کیا اخبارات میں اغلاط کی دوڑ شروع ہو چکی ہے؟
پاکستان کے اردو قومی اخبارات فاش غلطیوں کے باعث اپنی ساکھ کو ہمیشہ نقصان پہنچاتے آئے ہیں۔ لیکن جب سب سے زیادہ تحقیق پر مبنی رپورٹیں شایع کرنے والا اخبار بھی فاش غلطی کر جائے تو دھچکا لگتا ہے۔ کراچی سے شایع ہونے والا روزنامہ امت سب سے زیادہ تحقیقی رپورٹیں پیش کرتا ہے خصوصاً عسکری موضوعات پر اس کے مضامین اور رپورٹیں معلومات سے بھرپور ہوتی ہیں لیکن گزشتہ روز (06 جولائی 2009ء) کی اشاعت میں صفحہ 8 پر ایک ایسی فاش غلطی کی گئی ہے جس کی ہر گز روزنامہ امت سے امید نہ تھی۔
اخبار نے امریکہ کی معروف طیارہ ساز کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کے شہرۂ آفاق ایف 16 لڑاکا طیارے کی ایک بے محل تصویر شایع کی لیکن اس کے کیپشن میں اسے سویڈن کی کمپنی ساب کا ملٹی رول تیار قرار دیا ہے۔
حقیقت میں یہ تصویر 22 مارچ 2003ء کو عراق پر حملے میں شریک ایک امریکی فضائیہ کے ایف 16 طیارے کی ہے۔ (اصل تصویر یہاں ملاحظہ کیجیے)۔
سویڈن کی کمپنی ساب گریپن (Gripen) لڑاکا طیارے تیار کرتی ہے جو کسی طرح ایف 16 سے میل نہیں کھاتے۔ملاحظہ کیجیے:
علاوہ ازیں اخبارات سے التجا ہے کہ بے موقع و محل تصاویر شایع نہ کی جائیں، ان تصاویر کی حیثیت بالکل ویسی ہی ہوتی ہے جیسی کسی تقریب میں شریک خاتون کی تصویر کی۔ قاری تصویر کے قرب و جوار میں متعلقہ خبر تلاش کرتا ہی رہ جاتا ہے۔











کیا کیا جائے جناب ۔۔
آپ کا پوائنٹ نوٹ کرلیا گیا ہے۔۔۔
طیاروں کی بے محل تصاویر تک تو بات ٹھیک ہے
لیکن خواتین کی تصاویر بارے ، آپ کے نقطہ نظر سے متفق نہیں۔۔۔
ڈاکٹر اقبال بھی نہیں تھے۔۔۔
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اخبار والے بادشاہ ہیں جی اب
پریتی زنٹا کی خبر پہ ہریتک روشن کی تصویر لگا دیتے ہیں
تصویر لگانے والے شاید کم پڑھے لکھے ہوتے ہیں ۔ میں نے ملکی اخبارات میں تصاویر کی غلطیاں دیکھی ہیں ۔ ہوائی جہاز کی تصویر تو خیر ۔ مسجد اقصٰی کی بجائے ہمیشہ قبہ السخراء کی تصویر چھاپی جاتی ہے
امت کا مجھے علم نہیں مگر دوسرے اخباروں میں ہر تصویر میں کسی نا کسی طرح عورت موجود ہوتی ہے
کوئی حال نہیں ہے شعبۂ صحافت کا، اب تو صرف اخبار کا پیٹ بھرا جاتا ہے، رنگ برنگی تصاویر سے یا پھر چٹ پٹی خبروں سے۔
آج کل اخبارات ایسی ھوش ربا تصاویر لگاتے ہیں کہ لگتا کوئی فارن اخبار دیکھ رہے ہیں اسی لئیے میں تو تصویروں میں دلچسپی رکھتا ہوں کیوں کہ تصویریں بولتی ہیں ۔
میں نے ایف ۱۶ کی ساخت کا قریبی معائنہ کر رکھا ہے ، میرے خیال میں تو یہ تصویر ایف ۱۶ کی بھی نہیں ہے، کیا آپ کو ۱۰۰ فیصد یقین ہے کہ یہ ۱یف ۱۶ ہے ؟
گستاخی معاف
یا پھر یہ تصویر ایسے رخ سے لی گئی ہے کہ میں اسے پہچان نہیں پا رہا
جعفر صاحب! آپ کی بے باکی کے کیا کہنے؟ ہمیں تو شدید کوفت ہوتی ہے کہ جب فلانی تقریب میں شریک ایک خاتون کی تصویر تو ہو لیکن تقریب کی خبر اخبار میں ندارد۔ اقبال اور آزادی نسواں کے بارے میں مزید پڑھنے کی ضرورت ہے (مذاق)۔
ڈفر! واقعی بادشاہ ہوں گے لیکن اپنی رعایا پر تو کچھ رحم کریں نا؟
افتخار صاحب! آپ کا کہنا درست ہے۔ دراصل کیپشن بنانے کی ذمہ داری بھی فوٹو گرافرز کو دے دی جاتی ہے جو اپنی “عقل” کے حساب سے لگا دیتے ہیں اور یوں “عظیم شاہکار” تخلیق پاتے ہیں۔
وارث صاحب! ہمارے تعلیمی اداروں سے صحافت میں ماسٹرز کی سند حاصل کر کے نکلنے والوں میں بنیادی “news sense” بھی نہیں ہوتا جبکہ بیرون ملک میں جب جامعہ سے سند ملتی ہے تو طالب علم کسی بھی ادارے میں کام کرنے کے لیے بالکل تیار ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں تعلیم کے بعد تجربے کی بنیاد پر کام کیا جاتا ہے، تعلیم ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔
