انٹرنیٹ پر اردو کی ترویج میں رکاوٹ، مسئلے کا حل

اس دعوے میں کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ پاکستان میں عوام کی بہت بڑی اکثریت اردو بولتی، سمجھتی، پڑھتی یا لکھتی ہے۔ گو کہ یہ پاکستان کی 10 فیصد آبادی کی بھی مادری زبان نہیں ہے لیکن یہ عوامی زبان ضرور ہے۔ چاہے آپ گلگت جیسے دور افتادہ علاقے میں ہوں یا گوادر کے ساحلوں پر، تھر کے تپتے ریگستانوں میں ہوں یا کشمیر کی حسیں وادیوں میں، آپ کو رابطے میں کوئی مشکل نہ ہوگی اگر آپ اردو بولنا جانتے ہیں۔ یہ گویا چاروں صوبوں کی حقیقی زنجیر ہے۔

مجھے یہ بات قبول کرنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ انٹرنیٹ کی دنیا میں اردو زبان میں بہت اعلیٰ اور تخلیقی مواد موجود نہیں ہے تاہم پاکستان میں تخلیق ہونے والا انگریزی مواد بھی کوئی انتہائی اعلی و تحقیقی نوعیت کا نہیں ہے۔ پاکستان کے حوالے سے جو اچھا مواد تخلیق ہو رہا ہے وہ بیرونی ممالک ہی سے ہو رہا ہے چاہے وہ غیر ملکی کر رہے ہوں یا تارکین وطن پاکستانی۔ اس طرح دیکھا جائے تو دونوں جانب صورتحال تقریباً یکساں ہی ہے۔ ہاں اردو میں اچھا اور تعمیری لکھنے والوں کی کمی ضرور ہے۔

کیا ڈیجیٹل عہد میں اردو انقلاب رونما ہو سکے گا؟

ایک مسئلہ جو کافی دنوں سے مجھے پریشان کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ اردو ویب سائٹس اور بلاگز کو زیادہ وزٹ کیوں نہیں ملتے۔ آپ خود دیکھ لیں کہ ایک اوسط یا کم درجے کے انگریزی بلاگ کو بھی کسی بہت اچھے اردو بلاگ سے زیادہ وزٹ ملتے ہیں۔ کیوں؟ گو کہ دونوں کی تحاریر کے معیار میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔

مختلف دوستوں کے ساتھ اس مسئلے پر گفتگو کے بعد اس کی جو سادہ سی وجہ نظر آئی ہے وہ ہے کمپیوٹر پر اردو استعمال نہ ہونا۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ شاید اس کی وجہ اس مغالطے کا عام ہونا ہے کہ کمپیوٹر کی زبان 'انگریزی' ہے۔ ملک کے 98 فیصد عوام انگریزی میں اظہار خیال نہیں کر سکتے یا اپنی بات اچھی طرح سے بیان نہیں کر سکتے۔ اور انٹرنیٹ کے صارفین میں بھی یہ شرح کافی زیادہ ہے لیکن اس کے باوجود انٹرنیٹ پر سرچ کرنے سے لے کر ویب سائٹس ملاحظہ کرنے تک لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ انگریزی ہی میں ہوگی۔

ایک سادہ سی مثال لوگوں کے سرچ کرنےکے رحجانات کی ہی دیکھ لیجیے۔ اگر انہیں قائد اعظم رحمت اللہ علیہ پر مضمون اردو میں بھی درکار ہوگا تب بھی وہ یہ لکھ کر سرچ کریں گے Quaid-e-Azam article in Urdu۔ اب مجھے یہ بتائیے کہ in Urdu لکھ دینے سے کیا انہیں آرٹیکل اردو میں مل جائے گا؟ ہر گز نہیں۔ اس کے لیے لوگوں کو یہ بتانے اور سمجھانے کی ضرورت ہے کہ اگر کوئی معلومات اردو میں درکار ہے تو اسے اردو میں تلاش کرنا ہوگا اور اس کے لیے انہیں اپنے کمپیوٹر کو اردو لکھنے کے قابل بنانا ہوگا۔

اردو کی تنزلی میں ان پیج کا کردار
میری اس دلیل سے ہو سکتا ہے بہت سارے لوگوں کا دل دکھے لیکن یہ بات میں ضرور کہوں گا کہ اس معاملے میں اردو کو سب سے زیادہ نقصان 'ان پیج' نامی سافٹ ویئر نے پہنچایا ہے۔ اس نے عوام کو یہ چور دروازے دکھائے کہ وہ ناقابل تلاش (لیکن خوبصورت) مواد انٹرنیٹ پر رکھیں اور ساتھ ہی بھانت بھانت کے کی بورڈز کا آپشن دے کر بھی اردو کی مرکزیت ختم کر دی۔ آپ خود دیکھ لیں، آپ کے قریب جو 5 افراد اردو ٹائپ کرنا جانتے ہیں وہ سب ایک کی بورڈ کے استعمال پر متفق نہیں ہوں گے۔ کوئی فونیٹک کرتا ہوگا، کوئی مقتدرہ، کوئی مونو ٹائپ تو کوئی اپنی مرضی کا۔ یہ راستہ ان کو کس نے دکھایا؟ ان پیج نے۔

