<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ابوشامل &#187; Pepsi</title>
	<atom:link href="http://www.abushamil.com/tag/pepsi/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.abushamil.com</link>
	<description>مرے ہنگامۂ نو بہ نو کی انتہا کیا ہے</description>
	<lastBuildDate>Wed, 11 Aug 2010 04:31:19 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.1</generator>
		<item>
		<title>کولا وار خاتمے کی جانب گامزن</title>
		<link>http://www.abushamil.com/cola-war-ends/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/cola-war-ends/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 06 Aug 2008 08:38:22 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[معاشیات]]></category>
		<category><![CDATA[Coca Cola]]></category>
		<category><![CDATA[Cola War]]></category>
		<category><![CDATA[Juices Industry]]></category>
		<category><![CDATA[Mineral water]]></category>
		<category><![CDATA[Pepsi]]></category>
		<category><![CDATA[Softdrinks]]></category>
		<category><![CDATA[سافٹ ڈرنکس]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://abushamil.urdutech.com/?p=143</guid>
		<description><![CDATA[سافٹ ڈرنکس بنانے والے بڑے اداروں نے گزشتہ چند سالوں میں پاکستان میں بھی اپنی چند نئی مصنوعات بھی پیش کی ہیں جن میں معدنی پانی (mineral water) اور پھلوں کے رس (juices) کے علاوہ snacksتک شامل ہیں۔ اس حیران کُن تبدیلی نے ذہنی طور پر اس بارے میں کچھ تحقیق پر آمادہ کیا کہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>سافٹ ڈرنکس بنانے والے بڑے اداروں نے گزشتہ چند سالوں میں پاکستان میں بھی اپنی چند نئی مصنوعات بھی پیش کی ہیں جن میں معدنی پانی (mineral water) اور پھلوں کے رس (juices) کے علاوہ snacksتک شامل ہیں۔ اس حیران کُن تبدیلی نے ذہنی طور پر اس بارے میں کچھ تحقیق پر آمادہ کیا کہ اس کی وجوہات کیا ہیں؟<br />
اب آپ یہ &#8220;نام نہاد تحقیق&#8221; ملاحظہ کیجیے جو انٹرنیٹ پر متعلقہ موضوعات کی تلاش کا نتیجہ ہے۔ اس سلسلے میں تبصرہ نگار بھی اپنی معلومات شیئر کرنا چاہیں تو مجھے بہت خوشی ہوگی۔<br />
کاربونیٹڈ سافٹ ڈرنکس گزشتہ کئی دہائیوں سے نوجوانوں کے دلوں پر ان کے پسندیدہ کھلاڑیوں اور اداکاروں کے ذریعے راج کرتی آ رہی ہیں اور آج بھی &#8220;نیا جال لائے پرانے شکاری&#8221; کے مصداق یہی طریقۂ کار استعمال کیا جاتا ہے<br />
کیا سنہرے دن اب صرف یادوں کی صورت میں ہی رہ گئے ہیں؟ کیونکہ کم از کم مغربی ممالک کی حد تک تو سافٹ ڈرنکس تیار کرنے والے اداروں کو &#8220;کاربونیٹڈ سافٹ ڈرنکس&#8221; میں اپنا مستقبل نہیں دکھائی دیتا۔ کیونکہ صحت عامہ کے ماہرین گزشتہ دو دہائیوں سے سافٹ ڈرنکس کے انسانی صحت پر مضر اثرات کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنے میں مصروف ہیں اور اب لگتا ہے کہ جلد ہی سگریٹ کی ڈبیہ کی طرح سافٹ ڈرنک کی بوتلوں پر بھی &#8220;صحت کے لیے مضر ہے&#8221; جیسے الفاظ درج ہوں گے  <img src='http://www.abushamil.com/wp-includes/images/smilies/icon_smile.gif' alt=':)' class='wp-smiley' /><br />
سافٹ ڈرنکس کے صحت پر اثرات کے حوالے سے رپورٹس سامنے آتے ہی 90ء کی دہائی کے اوائل سے ہی &#8220;جنم بھومی&#8221; امریکہ میں سافٹ ڈرنکس کا استعمال کم ہونا شروع ہو گیا اور اب یہ صنعت مسلسل روبہ زوال ہے بلکہ گزشتہ دو سالوں سے تو اس زوال میں مزید تیزی آ رہی ہے۔<a href="http://www.beverage-digest.com/"> Beverage Digest</a>کے مطابق امریکہ میں  کاربورنیٹڈ سافٹ ڈرنکس کی مارکیٹ میں حجم کے اعتبار سے 2007ء میں 2.3 فیصد کمی آئی جبکہ 2006ء میں یہ کمی 0.6 اور 2005ء میں 0.2 فیصد تھی۔ ان اعداد و شمار میں انرجی ڈرنکس بھی شامل ہیں البتہ معدنی پانی، اسپورٹس ڈرنکس، تیار شدہ چائے وغیرہ شامل نہیں۔ حالانکہ جریدے کے مطابق اس کاروبار کے حجم میں 2.7 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اب یہ امریکہ میں 72 ارب ڈالرز کی صنعت بن چکا ہے لیکن اس کی وجہ بھی روایتی مشروبات کی قیمتوں اور انرجی ڈرنکس کی فروخت میں اضافہ بیان کی جاتی ہے، اور کاربونیٹڈ سافٹ ڈرنکس کا اس اضافے میں کوئی کردار نہیں۔ ان تازہ اعداد و شمار کے باوجود امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ کاربونیٹڈ سافٹ ڈرنکس استعمال کرنے والا ملک ہے اور دنیا بھر میں سافٹ ڈرنکس کا 55 فیصد امریکہ میں استعمال ہوتا ہے اور ایک اندازے کے مطابق ہر امریکی سال میں 576 سافٹ ڈرنکس پیتا ہے یعنی روزانہ ڈیڑھ سے زائد۔<br />
