اور اپنے مسلموں کی مسلم آزاری بھی دیکھ

تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف نے یکم ستمبر کو دارالحکومت دوشنبہ میں تاجک اسٹیٹ نیشنل یونیورسٹی میں طلباء و طالبات سے ایک غیر معمولی خطاب کیا ۔۔ ان کی یہ تقریر سرکاری ٹی وی پر بھی براہ راست نشر کی گئی تھی ۔۔ مگر عالمی سطح پر اسلام اور امت مسلمہ کا کوئی نمائندہ نہ ہونے کی وجہ سے اسلامی شعائر سے اظہار نفرت پر مبنی الفاظ فضاء میں گونجے اور تحلیل ہوگئے اور کسی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ۔۔ امام علی رحمانوف نے تاجک عوام کے لباس میں بڑھتی ہوئی اسلامی جھلک پر کچھ یوں اظہار تشویش کیا:

میں جب بھی دارالحکومت کی گلیوں اور شاہراہوں سے گزرتا ہوں مجھے پہلے سے زیادہ لڑکیاں اور خواتین مذہبی لباس میں نظر آتی ہیں ، جو کہ ”دوسرے ملکوں” کے لباس جیسا ہوتا ہے ۔۔ آپ لوگوں کو اپنے اس وطن کا شکر گزار ہونا چاہیئے جو ایک شاندار تاریخ اور ثقافت کا حامل ہے ۔۔ اور اگر آپ لوگوں کو کسی اور ملک کا لباس زیادہ پسند ہے تو میں آپ کو وہیں بھیج دوں گا

امام علی رحمانوف کی”دوسرے ملکوں”کے لباس سے مراد تاجکستان کی خواتین میں اسکارف اور برقعے پہننے کا بڑھتا ہوا رجحان ہے ۔۔ جبکہ”شاندار تاریخ و ثقافت”سے مراد سویت یونین کے تسلط کا دور ہے ۔۔ خطاب کرتے ہوئے امام علی رحمانوف کو یہ بھی یاد نہیں رہا کہ اس وقت وہ جو لباس (پتلون کوٹ ٹائی) پہن کر تقریر کر رہے ہیں در اصل وہ کسی اور ملک کا ہے ۔۔ تاجکستان جس خطے میں واقعے ہے اسے ماوراءالنہر کہا جاتا تھا کئی صدیوں تک اس کے تہذیبی مراکز ثمر قند و بخارا تھے جہاں کا لباس کرتے جبہ عبا اور عمامہ ہی تھے ۔۔ اور خواتیب بھی اسلامی شعائر کے مطابق پردہ کیا کرتی تھیں ۔۔ مگر اشتراکیت کے تہتر سالہ تسلط کو”شاندار تاریخ و ثقافت”قرار دینے والے تاجکستان کے صدر کو یہ بھی نہ یاد رہا کہ اس خطے کی اصل ڈیموگرافی اور ثقافت کیا تھی ۔۔ بہتر ہوتا کہ وہ اپنی یہ الفاظ ادا کرنے کے بجائے خود اس ملک میں جانے کا اعلان کر دیتے جس کا لباس انہوں نے زیب تک کر رکھا تھا ۔۔ کیوں کہ پتلون کوٹ اور ٹائی کا ماوراءالنہر کی تاریخ و ثقافت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔۔ علامہ اقبال نے اپنی نظم”غرہ شوال”میں ایسے ہی کچھہ رہنماؤں ( مصطفی کمال ، رضا شاہ) کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا تھا ۔۔

اوج گردوں سے ذرا دنیا کی بستی دیکھ لے
اپنی رفعت سے ہمارے گھر کی پستی دیکھ لے !

