تھے جن کی خودمختار ریاست کا خاتمہ کر کے ان کی رہائش گاہیں اور ملکیتیں تک روسی اور یوکرینی باشندوں تقسیم کر دی گئیں۔ 1950ء کے اواخر میں بیشتر اقوام کو “جرائم” سے بری قرار دیتے ہوئے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں رہنے کی اجازت دی گئی لیکن کریمیا کے مسلمانوں کو اس امر کی اجازت نہ دی گئی کہ وہ اپنی آبائی سرزمین پر جا کر رہائش اختیار کریں۔ حتیٰ کہ روس کا خاتمہ قریب آن پہنچا۔ جب 1989ء کے اواخر میں کریمیائی مسلمانوں کے چند ابتدائی خاندان واپس جزیرہ نما پہنچے[11]۔ ۔ ان افراد میں معروف کریمیائی رہنما مصطفی عبد الجمیل قرم اوغلو (مصطفی جمیلوف) بھی شامل تھے۔ آج جزیرہ نما پر بسنے والے کریمیائی تاتاری باشندوں کی تعداد تقریباً 250،000 ہے[12]۔
یہ تاتاریوں کی اس پرامن جدوجہد کا نتیجہ ہے جو انہوں نے دہائیوں تک جاری رکھی۔ اس دوران انہوں نے کریمیائی تاتاریوں کی آبائی سرزمین پر واپسی کےلیے ایک دستخطی مہم بھی چلائی جس میں 30 لاکھ افراد نے دستخط کیے[13]۔
تحقیقات کا آغاز
اب یوکرین کی حکومت نے سوویت جرائم کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی یونٹ تشکیل دیا ہے جو قومی سلامتی کے ادارے کے ماتحت ہوگا۔ گو کہ تحقیقات کے نتیجے میں کسی کو سزا ملنے کا کوئی امکان نہیں کیونکہ اس انسانی جرم کے مرتکب افراد میں سے کوئی بھی زندہ نہیں لیکن پھر بھی مصطفی عبد الجمیل کے مطابق اس جرم کی مکمل تصویر عوام کے سامنے لانے کے لیے تحقیقات کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
کریمیا کے تاتاری ہر سال 19 مئی کو جبری ہجرت کی یاد میں دن مناتے ہیں۔ اس موقع پر دنیا بھر میں مقیم کریمیائی تاتاریوں کی پرامن ریلیاں منعقد ہوتی ہیں۔
مفید کتابیں
Alan W. Fisher: The Crimean Tatars, Hoover Press, 1978, ISBN 0817966625, 9780817966621
Pavel Polian, Against their Will, History and Geography of Forced Migrations in USSR, Central European University Press, 2004
Allworth, Edward A. (ed.): The Tatars of Crimea: Return to the Homeland (Durham, N.C., and London: Duke University Press, 1998).
Aleksander Nekrich: The Punished Peoples: The Deportation and Fate of Soviet Minorities at the End of the Second World War (New York: Norton, 1978), pp. 13-35
Peter Kenez: A History of the Soviet Union from the Beginning to the End, Cambridge University Press, New York, ISBN 978-0-521-68296-1
Dominic Lieven, The Cambridge History of Russia, Vol. II – Imperial Russia, 1689-1917, Cambridge University Press, New York, ISBN-13 978-0-521-81529-1
Ronald Grigor Suny, The Cambridge History of Russia, Vol. III – The Twentieth Century, Cambridge University Press, New York, ISBN-13 978-0-521-81144-6
The Hidden Ethnic Cleansing of Muslims in the Soviet Union: The Exile and Repatriation… Williams Journal of Contemporary History.2002; 37: 323-347
Ayshe Seytmuratova, ‘The Elders of the New National Movement: Recollections’, in Edward A. Allworth (ed.), The Tatars of Crimea: Return to the Homeland (Durham, N.C., and London: Duke University Press, 1998)
حوالہ جات
[1] ترکی اور ترک، ثروت صولت، اسلامک پبلیکیشنز
[2] Alan Fisher, The Crimean Tatars Stanford, CA: Hoover Institution, 1978
[3] Alan Fisher, The Crimean Tatars Stanford, CA: Hoover Institution, 1978
[4] Alan Fisher, The Crimean Tatars Stanford, CA: Hoover Institution, 1978
[5] Pavel Polian, Against their Will, History and Geography of Forced Migrations in USSR, Central European University Press, 2004
[6] Brian Glyn Williams, A Homeland Lost. Migration, the Diaspora Experience and the Forging of Crimean Tatar National Identity (Ph.D. diss., University of Wisconsin, 1999)
[7] Ayshe Seytmuratova, ‘The Elders of the New National Movement: Recollections’, in Edward A. Allworth (ed.), The Tatars of Crimea: Return to the Homeland (Durham, N.C., and London: Duke University Press, 1998), pp. 155-179; 155
[8] The Cambridge History of Russia, Volume III – The Twentieth Century page no. 502
[9] Peter Kenez, A History of the Soviet Union from the Beginning to the End, Cambridge University Press, page no. 148
[10] Aleksander Nekrich, The Punished Peoples: The Deportation and Fate of Soviet Minorities at the End of the Second World War (New York: Norton, 1978)
[11] The Cambridge History of Russia, Volume III – The Twentieth Century page no. 502
[12] “Repatriation of the Crimean Tatars,” Forced Migration Monitor, no. 13, September 1996
[13] The Cambridge History of Russia, Vol. III، page no. 229 – 230







