ٹیگ: ’Turk-Israel relations‘


ترک وزیراعظم کا دلیرانہ اقدام

ترکی پہلا مسلم اکثریتی ملک ہے جس نے اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کیا اور گزشتہ 60 سالوں سے اسرائیل اور اس کے درمیان اقتصادی، عسکری و سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت میں ہر سال اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ترکی اسرائیل کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ 2007ء میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 3 ارب امریکی ڈالرز تک پہنچ گیا جبکہ 2008ء میں اس میں مزید اضافہ ہوا۔ دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارت کا معاہدہ بھی گزشتہ 9 سالوں سے قائم ہے۔ علاوہ ازیں عسکری سطح پر دونوں ممالک کے درمیان بحری جنگی مشقیں منعقد ہوتی رہتی ہیں۔ یعنی ہر لحاظ سے دونوں ممالک بہترین تعلقات میں بندھے ہیں لیکن تمام تر معاشی و عسکری رشتوں کے باوجود ترکی ماضی میں اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف جارحانہ کاروائیوں کی ہمیشہ کرتا آیا ہے اور 2004ء میں شیخ احمد یاسین کی شہادت کو دہشت پسند اقدام اور غزہ میں اسرائیلی پالیسی کو ریاستی دہشت گردی قرار دے چکا ہے۔

erdogan_peres

اردوگان اجلاس کے دوران اسرائیلی صدر کی تقریر کا جواب دے رہے ہیں (تصویر: AFP)

لیکن غزہ پر حالیہ اسرائیلی حملوں اور تقریباً ڈیڑھ ہزار انسانوں کے قتل عام نے پہلی بار دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح پر تعلقات میں سرد مہری دیکھنے میں آئی اور اس جارحیت کے خلاف عوامی سطح پر بھی زبردست احتجاج سامنے آیا۔ ترکی نے ایک سرکاری بیان میں اسرائیلی اقدامات کو “انسانیت کے خلاف جرائم” قرار دیا۔ دوسری جانب عوام نے ملک بھر میں زبردست مظاہرے کیے اور استنبول میں دو لاکھ افراد نے غزہ کے باشندوں سے اظہار یکجہتی کیا۔

گزشتہ روز (29 جنوری 2009ء بروز جمعرات) سویٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ترک وزیراعظم رجب طیب اردوگان نے اسرائیلی صدر شمعون پیریز کی تقریر پر سخت احتجاج کیا۔ جس پر اسرائیلی صدر نے زہریلا تبصرہ کرتے ہوئے کہا

ترکی کو اس وقت شور مچانا چاہیے جب میزائل استنبول پر گریں

اسرائیلی صدر کی تقریر کا جواب دینے کی کوشش کے دوران میزبان نے ترک وزیراعظم سے معذرت کی کہ ان کے پاس وقت نہیں ہے جس پر رجب طیب نے احتجاجاً اجلاس سے واک آؤٹ کیا اور اسرائیلی وزیراعظم کو کہا کہ “تم معصوم انسانوں کا قتل عام کر رہے ہو”۔ انہوں نے اسرائیلی صدر کی تقریر پر تالیاں بجانے والے شرکاء پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں بے گناہ اور نہتے لوگوں کے قتل عام پر تالیاں بجانے کا کوئی جواز نہیں۔ میزبان کی جانب سے بولنے کی اجازت نہ ملنے پر رجب طیب نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ اب میں کبھی ڈیووس اجلاس میں شرکت کروں گا۔ (واقعے کی مزید تفصیلات یہاں دیکھیے)

رجب طیب اردوگان اجلاس سے واک آؤٹ کر رہے ہیں

رجب طیب اردوگان اجلاس سے واک آؤٹ کر رہے ہیں (تصویر: روزنامہ ایکسپریس)

ترک عوام نے وزیراعظم کے اس دلیرانہ اقدام کو سراہا ہے اور وطن واپسی پر ان کا زبردست خیر مقدم کیا گیا۔ جمعہ کی صبح جب وہ وطن واپس پہنچے تو ایئرپورٹ پر 5 ہزار افراد ترک اور فلسطینی جھنڈے لیے ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔

Google Buzz