ٹیگ: ’Shahnawaz Farooqui‘


جہان تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود‏

مصنوعی امن جنگ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے،کیونکہ وہ زیادہ بڑی جنگ کی جانب لے جاتا ہے،اگرامن کی بنیادیں مضبوط، پائیدار اور حقیقی نہ ہوں تو صرف پانچ دس سال کے لئے آپ کسی کو دبا لیں گے ، تسلط قائم کر لیں گے ، مگر مسئلہ پھر اٹھے گا اور ایک نئی آویزش اور کشمکش برپا گی ۔ شاہنواز فاروقی

( شاہنواز فاروقی کی یہ آزاد نظم گیارہ ستمبر سے کئی سال پہلے لکھی گئی تھی)

بغاوت ہو چکی ہے

گو میں اسباب بغاوت کو بیاں کرنے سے قاصر ہوں

مگر میں دیکھتا ہوں کوئی منظرآنکھ کو قائل نہیں کرتا

سماعت کا گڑھا نغموں سے پر ہو کر بھی خالی ہے

سواد روح میں جیسے بدن کے راز رقصاں ہیں

ادھر شہر بدن میں روح کے چرچے کا فیشن ہے

دلیلیں جس قدر تھیں عقل کے کوٹھے پہ جا بیٹھیں

تصو ف احمد جاوید کی چوکھٹ پہ بیٹھا ہے

بنی آدم کو وہ پانی فراہم ہے کہ جس میں پیاس شامل ہے

یہ پانی چشمہ مغرب سے آتا ہے

سنا یہ ہے کہ اب اس کے سوا چشمہ نہیں کوئی

یہ عالم آتش دل کا کہ اس پر چار کپ چائے بنانی ہو تو مشکل ہو

چلو اچھا ہوا تاریخ بھی انجام کو پہنچی

بغاوت ہو چکی ہے

گو میں آغاز بغاوت کو عیاں کرنے سے قاصر ہوں

کہ میں تو صرف شاعر ہوں

برادر زبیر انجم کی فرمائش پر “تہذیبوں کا تصادم” کے موضوع پر شاہنواز فاروقی کے ایک لیکچر کی وڈیو یہاں پیش کی جا رہی ہے: ابوشامل