قافلے دیکھ اور ان کی برق رفتاری بھی دیکھ
رہر و درماندہ کی منزل سے بیزاری بھی دیکھ

دیکھ کر تجھ کو افق پر ہم لٹاتے تھے گہر
اے تہی ساغر! ہماری آج ناداری بھی دیکھ

فرقہ آرائی کی زنجیروں میں ہیں مسلم اسیر
اپنی آزادی بھی دیکھ ، ان کی گرفتاری بھی دیکھ

دیکھ مسجد میں شکست رشتۂ تسبیح شیخ
بت کدے میں برہمن کی پختہ زناری بھی دیکھ

کافروں کی مسلم آئینی کا بھی نظارہ کر
اور اپنے مسلموں کی مسلم آزاری بھی دیکھ

بارش سنگ حوادث کا تماشائی بھی ہو
امت مرحوم کی آئینہ دیواری بھی دیکھ

ہاں ، تملق پیشگی دیکھ آبرو والوں کی تو
اور جو بے آبرو تھے ، ان کی خود داری بھی دیکھ

جس کو ہم نے آشنا لطف تکلم سے کیا
اس حریف بے زباں کی گرم گفتاری بھی دیکھ

ساز عشرت کی صدا مغرب کے ایوانوں میں سن
اور ایراں میں ذرا ماتم کی تیاری بھی دیکھ

چاک کر دی ترک ناداں نے خلافت کی قبا
سادگی مسلم کی دیکھ ، اوروں کی عیاری بھی دیکھ

صورت آئینہ سب کچھ دیکھ اور خاموش رہ
شورش امروز میں محو سرود دوش رہ

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

31 تبصرے

  1. خاک کردی ترک ناداں نے خلافت کی قبا
    سادگی اپنی بھی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ

  2. خاموشی، بے حسی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  3. اگر وہاں کچھ موجود بھی ہوتے تو وہی کچھ کرتے جو اپنے ممالک ميں کر رہے ہيں

  4. ان حجاب اور داڑھیوں کے اندر یعنی گلوں میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصاویر بھی دیکھی ہیں۔
    اچھے مسلمان بھی ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں لیکن ستر سال کے کیمونسٹ نظام نے بہت کچھ بدل دیا ھے۔
    رشیا عموما جانا ہو تا ھے۔ ان حجاب اور مسلمانی لباس کو بہت قریب سے دیکھا اور دیکھتے رہتے ہیں۔
    آ پ کی پوسٹ پر کوئی اعتراض نہیں ھے۔ نہ ہی دل آزاری مقصود ھے۔بس کچھ یاد آگیا اور یہ تبصرہ کر دیا۔

  5. فیصل says:

    زیادہ دل گرفتہ نہ ہوں، مسلم دنیا میں مذہب بیزار حکمران کوئی نئی بات نہیں. اچھی بات یہ ہے کہ لوگ انکی زیادہ سنتے نہیں، خصوصا مذہب کے معاملےمیں تو بالکل نہیں کہ انکی بات میں گہرائی نہیں ہوتی. ہاں ایسے حکمراں بلکہ لیڈر ضرور مسئلہ ہیں جنھیں لوگ رول ماڈل سمجھیں، دینی و دنیاوی معاملات دونوں میں انکی مانیں. مثلا اتا ترک نے نوجوانوں کو خاص طور متاثر کیا جسکا اثر ابھی تک ہے گو انشااللہ تبدیلی وہاں بھی جلد آئے گی بلکہ بہت حد تک تو آ بھی گئی ہے. باقی ابو جہل اور ابو سفیان بھی تو بڑے لیڈر تھے، آج کہاں ہیں؟

  6. شازل says:

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان ملکوں میں جو حکمران ہوتے ہیں وہ امریکی پٹھو ہوتے ہیں، مصر کے حسنی مبارک اور پرویز مشرف سابق صدر اس کی "روشن" مثال ہیں. اب ان سے ہم اور کیا توقع کرسکتے ہیں.

