ٹیگ: ’Pakistani media‘


ملک میں چینی نہیں ہے

ویسے تو خدا نے انسان کو بھلکڑ ہی پیدا کیا ہے لیکن جتنی بھلکڑ ہماری قوم ہے شاید ہی دنیا کی کوئی اور قوم ہو۔ ابھی گزشتہ نیم جمہوری دور حکومت میں چینی کا ایک زبردست بحران آیا تھا جس کا سبب ہمیشہ قیمتوں میں اضافہ کروانا تھا۔ جیسا کہ ابھی ہوا ہے کہ چینی کی قیمت 36 سے 50 پر پہنچ چکی ہے۔ گزشتہ بحران میں کتنی شدت تھی اس کا کچھ اندازہ آپ کو انور مقصود اور معین اختر کی مندرجہ ذیل گفتگو سے ہو سکتا ہے۔ تینوں وڈیوز دیکھنا شرط ہے:

Google Buzz

ابے روک نہ یار!

یہ وہ “uncut” اور “unreleased” وڈیو ہے جسے ہمارے ہاں کے نجی ذرائع ابلاغ کا “تخلیق کردہ” سب سے عظیم شاہکار گردانا جاتا ہے۔ اس وڈیو نے چاند نواب کو راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا۔ اب اچھے بھلے صحافی چاند نواب سے ملاقات کر کے ان کے ساتھ ایک یادگار تصویر کھنچواتے ہیں :) ۔ میری ذاتی معلومات کے مطابق پاکستان کے کسی رپورٹر کو اتنی شہرت نصیب نہیں ہوئی جتنی اس چند منٹ کی وڈیو کے نتیجے میں چاند نواب کو ملی۔ ویسے نجانے کس نے اس بیچارے رپورٹر سے دشمنی نکالتے ہوئے اس کی وڈیو آن لائن جاری کر دی :)
(احتیاط: اس وڈیو میں رپورٹر نے چند نامناسب الفاظ بھی استعمال کیے ہیں)

Google Buzz

جنگ اخبار کی قائد اعظم کی شان میں گستاخی

اخباری صحافت کا معیار کسی وقت بلند ہوا کرتا تھا لیکن جب سے نجی ٹی وی چینلوں کی آمد شروع ہوئے ہے، تجربہ کار صحافیوں کی چینلوں میں منتقلی کے باعث اخباری صحافت کا جنازہ نکل گیا ہے۔ اگر پاکستان سے نکلنے والے 5 بڑے اردو اخبارات کی ایک روز کی غلطیوں کو سمیٹا جائے تو اس کے لیے ایک الگ بلاگ کی ضرورت پڑے گی جہاں روزانہ 12 سے 15 تحاریر قارئین کی منتظر ہوں گی۔
لیکن جو کمال گزشتہ روز (21 مئی 2009ء) کو روزنامہ جنگ، کراچی نے کیا ہے، ایسا شاہکار تو شاید ہی آج تک کسی نے تخلیق کیا ہو۔ روزنامہ جنگ خبر کے اندر لکھتا ہے کہ
“قائداعظم کے نواسے نیس واڈیا اور ان کے بھارتی دوست لڑکی چھیڑنے پر پٹ گئے”۔

قائداعظم کے نواسے کے حوالے سے جنگ کی خبر کا تراشہ

سب سے پہلے تو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کا اپنی زندگی میں ہی اپنے اہل خانہ سے ناطہ ٹوٹ گیا تھا تو پھر ان لوگوں کو، جنہیں قائد اور ان کے ملک حتیٰ کہ ان کے مذہب سے بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی، گھٹیا کرتوتوں کے باعث یاد کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اور وہ بھی قائد کے نام کے ساتھ۔
دوسرا اخبارات کو خود بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ منفی خبروں ہی کو سامنے لے کر کیوں آتے ہیں؟ پاکستان کے کس اخبار نے یہ خبر شایع کی کہ قائد اعظم کے نواسے انڈین پریمیر لیگ کی ٹیم “کنگز الیون پنجاب” کے مالک ہیں؟ لیکن جب مبینہ طور پر “لڑکی چھیڑنے” کا معاملہ آیا تو فوراً خبر بھی قائد اعظم کے نام سے لگا دی گئی اور اس کے گرد لکیر کھینچ کر واضح بھی کر دیا گیا تاکہ کسی کی نظروں سے یہ خبر چوک نہ جائے۔
ان صحافیوں کی عقلوں پر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے۔ اس خبر پر جنگ اخبار سے بھرپور احتجاج کرنا چاہیے۔
جنگ اخبار کے مختلف شہروں میں دفاتر کے نمبر اور ای میل پتے درج ذیل ہیں