Google Buzz

سیکولر ازم اور وقار

تحریر: شاہنواز فاروقی
مغرب کا معاملہ عجیب ہے۔ وہ سیکولر مسلمانوں سے کہتا ہے کہ تم مسلمان کیوں ہو اور وہ جو صرف مسلمان ہیں ان سے کہتا ہے کہ تم سیکولر کیوں نہیں ہوجاتے۔ اس کے باوجود مسلمانوں میں بہت سے ایسے عناصر ہیں جو مغرب اور اس کے سیکولر ازم کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ ایم کیو ایم اور اے این پی کے رہنماؤں نے چند روز پیشتر ہی کہا ہے کہ اگر پاکستان سیکولر ہوجائے تو دنیا میں اس کا وقار بلند ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی دفعہ 2A سے جس میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کو تسلیم کیا گیا ہے مذہبی جماعتیں اکثر فائدہ اٹھاتی ہیں تو کیا واقعتاً اگر ہم سیکولر ہوجائیں تو دنیا میں ہمارا وقار بلند ہوسکتا ہے؟ لیکن ہر دعویٰ اپنی شہادتیں طلب کرتا ہے۔ البتہ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ مارشل ٹیٹو کے سابق یوگوسلاویہ میں رہنے والے بوسنیا وہرزیگووینا کے مسلمان سرتاپا سیکولر تھے‘ اتنے سیکولر کہ انہوں نے اپنے مسلم ناموں تک کو چھوڑ دیا تھا۔ اس کے جواب میں عالمی برادری نے انہیں کتنا وقار فراہم کیا؟ یوگوسلاویہ ٹوٹا توبوسنیا ہرزیگوینا کی”سیکولر مسلمانوں” کے لیے آزادی کا امکان پیدا ہوا مگر امریکا اور پورے یورپ نے کہا کہ ارے یہ مسلمان سیکولر تھوڑی ہیں یہ تو صرف مسلمان ہیں چنانچہ انہوں نے سربوں اور کروشیائی باشندوں کو مسلمانوں پر چھوڑ دیا اور انہوں نے ساڑھے تین سال کی جنگ میں دو سے ڈھائی لاکھ بوسنیائی مسلمانوں کو قتل کر ڈالا۔ سربوں نے یہ کہہ کر مسلمانوں کو قتل کیا کہ تم نہیں تو کیا تمہارے آباواجداد تو مسلمان تھے۔ آپ کو معلوم ہے، بوسنیا میں ہونے والے اکثر حملوں کی سب سے بڑی اور تلخ حقیقت کیا تھی؟ یہ کہ ان میں سے اکثر حملے پڑوسیوں نے کیے۔ ان پڑوسیوں نے جو چالیس اور پچاس سال سے مسلمانوں کے پڑوسی تھے۔
سوال یہ ہے کہ اس تجربے سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ کیا یہ کہ سیکولر ازم نے مسلمانوں کا وقار عالمی برادری میں بہت بلند کردیا۔ یہ تو ایک قوم کی مثال ہوئی۔ دوسری مثال ایک رہنما یعنی یاسر عرفات کی ہے۔ یاسر عرفات بنیاد پرست نہیں تھے۔ وہ اپنی نہاد میں ایک قوم پرست اور سیکولر رہنما تھے مگر مغرب ان کو دہشت گرد کہتا تھا۔ اسرائیل ان کے خون کا پیاسا تھا۔ یاسر عرفات بالآخر مغرب اور اسرائیل کے ایجنڈے کے تحت وضع کیے گئے امن سمجھوتے پر بھی آمادہ ہوگئے۔ انہوں نے اس سمجھوتے پر دستخط بھی کردیے مگر اسرائیل نے اس عظیم سیکولر رہنما کے ساتھ طے پانے والے سمجھوتے کی ایک شق پر بھی عمل درآمد کرکے نہ دیا۔ اسرائیل نے یاسر عرفات کو بالآخر ان کے دفتر میں محصور کردیا اور تقریباً تین سال تک محصور رکھا۔ یاسر عرفات اس دفتر سے نکل کر فرانس پہنچے تو چند ہی روز میں ان کا نہایت پراسرار حالات میں انتقال ہوگیا۔ سوال یہ ہے کہ یاسر عرفات کا سیکولرازم ان کے اور خود ان کی قوم کے کتنا کام آیا؟
تیسری مثال ایک ملک یعنی ترکی کی ہے۔ پاکستان تو اسلامی جمہوریہ ہے مگر ترکی تو آئینی اعتبار سے سیکولر ہے اور دوچار سال سے نہیں 70سال سے سیکولر ہے مگر اس کے باوجود ترکی چالیس برس سے یورپی اتحاد کے دروازے پر کھڑا ہے اور کہہ رہا ہے کہ مجھے اندر آنے دو اور ترکی سے کہا جارہا ہے کہ تم تو مسلمان ہو۔ سوال یہ ہے کہ ترکی کے سیکولر حال اور سیکولر ماضی نے عالمی برادری میں ترکی کے وقار کو کتنا بلند کردیاہے اور ترکی کا سیکولر ازم اس کے کتنے کام آرہا ہے؟
خود پاکستان کی تاریخ سیکولر رہنماؤں کی تاریخ ہے۔ جنرل ایوب سیکولر تھے۔ جنرل یحییٰ سیکولر تھے۔ بھٹو سیکولر تھے۔ بے نظیر بھٹو سیکولر تھیں۔ سوال یہ ہے کہ ان رہنماؤں نے عالمی برادری میں پاکستان کے وقار کو کتنا بلند کیا ہے؟ اس کی کوئی ایک مثال، صرف ایک مثال؟ پچاس سال کے سیکولرازم کو اتنا غریب تو نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ایک مثال بھی پیش نہ کرسکے۔ اور یہ صرف پاکستان کا معاملہ نہیں۔ مسلم دنیا گزشتہ پچاس سال سے سیکولر دنیا ہی ہے۔ چنانچہ اس دنیا میں اگر غربت ہے تو اس کا ذمہ دار سیکولرازم اور اس کے علمبردار ہیں۔ اس دنیا میں اگر ناخواندگی ہے تو اس کے ذمہ دار بھی بنیاد پرست نہیں ہیں۔ اس دنیا میں اگر بدعنوانی ہے تو یہ بدعنوانی بھی ملاؤں نے نہیں کی ہے۔ اس دنیا میں اگر لاقانونیت ہے تو اس کے ذمہ دار بھی مذہبی عناصر نہیں ہیں اس لیے کہ گزشتہ پچاس برسوں میں کہیں بھی مذہبی عناصر اقتدار میں نہیں رہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو مسلمانوں کی ضرورت سیکولرازم نہیں مذہب ہے۔ مغرب کا لبرل ازم نہیں اسلام ہے۔ سیکولرازم مسلم دنیامیں گندا انڈا ثابت ہوچکا۔ اس سے کچھ برآمد ہونا ہوتا تو اس کے لیے پچاس سال بہت تھے مگر ہم نے دیکھ لیا کہ اس سے کچھ برآمد نہیں ہوا چنانچہ اب سیکولرازم کی حمایت مسلمانوں اور ان کے معاشروں سے بدترین زیادتی ہے۔
دنیا کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ اس تاریخ میں جہاں کہیں کسی نے عزت و توقیر حاصل کی ہے، اپنی انفرادیت پر اصرار کرکے کی۔ ہم نے اپنی جداگانہ شناخت پر اصرار کیا تو پاکستان بنا اگر ہم متحدہ قومیت کے قائل رہتے تو پاکستان وجود میں نہیں آسکتا تھا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کشش کا اصول “مختلف” ہوتا ہے یکساں ہونا نہیں۔ اول تو مسلمان سیکولر ہو ہی نہیں سکتے اور اگر ہو بھی جائیں تو صرف نقال بن کر رہ جانا ہی ان کا مقدر ہوگا۔ ظاہر ہے کہ ہماری تاریخ میں تو سیکولرازم کی کوئی مثال نہیں چنانچہ ہمیں یورپی تاریخ ہی کو سینے سے لگانا ہوگا۔ اور یہ نقالی کے سوا کیا ہوگا اور نقالوں کو اہلِ مغرب بندر کہتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ ہماری زبان میں یہ جو ایک لفظ ”بابو“ ہے، یہ کیا ہے؟ اس کا ایک چھوٹا سا پس منظر ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے لباس اور وضع قطع میں انگریزوں کی نقالی شروع کی تو انہوں نے نقالی کرنے والوں کو Baboon قرار دیا اور Baboon بندر کی ایک قسم ہے کثرتِ استعمال یا کسی اور وجہ سے رفتہ رفتہ اس لفظ سے صرف “N” غائب ہوگیا اور صرف ”بابو“ باقی رہ گیا۔ تو کیا کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ ایک ارب پچاس کروڑ مسلمان تاریخ میں صرف ”بابو“ بن کر رہ جائیں؟؟ کیا یہ کوئی بڑی عزت کی بات ہوگی؟؟۔

