تاشقند

گزشتہ سال یہ مضمون اردو وکیپیڈیا کے لیے تحریر کیا گیا تھا۔ قارئین کی معلومات میں اضافے کے لیےیہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ اسے حتی الامکان بہتر بنانے کی کوشش کی گئی لیکن اس میں موجود خامیوں یا غلطیوں کے بارے میں ضرور آگاہ کیجیے گا۔

[[تاشقند]] [[ازبکستان]] اور [[صوبہ تاشقند]] کا [[دارالحکومت]] ہے۔ [[2006ء]] کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شہر کی آبادی 31 لاکھ اور غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 40 لاکھ سے زائد ہے۔
[[قرون وسطیٰ]] میں یہ شہر چچ کے نام سے جانا جاتا تھا جو بعد ازاں چچ قند یا چش قند اور پھر تاشقند بن گیا۔ [[ترک زبان]] میں تاش کا مطلب ہے پتھر جبکہ قند شہر کے لیے استعمال ہوتا ہے (جیسے سمرقند، یرقند، پنجی قند وغیرہ)۔نام کی یہ تبدیلی 16 ویں صدی کے بعد عمل میں آئی۔ موجودہ نام تاشقند (Tashkent) کے ہجے روسی اثرات کو ظاہر کرتے ہیں۔
جغرافیہ
شہر [[شمقند]] اور [[سمرقند]] کے درمیان شاہراہ پر [[کوہ التائی]] کے مغربی جانب زرخیر میدان میں واقع ہے۔ تاشقند عین اس مقام پر واقع ہے جہاں [[دریائے چرچک]] اور اس کے دیگر معاون دریا آپس میں ملتے ہیں۔ یہ [[زلزلہ|زلزلے]] کی متحرک پٹی پر واقع ہے اور زلزلے کے چھوٹے موٹے جھٹکے آنا معمول ہے۔ [[1966ء]] میں یہاں آنے والے ایک زلزلے کی شدت [[ریکٹر اسکیل]] پر 7.5 ناپی گئی تھی۔
تاریخ
تاشقند دریائے چرچک کے کنارے [[کوہ گولستان]] کے قدموں ایک نخلستان کے طور پر معروف ہوا۔ زمانہ ہائے قدیم میں اس علاقے میں [[کانگجو اتحاد]] کا گرمائی دارالحکومت تھا۔
[[امارت چچ]]، جس کا مرکزی قصبہ 5 ویں سے تیسری صدی عیسوی کے درمیان ایک مربع قلعے کی کی شکل میں تعمیر کیا گیا تھا، [[سیر دریا]] سے 8 کلومیٹر شمال میں واقع تھی۔ 7 ویں صدی عیسوی میں چچ میں 30 قصبے تھے اور 50 سے زائدنہروں کا جال بچھا ہوا تھا، جس کی وجہ سے یہ [[سوگدیائی]] اور [[ترک]] باشندوں کے درمیان تجارتی مرکز بن گیا۔ یہ خطہ 8 ویں صدی کے اوائل میں مملکت اسلامیہ کا حصہ بنا۔
عرب اس شہر کو الشش کہا کرتے تھے۔ جدید ترکی نام تاشقند (پتھر کا شہر) 10 ویں صدی میں [[قرہ خانی]] خاندان کی حکومت کے دوران ملا۔
[[1219ء]] میں [[چنگیز خان]] نے حملہ کر کے شہر کو تباہ کر دیا۔ [[تیموری سلطنت|تیموریوں]] اور [[آل شیبان|شیبانیوں]] کے دور میں اس شہر نے خوب ترقی کی تاہم اس عرصے میں یہ ازبکوں، قازق باشندوں، فارسیوں، منگولوں اور دیگر اقوام کے حملوں کا نشانہ بنتا رہا۔
