<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ابوشامل &#187; recession</title>
	<atom:link href="http://www.abushamil.com/tag/recession/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.abushamil.com</link>
	<description>مرے ہنگامۂ نو بہ نو کی انتہا کیا ہے</description>
	<lastBuildDate>Wed, 11 Aug 2010 04:31:19 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.1</generator>
		<item>
		<title>گیا دور سرمایہ داری گیا</title>
		<link>http://www.abushamil.com/capitalism-zubair/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/capitalism-zubair/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 14 Apr 2009 16:06:11 +0000</pubDate>
		<dc:creator>زبیر انجم</dc:creator>
				<category><![CDATA[اقبالیات]]></category>
		<category><![CDATA[حالات حاضرہ]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[معاشیات]]></category>
		<category><![CDATA[مہمان بلاگرز کی تحاریر]]></category>
		<category><![CDATA[capitalism]]></category>
		<category><![CDATA[economic crisis]]></category>
		<category><![CDATA[economics]]></category>
		<category><![CDATA[Iqbal]]></category>
		<category><![CDATA[recession]]></category>
		<category><![CDATA[اقبال]]></category>
		<category><![CDATA[بے روزگاری]]></category>
		<category><![CDATA[سرمایہ دارانہ نظام]]></category>
		<category><![CDATA[سرمایہ داری]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی مالیاتی نظام]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی کساد بازاری]]></category>
		<category><![CDATA[قوت خرید]]></category>
		<category><![CDATA[معاشی بحران]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://abushamil.urdutech.com/?p=476</guid>
		<description><![CDATA[تحریر از مہمان بلاگر: زبیر انجم صدیقی zubairanjum1[at]hotmail[dot]com عالمی کساد بازاری کی حالیہ لہر کے نتیجے میں لکھوکھا افراد کے بے روزگار ہونے کے بعد متبادل عالمی مالیاتی نظام کے لئے آوازیں اس بار جتنی زور و شور سے اٹھنا شروع ہوئی ہیں اس کی ماضی میں کوئی نظیر موجود نہیں ہے اور اس بار [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: center;">تحریر از مہمان بلاگر: زبیر انجم صدیقی<br />
zubairanjum1[at]hotmail[dot]com</p>
<p>عالمی کساد بازاری کی حالیہ لہر کے نتیجے میں لکھوکھا افراد کے بے روزگار ہونے کے بعد متبادل عالمی مالیاتی نظام کے لئے آوازیں اس بار جتنی زور و شور سے اٹھنا شروع ہوئی ہیں اس کی ماضی میں کوئی نظیر موجود نہیں ہے اور اس بار یہ آوازیں کسی مسلم یا سوشلسٹ معاشرے سے نہیں بلکہ سرمایہ داری اور مغربی تہذیب کے مراکز سے ابھر رہی ہیں ۔ لندن میں دنیا کی بیس بڑی معاشی طاقتوں کے گروپ G-20 کے سربراہ اجلاس کے موقع پر یورپ کے مختلف شہروں میں بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔۔ ان مظاہروں میں شریک افراد نے بیشتر بینر ایسے اٹھا رکھے تھے جس میں لفظ عالمگیریت کے حجاب کو استعمال کرنے کے بجائےبراہ راست صورتحال کا ذمہ دار عالمی سرمایہ دارانہ نظام کو قرار دیا گیا اور اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ۔ حتیٰ کہ مین ہٹن، نیویارک کی &#8220;وال اسٹریٹ&#8221;، جہاں سے بوژروا طبقے نے دنیا کو عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے شکنجے میں کسنے کا آغاز کیا، میں بھی سینکڑوں افراد نےکساد بازی کی لہر اور امریکہ میں لاکھوں افراد کی بے روزگاری کا ذمہ دار سرمایہ دارانہ نظام میں مضمر خرابیوں کو قرار دیا گیا ۔</p>