groupeditor@janggroup.com.pk

کراچی: 2637111 اور 2636066

راولپنڈی: 5962444 اور 5962277

لاہور: 6367480 اور 6361026

ملتان: 547970 اور 586240

کوئٹہ: 842016 اور 830876

Google Buzz

ابلاغی جنگ کا دور اور ہمارے ذرائع ابلاغ

مشرق میں صحافت ایک مقدس فریضہ سمجھا جاتا ہے اور اس کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاحات میں بھی تقدیس کا یہی رنگ جھلکتا ہے۔ مغرب میں تو اس کے لیے journalism کا لفظ استعمال ہوتا ہے جس کا زیادہ سے زیادہ مطلب روزنامچہ تحریر کرنا ہو سکتا ہے جبکہ مشرق میں عربی اور اس سے وابستہ زبانوں میں لفظ صحافت رائج ہے جو صحیفہ سے نکلا ہے اور دین میں صحیفوں کی حیثيت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے یعنی “آفاقی پیغام”۔
قیام پاکستان کے بعد سے اکیسویں صدی تک پاکستان میں ذرائع ابلاغ کا کردار مخصوص دائرے تک ہی محدود رہا لیکن قومی کردار کی تعمیر، تہذیبی و اخلاقی اقدار کی پاسداری اور اصلاح احوال سے کبھی غفلت نہیں برتی گئی لیکن اکیسویں صدی کے آغاز پر پاکستان میں جیسے ہی نجی ٹی وی چینلوں کے آغاز کے ساتھ ہی جو “ابلاغی انقلاب” برپا ہوا اس نے ملک کو سماجی، معاشرتی، سیاسی، معاشی اور نظریاتی جڑوں کو کھوکھلا کر ڈالا ہے۔ جدید دور میں عوام کی سوچ و فکر پر گہرا اثر مرتب کرنے والا میڈیا اب پاکستان میں ایک ایسی دو دھاری تلوار ثابت ہو رہا ہے جو اپنے ہی ملک کی نظریاتی، اخلاقی و حقیقی سرحدوں کے درپے ہو گیا ہے۔
حقیقتا تو عوامی رحجانات ہی میڈیا کو اپنا رخ متعین کرنے میں مدد دیتے ہیں، لیکن وطن عزیز میں میڈیا عوامی رحجانات کو “نئے نئے رخ” عطا کر رہا ہے۔ صرف یہ امر زیر غور لائیے کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں کی صرف 30 فیصد آبادی خواندہ ہو وہاں میڈیا کیا کیا قیامتیں ڈھا سکتا ہے۔ میڈیا “trend setter” ہے جو عام آدمی کے ملبوسات سے لے کر اس کی سوچ تک پر گہرے اثرات ڈالتا ہے اور اسی بنیاد پر اس کے مثبت کردار کا مطالبہ جائز بر حق ہے۔
ذرائع ابلاغ کی جانب سے ایک جانب جہاں عوام میں مایوسی بڑھانے کا کام کیا جا رہا ہے تو دوسری جانب غیروں کی تہذیب کو اپنی تہذیب سے برتر ثابت کر کے احساس کمتری میں مبتلا کیا جا رہا ہے۔ تہذیب اسلامی سے ناطہ توڑ کے تہذیب ہند سے رشتے استوار کیے جا رہے ہیں۔
اس معاملہ پر ہماری حکومتوں نے بہت بڑی غلطی کی ہے کہ نجی چینلوں کے آغاز کے موقع پر ہی ان کے لیے “ضابطۂ اخلاق” مرتب نہ کیا۔ “ضابطۂ اخلاق” میں میرا زیادہ زور “اخلاق” پر ہے جس سے بلاشبہ ہمارا ذرائع ابلاغ اب بالکل عاری ہوچکا ہے۔ جس طرح کے پروگرامات نشر ہو رہے ہیں یہ ثقافت حقیقتا تو شاذ و نادر ہی دِکھے گی، یا پھر وطن عزیز میں کہیں اس کا وجود ہے تو وہ ایک مخصوص طبقے اور حلقوں تک ہی محدود ہے۔ حتیٰ کہ سندھی اور پنجابی اور دیگر مقامی زبانوں کے چینل بھی جس طرح کے پروگرامات اور گانے نشر کرتے ہیں اُس میں دکھائی گئی ثقافت کا حقیقت سے دور پرے کا واسطہ بھی نہیں ہوتا، کیا آپ نے کبھی سندھ یا زیریں پنجاب کے کسی گاؤں میں گھومنے والی لڑکی کو جینز و ٹی شرٹ میں ملبوس دیکھا ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ ثقافت “درآمد” کرنے کا یہ عمل جبرا کیا جا رہا ہے۔ معاشرے کی اخلاقی و نظریاتی بنیادوں کو کھودنے کی اس سوچی سمجھی حکمت عملی کا واضح ہدف نوجوان نسل ہے جو اب میڈیا کے تمام “اسباق” کو ازبر کرنے کے بعد “میدانِ عمل” میں “عملی تجربات” کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