  7. ابو شامل، خدا آپ پہ اپنی رحمتیں نازل کرے. میں آپ سے ذاتی طور پہ مل چکی ہوں. اور آپ سے 'بیر' رکھنے کے باوجود آپ کو بہت ساری تعریفوں کا مستحق سمجھتی ہوں. لیکن یہ بتائیے کہ اس دن جب میں آپ سے ملی تو آپ پینٹ اور کوٹ میں ملبوس تھے آپ کو صدر صاحب کے اس لباس پہ کیوں اعتراض ہے؟ میرا خیال ہے کہ اسلام کی ظاہری علامتوں کی تبلیغ پہ وقت ضائع کرنے کے بجائے اسکی روح اور مذہب کی بنیاد کی تبلیغ کرنی چاہئیے. اس طرح کی ظاہری علامتیں اختیار کرنے سے لوگ اگر خدا کے زیادہ قریب ہوتے تو جو افراتفری آج اس ملک میں ہمیں نظر آتی ہے وہ نہ ہوتی. آج میرے بچپن کے مقابلے میں زیادہ خواتین اسکارف اور برقعے پہنتی ہیں، زیادہ افراد عمامے اور کرتے زیب تن کرتے ہیں، زیادہ افراد داڑھی رکھتے اور داڑھی رکھتے ہیں، ہر طرف حفظ کرنے والے اداروں کا جال بچھا ہوا ہے. رمضان میں بازار میں ہر جگہ تلاوت قرآن پاک اور نعتوں کی گونج ہوتی ہے. زیادہ لوگ خدا حافظ کی جگہ اللہ حافظ اور جزاک اللہ کہتے ہیں. لیکن میرے گھر کے دروازے اس وقت رات کے علاوہ سارا دن بند نہیں ہوتے تھے. عورتوں کو سر بازار کوئ یہ نہیں کہتا تھا کہ سر سے دوپٹہ اوڑھو. میرے مھلے میں پنجابی خواتین لاچے پہن کر پوری گلی میں گھومتی پھرتی رہتیں. سندھی خواتین اپنا مخصوص لباس پہنتیں، کوئ چادر تک نہ اوڑھتی تھیں، مھلے کی خواتین مل جل کر سینما ہائوس چلی جاتیں. کچھ مسئلہ نہ ہوتا تھا. آج اس ساری ظاہریت کے بڑھ جانے کے بعد خواتین زیادہ عدم تھفظ کا شکار ہیں.
    زیادہ لوگ ایکدوسرے کو دین کے مسئلے پہ قتل کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں. زیادہ فقہاتی مساجد وجود میں آچکی ہیں. ابحی کچھ عرصے پہلے میں ایک روڈ سے گذر رہی تھی تو آگے روڈ بلاک تھا. بانس کے ڈنڈوں سے ایک چہار دیواری روڈ کے درمیان بنی ہوئ تھی اور سات لوگ نماز ادا کر رہے تھے.دو مہینے بعد میں پھر وہاں سے گذری اسی طرح چھ لوگ ایک طرف کا روڈ بند کر کے نماز کی ادائیگی کر رہے تھے جبکہ محض چھ گز کے فاصلے پہ مسجد موجود تھی. اور یہاں ہر گاڑی چلانے والے کو دوسرے روڈ پہ گاڑی موڑ کر رونگ سائیڈ جانا پڑ رہا تھا.
    میرے عزیز، کیا ڈیڑھ ہزار برس پہلے لباس کی یہ ہما ہمی موجود تھی. کیا اسکارف اور برقعوں کے یہ دلپذیر ڈیزائن اور مردوں کے کرتوں کے خوبصورت ڈیزائین اور رنگ اور اسٹائیل موجود تھے. میرا خیال ہے کہ اوریا جان کا جو کالم فرحان دانش نے کوٹ کیا ہے اس پہ بھی ایک نظر ضرور ڈالنا چاہئیے. تبدیلی لباس میں آئے گی لیکن کیا کبھی آپ آسمانوں کی رفعتوں پہ بھی اپنی قوم کو پہنچانے کے لئے سر گرم ہونگے. کیا انکے خیالات میں وہ انقلاب بھی لائیں گے کہ وہ اپنی صلاھیتوں کوانسانی حیثیت میں بھی استعمال کرنا سیکھیں. کم از کم ایک افراتفری سے نکل کر ترتیب اور تنظیم ہی سیکھ لیں. اور نہیں تو مجھ سے اس روڈ کا پتہ لے کر ان لوگوں کو صرف یہ سمجھا دیں کہ روڈز پہ آپکے اس نیک عمل سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے. اس کام کے لئے دین نے مسجد کا مقام رکھا ہے.