<a href="http://abushamil.urdutech.com/wp-content/uploads/2008/08/coke-for-you-by-pnijhuis.jpg"><img class="size-full wp-image-145 aligncenter" title="coke-for-you-by-pnijhuis" src="http://abushamil.urdutech.com/wp-content/uploads/2008/08/coke-for-you-by-pnijhuis.jpg" alt="" width="500" height="332" /></a><br />
اس امر میں تو کوئی شبہ نہیں کہ سافٹ ڈرنکس صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ سب سے پہلا نقصان تو یہ ہے کہ سافٹ ڈرنکس کے &#8220;عادی&#8221; افراد زیادہ صحت مند مشروبات جیسے پانی، دودھ اور جوسز وغیرہ سے محروم رہ جاتے ہیں اور طبی تحقیق نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ یہ کئی بیماریوں کی جڑ ہیں جن میں مٹاپے اور ذیابیطس جیسے خطرناک امراض بھی شامل ہیں۔<br />
ماہرینِ طب کے مطابق سافٹ ڈرنک نہ پینے والے بچوں کے مقابلے میں اسے استعمال کرنے والے بچوں میں مٹاپے کی شرح کہیں زیادہ ہے جس کا بنیادی سبب سافٹ ڈرنک پینے کے باعث زیادہ بھوک لگنا اور مشروب میں چینی کا استعمال ہے۔ ایک اندازے کے مطابق روزانہ 330 ملی لیٹر کا ایک کین پینے کا مطلب مہینے میں ایک پاؤنڈ وزن کا اضافہ کرنا ہے۔<br />
2004ء میں ہونے والی ایک تحقیق نے ثابت کیا کہ روزانہ ایک یا اس سے زائد سافٹ ڈرنک پینے والے افراد میں ذیابیطس ہونے کے امکانات اُن افراد کے مقابلے 80 فیصد زیادہ ہوتے ہیں جو مہینے میں صرف ایک مرتبہ یہ مشروب پیتے ہیں۔<br />
بینزین سرطان کا باعث بننے والا ایک عنصر ہے اور اس امر کے واضح شواہد موجود ہیں کہ کم از کم 1990ء تک بڑی سافٹ ڈرنک کمپنیاں اسے اپنے مشروبات میں استعمال کرتی رہی ہیں۔<br />
2006ء میں برطانیہ کی فوڈ اسٹینڈرڈز ایجنسی نے سافٹ ڈرنکس میں <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/بنزین" target="_blank" >بنزین</a> کی سطح کا اندازہ لگانے کے لیے ایک سروے کیا اور 150 مصنوعات کا جائزہ لیا گیا جس کے نتائج کے مطابق 4 میں بنزین کی سطح <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/World%20Health%20Organization">عالمی ادارۂ صحت</a> (ڈبلیو ایچ او) کے معیار سے زیادہ تھی۔ بہرحال بنزین کا استعمال اب قصۂ پارینہ بن چکا ہے لیکن ترقی پذیر ممالک میں اس خطرناک عنصر کی سافٹ ڈرنکس میں شمولیت سے قطع نظر نہیں کیا جا سکتا۔<br />
سافٹ ڈرنکس ایک سے زائد تیزابی عنصر شامل ہوتے ہیں جن میں <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Phosphoric Acid">فاسفورک</a> اور <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Citric%20Acid">سٹرک ایسڈ</a> عام ہیں۔ علاوہ ازیں بغیر کولا کے مشروبات اور کین میں بند &#8220;چائے&#8221;میں بھی میلک، ٹارٹیرک اور دیگر نامیاتی تیزابی عنصر شامل ہوتے ہیں جو دانتوں کے لیے بہت نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ اسی لیےسافٹ ڈرنکس سب سے زیادہ دانتوں کو متاثر کرتی ہیں۔ اب معالجین اسے اسٹرا کے ذریعے دانتوں سے لگائے بغیر براہ راست نگلنے کا مشورہ دیتے ہیں علاوہ ازیں وہ اس کی تیزابیت کے باعث پینے کے فوراً بعد دانتوں کو برش کرنے سے بھی منع کرتے ہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں دانتوں پر موجود حفاظتی تہہ کے ضائع ہوجانے کا اندیشہ ہوتا ہے کیونکہ وہ اس تیزاب کے نتیجے میں نرم پڑ جاتی ہے۔<br />
ایک رپورٹ کے مطابق سافٹ ڈرنکس میں شامل <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/caffeine">کیفین</a> کے باعث یہ نیند کو بھی متاثر کرتی ہے اور نیند کی کمی کے باعث طبیعت مضمحل رہتی ہے۔<br />