<p style="text-align: center;">میری تعمیر میں مضمر ہے صورت اک خرابی کی</p>
<p style="text-align: center;"><img class="size-full wp-image-481 aligncenter" title="g20-protest" src="http://abushamil.urdutech.com/wp-content/uploads/2009/04/g20-protest.jpg" alt="g20-protest" width="460" height="288" /></p>
<p>سرمایہ داری صدیوں کی اصلاحات کے باوجوداپنی ان خرابیوں کو دور نہیں کر سکی ہے، جو انتہادرجے کی خود غرضی اور سرمائے کے ارتکاز کی بنیاد پر قائم ہونے والے اس ظالمانہ نظام میں موجود ہیں ۔سود کی بنیاد پر بننے والا نظام مالیات، سسٹم میں وسائل پیدا کرنے والے اصل عاملین کے ساتھ ایک طرح ہر جہت میں ہمہ گیر بے انصافی کرتا ہے ۔اس نے اجتماعی معیشت کی ساری باگیں چند خود غرض سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں دے رکھی ہیں ۔جو اپنا سرمائے کی نفع اندوزی میں وقتی کمی دیکھنے کے روادار بھی نہیں اور یک جنبش قلم ہزاروں خاندانوں کی روزی اور مستقبل کو داؤ پر لگانے سے نہیں چوکتے ۔اور ان سرمایہ داروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے وضع کیا گیا نظام لبرل مٕغربی جمہوریت کی شکل میں موجود ہے ،جو ساہوکاروں اور بوژرواطبقے کی مشکلات کے حل کے لئے تو سینکڑوں ارب ڈالر کا بیل آؤٹ پیکیج دینے کو تیار ہے تاہم کساد بازاری سے بیروزگار ہونے والے لاکھوں امریکیوں کے مسئلے کا کوئی حل اس کے پاس موجود نہیں ہے، جو آئے دن نیویارک اور شکاگو میں ہونے والے جاب فیئرز میں سینکڑوں فٹ طویل قطار میں کھڑے نظر آرہے ہیں ۔۔ سرمایہ دارانہ نظام میں ہر دس پندرہ سال بعد کساد بازاری کی لہر آنا باعث حیرت نہیں ہے بلکہ اس نظام کو سمجھنے والے جانتے ہیں کہ ایسا نہ ہونا حیران کن ہوگا۔بے قید معیشت کے نام پر وسائل کو چند ہاتھوں میں مرتکز کرنے کے لئے بنے گئے تانے بانے سرمایہ دار کے دل میں ایسی خود غرضی اور لالچ پیدا کردیتے ہیں کہ ایک موقع پر وہ اپنے کاروبار کو پھلتا پھولتا دیکھ کر اس میں بے تحاشہ سرمایہ لگانا شروع کر دیتاہے اور ایک موقع ایسا آتا ہے کہ سرمائے کی کثرت نفع کے امکانات ختم کرتی چلی جاتی ہے۔ کاروبار سردپڑتا دیکھ کر سرمایہ دار پہلے سے لگا ہوا سرمایہ کھینچنا شروع کر دیتا ہے یہاں تک کہ پوری دنیا پر کساد بازاری کا دورہ پڑجاتا ہے۔</p>
<p style="text-align: center;"><img class="size-full wp-image-482 aligncenter" title="g20-protest01" src="http://abushamil.urdutech.com/wp-content/uploads/2009/04/g20-protest01.jpg" alt="g20-protest01" width="460" height="288" /></p>