    • زبیر انجم صدیقی says:

      تاجک صدر کا کہنا تھا کہ میں عوام کو ان ملکوں میں بھیج دوں گا جہاں کا وہ لباس پہنتے ہیں ۔۔ ۔۔ تحریر میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ کیوں نہ وہ خود بھی انہی ملکوں میں چلے جائیں جس کا لباس انہوں نے پہن رکھا تھا ۔۔ دم تقریر

  8. @ عنیقہ آپا : آپ ایک بات پھر کہیں کی بات کو کہیں لے جارہی ہیں۔ میرا نہیں خیال ہے کہ فہد نے یہ کہا ہو کہ آپ تمام خواتین حجاب شروع کردیں اور تمام مرد ڈاڑھی اور پجامے پر آجائیں۔
    بلکہ بات یہ ہورہی ہے کہ کم از کم اپنے لباس اور اپنی شناخت سے بیزاری اور شرمندگی نہیں ہونی چاہئے اور اگر مسلم شناخت پر سخت گیر اسرار قابل گرفت ہے تو اسکا مزاخ اڑانا اور اسے اختیار کرنے پر ملک سے نکالنے کی دھمکی دینا بھی قابل مذمت ہے۔
    میرا خیال ہے کہ آپ کسی متصب رویے سے نکل کر تاجک صدر کے بیان کو تین چار دفعہ اور پڑھیں اور پھر کوئی نیا تبصرہ کریں۔

  9. @ فیصل : حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوگئے تھے اور اسکے بعد وہ آپ صلی اللہ و علیہ وسلم کے برگزیدہ اصحاب میں شامل ہوئے اس لئے انکا ادب ہم پر لازم ہے اور کسی صحابی رسول کی ماضی کی غلطیوں کی وجہ سے انہیں برا بھلا کہنا بدنصیبی ہے۔

  10. اغیار کی فکر چھوڑیئے
    اپنوں پر نگاہ برسایئے
    اللہ نہ کرے جیساآئے دن اخبارات میںشائع ہوتا ہے امریکہ ہماری بجلی مہنگی کروارہا ہے
    دیگر ڈرون حملوں میں ہم حمایتی بنے رہتے ہیں
    پیٹرول ہو یا اور کوئی بھی شئے قرضدار ہیں اور مزید قرضہ چاہتے ہیں
    تو جلد ہی اس دہشت گردی کے حوالے سے یہی بات ہمارے حکمران کہہ رہے ہوں گے
    کچھ بعید نہیں

    ہماری عوام اپنے کلچر کو نہیں چھوڑنا چاہتے پر کون سا کلچر
    اسلامی کلچر تو ہم تقریبا چھوڑ ہی چکے ہیں کوئی اپنا لے تو وہ شدت پسند کہلاتا ہے

    رہ گیا بس انڈین کلچر
    نوجوانوں کی بات کی جائے گی فل الحال کیوں کہ یہی کافی متاثر ہیں
    مردوں میں عورتوں کی خصوصیات پائی جانے لگی ہیں
    بالی کڑے لامبے بال ہاتھ ہلا ہلا کر بات کرنا کمر لچکانا اور باقی سب جو میں بھول چکا ہوں یہاں وہ آپ پاکستانی ٹی وی ڈراموں میں دیکھ سکتے ہیں
    ایم ٹی وی آگ ٹی وی اور وقار کے واہیات پن میں دیکھ سکتے ہیں
    جس کو ٹیلنٹ کا نام دیا جا رہا ہے