جب ونڈوز 98ء آئی اور کمپیوٹر عربی و اس سے ملتی جلتی زبانوں میں لکھنے کے قابل ہوا تو زبانوں نے انتظار نہیں کیا کہ ہماری زبان کا نستعلیق فونٹ بن جائے تب اسے استعمال کریں گے۔ مثلاً فارسی۔ فارسی جو نستعلیق میں لکھی جاتی ہے نسخ کے ساتھ ایسی بندھ گئی کہ اب وہاں نسخ کے اخبارات تک نکلتے ہیں۔ دوسری طرف میں سندھی زبان کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ سندھی اُس وقت سے آج تک مائیکروسافٹ ورڈ اور دیگر ورڈ پروسیسرز پر لکھی جاتی ہے۔ اس کا ایک ہی کی بورڈ ہے اور بہت پہلے اسٹینڈرڈ فونٹ بھی بنا لیا گیا تھا۔

اس کے مقابلے میں اردو والوں نے نستعلیق کے انتظار میں اپنا ستیاناس کر لیا اور اس بیڑے کو غرق کرنے میں سب سے بڑا حصہ ان پیج کا رہا۔ جس کی بدولت لوگوں نے اپنی سائٹ پر امیج بیسڈ اردو مواد کو دھڑا دھڑ شامل کیا اور اب حالت یہ ہے کہ اہم ترین اخبارات اور جرائد کا وہ مواد جو اردو کا بہت بڑا ذخیرہ بن سکتا تھا، ناقابل تلاش (unsearchable) ہو کر ضایع ہو چکا ہے۔ آپ تصور کیجیے کہ گزشتہ 30 سالوں کے اردو ڈائجسٹ، اخبار جہاں، اور روزنامہ جنگ ہی کا مواد اتنا ہے کہ اردو کو کسی موضوع کی کمی محسوس نہ ہوگی۔ لیکن صرف اور صرف ان پیج کی وجہ سے آج ہم اس مواد سے محروم ہیں۔ 10 سالوں کے اخبار جہاں اور جنگ کے میگزینز انٹرنیٹ پر موجود ہیں لیکن ہم انہیں تلاش نہیں کر سکتے۔ اب مجھے کیا معلوم کہ اپریل 2006ء کے تیسرے ہفتے کے اخبار جہاں کے صفحہ نمبر 56 پر راجر فیڈرر کے حوالے سے اک شاندار مضمون موجود ہے؟ بلکہ میں اسی تصویری صورت کی وجہ سے ایک اچھا مضمون پڑھنے سے محروم ہو گیا۔

مسئلے کا حل
آج پاکستان میں براڈ بینڈ صارفین کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، کاروباری و ملازمت پیشہ افراد بھی اپنے کام کا انحصار اب انٹرنیٹ پر کرنے لگے ہیں اور آہستہ آہستہ ایک انقلاب آتا محسوس ہو رہا ہے۔ لیکن ۔۔۔۔۔ اک ایسی آبادی میں جہاں کی اکثریت انگریزی سے نابلد ہے کیا یہ انقلاب ادھورا نہیں رہ جائے گا؟ اس لیے اس تبدیلی کو مکمل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مقامی زبانوں میں مواد کی تلاش کو آسان تر بنایا جائے۔

خیر، یہ بحث بہت زیادہ طوالت اختیار کر سکتی ہے لیکن آخر اس کا حل کیا ہے؟ اس کا حل ہے ہر کمپیوٹر پر اردو کی تنصیب۔ اس کو آسان سے آسان تر بنایا جائے، ایک ڈیفالٹ کی بورڈ پر اتفاق کیا جائے جیسا کہ صوتی (فونیٹک) کی بورڈ۔

اس کے لیے ہمیں کمپیوٹر پر اردو کی انسٹالیشن کے عمل کو آسان سے آسان تر بنانا ہوگا۔ میرے سامنے عبد الماجد بھرگڑی صاحب کی زبردست مثال ہے۔ جنہوں نے سندھی زبان کے لیے فونٹ بنانے سے لے کر معیاری کی بورڈ تک سب کام کیے ہیں۔ انہوں نے مختلف آپریٹنگ سسٹمز کے لیے پیکیجز تیار کیے ہیں جو واحد سیٹ اپ کے ساتھ کی بورڈ اور فونٹس سب کچھ انسٹال کر دیتے ہیں۔

آپ آج بھی بھرگڑی صاحب کی ویب سائٹ دیکھیں، آپ کو ونڈوز سے لے کرمیک اور اوبنٹو سے لے کر ریڈ ہیٹ لینکس تک تمام آپریٹنگ سسٹمز کے انسٹالر پیکیجز ملیں گے اور انسٹالر پیکیج محض سپورٹ اور کی بورڈ شامل کرنے کا کام نہیں کرتے بلکہ ساتھ ساتھ تمام معیاری فونٹس بھی انسٹال کر دیتے ہیں۔ یوں صارف بغیر کسی طویل سیٹ اپ کے محض چند کلکس کے ذریعے اپنے کمپیوٹر کو سندھی لکھنے کے قابل بنا سکتا ہے، اس لیے ہمیں اردو کے لیے بھی اک ایسے سادہ سے سافٹ ویئر کو بنانے کی ضرورت ہے جو یہ اردو زبان، اس کے کی بورڈ اور اس کے اہم فونٹس کی تنصیب محض چند کلکس میں کر دے۔