قدامت پسند تو درکنار کچھ ترقی پسند اور لادین ساتھی بھی ایسے واقعات سناتے ہیں جو آنکھیں کھول دینے کے کافی ہیں۔ جیسے ایک میرے استاد، جو ایک مشہور اخبار کے معروف ترقی پسند کالم نگار ہیں، نے بتایا کہ ایک شادی میں ان کے سامنے بچہ اپنی والدہ سے یہ کہتا پایا گیا کہ “امی ایسے کیسے شادی ہو گئی؟ سات پھیرے تو لگائے نہیں؟”۔ علاوہ ازیں کئی بچوں کی زبان پر ذرائع ابلاغ نے بہت برا اثر ڈالا ہے حتی کہ “خ” کو “کھ” اور “پھ” کو “ف” بولنا کئی بچوں کی عادت بن چکی ہے۔ اسکولوں میں پرائمری سطح پر بھی بچے “پریم پتر” کے ہمراہ پکڑے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب ملک بھر میں ایک جانب جہاں گھروں سے بھاگ کر شادی کرنے کے رحجان میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں خواتین کی عصمت دری کے واقعات بھی بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ حتی کہ کئی واقعات میں5، 6 سالوں کی معصوم جانیں بھی اپنی عصمت اورجان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ کیا معاشرے میں پھیلتا ہوا یہ جنسی انتشار ذرائع ابلاغ کا پھیلایا ہوا نہیں ہے؟ جس کا ہر ڈرامہ، ہر فلم، ہر کارٹون، ہر پروگرام ایک لڑکے اور لڑکی کی محبت اور ان کے تعلق کے گرد گھومتا ہے۔ علاوہ ازیں ساس اور بہو کے تعلق اتنا بھیانک کر کے پیش کیا جا رہا ہے کہ اب دونوں رشتوں کے درمیان ایک دوسرے سے حسن ظن رکھنے کا رحجان ہی کم ہوتا جا رہا ہے اور بہو گھر آنے سے قبل ہی یہ بات اپنے ذہن میں بٹھا کر آتی ہے کہ اس کی ساس ظالم ہوگی۔ اس سے ہمارے معاشرے میں رائج خاندانی نظام پر براہ راست زک پڑی ہے۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ ملکی ذرائع ابلاغ نے مغربی و ہندو “بد تہذیب” کا شیطانی رقص ہر گھر میں جلوہ گر کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی لیکن اسے مسلم تہذیب سے اتنی دلی پرخاش ہے کہ مسلم معاشرے کی بنیادی ظاہری علامات تک سے اس طرح قطع نظر کر رہا ہے جیسے وہ بھی “دہشت گردی” کی علامات (Symbol) ہیں۔ بنیادی علامات کا ذکر اس لیے کر رہا ہوں کیونکہ اسلام کی عظیم ترین دعوت اور انقلاب آفریں پیغام کو تو مسلمان کب کے بھلا چکے، اب لے دے کے بنیادی ظاہری علامات نماز، روزہ، حج وغیرہ ہی رہ گئی ہیں۔ لیکن “ٹوپی اور پائنچے” والے اس “بے ضرر اسلام” سے بھی آزادئ اظہار کے ان نام نہاد علمبرداروں کو اتنی چڑ ہے کہ کسی نجی ٹیلی وژن چینل کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوتا ہےنہ اوقات نماز و اذان کے بارے میں کوئی معلومات ملتی ہے، حدیث مبارکہ کا کوئی سلسلہ ہے نہ اسلاف کے عظیم کارناموں کی کوئی خبر، مسلمانوں کی قرون اولٰی سے کوئی نسبت دکھائی جاتی ہے نہ اسلام کے آفاقی پیغام کو سمجھنے کے لیے کوئی سنجیدہ پروگرام پیش کیا جاتا ہے۔ بس لے دے کر پردہ، موسیقی، جہاد اور مستشرقین کے “ہدایت یافتہ” وہ تمام مسائل نام نہاد “مذاکروں” اور “ٹاک شوز” میں پیش کیے جاتے ہیں جن کا واحد مقصد عوام کے ذہنوں کو مزید منتشر کرنا ہوتا ہے۔ ان پروگرامات کا بنیادی ہدف یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح اسلام کو “جدید روشن خیالی” کے فلسفے سے مکمل ہم آہنگ (Compatible) ثابت کر دیا جائے اس کی واضح مثال “الف”، “غامدی” اور اسی طرح کے دیگر پروگرامات ہیں۔غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ایک ایسا ملک جہاں کی 70فیصد آبادی کسی بھی زبان میں اپنا نام لکھنے سے بھی قاصر ہو، وہ اسلام کے حوالے سے متنازع موضوعات پر گفتگو سننے کے بعد ایمان کے کس درجے پر پہنچے گی؟ اس کا اندازہ ہر شخص کو بخوبی ہوجانا چاہئے۔