    خواتین کی بات کروں کہ نا کروں کیوں کہ سب ہی جانتے ہیں کیا کچھ ہو رہا ہے
    میڈیا سے جو کچھ ہم حاصل کر رہے ہیں وہ صرف ہمارا برین واش کرنے کے لئے ہی ہے
    ہمارے بچے وقت سے پہلے سب جاننے لگے ہیں اور ایک ٹی وی پر ایک پروگرام میں عوام کو کہتے سنا
    ہم خوش ہیں کہ ہمارے بچے وقت سے پہلے سب سیکھ رہے ہیں
    جانے یہ سیکھ کہاں لے جائے گی اللہ رحم کرے

    بات ابھی لباس کی ہو رہی ہے خواتین میں مجھے بس ایک ہی شکایت ہے وہ چادر لیں یا نا لیں
    بارئے مہربانی جو خواتین ساڑھی نہ لین اور اگر وہ اس کو اسلامی کلچر کے مطابق اوڑھیں تو میری یہ شکایت بھی دور ہو جائے گی

    ٹی وی ڈراموں میں جو ساڑھی لی جاتی ہے ویسے نہیں اکثر دل کرتا ہے محفل ہی میں شروع ہو جاؤں سنانا پر محفل میں جس کی خوشی ہے وہ خراب نہ ہو جائے یہ سوچ کر دل کڑھتا ہے

    کیا تعلیم ہمیں بے پردگی سکھا رہی ہے؟
    پردے کو دقیانوسیت کا نام کب سے دیا جانے لگا ہے؟
    نگاہ کا پردہ ہی اصل پردہ ہے تو قرآن میں جسم کا پردہ ضروری کیوں؟
    اکثر ماسیاں ہی پردہ کرتی ہیں اور جاپ پیشہ تعلیم یافتہ اور دولت مند طبقہ اس کو بوجھ کا گرمی کا نام کیوں دیتا ہے کیا ماسیوں کو گرمی نہیں لگتی؟
    ہمارے پاس پردے نہ کرنے کے ایسے دلائل کہاں سے آتے ہیں؟
    کیا شیطان ہم میں بس گیا ہے یا ہم ہی اصل شیطان ہیں؟

  11. ہم شیطان میں بس گئے ہیں.

  12. فیصل says:

    فراست، کاشف نصیر بھائی
    میری مراد ابو سفیان کے زمانہ جاہلیت کی سرداری اور شان و شوکت سے تھی. وہ یقیناً مسلمان ہو گئے تھے اور مجھے انکی مثال نہیں دینی چاہیے تھی اور اگر دی تو وضاحت کرنا چاہیے تھی. اللہ تعالیٰ میری خطا معاف کرے، ابو شامل سے گزارش ہے کہ وہ میرا تبصرہ ایڈٹ کر دیں. جزاک اللہ.

  13. عبداللہ says:

    آپکے والد کے انتقال کا سن کر دکھ ہوا اللہ تعالی ان کی بخشش و مغفرت فرمائے،جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور آپ سب کو صبر جمیل عطافرمائے آمین

  14. انا للہ وانا الیہ راجعون
    خدا آپ کے والد صاحب کے گناہ معاف فرمائے اور آپ لولوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

  15. لولوں کو لوگوں پڑھا جائے، پلیز اسے درست کر دیجیے گا۔

  16. فہد آپ کے والد کی وفات کی خبر سن کر بہت افسوس ہوا. ایک برس قبل میرے والد کا بھی انتقال ہوگیا تھا اس لئے میں آپ کے دکھ کو سمجھ سکتا ہوں. ابو سعد سے نماز جنازہ سے متعلق معلومات مل گئی تھیں لیکن میں شمالی کراچی میں آباد ہوں اور آپ ملیر میں، اس دوری کی وجہ سے شرکت کرنے سے قاصر رہا.
    اللہ سے دعا ہے کہ وہ آپکو ہمت دے اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا کرے. اللہ سے یہ بھی دعا ہے کہ وہ بلخصوص آپ کے والد اور بلعموم تمام مسلم و مسلمات کی مغرت فرمائے.