Google Buzz

اعجازِ سیرتِ طیبہ

حضورؐ کی سیرت ِطیبہ خیال نہیں ہے، فلسفہ نہیں ہے، تاریخ نہیں ہے، تشبیہ و استعارہ نہیں ہے، علامت نہیں ہے۔ وہ ٹھوس تجربہ ہے۔ لا زمانی تجربہ۔ ایسا تجربہ جو ہر زمانے کے ذہنی اور نفسیاتی سانچے کے لیے کفایت کرتا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے زمانے تک آتے آتے یہ صورت حال ہوگئی ہے کہ ہم یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہوتے جارہے ہیں کہ کوئی رشوت اور بے ایمانی کے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ بھلا کوئی شخص ایسی بات کیسے کہہ سکتا ہے جس میں اس کا ذاتی مفاد نہ ہو۔ جیسے جیسے وقت گزرے گا یہ معاملات سنگین ہوں گے۔ مغرب میں اگر مذہب کو تخیلاتی شے اور انسانی ذہن کے ارتقاء کی ابتدائی منزل سمجھا گیا تو اس کی یہی وجہ تھی کہ لوگ مذہبی تجربے کو سمجھنے سے یکسر قاصر ہوگئے۔ لیکن سیرت ِطیبہ کے “تجربے” میں وہ قوت ہے کہ وہ پندرہ سو برسوں کے دو سِروں کو باہم مربوط کرسکتا ہے۔ کمال کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ معمول بن جائے اور اس وجہ سے کمال محسوس نہ ہو۔ سیرت ِطیبہ کا ایک پہلو یہ ہے کہ آپ کے بارے میں ‘بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر’ کہا گیا ہے اور بالکل درست کہا گیا ہے، لیکن دوسری جانب آپ نے ایسی زندگی بسر کی جو عام انسانوں کے حوصلوں کو بھی عمل کے لیے مہمیز دیتی ہے، ان کے حوصلوں کو پست نہیں کرتی۔ (شاہنواز فاروقی)

Google Buzz