دست بستہ گزارش
اس پوسٹ کے ذریعے میری تمام تکنیکی ماہرین سے گزارش ہے کہ خدارا، ایسا کوئی حل بنائیں کہ ہم ونڈوز میں اردو کی انسٹالیشن کے طویل ترین طریقے سے چھٹکارہ پا سکیں۔ اس طریقے کو تو کسی کو بتاتے ہوئے بھی شرم آتی ہے کیونکہ عام لوگ پھر کہتے ہیں کہ اتنا مشکل ہے اردو اناٹشل کرنا؟۔ کئی ایسے نوآموز افراد جو ہمیں اردو میں ٹائپ کرتے ہوئے دیکھ کر بہت اشتیاق سے پوچھتے ہیں کہ اردو کیسے لکھی جاتی ہے؟ لیکن جب ہم انہیں طریقہ بتاتے ہیں تو وہ درمیان ہی میں گھبرا کر منع کر دیتے ہیں کہ رہنے دیجیے۔

میں کیونکہ خود پروگرامر نہیں ہوں ورنہ میں بجائے درخواست کرنے کے اس عمل کو خود کر گزرتا لیکن چاروناچار مجھے درخواست ہی کرنا پڑ رہی ہے کہ اردو کے لیے ایک ایسا انسٹالر وقت کی ضرورت ہے جس کو چلاتے ہی فونیٹک کی بورڈ اور جمیل نوری نستعلیق اور چند دیگر فونٹس ایک ہی ساتھ انسٹال ہو جائیں۔ پھر اس سافٹ ویئر کو ہر جگہ پھیلایا جائے، انگریزی بلاگرز اور ویب سائٹس کو اس کے لنکس دیے جائیں اور اس کی جتنی زیادہ تشہیر کی جائے گی اتنا زیادہ بہتر ہوگا۔

اس سے دو یا تین سالوں میں اردو کو پاکستان میں خاطر خواہ فوائد مل سکتے ہیں کیونکہ یہی وہ بنیاد ہے جس کو ڈالے بغیر ہم نے اک بہت بڑی عمارت تو کھڑی کر لی ہے لیکن اب یہ عمارت اپنے ہی بوجھ کے باعث گرنے لگی ہے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ اس بنیاد کو کھڑا کیا جائے جسے ابتداء میں نہیں کیا گیا تھا۔

مجھے امید ہے کہ اردو بلاگستان میں سے چند لوگ ایسے ضرور سامنے آئیں گے جو اس منصوبے پر عمل کرتے ہوئے اک ایسا سافٹ ویئر تشکیل دے دیں گے جس کی مدد سے اردو کی تنصیب کے مرحلے کو آسان تر بنایا جا سکے۔ اس سافٹ ویئر کی ترویج میرے اور میرے دیگر بلاگز کے ساتھیوں کے ذمے ہے۔ ہم اس کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے کے لیے جان لڑا دیں گے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

69 تبصرے

  1. میں نے اپنا سر ریت میں چھپا لیا ہے 🙁

    • ابوشامل says:

      زیادہ دیر سر اندر نہیں رہنا چاہیے، اس سے ایک تو آپ کا دم گھٹ سکتا ہے اور دوسرا یہ کہ کوئی باہر سے آپ کا دھڑ نہ لے جائے۔ اس لیے فورا باہر آ جائیں، عافیت اسی میں ہے 🙂

  2. بہت عمدہ پوسٹ ہے. مجھے بھی شروع شروع میں اردو زبان کی انسٹالیشن میں بہت تکلیف ہوتی تھی. پھر ایم بلال صاحب کی پی ڈی ایف بک سے انسٹالیشن کا مسئلہ حل ہوا.
    اردو کو ایسے انسٹالرکی بہت ضرورت ہے جس کو چلاتے ہی فونیٹک کی بورڈ اورفونٹس ایک ہی ساتھ انسٹال ہو جائیں۔

  3. آپ نے بالکل صحیح صحیح لکھا

    ع - تری آواز مکے اور مدینے

  4. آپ نے بہت اہم کام کی طرف توجہ دلائی۔

    اس سلسلے میں http://urdu.ca کا کام کافی ہے۔

    اگر سارے اہم فانٹس کا انسٹالر بنایا جائے تو وہ تقریبا 50 ایم بی یا اس سے بھی زیادہ کا ہو گا، جو کہ بہت زیادہ ہے۔ اس لیے الگ الگ یا بہت ضروری فانٹ انسٹال کرنا ہی بہتر ہے۔

    ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام اردو ویب سائٹس یا اردو بلاگز سی ایس ایس میں فانٹ کا صحیح استعمال کریں. مثلا
    body
    {
    font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq', 'Alvi Nastaleeq', 'Pak Nastaleeq', 'Nafees Web Naskh', 'Urdu Naskh Asiatype', Tahoma, 'Lucida Grande', Verdana, Arial, Sans-Serif;
    }

    یعنی تمام اہم فانٹ اس لسٹ میں آ جائیں۔

    • ابوشامل says:

