<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ابوشامل &#187; Usul-e-Jedid</title>
	<atom:link href="http://www.abushamil.com/tag/usul-e-jedid/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.abushamil.com</link>
	<description>مرے ہنگامۂ نو بہ نو کی انتہا کیا ہے</description>
	<lastBuildDate>Wed, 11 Aug 2010 04:31:19 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.1</generator>
		<item>
		<title>روس کا سر سید &#8211; اسماعیل گسپرالی</title>
		<link>http://www.abushamil.com/ismail-gaspirali/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/ismail-gaspirali/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 03 Aug 2009 09:30:01 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[Alam-e-Nisvan]]></category>
		<category><![CDATA[Conservatives]]></category>
		<category><![CDATA[Crimean History]]></category>
		<category><![CDATA[History of Russian Muslims]]></category>
		<category><![CDATA[Islamic publication]]></category>
		<category><![CDATA[Ismail Gaspirali]]></category>
		<category><![CDATA[Jadidism]]></category>
		<category><![CDATA[Liberalism in Islamic World]]></category>
		<category><![CDATA[Muslim Nationalism]]></category>
		<category><![CDATA[Muslims in Russia]]></category>
		<category><![CDATA[Secularism in Islamic World]]></category>
		<category><![CDATA[Shahabuddin Marjani]]></category>
		<category><![CDATA[Şihabetdin_Märcani]]></category>
		<category><![CDATA[Tarjuman]]></category>
		<category><![CDATA[Tercuman]]></category>
		<category><![CDATA[Turanism]]></category>
		<category><![CDATA[Usool-e-Jadid]]></category>
		<category><![CDATA[Usul-e-Jedid]]></category>
		<category><![CDATA[اسلامی جرائد]]></category>
		<category><![CDATA[اسلامی دنیا میں آزاد خیالی]]></category>
		<category><![CDATA[اسلامی دنیا میں لا دینیت]]></category>
		<category><![CDATA[اسماعیل گسپرالی]]></category>
		<category><![CDATA[اصول جدید]]></category>
		<category><![CDATA[ترجمان]]></category>
		<category><![CDATA[توران ازم]]></category>
		<category><![CDATA[تورانیت]]></category>
		<category><![CDATA[جدیدیت]]></category>
		<category><![CDATA[روسی مسلمان]]></category>
		<category><![CDATA[روسی مسلمانوں کی تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[شہاب الدین مرجانی]]></category>
		<category><![CDATA[عالم نسواں]]></category>
		<category><![CDATA[قدامت پسند]]></category>
		<category><![CDATA[کریمیا کی تاریخ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.abushamil.com/?p=731</guid>
		<description><![CDATA[غیر مسلموں کے ہاتھوں پے در پے شکست اور بالآخر غلامی کی زنجیروں میں جکڑ جانے نے مسلم علماء کو زوال کی وجوہات پر غور کرنے پر آمادہ کیا اور اس غور و فکر نے 1880ء کی دہائی میں روس کے کریمیا اور ایدل-اورال (Volga-Ural) خطوں میں &#8216;جدیدیت&#8217; کی تحریک کو جنم دیا۔ جدیدیت کی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>غیر مسلموں کے ہاتھوں پے در پے شکست اور بالآخر غلامی کی زنجیروں میں جکڑ جانے نے مسلم علماء کو زوال کی وجوہات پر غور کرنے پر آمادہ کیا اور اس غور و فکر نے 1880ء کی دہائی میں روس کے کریمیا اور ایدل-اورال (Volga-Ural) خطوں میں &#8216;جدیدیت&#8217; کی تحریک کو جنم دیا۔ جدیدیت کی اس تحریک کا بنیادی مقصد 11 ویں صدی سے بند اجتہاد کا دروازہ کھول کر مسلمانوں پر مغرب کی بالادستی کا خاتمہ کرنا تھا اور جدیدیوں کی نظر میں یہ اسی وقت ممکن تھا کہ مسلمان جدید سائنس اور زبانوں کا مطالعہ کریں اور ان میں نیا نظامِ تعلیم متعارف کروایا جائے۔</p>