<p>ظاہر ہے ایسے حالات میں جب لاکھوں لوگ بے روزگار ہوں اور کروڑوں اس قدر قلیل المعاش ہوں کہ سخت ضرورت کے باوجود وہ مال نہ خرید سکیں جن سے وال مارٹ جیسے سپر اسٹور بھرے پڑے ہیں، ایک ایسا منظر نگاہوں کے سامنے ہے کہ دنیاکے سامنے بے حدو حساب قابلِ استعمال ذرائع موجود ہیں، کروڑوں آدمی کام کرنے والے موجود ہیں اور وہ انسان بھی کروڑ ہا کروڑ کی تعداد میں موجود ہیں جو اس سامان کو استعمال کرنے کے خواہشمند ہی نہیں بلکہ شدید ضرورت مند ہیں، مگر یہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی دنیا کے کارخانے اور پیدوار کے مراکز اپنی استعداد کار سے بہت گھٹ کر جو کچھ تیار کر رہے ہیں وہ بھی منڈیوں میں میں محض اس وجہ سے پڑا ہوا ہے کہ لوگوں کے پاس خریدنے کے لئے رقم موجود نہیں ہے اور لاکھوں بے روزگاروں کو اس لئے کام پر نہیں لگایا جاسکتا کہ جو تھوڑا بہت مال بنتا ہے وہی بازار میں نہیں نکل رہا تو یہ کیسے ممکن ہے کوئی مزید سرمایہ لگاکر بے روزگاروں کو نوکری دینے کی جرات کر سکے ۔۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے سرمایہ دارانہ جمہوریت کی ایسی ہی کمزوریوں کو دیکھ کر کہا تھا:</p>
<p style="text-align: center;">ابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہے<br />
قیامت ہے کہ انساں نوعِ انساں کا شکاری ہے<br />
وہ حکمت ناز تھا جس پہ خردمندانِ مغرب کو<br />
ہوس کے پنجہ خونیں میں تیغِ کارزاری ہے<br />
تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا<br />
جہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہے</p>
<p>ایک اور جگہ علامہ اقبال نے فرمایا کہ</p>
<p style="text-align: center;">تمہاری تہذیب اپنے خنجر سےآپ ہی خود کشی کرے گی<br />
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا<br />
دیارِ مغرب کے رہنے والوٕں خدا کی بستی دوکاں نہیں ہے<br />
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زرِ کم اعیار ہوگا</p>
<p>علامہ اقبال کی جانب سے مغربی تہذیب کے جلومیں موجود سیاسی اور معاشی نظام کے بارے میں اس رائے کا اظہار کسی مجذوب کی بڑ نہیں تھا بلکہ ان کی دیدۂ بینا نے سرمایہ داری کی خرابیوں کو دیکھ کر اس کے انجام سے ہمیں کئی عشروں قبل ہی آگاہ کر دیا تھا:</p>
<p style="text-align: center;">آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں<br />
محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی</p>
<p>اللہ کے ایک اور بندے نے 30دسمبر1946ء کو سیالکوٹ میں خطاب کے دوران سرمایہ داری اور اشتراکیت کی خرابیوں کو دیکھ کر جو پیشگوئیاں کی تھیں ان میں سے ایک پوری ہوچکی ہے جبکہ دوسری پیشگوئی کے پوری ہونے کے لئے اسٹیج پوری طرح تیار ہے۔آیئے دیکھتے ہیں کہ اس مفکر نے آج سے 63 سال قبل کیا کہا تھا؟</p>
<blockquote><p>حتی کہ ایک وقت وہ آئے گا جب کمیونزم خود ماسکو میں اپنے بچاؤ کیلئے پریشان ہوگا۔ سرمایہ دارانہ ڈیموکریسی خود واشنگٹن اور نیویارک میں اپنے تحفظ کے لئے لرزہ براندام ہوگی۔ مادہ پرستانہ الحاد خود لندن اور پیرس کی یونیورسٹیوں میں جگہ پانے سے عاجز ہوگا۔ نسل پرستی اور قوم پرستی خود برہمنوں اور جرمنوں میں اپنے معتقدنہ پاسکے گی اور یہ آج کا دور صرف تاریخ میں ایک داستانِ عبرت کی حیثیت سے باقی رہ جائے گا کہ اسلام جیسی عالمگیر و جہاں کشا طاقت کے نام لیوا کبھی اتنے بیوقوف ہوگئے تھے کہ عصائے موسیٰ بغل میں تھا اور لاٹھیوں اور رسیوں کو دیکھ کر کانپ رہے تھے</p></blockquote>