[[1809ء]] میں تاشقند [[خانان خوقند]] کے زیر نگیں چلا گیا۔ اس وقت تاشقند کی آبادی ایک لاکھ تھی اور یہ [[وسط ایشیا]] کا خوشحال ترین شہر تھا۔ [[مئی]] [[1865ء]] میں جنرل [[میخائل چرنیایف]] نے شہر پر حملہ کر کے اسے فتح کر لیا۔ عددی برتری اور مضبوط حصار حاصل ہونے کے باوجود خانان خوقند کی فوج دو روز بھی روسی افواج کے سامنے نہ ٹھہر سکی اور شہر روسیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ چرنیایف، جو شیرِ تاشقند کے نام سے مشہور ہوا، نے عوام کے دل جیتنے کے لیے خانان کے لگائے گئے تمام ناجائز محصولات ایک سال کے لیے ختم کر دیے اور عام لوگوں کے مسائل کے خاتمے کے لیے کوششیں کیں۔ اسے زار کی جانب سے تاشقند کا عسکری گورنر بنایا گیا اور اس نے زار الیگزینڈر ثانی سے یہ بھی سفارش کی کہ وہ شہر کو روس کے زیر تحفظ ایک آزاد ریاست بنا دے۔
زار نے چرنیایف اور اس کے سپاہیوں کو اعزازات و تمغوں سے نوازا لیکن کیونکہ جنرل نے یہ حملہ اُس کی اجازت کے بغیر کیا تھا اس لیے وہ زیادہ عرصہ اپنا عہدہ برقرار رکھنے میں ناکام رہا اور جلد ہی اس کی جگہ [[قسطنطین پیٹرووچ وان کوف مین]] کو مقرر کر دیا اور تاشقند کو آزاد ریاست تصور کرنے کے بجائے اسے [[روسی ترکستان]] کے نئے علاقے کا دارالحکومت بنا دیا جس کا پہلا گورنر جنرل کوف مین تھا۔ قدیم شہر کے قریب ایک چھاؤنی اور روسی آبادی بنائی گئی اور ملک کے کئی علاقوں سے روسی آبادی اور تاجروں کو آباد کیا گیا۔ وسط ایشیا پر اپنا اثر و رسوخ جمانے کے لیے [[سلطنت روس|روس]] اور [[سلطنت برطانیہ|برطانیہ]] کے مابین ہونے والے تنازع، جسے [[عظیم کھیل]] (The great game) کہا جاتا ہے، کے دوران یہ شہر جاسوسی کا گڑھ بن گیا۔ [[1889ء]] میں [[ٹرانس کیسپیئن ریلوے]] کی پٹری یہاں پہنچی اور جن کارکنان نے یہ پٹری تعمیر کی وہ یہیں آباد ہو کر رہ گئے اور انہوں نے [[بالشویک انقلاب]] کے بیج یہاں بھی بودیے۔
20ویں صدی
روسی سلطنت کے خاتمے اور بالشویک انقلاب کے ساتھ ہی یہاں کی صوبائی حکومت نے تاشقند کو اپنے زیر انتظام لے کر روسی استبداد سے آزادی کی کوشش کی جسے بغاوت سے تعبیر کرتے ہوئے سختی سے کچل دیا گیا۔ [[اپریل]] 1918ء کو تاشقند کو [[ترکستان خودمختار سوویت سوشلسٹ جمہوریہ]] کا دارالحکومت بنا دیا گیا۔ اس عرصے میں مسلمانوں نے [[بسماچی تحریک]] کی صورت میں علم بغاوت بلند کر دیا لیکن روسی سلطنت نے اس ابھرتے ہوئے خطرے کا بھی خاتمہ کر دیا۔ بالآخر 1930ء میں تاشقند کو سمرقند کی جگہ [[ازبک سوشلسٹ سوویت جمہوریہ]] کا دارالحکومت بنا دیا گیا۔