یہ حال ہے “اسلام کے قلعہ” کی “توپوں” کا۔ ابلاغی جنگ کے اس دور میں وطن عزیز میں صورتحال یہ ہے کہ اس کی حقیقی اور ابلاغی دونوں توپوں کا رخ اس کی اپنی ہی جانب ہے۔ حقیقی توپیں محب وطن عناصر کا خاتمہ کر رہی ہیں تو ابلاغی توپیں نظریاتی اساس کے درپے ہیں۔
ہمارے ذرائع ابلاغ کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ ذمہ دار شخصیات کے بجائے کاروباری افراد کی ملکیت ہیں جو منافع کے اعتبار سے ہی سب کچھ دکھاتے ہیں۔ اسی لیے وہ ایک مسلم اکثریتی ملک میں موجودگی کے باعث خود پر عائد ہونے والی اخلاقی ذمہ داریوں سے بھی بری الذمہ ہیں۔ مقصد گفتگو صرف اور صرف اتنا ہے کہ میڈیا جب ملکی سیاسی معاملات پر صرف اس لیے اتنا اثر انداز ہو رہا ہے کیونکہ وہ ملک میں جمہوری اقدار کے فروغ کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے تو قوم کی اخلاقی تربیت اور تہذیب کی حفاظت کہیں اعلی و ارفع مقصد اور قومی ذمہ داری ہے۔
اخلاقی میدان میں بگاڑ پیدا کرنے اور ملک کی نظریاتی سرحدوں کے خلاف بھرپور “دراندازی” کے علاوہ عوام میں مایوسی پھیلانے میں بھی نجی چینلوں سے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ صحافت کے بنیادی اصولوں کے تحت خبر کو جوں کا توں پیش کرنا ہمارے ذرائع ابلاغ کی بنیادی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ لیکن جب 2 منٹ کی خبر کو طول دے کر 4 گھنٹے پر محیط کیا جائے گا اور اس پر مذاکرے و مباحثے پیش ہوں گے تو خبر تو خود بخود مبالغہ آمیز ہوگی ہی ۔ خبروں میں رنگ آمیزی کا یہ رحجان اس وقت کہیں زیادہ خطرناک صورت اختیار کر جاتا ہے جب وہ پاکستان جیسے ملک میں ہو۔ یہی سب سے بنیادی نکتہ ہے کہ ایسے ملک میں جہاں کے عوام کی اکثریت ناخواندہ ہو، اور خواندہ افراد بھی معاشرے کا کوئی واضح نظریہ اپنے ذہن میں نہ رکھتے ہوں کیا وہاں “جارحانہ انداز کی صحافت” کی جا سکتی ہے؟
ایک جانب رنگین ثقافت کا حد سے زیادہ اظہار اور دوسری جانب خبروں کی رنگ آمیزیوں کے نتیجے میں جو قوس قزح بکھری ہے، اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے کا ہر فرد خصوصاً نوجوان طبقہ اپنے مذہب، قوم و ملک سے مکمل مایوسی کا شکار ہو چکا ہےاور اس کی آنکھوں پر مادہ پرستی و عیش پسندی کی ایسی پٹی بندھی ہے کہ وہ تعیشات کے حصول کے لیے بگ ٹٹ چلا جا رہا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ذرائع ابلاغ بیرونی ثقافت و رسوم و رواج کے بجائے قومی کردار کی تعمیر اور تہذیبی اقدار و ثقافت کی ترویج کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ساتھ ہی یہ تعین بھی کیا جائے کہ ہماری صحافت کا موضوع کیا ہے؟ ان کا ہماری حقیقی قومی ترجیحات سے کیا تعلق ہے؟ ملکی سیاسی معاملات پر صرف اس لیے اثر انداز ہونے کی کوشش کرنا کہ ذرائع ابلاغ جمہوری اقدار کے فروغ کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں تو قوم کی اخلاقی تربیت اور تہذیب و ثقافت کی حفاظت اس سے کہیں زیادہ بڑی ذمہ داری ہے۔ معاشرتی برائیوں کے خاتمے اور اچھائیوں کے فروغ کے لیے ذرائع ابلاغ جو اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کے ذرائع ابلاغ خصوصاً الیکٹرانک میڈیا اسے ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے بلکہ اس کی پوری قوتیں درآمد شدہ ثقافت کو قوم پر بالجبر لاگو کرنے پر لگ رہی ہیں۔ اور ایک مستقل رو بہ زوال و ناخواندہ قوم پر تو درآمد شدہ ثقافت کچھ زیادہ ہی اثر دکھاتی ہے۔ بیرونی تہذیبی یلغار کا مقابلہ کرنے کے لیے تو سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ آپ کے پاس اپنی تہذیب ہو، جب آپ کی تہذیب کے بند ہی ٹوٹ چکے ہوں تو کون سی یلغار اور کون سا مقابلہ؟