<p>اس وقت عالمی سرمایہ دارانہ نظام اپنے بقا کا جواز تلاش کرنے کے لئے اپنے بنیادی اصولوں یعنی بے قید معیشت اور حکومتی اجارہ داری سے آزادی پر بھی سمجھوتہ تیار کرنے کے لئے تیار ہوگیا ہے۔ بینکوں کو قومیانہ &#8211;یا ان پر سرکاری کنٹرول کا قیام&#8211; سرمایہ داری کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ بالکل اسی طرح معیشت پر بھی سخت ریگولیشن کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ جی ٹوئنٹی سربراہ اجلاس کا اعلامیہ پڑھتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے کہا کہ حالیہ بحران نے عالمی مالیاتی نظام کی چولیں ہلا دی ہیں اس لئے  معیشت اور مالیات کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔</p>
<p style="text-align: center;">میخانے کی بنیاد میں آیا ہے تزلزل<br />
بیٹھے ہیں اسی فکر میں پیرانِ خرافات</p>
<p style="text-align: center;"><img class="size-full wp-image-480 aligncenter" title="wallstreet-protest" src="http://abushamil.urdutech.com/wp-content/uploads/2009/04/wallstreet-protest.jpg" alt="wallstreet-protest" width="500" height="333" /></p>
<p>مگر تاریخ بتاتی ہے کہ کوئی بھی نظام اس وقت تک ختم نہیں ہوتا جب تک اس کی جگہ لینے کے لئے دوسرا نظام موجود نہ ہو۔اسلام کے علاوہ کسی نظام کے پاس انسانیت کو درپیش مسائل کا حل موجود نہیں۔مگر موجودہ عالمی صورتحال میں نہ اسلام کے معاشی نظام کا کوئی ماڈل موجود ہے اور نہ ہی اس نظام کو متبادل کے طور پیش کرنے کے لئے وکیل اور سازگار حالات،اس لئے موجودہ سرمایہ داری اس وقت تک موجود رہے گی جب تک دوسرا نظام اس کی جگہ سنبھالنے کے لئے دنیا کے سامنے نہ پیش کر دیا جائے۔ماہرین کہتے ہیں سرمایہ دارانہ نظام کے سرخیل امریکہ کی معیشت مسلسل تیس سال کی کساد بازاری برداشت کرنے کی سکت رکھتی ہے،مگریہ رائے آج کے حالات میں اتنی درست معلوم نہیں ہوتی۔اس نظام کی مثال اس وقت بالکل ایسی ہی ہے جیسے مٹھی سے بھر بھری اور خشک ریت کو پکڑنے کی کوشش کی جائے ابتدا میں ریت بہت آہستہ آہستہ نکلتی ہے مگر جیسےجیسے مٹھی خالی ہوتی جاتی ہے ریت کے نکلنے کی رفتار بھی تیز ترین ہوتی چلی جاتی ہے ۔</p>
<p style="text-align: center;">کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ<br />
دنیا ہے تیری منتظر روزِ مکافات
<div class="tweetmeme_button" style="float: right; margin-left: 10px;">
			<a href="http://api.tweetmeme.com/share?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Fcapitalism-zubair%2F"><br />
				<img src="http://api.tweetmeme.com/imagebutton.gif?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Fcapitalism-zubair%2F&amp;style=normal&amp;service=TinyURL.com" height="61" width="50" /><br />
			</a>
		</div>
<a class="google_buzz"  
href="http://www.google.com/reader/link?url=http://www.abushamil.com/capitalism-zubair/&title=گیا+دور+سرمایہ+داری+گیا&srcURL=http://www.abushamil.com" target="_blank" rel="nofollow"><img
src="http://www.abushamil.com/wp-content/plugins/google-buzz-button-for-wordpress/images/google-buzz.png" alt="Google Buzz" /></a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/capitalism-zubair/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