[[1920ء]] اور [[1930ء]] کی دہائی میں شہر میں صنعتوں کا جال بچھا دیا گیا خصوصاً [[دوسری جنگ عظیم]] کے درمیان [[نازی جرمنی|نازی جرمنوں]] کے حملے کے پیش نظر مغربی روس سے بڑی تعداد میں صنعتیں یہاں منتقل کی گئیں۔ ایک خاص منصوبے کے تحت یہاں کے مسلمانوں کی آبادی کے تناسب کو کم کرنے کے لیے بڑی تعداد میں روسی آبادی یہاں منتقل کی گئیں خصوصاً جنگ سے متاثرہ علاقوں کے تمام پناہ گزینوں کو مسلم اکثریتی علاقوں میں منتقل کر دیا گیا تاکہ آبادی میں "توازن" قائم کیا جا سکے۔ بالآخر ہدف حاصل کر لیا گیا کہ تاشقند کی نصف آبادی روسی باشندوں پر مشتمل ہو جائے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان 1965ء کی جنگ کے بعد اسی شہر میں معاہدہ طے پایا جو تاریخ میں [[معاہدہ تاشقند]] کے نام سےجانا جاتا ہے۔
[[26 اپریل]] [[1966ء]] کو آنے والے ایک شدید زلزلے میں تاشقند کو زبردست نقصان پہنچا۔ اس زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.5 تھی۔ اس زلزلے کے نتیجے میں 3 لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔
1991ء میں سوویت روس کے زوال کے وقت تاشقند ملک کا چوتھا بڑا شہر اور سائنس و انجینئرنگ کے شعبہ جات میں تعلیم کا مرکز تھا۔
سوویت اتحاد سے آزادی کے بعد تاشقند نومولود ریاست ازبکستان کا دارالحکومت قرار پایا۔ شہر میں آج بھی روسی آبادی کثیر تعداد میں موجود ہے۔ شہر اپنی سرسبز شاہراہوں، فواروں اور دلفریب باغات کے باعث مشہور ہے۔ تاشقند متعدد بار دہشت گرد حملوں کا نشانہ بھی بن چکا ہے جس کا الزام حکومت مبینہ اسلامی عسکریت پسندوں پر عائد کرتی ہے۔
[[1991ء]] میں آزادی کے بعد شہر میں اقتصادی، ثقافتی اور تعمیراتی اعتبار سے کافی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ جس جگہ [[ولادیمیر لینن]] کا سب سے بڑا مجسمہ ایستادہ تھا آج اس کی جگہ ایک کرۂ زمین (گلوب) نصب کر دیا گیا ہے۔ سوویت دور کی عمارتوں کی جگہ اب جدید عمارتیں لے رہی ہیں جس کی ایک مثال تاشقند کا مرکزی تجارتی علاقہ ہے جہاں 22 منزلہ این بی یو بینک، انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل، انٹرنیشنل بزنس سینٹر اور پلازہ بلڈنگ کی صورت میں فلک بوس عمارتیں کھڑی ہیں۔
سوویت دور کی پابندیوں کے بعد یہاں کے مسلمانوں کو اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی اور اپنی عبادت گاہوں کی دیکھ بھال کی کھلی اجازت ملی۔ 2007ء میں تاشقند کو اسلامی دنیا کا ثقافتی دارالحکومت قرار دیا گیا۔
قابل دید مقامات
1917ء میں انقلاب روس کے بعد شہر کی کئی قدیم خصوصاً مذہبی عمارات کو تباہ کر دیا گیا اور رہی سہی کسر سوویت دور کے صنعتی انقلاب اور بعد ازاں 1966ء کے زلزلے نے پوری کر دی۔ اس لیے تاشقند کے عظیم ثقافتی و تعمیراتی ورثے کا بہت کم حصہ ہی بچا ہے۔ اس کے باوجود تاشقند میں عجائب گھر اور سوویت دور کی کثیر یادگاریں موجود ہیں۔
کوکلداش مدرسہ
[[1557ء]] سے [[1598ء]] تک برسر اقتدار رہنے والے [[عبد اللہ خان]] کے زمانے سے قائم ہونے والا [[مسجد]] و [[مدرسہ]] اب مسلمانانِ [[ماوراء النہر]] کے صوبائی مذہبی بورڈ نے بحال کیا ہے۔ اسے ایک عجائب گھر میں تبدیل کرنے کی سفارشات ہیں لیکن فی الوقت یہ بطور مسجد استعمال ہو رہا ہے۔