تبصرے کا شکریہ
کامی! بس تصویریں دیکھتے رہیے کنفیوز مت ہوئیے گا
محترم یاسر عمران! جو تصویر میں سب سے اوپر لگائی ہے وہ تصویر اخبار میں شایع ہوئی تھی جس میں اسے ساب کمپنی کا ملٹی رول طیارہ قرار دیا گیا ہے جو سراسر غلط ہے۔ حقیقتا وہ لاک ہیڈ مارٹن کا ایف 16 سی ہے اور اس کے ثبوت کے طور پر میں نے وہ اصل تصویر پیش کی ہے جس پر کلک کر کے آپ متعلقہ صفحے پر جا کر پڑھ سکتے ہیں۔
تیسری تصویر ساب کمپنی کے گریپن طیارے کی ہے جو میں نے اس لیے پیش کی ہے تاکہ پتہ چل سکے کہ دونوں طیاروں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
باقی بالائی دونوں تصاویر کے بارے میں میں 200 فیصد یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایف 16 کی ہیں بلکہ F-16 C کی ہیں۔ ویسے اس میں گستاخی والی کوئی بات نہيں۔ سوال کرنا نصف علم ہے۔ آپ تصویر پر کلک کر کے متعلقہ لنکس ضرور دیکھئے گا۔
ابوشامل صاحب آپ نے بے محل تصاویر سے اخبار کا پیٹ بھرنے کی جس وبا کی طرف نشاندہی کی ہے بدقسمتی سے نامی گرامی اخبارات بھی اس کار ’خیر‘ میں برابر کے شریک ہیں. جس بات پر مجھے سخت اعتراض ہے وہ امت کی سب سے زیادہ تحقیقاتی رپورٹس شائع کرنے پر ہے.. امت سب سے زیادہ کانسپائیریسی تھیوریز ضرور شائع کرتا ہے لیکن تحقیقاتی رپورٹس کے میرٹ پر ان میں شاذونادر ہی کبھی کوئی پوری اترتی ہے. جس قسم کا ڈیٹا اور ریفرنس تحقیق کے لیے درکار ہے وہ اکثر رپورٹس میں ناپید ہوتا ہے اور ان کی اہمیت سوائے ایک اسٹیٹمنٹ کے اور کچھ نہیں ہوتی. وکی پیڈیا کے ایک سرگرم رکن کی حیثیت سے آپ اس نکتے کو مجھ سے کہیں بہتر سمجھ سکتے ہیں.
علاوہ ازیں اخبارات سے التجا ہے کہ بے موقع و محل تصاویر شایع نہ کی جائیں، ان تصاویر کی حیثیت بالکل ویسی ہی ہوتی ہے جیسی کسی تقریب میں شریک خاتون کی تصویر کی۔ قاری تصویر کے قرب و جوار میں متعلقہ خبر تلاش کرتا ہی رہ جاتا ہے۔——————–
سو فیصد متفق ! وقت و پیسے دونوں کا ضیاع اورماحول کو بیڑہ غرق الگ ۔ جانے کتنے درختوں کو سولی دے کر ایک اخبار نکلتا ہو گا ۔۔
وسلام
میڈیا بہت تیز ہو گیا ہے لالا جی
راشد کامران صاحب! اندھوں میں کانا راجہ والی بات ہے۔ ویسے کانسپائریسی تھیوریز پر کام کرنا بھی اچھا خاصا مشکل ہوتا ہے۔ ایک عام نظریے کو دلائل کی بنیاد پر رد کرنے کی کوشش سے دانتوں پر پسینہ آ جاتا ہے
۔ باقی ایک تحقیقی رپورٹ یا تحقیقی مضمون کے کیا معیارات ہونے چاہئیں؟ اس کا کچھ کچھ اندازہ ضرور ہے۔ ہمارے کسی اخبار کی تحقیقی رپورٹس ادنیٰ معیار پر بھی پوری نہیں اترتیں۔
جیو اور جینے دو
ایسے اداروں کو آپ جیسے ہنر مند افراد کی ضرورت ہے.
ویسے روزنامہ امت سے یہ توقع نہیں تھی.
کمال کا کیڑا نکالا ہے قبلہ.. دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ امت اخبار کے مالکان کو گولی ماردی جائے..
آپ کا بلاگ دیکھا اور مفید باتیں پڑھ کر دلی خوشی ہوئی۔ اردو بلاگنگ میں اس طرح کا ماحول ضروری ہے۔ خدا کرے زورِ قلم اور زیادہ۔
آپ نے اخبارات میں غلطیوں کی نشاندہی کی۔ میرے ذہن میں کل ہی ایک تجویز آئی تھی کہ اردو اخبارات میں جو عربی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں ان کا تبع کیا جائے۔ کہ ایسی اصطلاحات عربی زبان سے قربت میں کافی مددگأر ہوتی ہیں۔
راسخ صاحب! تجویز تو اچھی ہے لیکن انگریزی زدہ ذہنوں سے یہ بات ہضم کروانا مشکل ہوگی کہ اردو عربی سے زیادہ قریب ہے۔ ویسے بھی ہمارے زرخیز دماغ اخباروں میں صفحات کالے کر رہے ہیں کہ خدارا! ہمیں عربی نہ پڑھاؤ، ہم چاند پر جانا چاہتے ہیں۔