<p>یہ روسی مسلمانوں کی بیداری کے ایک نئے دور کا آغاز تھا۔ اس عرصے میں وہاں کئی ایسے رہنما پیدا ہوئے جنہوں نے تجدید واصلاح کا کام کیا۔ ان رہنماؤں میں  <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/%C5%9Eihabetdin_M%C3%A4rcani">شہاب الدین مرجانی</a> (1815ء تا 1889ء)، <a href="http://www.encyclopaediaislamica.com/madkhal2.php?sid=4530">عبد القیوم ناصری</a> (1824ء تا 1902ء) اور  <a href="http://www.encyclopaediaislamica.com/madkhal2.php?sid=4530">حسین فیض خانی</a> (1826ء تا 1866ء) شامل تھے لیکن جس رہنما نے سب سے زیادہ مقبولیت حاصل کی وہ کریمیا کے تاتاری النسل اسماعیل گسپرالی (1851ء تا 1914ء) تھے۔ وہ جمال الدین افغانی (1839ء تا 1897ء) کے افکار سے بہت متاثر تھے۔ اسماعیل گسپرالی جدیدیت کے سلسلے کی آخری کڑی اور بلاشبہ اپنی اصلاحات اور کارناموں کے باعث اپنے تمام اکابرین سے ممتاز ہیں۔ انہیں ہم روس کا &#8220;سر سید&#8221; کہہ سکتے ہیں البتہ کریمیائی باشندے انہیں &#8220;کریمیا کا اتاترک&#8221; کہتے ہیں۔</p>
<p style="text-align: center;"><a href="http://img16.imageshack.us/img16/7228/ismailbeygaspiraliinpar.jpg"><img class="aligncenter" style="border: 1px solid black;" src="http://img16.imageshack.us/img16/7228/ismailbeygaspiraliinpar.jpg" alt="" width="327" height="490" /></a></p>
<p>اسماعیل گسپرالی نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ذرائع ابلاغ اور مدارس کا استعمال کیا۔ آپ نے اُس وقت کے حالات کے پیش نظر روس نواز موقف ضرور اختیار کیا لیکن وہ سلطنت روس کے اسلامی علاقوں کو روسیانے کی پالیسی کے سخت مخالف تھے۔ دراصل وہ اسلامیت، جدیدیت اور تورانیت کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے تھے اور ان کا عقیدہ تھا کہ اسلام ترکوں اور تاتاریوں کے قومی کلچر کا لازمی جزو ہے۔ وہ اپنے زمانے کی متعدد تحریکوں سے متاثر تھے۔ دوران قیامِ پیرس میں انہیں لبرل ازم نے متاثر کیا، استنبول میں نوجوانان ترک کی توران ازم کی تحریک اور جمال الدین افغان کی پین اسلامزم کی تحریک نے بھی نے بھی ان پر اثرات مرتب کیے۔ یہ سب اثرات ان کی سیاسی، سماجی اور تعلیمی سرگرمیوں میں پوری طرح کار فرما رہے۔ بیک وقت اسلامی و ترکی اتحاد کے علمبردار، عربی کو اہمیت دینے والے، بعض مغربی اصلاحات کو اپنانے کے خواہشمند بھی۔ [حوالہ: روس میں مسلمان قومیں، از آباد شاہ پوری، اسلامک پبلیکیشنز، لاہور، اشاعت نومبر 1976ء]</p>
<p style="text-align: center;"><a href="http://img299.imageshack.us/img299/4035/tercumanbygaspraly.jpg"><img class="aligncenter" style="border: 1px solid black;" src="http://img299.imageshack.us/img299/4035/tercumanbygaspraly.jpg" alt="" width="505" height="169" /></a></p>
<p>اسی مقصد کے حصول کے لیے اسماعیل گسپرالی نے 1883ء میں ہفت روزہ اخبار &#8220;ترجمان&#8221; جاری کیا جو کریمیا کے شہر بخشی سرائے سے جاری ہوتا تھا اور کچھ ہی عرصے میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گیا اور کاشغر سے لے کر کریمیا بلکہ قسطنطنیہ تک میں ذوق و شوق سے پڑھا جاتا تھا۔ انہوں نے &#8220;ترجمان&#8221; کے ذریعے ایک ایسی ترکی زبان کو فروغ دینے کی کوشش کی جو روس کے ترکی النسل مسلمانوں کی چھوٹی چھوٹی بولیوں کی جگہ سب مسلمانوں کی ایک مشترکہ زبان بنے۔ ترکی زبان کے اِس اخبار کے ذریعہ قازان اور کریمیا کے ترک کاشغر کے ترکوں سے مربوط و منسلک ہو گئے۔ &#8220;ترجمان&#8221; کے ذریعے ترکوں کی مختلف چھوٹی موٹی زبانوں کو ایک عام فہم زبان پر اکٹھا کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ واضح رہے کہ اُس وقت ترکی زبان عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی۔</p>
<p style="text-align: center;"><a href="http://img171.imageshack.us/img171/7765/nisvan.gif"><img class="aligncenter" style="border: 1px solid black;" src="http://img171.imageshack.us/img171/7765/nisvan.gif" alt="" width="454" height="248" /></a></p>
<p>علاوہ ازیں مسلمانوں عورتوں کے لیے بھی ایک اخبار نکالا گیا جو &#8220;عالم نسواں&#8221; کہلاتا تھا۔ اس اخبار کی مدیرہ اسماعیل گسپرالی کی صاحبزادی شفیقہ تھیں۔ آپ 1907ء میں روسی مسلمانوں کی قائم کی گئی جماعت &#8220;اتفاق المسلمین&#8221; کے بانیوں میں سے ایک تھے۔</p>