  17. فیصل : بہت شکریہ

  18. زبیر انجم صدیقی says:

    اولائک ہم الغفلون
    روز و شب کے میلے میں ۔ ۔ ۔ غفلتوں کے مارے ہم ۔ ۔ ۔ بس یہی سمجھتے ہیں ۔ ۔ ۔ ہم نے جس کو دفنایا ۔ ۔ ۔ بس اسی کو مرنا تھا ۔

  19. بھائی صاحب کیا حال ہیں۔ کیا آپ نے آفس جوائن کرلیا۔

  20. آپ کی بات بجا ہے لیکن کیا ایسا نہیں ہے کہ ہم بڑی باتوں کے چکر میں چھوٹی چھوٹی باتیں بھول جاتے ہیں. مثلآ ہمیں امریکا سے تو نفرت گھٹی میں ملی ہے لیکن اخلاقیات میں ہم نے کون سے میڈل لیے ہیں یہ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں...!

  21. زبیر انجم صدیقی says:

    اسلام و علیکم
    عبداللہ صاحب
    اس لنک کو یہاں پیسٹ کرنے کا کیا محل تھا ۔ مگر اب آپ نے کر ہی دیا ہے تو مجھے یاد آیا کہ آج کل ’’بھائی‘‘ کو اپنی جان کی فکر بہت کھائے جا رہی ہے ۔۔ ’’طاقتیں میری زندگی کے درپے ہیں‘‘ ’’مجھے ختم کرنا چاہتی ہیں‘‘ مگر اتوار کو برطانوی روزنامے گارجین میں ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تفتیش سے متعلق رپورٹ سے تو ایسا لگتا ہے جیسے بھائی کی جان کو خطرہ اسکاٹ لینڈ یارڈ سے ہے ۔۔ کیونکہ گارجین نے اپنی رپورٹ مں کہا ہے کہ عمران فاروق کے قتل کے تانے بانے پارٹی کے اندرونی اختلافات سے مل رہے ہیں کیونکہ ڈاکٹر عمران فاروق یکم اکتوبر کو پرویز مشرف کی جماعت میں شمولیت اختیار کرنے کا ارادہ رکھتے تھے ۔۔

    http://www.guardian.co.uk/world/2010/sep/26/pakistan-imran-farooq-murder-mqm

    • عبداللہ says:

      یہ لنک میں نے تمام بلاگر کی سائٹس پر پیسٹ کیا ہے اور محض اس لیئے کہ جو لوگ بغیر جانے بوجھے جھوٹا پروپگینڈہ کرتے ہیں اور جو بغیر تصدیق اس پر ایمان لے آتے ہیں انہیں بھی حقیقت حال سے کچھ آگاہی ہو !!!!!!!!!!
      میرا لگایا ہوا لنک ایک حقیقت ہے جو اب تاریخ کا ایک حصہ بھی ہے جسے کسی کے جھٹلانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا!!!!
      اور آپکا لگایا ہوا لنک محض ایک خبر ہے جسے ابھی ثابت نہیں کیا گیا ہے اور ایسی خبریں تو پہلے بھی بہت آئیں اور گئیں!!!!!!!!