Google Buzz

آہ موسٰی خان

سوات میں “قیام امن” کے معاہدے کے محض چند گھنٹوں کے اندر معروف مقامی صحافی موسی خان خیل کا قتل صحافتی برادری کے لیے ایک اندوہناک واقعہ تھا۔ یہ خبر جہاں جنگ و شورش زدہ علاقوں میں صحافیوں کو درپیش مشکلات کو ظاہر کرتی ہے وہیں وابستہ اداروں کی بے پروائی کی بھی قلعی کھولتی ہے۔
جنگ و شورش زدہ علاقوں میں کام کرنے والے صحافی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر جس طرح رپورٹنگ کرتے ہیں، سامنے آنے والی خبر میں اس کا بہت کم اندازہ ہو پاتا ہے۔
اس حوالے سے معروف صحافی عبد الحئی کاکڑ کا کہنا صد فی صد درست ہے کہ اخبارات و چینل مالکان کی اشتہاری دوڑ اور بریکنگ نیوز کلچر نے ایک اور صحافی کو ہم سے محروم کر دیا۔
چاہے موسی خان کو کسی نے بھی قتل کیا ہو لیکن اس کی ذمہ داری اس ادارے پر بھی عائد ہوتی ہے جس سے وہ وابستہ تھے۔
احتجاج و مذمتوں کے ڈھنڈورے تو بہت پیٹے جاتے ہیں لیکن کبھی جنگ زدہ علاقوں میں کام کرنے کی تربیت دینے یا خبر کے بجائے اپنی جان کو اولیت دینے کا اصول نہیں سکھایا جاتا۔ آزادی صحافت کی نام لیوا تنظیموں کو شورش زدہ علاقوں میں رپورٹنگ کے اصول مرتب کرنے اور اس حوالے سے صحافیوں کی تربیت کرنے کی کبھی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔
ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں ٹی وی چینلز یہ بھول جاتے ہیں کہ رپورٹر کس کس عذاب کا شکار ہے اور کن گروہوں کی دھمکیوں کے باوجود ادارے کو خبریں بھیج رہا ہے۔ اس کے باوجود “ھل من مزید” کی صدا اور ہر وقت سر پر نوکری سے نکالے جانے کی لٹکتی ہوئی تلوار اس کا مقدر ہوتی ہے۔
دوسری جانب ایڈیٹرز، پروڈیوسرز اور نیوز کاسٹرز کو بھی اس امر کی تربیت نہیں دی جاتی کہ انہوں نے شورش زدہ علاقوں میں موجود رپورٹرز سے کوئی ایسا سوال ہر گز نہیں کرنا جس کا جواب دینے پر وہ کسی گروہ کی “ہٹ لسٹ” پر آ جائے۔
چینل مالکان براہ راست نشریات کے ذریعے دوسرے چینل سے سبقت لے جانے کے لیے کروڑوں روپے کی ڈی ایس این جی وین بھیجنے کو تو تیار ہیں لیکن صحافیوں کو تربیت دینے کو تیار نہیں کیونکہ انہیں اپنے رپورٹرز کی جان کی پروا ہی نہیں۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ دھمکیاں ملنے کے بعد موسٰی خان مٹہ نہیں جانا چاہ رہے تھے لیکن ادارے کے اعلٰی حکام کی جانب سے دباؤ اور نوکری سے نکالے جانے کی دھمکیوں کے بعد وہ مذکورہ علاقے میں جانے پر مجبور ہوئے اور بالآخر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ واللہ اعلم۔

