ٹیگ: ’Sickman of Asia‘


ایشیا کا مرد بیمار

محترم صدر آصف علی زرداری نے گزشتہ ہفتے فرانس کے معروف اخبار “لی فیگارو” کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے یہ کہا ہے کہ

پاکستان ایشیا کا مرد بیمار ہے، اس لیے یورپی ممالک اس کی مدد کریں

(انٹرویو فرانسیسی زبان میں ہے، گوگل ٹرانسلیٹ کی مدد سے اسے انگریزی میں ترجمہ کر کے پڑھا جا سکتا ہے)۔اس تاریخی بیان نے ان کے دیگر کارناموں کو ہر گز نہیں گہنایا، بلکہ ان کے سنہرے اقوال کی فہرست میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

یہ تاریخ میں پہلا موقع ہوگا جب کسی سربراہ نے اپنے ملک کے لیے “مردِ بیمار” کی اصطلاح استعمال کی۔ اس سے قبل موصوف بھارتی طیاروں کی خلاف ورزی کے باوجود اسے “تکنیکی غلطی” قرار دینے اور جماعت الدعوۃ جیسی جماعتوں پر بے محل پابندیاں لگانے کے اقدامات جیسی صریح غلطیاں کر چکے ہیں جس کی کسی سربراہ سے توقع نہیں کی جا سکتی۔

بہرحال اب آپ یہ انٹرویو ملاحظہ کیجئے اور ذیل میں “مرد بیمار” کی اصطلاح کا وہ تاریخی پس منظر بھی ملاحظہ کر لیجئے جس کے باعث ہم اس اصطلاح کے استعمال پر معترض ہیں۔

19 ویں صدی میں خلافت عثمانیہ تیزی سے زوال پذیر تھی لیکن اس کا وجود روس کی بڑھتی ہوئی قوت کے خلاف یورپ کی دیگر طاقتوں کے مفاد میں تھا۔ عظیم طاقتوں کا یہی مفاد اس کی بقا کا ضامن دکھائی دیتا تھا لیکن درحقیقت اس سے سلطنت اپنا اختیار، وجود اور حیثیت سب کھوتی جا رہی تھی۔ سلطنت اور روس کے درمیان مخاصمت کی ایک وجہ تو دونوں ملکوں میں مسلم اور عیسائی آبادی کا بڑی تعداد میں موجود ہونا تھا۔ روسی سلطنت بارہا سلطنت عثمانیہ میں عیسائی رعایا کی محافظ ہونے کا دعویٰ کرتی اور جن جنگوں میں اس کو فتوحات حاصل ہوئیں ان میں کیے گئے معاہدوں میں یہ شق ضرور شامل ہوتی کہ وہ سلطنت عثمانیہ کی عیسائی رعایا کی محافظ ہوگی۔ دوسری جانب روس اور سلطنت عثمانیہ کے سرحدی علاقوں میں مسلمانوں کی بڑی تعداد بھی رہتی تھی جو روس کے توسیع پسندانہ عزائم کے باعث ہر وقت ایک بڑے خطرے کا سامنے کیے ہوئے تھی۔ اس طرح دونوں سلطنتوں میں ہر وقت چپقلش چلتی رہتی اور بالآخر 19 ویں صدی میں دونوں ملکوں کے درمیان طویل جنگیں ہوئی جنہیں تاریخ میں روس-ترک جنگیں یا Russo-Turkish Wars کہا جاتا ہے۔ ان جنگوں کے نتیجے میں خلافت عثمانیہ کا زوال اور تیز ہو گیا اور روسی دیو تیزی سے مشرق و مغرب میں مختلف علاقوں کو نگلتا چلا گیا۔ یورپ کی بڑی طاقتیں برطانیہ اور فرانس روس کی اس تیز رفتار توسیع کو بہت بڑا خطرہ سمجھتی تھیں کیونکہ اس سے ایک جانب جہاں علاقے میں ان کے مفادات کو براہ راست ٹھیس پہنچ رہی تھی وہیں دوسری جانب ایشیا اور افریقہ میں ان کے مقبوضات کا رابطہ بھی منقطع ہو سکتا تھا اور اپنے مقبوضہ علاقوں کی راہ میں روس جیسی عظیم قوت حائل ہونے کا واضح مطلب یہی تھا کہ یورپی قوتیں اپنی سونے کی چڑیاؤں سے محروم ہو جائیں۔ یہی وہ وجہ تھی جس کے باعث برطانیہ اور فرانس نے روس کے مقابلے میں سلطنت عثمانیہ کی حمایت کی۔

سلطنت عثمانیہ اپنے محل وقوع کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل تھی اور مالی و دفاعی اعتبار سے کمزوری اسے روس کے مقابلے میں تر نوالہ بنا رہی تھی۔ “بدقسمتی” سے اسلام اور عیسائیت کے لیے مقدس ترین مقامات بھی اسی سلطنت میں (بیت المقدس میں) واقع تھے اور یوں عیسائی رعایا کے محافظ قرار دیے جانے کے معاملے پر فرانس اور روس میں چپقلش ایک اور جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔روس کے خلاف سسلطنت عثمانیہ، برطانیہ اور فرانس نے مل کر جنگ (جنگ کریمیا) میں حصہ لیا اور عالمی تجارتی آبی گزرگاہوں پر روسی اثر و رسوخ کے خاتمے میں کامیاب ہو گئیں۔

اس جنگ کے دوران روس کے زار نکولس اول نے ایک یادگار جملہ ادا کیا تھا جو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا اور آج تک بطور اصطلاح جملہ رائج ہے۔ انہوں نے برطانوی سفیر کے ایک مکتوب میں سلطنت عثمانیہ کے بارے میں یہ کہا:

عثمانی سلطنت ایک مردِ بیمار ہے، بہت زیادہ بیمار، ایک ایسا “مرد” جو ضعف وشکستگی کی حالت تک پہنچ چکا ہے

اس طرح “مردِ بیمار” کی یہ ایسی اصطلاح وجود میں آئی جو آج بھی ان ممالک کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو دفاعی و مالیاتی اعتبار سے عالمی قوتوں کے رحم و کرم پر ہوں۔ درحقیقت یہ ایک ایسا طعنہ تھا جو ایک ملک کے سربراہ نے اپنے دشمن ملک کے لیے استعمال کیا بلکہ اگر واضح الفاظ میں کہا جائے کہ جنگی تناؤ کے دوران حوصلہ پست کرنے کے لیے دشمن ملک کو گالی دی گئی۔

اب ڈیڑھ صدی کے بعد یہ کارنامہ ہمارے صدر نے انجام دیا ہے کہ اپنے ہی ملک کو اس گالی کا حقدار قرار دیا ہے۔

Google Buzz