      • زبیر انجم صدیقی says:

        اچھا تو عبداللہ صاحب یہ چاہ رہے ہیں کہ ہم ان کے پیسٹ کئے گئے لنک والے مضمون پر بغیر تصدیق کئے اور جانے ایمان لے آئیں ، گویا وہ مضمون خود عبداللہ کہ الفاظ میں کوئی خبر یا مضمون سے بڑھ کر آسمانی صحیفہ ہے ۔۔ مجھے یہ جان کر بہت افسوس ہوا کہ گارجین بھی متحدہ دشمن اخبار ہے ۔ ۔ اور تو اور بی بی سی بھی متحدہ دشمن ہے جس نے گارجین کی یہ خبر شائع کر دی ۔۔ کیونکہ پاکستان میں متحدہ کے ’’دوست اخبارات ‘‘ نے نہ جانے کیوں گارجین کی اس خبر کو ’’ درخور اعتنا ‘‘ ہی نہیں سمجھا ۔ ۔
        گارجین کی رپورٹ اور ’’بھائی‘‘ کا ستائیس ستمبر کو کارکنوں کے نام لکھا گیا خط ملا کر پڑھیں تو بہت واضح تصویر بنتی نظر آرہی ہے ۔ ۔
        اور بھائی کا خط گارجین کے کرائم رپورٹر کی خبر ویب سائیٹ پر آنے سے صرف چند گھنٹے پہلے ہی منظر عام پر آیا تھا ۔۔

  22. عبداللہ says:

    http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/09/100927_guardian_imran_farooq.shtml
    اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کوئی خبر بھی نہیں بلکہ ایک مضمون ہے،جو کسی بھی متحدہ دشمن شخص کی ذہنی اختراع بھی ہوسکتی ہے!!!!!!!!!!

  23. عبداللہ says:

    اس میں حوالہ ہے سورسز کا اور پھر ایک سینیئر پاکستانی سورس کا اس میں کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ یہ اسکاٹ لینڈیارڈ والوں نے کہا ہے بلکہ محتاط رہتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ سورسز سیز انٹیلیجنس سجیسٹ!!!!!!
    یوں یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ متحدہ کے دشمن معمولی نہیں ہیں اور وہ اپنی ہر حد سے گزر جانے کے لیئے تیار ہیں جیسا کہ ایکسپریس میگزین میں لکھا گیا ہے،اور وہ عمران فاروق جیسے ذہین آدمی سے انتہائی خوفزدہ تھے وہ نہین چاہتے تھے کہ وہ دوبارہ پاکستان آئیں اور متحدہ کی قوت بنیں!!!

    سب جانتے ہیں کہ الطاف سمیت پوری متحدہ مشرف کو پسند کرتی ہے اس لیئے بھی لگایا گیا الزام بہت بھونڈا ہو جاتا ہے!!!!!!

  24. ایک پہلو افسوس ناک اور دوسرا پہلو خوش آئیند ہے
    جہاں تک افسوس ناک پہلو کی بات ہے تو فہد بھائی یہ حال کہاں نہیں ؟
    رہا دوسرا پہلو تو یہ عالمی اسلامی بیداری کی لہر ہے جس نے ماوراء النہر کی ان ریاستوں کا بھی رخ کر لیا ہے جن کے ناموں تک سے دنیا تیس برس پہلے ناآشنا تھی اور یہ بیداری کی لہر جہاں کا رخ کرتی ہے وہاں کے حکمرانوں کے شدت غیض و غضب کے درمیان یہ مژدہ جانفزا ضرور سنا رہی ہوتی ہے
    جہان نو ہو رہا ہے پیدا یہ عالم پیر مر رہا ہے
    جسے فرنگی مقامروں نے بنا دیا تھا قمار خانہ
    میرے اللہ کی عجب شان ہے ۔۔۔ سبحان اللہ ۔۔۔

  1. September 12, 2010

    [...] This post was mentioned on Twitter by Urdublogz.com, Abu Shamil. Abu Shamil said: ابوشامل - اور اپنے مسلموں کی مسلم آزاری بھی دیکھ http://bit.ly/afcqZb [...]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.