      عامر صاحب، جو میرا مقصد ہے وہ صرف اتنا ہے کہ ایک انسٹالر بنے، جس کے ذریعے کمپیوٹر میں اردو سپورٹ بمعہ کی بورڈ انسٹال ہو جائے اور ساتھ ساتھ ایک عدد اہم فونٹ یعنی جمیل نوری نستعلیق۔ جو میرے خیال میں یہ سافٹویئر 15 ایم بی کا بنے گا۔ اس میں ہم مزید کچھ شامل نہ کریں، صرف یہ سادہ سا پیکیج بنا دیں۔ باقی کسی اور کو اگر مزید فونٹس کی ضرورت ہے تو اس میں 'جمیل خط نما' وغیرہ کا لنک شامل کیا جا سکتا ہے۔ اصل کام اس کو پھیلانے کا ہوگا۔ اب تو ماضی کے مقابلے میں بہت سارے ذرائع ہیں، سوشل نیٹ ورکنگ کا بھرپور استعمال، انگریزی بلاگرز سے اچھے روابط اور کسی ایک دو اچھے انگریزی بلاگز پر اس سافٹویئر کے بارے میں مضمون اردو کے حوالے سے لوگوں کے مغالطے دور کر سکتا ہے۔
      مجھے امید ہے کہ جیسے ہی یہ سافٹویئر تیار ہوتا ہے اردو کے حوالے سے رحجان میں تبدیلی آئے گی۔ اب دیکھیں کون اس کام کا بیڑا اٹھاتا ہے۔ میرے بس میں ہوتا تو میں سافٹویئر بنانے کے بعد یہاں پوسٹ کرتا 🙂

  5. مکی says:

    آپ کی ان باتوں سے میں سو فیصد متفق ہوں، ونڈوز کے لیے ایسا کوئی پیکج بنانا میرے بس میں تو نہیں ہے ہاں لینکس کے لیے اس بارے سوچا جاسکتا ہے، بلکہ اس پر میں نے کچھ ابتدائی کام بھی کیا تھا..

    • ابوشامل says:

      گو کہ لینکس میں اردو کی سپورٹ نصب کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے لیکن ہماری نیکسٹ ۔۔۔ نیکسٹ ۔۔۔ نیکسٹ پر کلک کی عادی قوم کے لیے وہاں بھی ایک ننھا منا سافٹویئر بنایا جا سکتا ہے اور بہرحال اس کی ضرورت بھی ہے۔ اس لیے اگر اوبنٹو اور ریڈ ہیٹ جیسے دو مشہور لینکس کے لیے ڈیبین اور آر پی ایم پیکیجز بن جائیں تو مزا آ جائے۔

  6. عبدالخالق بٹ says:

    بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی ۔ ۔ ۔

    • ابوشامل says:

      حضور، اسی رسوائی کا تو مداوا کرنا چاہ رہے ہیں 🙂 ۔

  7. شیخو says:

    اردو دانوں کو جگانے کی بہت اچھی کاوش ہے ..میرے علم کے مطابق روزنامہ بوریت والے محترم شارق مستقیم صاحب نے آج سے دو سال قبل ایک ایسا پیکج بنایا تھا جو کہ اوردو محفل میں بھی رکھا گیا تھا...اب کا مجھے یاد نہیں کہ اس کا کیا بنا

    • ابوشامل says:

      بالکل مجھے یاد ہے شارق مستقیم کا انسٹالر ونڈوز ایکس پی کی سی ڈی کے ضرورت کے بغیر اردو انسٹال کرنے کا اچھا طریقہ تھا لیکن اس میں دو چیزوں کی کمی تھی۔ ایک تو وہ فونیٹک کی بورڈ نصب نہیں کرتا تھا دوسرا اس کے ذریعے کوئی فونٹ بھی انسٹال نہیں ہوتا تھا۔ اسی کمی کی وجہ سے یہ انسٹالر کچھ زیادہ کامیاب نہ ہو سکا۔

  8. جناب، urdu.ca والوں کی فائلیں استعمال کرتے ہوئے ونڈوز 7 اور ونذوز وزٹا کے لیے 18 ایم بی کا انسٹالر بنا لیا ہے، جو کہ اس ربط سے اتارا جا سکتا ہے۔
    http://dl.dropbox.com/u/13975138/Urdu-Installer.exe

    یہ ونڈوز کے پروگرام IExpress سے بنایا گیا ہے، کافی آسان ہے۔

    ونڈوز ایکس پی کا معاملہ مشکل ہے، ونڈوز کی انسٹالیشن سی ڈی سے پتہ نہیں کونسی فائلیں کاپی ہوتی ہیں۔

    • ابوشامل says:

      عامر صاحب، بات وہیں کی وہیں موجود ہے، معاملہ صرف اور صرف اردو کی انسٹالیشن نہیں بلکہ ساتھ ساتھ فونیٹک کی بورڈ اور نستعلیق فونٹ کی تنصیب کا بھی ہے۔ یہ مسئلہ ابھی تک کسی نے حل نہیں کیا۔

      • کیا آپ نے انسٹالر کو چلا کر چیک کیا ہے؟
        http://dl.dropbox.com/u/13975138/Urdu-Installer.exe

        جناب، اس اردو انسٹالر کو چلانے سے جمیل نستعلیق اردو فونٹ اور اردو فونیٹک کیبورڈ انسٹال ہو جاتا ہے، اردو لکھنے کے لیے لینگویج بار پر کلک کر کے اردو متنخب کر لیں۔ بس کمی اس میں صرف یہ ہے کہ ونڈوز ایکس پی کے لیے مزید سٹیپ کرنے ہونگے. ونڈوز 7 اور وسٹا کے لیے صرف اس انسٹالر کو چلانا کافی ہے

  9. اردو نامہ کے ایک ممبر نے ونڈوز میں فونٹس انسٹالیشن کا ایک پیکج بنایا تھا جو وہاں تلاش کرنے پر مل سکتا ہے۔ دیگر آپریٹنگ سسٹمز کے ڈویلپرز بھی ایسے پیکج تیار کر سکتے ہیں۔