کورشو بازار
کوکلداش مدرسہ کے قریب ایک بہت بڑا بازار ہے جو قدیم شہر تاشقند کا مرکز تھا۔ یہاں ضروریات زندگی کی تمام اشیاء دستیاب ہیں۔
خشت امام مسجد
اس مسجد کی خاص بات ہے یہاں صحیفہ عثمانی کی موجودگي جو خلیفہ ثالث حضرت [[عثمان غنی]] رضی اللہ عنہ کے زیر استعمال [[قرآن]] ہے۔ یہ دنیا کا قدیم ترین نسخہ قرآن ہے۔ [[655ء]] کے اس نایاب نسخے پر خون کے کچھ نشانات بھی ہیں جو شہادت عثمان سے وابستہ کیے جاتے ہیں۔ یہ نسخہ [[امیر تیمور]] اپنے ساتھ سمرقند لایا تھا جسے روسیوں نے قبضے کے بعد [[سینٹ پیٹرز برگ]] منتقل کر دیا۔ [[1989ء]] میں یہ نسخہ ازبکستان کو واپس دیا گیا۔
15 ویں صدی کے چند مزارات کو بھی 19 ویں صدی میں بحال کیا گیا جس میں [[مغلیہ سلطنت]] کے بانی [[ظہیر الدین بابر]] کے دادا یونس خان کا مقبرہ بھی شامل ہے۔
شہزادہ رومانوف کا محل
19 ویں صدی میں [[الیگزینڈر ثالث]] کے قریبی عزیز [[نکولائی کونسٹاٹینووچ]] کو روسی شاہی جواہرات کی مشتبہ سودے بازیاں کرنے پر تاشقند جلاوطن کر دیا گیا۔ ان کی قیام گاہ آج بھی مرکز شہر میں موجود ہے۔
وزارت امور خارجہ کے زیر اہتمام اس عجائب گھر قرار دیے جانے والے محل میں قبل از روس کی تاریخ کے مجسمے، فن پارے اور 19 ویں اور 20 ویں صدی کے دستکاریوں کے کئی نمونےموجود ہیں۔ علاوہ ازیں یہاں رومانوف کی جانب سے لائی گئی تصاویر کا وسیع مجموعہ بھی دیکھنے لائق ہے۔ عجائب گھر کے عقب میں ایک چھوٹا سا باغیچہ ہے جس میں 1917ء کے انقلاب روس میں مارے گئے بالشویک انقلابیوں کے علاوہ پہلے ازبکستانی صدر [[یلدش اخون بابایف]] کی قبریں موجود ہیں۔
علی شیر نوائی اوپیرا اور بیلے تھیٹر
ماسکو میں لینن کا مقبرہ تعمیر کرنے والے ماہر تعمیرات [[الیکسی شوسیف]] کے ذہن کی ایک اور تخلیقی کاوش اس شہر میں واقع یہ تھیٹر ہے۔ اس تھیٹر کی تعمیر میں [[دوسری جنگ عظیم]] میں پکڑے گئے [[جاپان|جاپانی]] قیدیوں کو بطور مزدور استعمال کیا گیا تھا۔
تاریخی عجائب گھر
سابق لینن عجائب گھر میں واقع یہ تاشقند کا سب سے بڑا [[عجائب گھر]] ہے۔
امیر تیمور عجائب گھر
نیلے گنبد اور آراستہ و پیراستہ اندرونی دیواروں کی حامل یہ متاثر کن عمارت میں [[امیر تیمور]] اور صدر [[اسلام کریموف]] کی یادگاریں موجودہیں۔ عجائب گھر کے باہر واقع باغیچہ میں گھوڑے پر سوار امیر تیمور کا ایک مجسمہ ایستادہ ہے۔ عجائب گھر کے گرد شہر کے خوبصورت ترین باغ اور فوارے واقع ہیں۔
انفرادی خصوصیات
یہاں وسط ایشیا کا واحد زیر زمین ریلوے نظام واقع ہے۔ ([[استانا]] اور [[الماتے]] میں ابھی یہ نظام تعمیراتی مراحل میں ہے)