اس کے علاوہ چند واقعات بھی سافٹ ڈرنکس کی &#8220;شہرت&#8221; خراب کرنے کا باعث بنے جن میں سب سے اہم حالیہ سالوں میں ہی بھارت میں <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Pepsi">پیپسی</a> اور <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Coca%20Cola">کوکا کولا</a> کے بطور کیڑے مار دوا کے استعمال کا واقعہ تھا۔ اس کے نتیجے میں چند ریاستوں میں تو اس کےاستعمال پر مکمل پابندی بھی عائد کر دی گئی تھی۔ ایک بڑی مارکیٹ میں اس طرح کی صورتحال کا پیش آنا دونوں بڑی کمپنیوں کے لیے ایک بھیانک خواب سے کم نہ تھا اور اس سے نکلنے کے لیے انہیں بڑے پیمانے پر اشتہاری مہم چلانا پڑی لیکن بہرحال &#8220;چُنری کو داغ&#8221; لگ چکا تھا اور اس سے پیچھا چھڑانا اب ناممکن تھا۔<br />
یہ تمام صورتحال منظر عام پر آنے کے بعد کمپنیوں کو اس امر کا ادراک ہو گیا کہ انہیں نئی مارکیٹوں کی تلاش کے علاوہ آہستہ آہستہ &#8220;صحت بخش مشروبات&#8221; کی جانب منتقل ہونا ہوگا اور انہوں نے فی الفور دونوں اہداف کے حصول کے لیے اقدامات شروع کر دیے۔<br />
ان اداروں کی سب سے بڑی مارکیٹ کیونکہ <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/امریکہ" target="_blank" >امریکہ</a> اور <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/یورپ" target="_blank" >یورپ</a> ہیں جہاں صحت عامہ کے حوالے سے عوام باشعور ہیں ، اس لیے اعداد و شمار تو واضح کرتے ہیں کہ وہاں سافٹ ڈرنکس کے استعمال میں بدستور کمی آتی جا رہی ہے اور اگلی ایک دہائی میں سافٹ ڈرنکس کا استعمال انتہائی محدود رہ جائے گا۔ اس لیے سب سے پہلے تو سافٹ ڈرنکس تیار کرنے والے اداروں نے <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/شمالی افریقہ" target="_blank" >شمالی افریقہ</a>، <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/مشرق وسطٰی" target="_blank" >مشرق وسطٰی</a> اور <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/جنوبی ایشیا" target="_blank" >جنوبی ایشیا</a> کی نئی مارکیٹوں پر اپنے قبضے کے مستحکم کیا اور اپنی مصنوعات کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کی اور اس کے لیے اداکاروں، اداکاراؤں اور کھلاڑیوں کا سہارا لیا۔<br />
دوسری جانب انہوں نے مغربی دنیا میں معدنی پانی اور پھلوں کے جوسز کے کاروبار پر توجہ مرکوز کر لی۔ پیپسی نے <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Aquafina">Aquafina</a> نامی معدنی پانی مارکیٹ میں متعارف کروایا تو کوکا کولا &#8220;<a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Kinley">Kinley</a> لے آیا۔ آخر الذکر </a><a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Minute Maid">Minute maid</a> کے ساتھ جوس مارکیٹ میں لایا تو اول الذکر نے <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Tropicana Twister">Tropicana Twister</a> متعارف کرادیا۔ حتٰی کہ اب </a><a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Kurkure">Kurkure</a>جیسے برانڈز تک متعارف کرانا پڑ رہے ہیں تاکہ متبادل ذرائع سے آمدنی کو سہارا دیا جاسکے یا بڑھایا جا سکے۔<br />
تو کیا یہ لگتا ہے کہ اگلی ایک دہائی میں سافٹ ڈرنکس کا خاتمہ ہو جائے گا؟
<div class="tweetmeme_button" style="float: right; margin-left: 10px;">
			<a href="http://api.tweetmeme.com/share?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Fcola-war-ends%2F"><br />
				<img src="http://api.tweetmeme.com/imagebutton.gif?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Fcola-war-ends%2F&amp;style=normal&amp;service=TinyURL.com" height="61" width="50" /><br />
			</a>
		</div>
<a class="google_buzz"  
href="http://www.google.com/reader/link?url=http://www.abushamil.com/cola-war-ends/&title=کولا+وار+خاتمے+کی+جانب+گامزن&srcURL=http://www.abushamil.com" target="_blank" rel="nofollow"><img
src="http://www.abushamil.com/wp-content/plugins/google-buzz-button-for-wordpress/images/google-buzz.png" alt="Google Buzz" /></a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/cola-war-ends/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>16</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