    • ابوشامل says:

      فونٹس انسٹال کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہے اصل مسئلہ لوگوں کی جان اس طویل طریقے سے چھڑانا ہے جس کے بعد کہیں جا کے اردو کمپیوٹر پر انسٹال ہوتی ہے۔ پھر کی بورڈ بھی تبدیل کرنے کی جھنجٹ۔

  10. نبیل says:

    فہد، آپ نے بھرگری صاحب کے کام کا جو ربط دیا ہے وہاں لکھی ہوئی سندھی مجھے سمجھ نہیں آ رہی. اگر آپ یا کوئی اور دوست بھرگری صاحب سے رابطہ کرکے ان کے تیار کردہ انسٹالر پیکجز کے سورس حاصل کر لیں تو میرے خیال میں اس میں سندھی لینگویج کمپوننٹس کی جگہ متعلقہ اردو لینگویج کمپوننٹس شامل کرنا زیادہ مشکل نہیں ہونا چاہیے.

    میں نے کچھ عرصہ قبل ایک اردو بکمارکلٹ کی تیاری پر کام شروع کیا تھا جس کی ڈیمو وڈیو ذیل کے ربط پر دیکھی جا سکتی ہے:

    http://www.youtube.com/watch?v=ik1u7Chms3I

    میں کوشش کروں گا کہ جلد اس بکمارکلٹ کو ریلیز کر سکوں.

    • ابوشامل says:

      آمد اور اپنی قیمتی رائے دینے کا شکریہ نبیل بھائی۔
      میں جلد بھرگڑی صاحب سے رابطہ کرتا ہوں، پھر ان کا جو جواب آتا ہے اس سے آپ کو آگاہ کر دوں گا۔
      آپ کے بکمارکلٹ کے اجراء کا انتظار رہے گا۔

  11. بہت عمدہ پوسٹ لکھی، کافی دنوں سے میں بھی اس سلسلے کے حل کے لیے بڑا پریشان ہوں اُس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ ہمارے چند احباب نے مل کر ایک ویب سائٹ بنانے کا فیصلہ کیا جس کو میں نے اُردو میں رکھنے کی خواہش ظاہر کی تو اُردو میں بن تو گئی مگر اُس پر بہت لوگوں کے اعتراض سننے پڑتے ہیں صرف اسی وجہ سے.... بہت اشد ضرورت ہے کہ جلد از جلد کوئی صاحب یہ خدمت انجام دیں... اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اس طرح کا سوفٹ ویئر جس میں فونیٹک کی بورڈ اور ایک اُردو اور چار فونٹ اور جس میں ایک عربی بھی ہو ڈال دیا جائے تو انٹرنیٹ پر اُردو کی ترویج میں بہت جلد اضافہ ہوسکتا ہے...

    • ابوشامل says:

      کچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھا 🙂
      بس دیکھئے حضور، اب کون اس صدا پر لبیک کہتا ہے۔ ویسے اس وقت مجھے اپنی بے چارگی کا احساس ہو رہا ہے کہ کاش مجھے یہ کام آتا۔

  12. آپ نے ایک بہت کی اہم مسئلے کی نشاندهی کی هے خاص طور پر ان پیج کے میں بهت خلاف هوں
    اب اپ نے جس حل کا کها ہے
    اس کے لیے
    جهاں تک میرا خیال ہے
    نبیل صاحب ، مکی صاحب یا شارق مستقیم صاحب هی کام کرسکتے هیں
    میں تکنیکی طور پر اس قابل نهیں هوں
    که یه کام کرسکوں
    میں یه کر سکتا هوں که
    اگر چند سو ڈالر سے یه کا هو سکتا هے
    تو میں خرچ کر لیتا هوں
    اور اس مواد کو مختلف سرورز پر رکھ کر اسانی سے ڈاؤن لوڈ کرنے کی سهولت دے دی جائے
    هر سکتا ہے که اپ صاحبان کو یه مذاق لگے لیکن اکر اس مواد کو اس طرح سے رکھا جاء که ڈاؤن لوڈ کرنے والوں کی اکثریت یه سمجھتی رهے که انهوں نے ایک مہنگا مواد چوری کر لیا هے تو
    بہت مقبول هو گا
    پاکستانی لوگ سوچتے هیں که مفت کی چیز ایویں سی هی هوتی هے
    اور
    چوری ایک ٹیلنٹ هوتا هے
    میرا ای میل کا ایڈریس ہے
    ellha @ yahoo . com
    اس اڈریس ميں جعلی میلوں سے بچنے کے لیے
    سپیس ڈال دی هے
    ميں صرف پیسوں سے هی تعاون کر سکتا هوں
    اگر اس سے کچھ سنور سکے تو
    آپ سب کا مخلص
    خاور کھوکھر

    • ابوشامل says:

      آپ کے خلوص پر تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ فی الوقت تو مالی امداد کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ معاملہ ابھی بالکل ابتدائی مرحلے میں ہیں، اس میں ان شاء اللہ جلد پیشرفت ہوگی۔