تاشقند میں ملک کا سب سے بڑا [[ہوائی اڈہ]] واقع ہے جو شہر کو [[ایشیا]]، [[یورپ]] اور [[امریکین]] سے جوڑتا ہے۔
شہر کا سب سے بڑا چوراہا، جو سوویت دور میں آزادی چوک کہلاتا تھا، سوویت دور میں لینن کے سب سے طویل القامت (30 میٹر) مجسمے کا حامل تھا۔ 1992ء میں لینن کے مجسمہ کی جگہ یہاں دنیا ایک کرۂ زمین نصب کر دیا گیا ہے جس پر ازبکستان کو واضح کیا گیا ہے۔
تعلیم
شہر کی چند جامعات اور اعلٰی تعلیم کے ادارے:
*تاشقند اسٹیٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی
*انٹرنیشنل بزنس اسکول "کالجاک علمی"
*تاشقند یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجیز
*ویسٹ منسٹر انٹرنیشنل یونیورسٹی تاشقند
*قومی جامعہ ازبکستان
*یونیورسٹی آف ورلڈ اکنامی اینڈ ڈپلومیسی
*تاشقند اسٹیٹ اکنامک یونیورسٹی
*تاشقند اسٹیٹ انسٹیٹیوٹ آف لا
*تاشقند انسٹیٹیوٹ آف فنانس
*اسٹیٹ یونیورسٹی آف فارن لینگویجز
*کنزرویٹری آف میوزک
*تاشقند اسٹیٹ میڈیسن اکیڈمی
*انسٹیٹیوٹ آف اورینٹل اسٹیڈیز
*تاشقند اسلامک یونیورسٹی
ذرائع ابلاغ
شہر سے ازبک زبان کے 9 اور انگریزی زبان کے 4 اخبارات اور روسی زبان کے 9 جرائد شایع ہوتے ہیں۔
متعدد ٹیلی وژن اور کیبل ٹیلی وژن تنصیبات بھی شہر میں موجود ہیں جن میں برجِ تاشقند (تاشقند ٹاور) بھی شامل ہے جو وسطِ ایشیا کی بلند ترین تعمیر ہے۔
جڑواں شہر
[[استنبول]]، [[ترکی]]
[[سیاٹل، واشنگٹن]]، [[امریکہ]]
[[کراچی]]، [[پاکستان]]
[[برلن]]، [[جرمنی]]
[[نیپروپیٹرفسک]]،[[یوکرین]]
کھیل
تاشقند کا سب سے معروف [[فٹ بال]] کلب [[پختاکور تاشقند]]ہے جو ازبک لیگ میں کھیلتا ہے۔
معروف سائیکلسٹ [[جمال الدین عبدالجباروف]] اور فٹ بالر [[ویزیلس ہازیپیناگیس]] اسی شہر میں پیدا ہوئے۔ ٹینس کھلاڑی [[ڈینس استومن]] کا مقام پیدائش و رہائش یہی شہر ہے۔

متعلقہ مضامین
[[معاہدہ تاشقند]]

بیرونی روابط
تاشقند کی سیاحت
تاشقند کی تصاویرکا سب سے بڑا مجموعہ روسی زبان میں
تاشقند کی حالیہ تصاویر تبصروں کے ساتھ انگریزی زبان میں

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

4 تبصرے

  1. واہ، بہت خوبصورت اور معلوماتی تحریر ہے اور وسیع مطالعے کی آئینہ دار، بہت شکریہ ہمارے ساتھ شیئر کرنے کیلیے فہد صاحب!

  2. کفایت اللہ ہاشمی says:

    میری معلومات کے مطابق تاشقند کا پرانا نام ’’شاش‘’ تھا۔ فقہ حنفی کی مشہور کتاب ’“اصول الشاشی ‘‘ کے مؤلف نظام الدین الشاشی اسی شہر کے باشندے تھے۔

    • ابوشامل says:

      ہممم۔۔۔۔ تصحیح کا شکریہ کفایت اللہ صاحب۔ میں نے جو پڑھا وہی بیان کیا تھا۔ آپ نے درستگی کروا دی جس پر آپ کا شکر گزار ہوں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.