Google Buzz

منافقت کی حدوں کو چھوتا میڈیا

ذرائع ابلاغ تو کسی بھی معاشرے کا آئینہ ہوتے ہیں اور اپنے ذرائع ابلاغ کے جائزے سے تو ہمیں یہی لگتا ہے کہ ہم منافقت کی حدوں کو چھو رہے ہیں۔
کراچی میں گزشتہ ایک ہفتے سے حالات جو رخ اختیار کیے ہوئے ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اردو بولنے والوں اور پشتون آبادی کے درمیان تنازع کے بعد شہر ایک آتش فشاں پر کھڑا ہوا ہے، کچھ لاوا تو گزشتہ ہفتہ نکل چکا لیکن اگر یہ آتش فشاں پھٹ پڑا تو پاکستان کا اقتصادی دارالحکومت کئی سالوں بعد ایک مرتبہ پھر بدامنی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
بہرحال بات ذرائع ابلاغ کے کردار کی ہو رہی تھی۔ ملک بھر کے خبری چینلز اور اخبارات اس حقیقت کا کھل کر اظہار نہیں کر رہے کہ تنازع کن فریقین کے مابین ہے؟ حقیقت کیا ہے؟ شروعات آخر کیسے ہوئی؟ اور ان فسادات کا نشانہ کون بن رہا ہے؟ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان تمام فسادات میں نقصان صرف اور صرف غریب طبقے کا ہوا ہے۔
ذرا ایکسپریس اخبار کی اس خبر کو دیکھئے، یہ خبر جہاں زبان حال سے بہت کچھ کہہ رہی ہے وہیں اس میں “مخصوص طبقہ” کا لفظ اس اخبار کی
منافقت کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔ کیا اس “طبقے” کا نام لینا بھی اب “گناہ” ہو گیا ہے؟


حوالہ:
روزنامہ ایکسپریس کراچی اشاعت 2 دسمبر 2008ء

Google Buzz

ایسی آزادئ اظہار ۔۔۔۔۔ پہلے تو نہ تھی

آج سے چند روز قبل ملک کے تمام موقر روزناموں میں حکومتی “اشتہاری مہم” کے سلسلے کا ایک اہم اشتہار شائع ہوا جس کی سرخی تھی “ایسی آزادی اظہار ۔۔۔۔ پہلے تو نہ تھی” ۔ اس کے علاوہ اسی سلسلے کے دیگر اشتہارات بھی چند دنوں سے اخبارات کی زینت بن رہے ہیں جن کا مقصد آنے والے انتخابات کے لیے حکمران جماعت کی تشہیر اور رائے عامہ ہموار کرنا ہے۔ لیکن آزادی اظہار والا اشتہار چھپنے کے صرف 6 روز بعد اسلام آباد میں شاہراہ دستور پر “آزادی اظہار” کو جس طرح پیروں تلے کچلا گیا، وہ حکومت کے بلند بانگ دعووں کی نفی کرتا ہے۔ صحافیوں کو وکلا کے احتجاج کی کوریج سے روکنے لیے جس طرح “لاٹھی گولی” کا استعمال ہوا وہ دنیا بھر میں پاکستان کی مزید رسوائی کا باعث بنا۔

پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہوتا ہے جہاں صحافیوں کے لیے حالات بہت تشویشناک ہیں اور انہیں کھل کر کام کرنے کی آزادی بھی حاصل نہیں۔ قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی ہے تو دوسری جانب انہیں خفیہ اداروں کی جانب سے بھی خطرات کا سامنا ہے۔ موجودہ حکومت جو سب سے زيادہ اظہار کی کھلی آزادی کا ڈھنڈورا پیٹتی پھرتی ہے، کے دور میں اب تک 25 صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جن میں سے صرف ایک یعنی ڈینیل پرل کے قتل کی تحقیقات ہوئیں وہ بھی اس وجہ سے کہ وہ امریکی تھا اور اس کے لیے حکومت پر سخت دباؤ تھا، اس کے علاوہ کسی صحافی کے قتل کی تحقیقات نہیں ہو سکیں۔ حکومت کے آزادی اظہار کے دعووں کے بارے میں صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ اس آزادی کی وجہ کوئی ڈھکی چھپی نہیں۔ ذرا سے تجزیے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آزادی اس لیے نہیں دی گئی تھی کہ فوج کو تنقید کانشانہ بنایا جائے اور اس کے سیاسی کردار پر بحثیں کی جائیں بلکہ آزادی اس لیے دی گئی تھی کہ پاکستان میں مادر پدر آزاد معاشرے کو پروان چڑھایا جاسکے اور وہ نجی چینلوں کے ذریعے وہ کچھ دکھایا جا سکے جو سرکاری ٹی وی پر نہیں دکھایا جا سکتا۔ صرف گذشتہ 5 سالوں کا جائزہ لے لیں، ہمارے ٹیلی وژن میں کتنی تبدیلی آئی ہے۔ نجی چینلوں کی آمد سے قبل اور اِن کی آمد کے بعد ذرائع ابلاغ کا جائزہ لے لیں۔ “حیا اَٹھ گئی زمانے سے”
لیکن “اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے”، حکومت کی تدبیریں اسی پر الٹنا شروع ہوگئیں۔ اور ذرائع ابلاغ نے ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں وہ سب اپنے چینلوں پر بیان کرنا شروع کر دیا جو حکومت کے لیے کسی طرح قابل برداشت نہ تھا۔ پھر پروگراموں کو بند کرنے کی کوشش، فون پر دھمکیوں، صحافیوں کو خفیہ اداروں کے ہاتھوں اٹھوانے اور اس طرح کے دیگر اقدامات کیے گئے جس سے بجائے بات سنورنے کے اور بگڑ گئی اور ذرائع ابلاغ بجائے حکومت کے حلیف بننے کے حریف بن گئے۔ جیو ٹیلی وژن پر حملہ، آج ٹی وی کو نوٹس، اُس کے دفتر پر فائرنگ اور یکے بعد دیگرے کئی واقعات نے ذرائع ابلاغ پل کی دوسری جانب لا کھڑا کیا۔ اس طرح حکومت کو بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا اور رائے عامہ حکومت کے خلاف ہوتی چلی گئی جس میں سب سے اہم کردار میڈیا کا ہی ہے۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ چیف جسٹس کی بحالی کے لیے وکلا کی تحریک کی کوئی حیثیت نہ ہوتی اگر ذرائع ابلاغ اس کو نمایاں انداز سے پیش نہ کرتے اور میرے خیال میں در حقیقت اس وقت ملک میں تبدیلی کے لیے جو کوششیں ہو رہی ہیں ان میں ذرائع ابلاغ کا کردار مرکزی ہے۔ اور حکومت کو اس کا بھرپور انداز ہے کہ آئندہ پاکستان میں جمہوری اقدار کی بحالی کے لیے اسی کا کردار سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوگا۔ اس لیے 29 ستمبر کے واقعات کے ذریعے ذرائع ابلاغ پر یہ باور کرایا گیا ہے کہ یہ ابھی نقطۂ آغاز ہے، ابھی تو صدر کا انتخاب، عام انتخابات اور کئی مراحل پڑے ہیں جن میں اس پر مزید مصیبتیں نازل ہوں گی۔

Google Buzz