  13. آپ نے ایک اہم مسئلے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ مگر واللہ میں حیران ہوں کہ کچھ ہفتے پہلے انٹر نیٹ پہ ایک انگلستانی ابلاغی ادارے کے اردو ایڈیشن پہ کراچی میں اردو کے حوالے سے چند روزہ اردو کی ایک انٹر نیشنل کانفرس کے بارے بتلایا جاتا رہا۔ وہ انگلستانی ابلاغی ادارہ اس میں کیوں اسقدر دلچسپی لے رہا تھا اس سے قطع نظر جو بات سب سے پہلے۔اور پہلی نظر میں کھٹکتی ہے کہ اس سارے کھڑاگ میں اردو زبان تو کہیں نظر ہی نہیں آرہی تھی۔ ابھی بھی وہ ویڈیوز انٹر نیٹ پہ موجود ہونگی۔ ان سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ اسمیں پنڈال کے ارد گرد کانفرنس اور اسکے برے بینرز سبھی انگریزی میں لکھے ہوئے تھے۔ اسٹیج اور کوسٹر پہ اردو کے بارے اظہار خیال کرنے والے مکمل طور پہ مغربی رنگ میں رنگے بڑی روانی سے انگریزی میں بات کر رہے تھے۔

    اسٹیج پہ بیٹھیں مائیاں دھڑلے سے سگریٹ نوشی فرما رہیں تھیں۔ اور اردو جس کی تذکرہ کانفرنس تھی اس پہ انگریزی میں روشنی ڈال رہیں تھیں۔ نامی گرامی دانشوران اور سامعین کی اکثر تعداد اپنا مافی الضمیر یعنی اردو کو ترقی دینے کے بارے کئیے جانے والے ضروری اقدمات پہ رائے انگریزی میں بیان کر رہی تھی۔ انکی بدن بولی اور رنگ ڈھنگ اور سر عام خواتین کی سگریٹ نوشی تو یہ پتہ ہی چلتا تھا کہ حرف عام میں یہ پاکستانی معاشرے کی خواتین و مرد دانشور ہیں جو اردو کی ترقی کے لئیے انگریزی میں دو تین روزہ انٹرنیشنل کانفرس کا اہتمام کر کے اردو کی ترقی کے لئیے کوشاں ہیں۔ اور اسقدر منافقت اور دہرا معیار دیکھ کر میں سوچ رہا تھا یا تو وہ لوگ اردو لکھتے پڑھتے اور بولنے والے اہل اردو نہیں جو پاکستان میں اور دنیا بھر میں پائے جاتے ہیں جن میں پاکستان کے اکثر لکھنے والے اور اردو سے متعلقہ کوششیں کرنے والے آپ جیسے لوگ شامل ہیں یا یہ لوگ وہ نہیں ہیں جو اردو کو وایا انگریزی ترقی دینے کے لئیے اکھٹے ہوئے ہیں۔ اور یہ وہ منافقت ہے جو بجائے خود اہل اردو کے ان دنشوران نے اردو کی نام نہاد ترقی کے نام پہ اردو کے ساتھ روا رکھی ہے۔ جسکا وہ کریڈٹ وہ ہر فورم پہ لیتے رہے ہیں اور کئی ایک اس کے بدلے گرانقدر مشاہیرہ اور مراعات پاتے رہے ہیں۔

    جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آج کوئی ہی ادارہ یا لکھنے والا شاید ایسا ہوگا جو کمپیوٹر کسی نہ کسی مرحلے میں استعمال نہ کرتا ہو یا اسکا کام کو استعمال میں لانے کے لئیے کمپیوٹر سے اسکی اردو میں تدوین و تزئین اور لکھائی وغیرہ نہ ہوتی ہو۔ تو ایسے میں آج جو پہیے کی ایجاد اور لوہے کی دریافت کے بعد شاید کمپیوٹر اس میلنئم کی سب سے بڑی ایجاد و دریافت ہے اور اسکے ذرئیعے اردو کو ترقی دیکر اس سے بجا طور پہ پوری قوم کو علم و ترقی کی راہ دیکھائی جاسکے۔ اور اس بارے عالم یہ ہے کہ اس کے لئیے ترقی دینے کو سافٹ وئیر تیار کرنے یا کروانے والے اور تجاویز و گزارشات پیش کرنے والے آپ جیسے وہ لوگ ہیں۔ جو اردو اور قومی دردمندی کی وجہ سے اور انسانی خدمت کے جذبے سے استدعا کرتے ہیں۔ کوشش کرتے ہیں۔ اور میں سوچتا ہوں وہ جو حکومتی اور نیم حکومتی اداروں پہ قابض ہیں اور اپنے آپ کو اہل اردو کہلواتے نہیں تھکتے مگر اردو کی کمر میں نااہلی اور بدیانتی کی وجہ سے خنجر گھونپ رہے ہیں۔ اردو کی نام نہاد ترقی کے لئیے فور اور فائیو اسٹارز ہوٹلوں میں انگریزی میں اجلاس رکھتے ہیں۔ جن پہ خطیر سرمایہ اٹھتا ہے جبکہ کہ اسطرح کے ضروری سافٹ وئیر اور دیگر چیزوں کے لئیے ایسے اجلاسوں پہ اٹھنے والے خطیر سرمایے کا عشر عشیر خرچ کر کے سبھی سوٖت وئیر تیار کروائے جاسکتے ہیں۔ یہ مشکل نہیں۔ ناممکن نہیں۔ یہ ہلکے پھلکے سوفٹ وئیر ہیں۔ پہلے سے تیار کسی پروگرام کی کمانڈز میں تھوڑا بہت ردبدل کر کے اسے اردو کا رنگ دیا جاسکتا ہے۔ مگر جو ذمہ دار ہیں اور لاکھوں کروڑوں کے عوضیانے اور بجٹ پاتے ہیں۔ ان کے کان کینچھے جانے ضروری ہیں۔ مگر کون کیھیچے ؟ کہ پاکستان میں رواج ہے کہ کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کے لئیے وزارتیں، محکمے، سفارتیں۔ مشاورتیں۔ کمیشن ، کمیٹیاں اور خدا جانے کیا کیا بنا کر اپنے من پسندیدہ افراد کو بندربانٹ کا ایک نیا سلسلہ عطا کر دیا جاتا ہے۔ اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ اصل مسئلہ لوگ بھول جاتے ہیں۔ یا اسکا کوئی حل خود ہی تلاش کر لیتے ہیں۔ مگر وہ وزارتیں، محکمے، سفارتیں۔ مشاورتیں۔ کمیشن ، کمیٹیاں قائم و دوائم رہتی ہیں پھلتی پھولتی ہیں۔ اور پیداگیری کا سفر جاری رہتا ہے۔

