ٹیگ: ’Pollution‘


عالمی حدت

میرے پاس امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے (NASA) کی ای میلز باقاعدگی کے ساتھ آتی ہیں اور میں لازماً ان کا مطالعہ کرتا ہوں کیونکہ کسی زمانے میں مجھے خلا اور زمین کی معلومات کا بہت زیادہ شغف رہا ہے اور آج تک جغرافیہ سے دلچسپی کی بڑی وجہ بھی یہی ہے۔لیکن ناسا کی جانب سے جو آخری ای میل مجھے موصول ہوئی وہ کافی پریشان کن ہے جس میں ایک نہایت خوفناک خبر میری منتظر تھی۔ خبر یہ ہے کہ رواں سال جون سے ستمبر تک ‍قطب شمالی میں ریکارڈ برف پگھلی ہے اور اس خوفناک خبر کا ثبوت ذیل میں دی گئی خلا سے کھینچی گئی یہ تصویر ہے۔

دنیا بھر میں پھیلتی ہوئی آلودگی کے نتیجے میں عالمی ماحولیات پر مرتب ہونے والے اثرات نے “عالمی حدت کا جو عذاب کھڑا کیا ہے اس کے نتائج آپ دنیا بھر میں روز بروز بڑھتی ہوئی قدرتی آفات کے نتیجے میں دیکھ رہے ہوں گے۔ یورپ اور امریکہ میں صنعتی ترقی نے جہاں دنیا کو نت نئی ٹیکنالوجی سے متعارف کروایا ہے وہیں ان کارخانوں سے خارج ہونے والا دھواں گرین ہاؤس گیسوں میں تبدیل ہو کر آج دنیا کو تباہی کے دہانے پر لے آیا ہے۔
سمندروں کی سطح میں اضافہ، سیلاب، موسموں کی شدت میں اضافہ اور دیگر کئی عوامل اسی بڑھتی ہوئی عالمی حدت کا تحفہ ہیں۔ لیکن ٹھیریے سب سے بڑا خطرہ تو ابھی باقی ہے یعنی قطب شمالی کی برف کا پگھلنا، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں سمندروں کی سطح میں اضافہ ہوگا اور مالدیپ جیسے ممالک زیر آب آ سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں بُری خبر یہ ہے کہ رواں سال جون سے ستمبر تک کے عرصے میں قطب شمالی پر ریکارڈ برف پگھلی ہے۔ نیشنل سنو اینڈ آئس ڈیٹا سینٹر (این ایس آئی ڈی سی) کی 16 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق سمندری برف کا حجم4.13 ملین مربع کلومیٹر (1.56 ملین مربع میل) کم ہوا ہے جو اوسط سے 38 فیصد اور گذشتہ (2005ء کے) ریکارڈ سے 24 فیصد کم ہے۔
مندرجہ بالا تصویر امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے نے 16 ستمبر کو جدید مائیکروویو اسکیننگ ریڈیو میٹر آلے (اے ایم ایس آر ای) سے حاصل کی ہے۔ جس میں گرین لینڈ سے روس تک پھیلے ہوئی برف کو دیکھا جا سکتا ہے
واضح رہے کہ سمندری برف زمین کے “ایئر کنڈیشنر” کی طرح کام کرتی ہے۔ بحر منجمد شمالی کی سفید شفاف برف سورج کی روشنی کو واپس خلا میں منعکس کرتی ہے۔ جبکہ اس سے ملحقہ سمندر کا گہرے رنگ کا پانی سورج کی روشنی کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔ اگر برف پگھلنے کا یہ سلسلہ جاری رہا تو سورج کی روشنی کو خلا میں واپس کرنے کے عمل میں کمی اور پگھلنے کے عمل میں تیزی واقع ہوگی اور عالمی حدت میں مزید اضافے کا باعث بنے گی۔ حتٰی کہ این ایس آئی ڈی سی کے سینئر تحقیقی سائنسدان مارک سیریز نےیہ خطرہ تک ظاہر کر دیا ہے کہ 2030ء تک بحر منجمد شمالی مکمل طور پر پگھل سکتا ہے۔
عالمی حدت بڑھنے کے نتیجے میں جو دیگر خطرات ہیں ان میں 1990ء سے 2100ء تک سمندروں کی سطح میں 110 سے 770 ملی میٹر کا اضافہ، زراعت پر اثرات، اوزون کی سطح میں کمی، طوفانوں اور موسموں کی شدت میں اضافہ اور ملیریا اور ڈینگی بخار جیسے امراض میں اضافہ شامل ہیں۔

دوسری جانب عالمی حدت میں اضافے کا سبب بننے والے امریکی و یورپی کارخانوں کے نزدیک ان کی جیبوں میں جانے والا پیسہ زمین کے فطری نظام میں بگاڑ سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کثیر القومی اداروں نے ایک خاص مہم چلا رکھی ہے جس کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ عالمی حدت کے حوالے سے خدشات صرف ڈرامہ ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ علاوہ ازیں امریکہ اور آسٹریلیا نے ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے عالمی معاہدے “کیوٹو پروٹوکول” (Kyoto Protocol) پر آج تک دستخط بھی نہیں کیے۔
حالانکہ ماحولیات کبھی بھی میرا پسندیدہ مضمون نہیں رہا لیکن نجانے کیوں اس ای میل کے بعد میں مجبور ہوگیا کہ آپ کو اُن خطرات سے آگاہ کروں جو ہماری دنیا کو درپیش ہیں۔

Google Buzz