<p>اسماعیل گسپرالی اور ان کے پیروکاروں نے مسلمانوں کو ذلت کی گہرائیوں سے نکالنے کے لیے مدارس کا جال پھیلایا اور اس سلسلے کا پہلا مدرسہ 1884ء میں کریمیا کے شہر بخشی سرائے میں کھولا گیا۔ یہ مدارس &#8220;اصول جدید&#8221; کہلاتے تھے۔ ان مدارس نے مسجدوں کے روایتی مدارس اور روسیوں کے پھیلائے گئے مدارس کا بھرپور مقابلہ کیا۔ ابتدائی سطح پر، جسے مکتب کا نام دیا گیا تھا، ان جدید مدارس میں عربی زبان پڑھانے کا ایک صوتی طریقہ متعارف کروایا گیا جبکہ روسی اور جدید یورپی زبانیں اعلیٰ سطح پر پڑھائی جاتیں۔ ان مدارس کے نصاب میں ریاضی اور جغرافیہ اور تاتاری تاریخ بھی شامل تھی۔ 20 ویں صدی کی اولین دہائیوں میں یہ جدید مدارس بڑے پیمانے پر پھیلے اور 1916ء تک پوری سلطنت میں ان اصلاحی مدارس کی تعداد 5 ہزار تھی جن میں سے بیشتر کریمیا اور وولگا-اورال خطے میں واقع تھے۔ ان مدارس نے روس کے مسلمانوں میں جدیدیت کے فروغ میں وہی کردار کیا جو ہندوستان میں علیگڑھ کی مسلم جامعہ نے کیا۔</p>
<p>اسماعیل گسپرالی کیونکہ اسلامی اتحاد کے علمبردار بھی تھے چنانچہ ان کی کوششوں سے 1908ء میں قاہرہ میں ایک کل اسلامی کانگریس ہوئی تھی جو غالباً مسلمانوں کی پہلی عالمی کانگریس تھی۔<br />
آپ 8 مارچ 1851ء کو کریمیا کے قصبے گسپرا میں پیدا ہوئے تھے اور اسی لیے گسپرالی کہلائے (یعنی گسپرا والے)۔ 1914ء میں عظیم دانشور، ماہر تعلیم، ناشر اور سیاست دان اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔</p>
<p>گسپرالی کی جدیدیت کی  تحریک دو وجوہات کی بنیاد پر بری طرح ناکام ہوئی۔ ایک تو اصول جدید مدارس سے وہ نتائج حاصل نہ ہو پائے جو مسلمانوں کو درکار تھے۔ بعد ازاں روسی مسلمانوں  میں جتنے  بھی قوم پرست، تورانیت کے علمبردار حتیٰ کہ اشتراکی و مارکسی نظریات کے حامل افراد بھی سامنے آئیں وہ تمام انہی مدارس سے نکلے ہوئے تھے۔ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے یا خالص لا دین عناصر بھی &#8220;اصول جدید&#8221; ہی کے فیض یافتہ تھے۔ اس طرح شہاب الدین مرجانی کی شروع کی گئی تحریک اسلامی تہذیب و ثقافت کے فروغ اور اسلام کو ایک موثر قوت کے طور پر ابھارنے کے بجائے تباہ کن نتائج سے دوچار ہوئی۔ [حوالہ: روس میں مسلمان قومیں، از آباد شاہ پوری، اسلامک پبلیکیشنز، لاہور، اشاعت نومبر 1976ء]</p>
<p>دوسری وجہ انقلاب روس کے بعد <a href="http://www.abushamil.com/tajik-language-persian-script/">عربی رسم الخط کی جگہ سیریلک  رسم الخط کا اجراء</a> اور <a href="http://www.abushamil.com/muslim-holocaust/">کریمیا کے مسلمانوں کی وسط ایشیا کی جانب جبری ہجرت</a> تھا۔ اس طرح مسلمانوں کو جدت کی راہوں پر گامزن کرنے کے اس پورے عمل کو تہہ و بالا کر دیا گیا جو روسی مسلمانوں کی زندگیاں بدلنے کی صلاحیت رکھتا تھا اور اسماعیل گسپرالی کا خواب پورا نہ ہو سکا۔
<div class="tweetmeme_button" style="float: right; margin-left: 10px;">
			<a href="http://api.tweetmeme.com/share?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Fismail-gaspirali%2F"><br />
				<img src="http://api.tweetmeme.com/imagebutton.gif?url=http%3A%2F%2Fwww.abushamil.com%2Fismail-gaspirali%2F&amp;style=normal&amp;service=TinyURL.com" height="61" width="50" /><br />
			</a>
		</div>
<a class="google_buzz"  
href="http://www.google.com/reader/link?url=http://www.abushamil.com/ismail-gaspirali/&title=روس+کا+سر+سید+&#8211;+اسماعیل+گسپرالی&srcURL=http://www.abushamil.com" target="_blank" rel="nofollow"><img
src="http://www.abushamil.com/wp-content/plugins/google-buzz-button-for-wordpress/images/google-buzz.png" alt="Google Buzz" /></a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/ismail-gaspirali/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>8</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