    آپ نے اور بہت سے دوسرے لوگوں نے جو مختلف شعبوں میں اپنی صوابدید اور وسائل سے دوسروں کے لئیے کیا ہے ۔ اگر پاکستانی معاشرے کے کرتا دھرتاؤں کو غیرت ہوتی تو اور کچھ نہیں کبھی کسی تقریب کا انعقاد کروا کے ایک آدھ تعریفی شیلڈ ہی انعام کر دیتے۔ مگر وہ کبھی ایسا نہیں کریں گے کیونکہ ایسا کرنے سے خود انکی اہلیت اور ھڈ حرامی کا پول کھلتا ہے۔

    اللہ آپ کے خلوس کا آپکو اجر دے۔

    • ابوشامل says:

      یقین جانیں جاوید بھائی، ان کانفرنسوں اور سیمیناروں کے کلچر سے تو میں بھی بیزار ہو چکا ہوں۔ کرنا کچھ نہیں ہوتا اک اعلی سے ہوٹل میں شاندار سے پروگرام کے ذریعے لاکھوں روپے اڑائے جاتے ہیں، اور حاصل حصول کچھ نہیں۔ کوئی ایجنڈہ نہیں، کوئی اہداف نہیں، کوئی مقصد نہیں۔ واللہ اگر اردو بلاگنگ کی ترویج کا خیال نہ ہوتا تو ایسی تقاریب میں جانے پر لعنت بھیجیں، بس یہی مجبوری ہم کراچی کے بلاگرز کو مختلف تقاریب میں لے جاتی ہے۔
      جنہوں نے راتوں کو جاگ کر اپنی کروڑوں روپے کی صلاحیتیں اور وقت لگا کر ارود میں آپریٹنگ سسٹم تیار کیے، براؤزر بنائے، فورمز تشکیل دیے، اردو کو لکھنے کے آسان سے آسان طریقے دریافت کیے، ہزاروں اشکال پر مشتمل فونٹس بنائے، اپنے بلاگز پر دن رات ایک کیے، وہ کیا چیز ہے جو ان کو اتنے مشکل کاموں کو مفت میں کرنے پر آمادہ کرتی ہے؟ یہ ان کی زبان کے ساتھ محبت ہے۔ کبھی کبھار تو بہت دل دکھتا ہے، بہت مایوسی ہوتی ہے۔ اس ملک میں اگر کوئی حقیقی قدر شناس ادارہ ہوتا تو محمد علی مکی کو اردو آپریٹنگ سسٹم بنانے کے اگلے مرحلے کے لیے ایک کمپیوٹر خریدنے کی خاطر لوگوں سے استدعا نہ کرنا پڑتی۔ آج اس ملک میں قدر ہوتی تو شاکر القادری صاحب 'تاج نستعلیق' فونٹ جیسے اعلی ترین منصوبے کو محض مالی کمزوری کے باعث طول دینے پر مجبور نہ ہوتے بلکہ وہ چار پانچ ماہرین کو حاصل کر کے اس کام کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچاتے۔ اردو محفل، جس کی اردو کے لیے خدمات کی فہرست اتنی طویل ہے کہ اس جگہ بیان نہیں کیا جا سکتا، کو ہر سال اپنی ہوسٹنگ کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے صارفین سے عطیات وصول نہ کرنے پڑتے۔ اردو بلاگرز کو اپنی ملاقاتوں اور پروگراموں کو منعقد کرنے کے لیے اپنی جیبوں سے پیسے نہ خرچ کرنے پڑتے بلکہ انہیں بھی انگریزی بلاگرز کی طرح اسپانسرز ملتے۔ نجانے کتنی ایسی کہانیاں ہیں، جو ایک جانب ہمت و حوصلہ مندی کی داستانیں ہیں لیکن میرے لیے مایوسی کی المناک داستانوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔
      جاوید بھائی، حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ کم از کم 7 سے 8 سالوں کے درمیان جتنے بھی لوگوں نے انٹرنیٹ پر اردو کی ترقی کے لیے کام کیا ہے، ان میں سے کوئی بھی کسی صلے کا طالب نہ تھا۔ اردو وکی پیڈیا سے لے کر اردو محفل تک، تمام افراد نے انتہائی خلوص و محبت کے ساتھ اپنی زبان کو سینچا ہے۔ اور کم از کم اب انٹرنیٹ ایسا مقام تو بن ہی گیا ہے جہاں آپ اردو کی حقیقی چاشنی کو محسوس کر سکتے ہیں۔
      میں ذاتی طور پر کوشش کروں گا کہ اردو کی ترویج کے لیے جتنا ہو سکے کروں۔ اس ضمن میں ترویج کے لیے کچھ اہم افراد سے رابطے بھی کیے ہیں، جن میں چند اچھے انگریزی بلاگز بھی شامل ہیں اور ایک مرتبہ یہ مرحلہ طے ہو ہو جائے، یعنی ایک سافٹویئر بن جائے، پھر ان شاء اللہ آپ کو اس سمت میں اچھی پیشرفت نظر آئے گی۔

  14. عثمان says:

    عمدہ مضمون ہے۔
    لیکن میری ناقص رائے میں اصل مسئلہ تیکنیکی نہیں ہے۔ بلکہ وہ جو شروع میں آپ نے نشاندہی کی کہ لوگوں کی اکثریت اس بات سے ناواقف ہے کہ کمپیوٹر پر اردو کیسے لکھی جاتی ہے۔ پھر اگر کسی کو کچھ بتا بھی دیا جائے تو آگے سے سوال کرتا ہے کہ میں اردو انسٹال کرکے کیا کروں گا؟ میں کمپیوٹر پر اردو کیوں لکھوں جبکہ تمام مواد اور کام انگریزی ہی میں دستیاب ہے۔
    یعنی سوال محض یہ نہیں کہ اردو کیسے لکھی جاتی ہے۔
    سوال یہ بھی ہے کہ اردو کیوں لکھنی چاہیے۔
    اب یہاں آپ کو اس شخص کو احساس دلانا ہے کہ یہ سب کیوں ضروری ہے۔ یعنی بات لے دے کر آگاہی اور شعور اجاگر کرنے پہ آجاتی ہے۔ اب یہاں بڑا کردار میڈیا کا ہے۔ آپ کا تعلق پرنٹ میڈیا سے ہے۔ اگر اخبارات میں اس موضوع پر کچھ مضامین شائع ہوتے رہیں ، ٹی وی پر جہاں دنیا جہاں کے موضوعات پر بحث مباحثہ کروایا جاتا ہے وہاں کچھ منٹ اس موضوع کو بھی دیے جائے تو مسئلہ کسی حد تک حل ہوسکتا ہے۔ تیکنیک میں جتنا مرضی آگے چلے جائیں جب تک مناسب تشہیر نہ ہو، معاملہ نہیں سلجھے گا۔

    • ابوشامل says:

      عثمان صاحب، آپ کا کہنا بالکل درست ہے کہ اصل مسئلہ اکثریت کا ناواقف ہونا ہے۔
      لیکن حقیقت یہ ہے کہ 2007ء سے پہلے میں بھی کمپیوٹر کی زبان 'انگریزی' کو سمجھتا تھا اور جب پہلی مرتبہ اردو میں سرچ کیا اور اردو محفل اور اردو وکی پیڈیا پر پہنچا تو اس کے بعد سے آج تک پہلے اردو میں سرچ کرتا ہوں اور پھر انگریزی مواد کو تلاش کرتا ہوں۔ اس لیے ضروری ہے کہ کم از کم پہلے مرحلے کو تو آسان بنا لیا جائے۔ پھر توقع رکھی جا سکتی ہے کہ لوگ اردو کی جانب آئیں گے۔ اس وقت پاکستان کے دور دراز اور دیہی علاقوں میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ تیزی سے پھیل رہا ہے اور توقع ہے کہ وہ اردو مواد کے لیے اہم مارکیٹ ثابت ہوں گے۔
      تشہیر کے سلسلے میں آپ کی بات درست ہے، میری کوشش ہوگی کہ چند اخبارات میں اس حوالے سے مضامین شایع کروائے جائیں، خصوصا ٹیکنالوجی کے صفحات پر۔ اگر ممکن ہوا تو چند معروف انگریزی ٹیکنالوجی جریدوں میں بھی مضمون شایع ہو سکتے ہیں۔ انگریزی بلاگز بھی اس سلسلے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

  15. ان پیج کی موت کا وقت قریب آن پہنچا ہے۔اس کے تمام مثبت پہلوءں کا احاطہ نئے عالمی نظام میں ہونا چاہیے۔انسٹالر کی تقریب رونمائی کا انتظار ہے۔البتہ وسٹا اور سیون کے علاوہ دیگر یوزرز کے لئے بھی آسانی کا پہلو ممکن ہونا چاہیے۔آپ حضرات نے فہد کی آواز پر لبیک کہہ کر زندگی کا ثبوت دیا ہے۔

  16. نبیل says:

    میں نے محفل فورم پر یہاں اس سلسلے میں مشاورت کا آغاز کر دیا ہے.

    • ابوشامل says:

      نبیل بھائی ۔۔ بہت شکریہ۔ میں آج محفل کا رخ کرتا ہوں۔

  17. فیصل says:

    ابو شامل میرے ذہن میں کچھ پراجیکٹ ہیں، انشااللہ اگلے برس کے اوائل میں پاکستان واپسی پر اس پر کام شروع کرونگا اور امید ہے آپ اور دیگر دوست اس میں ساتھ دینگے۔
    جہاں تک آپکی اس پوسٹ کے موضوع کی بات ہے، میں اس بارے جلد ہی ایک قدرے تفصیلی پوسٹ کرونگا انشااللہ لیکن موٹی موٹی باتیں یہاں کہے دیتا ہوں۔
    ۱۔ میرے خیال میں کسی بھی کام کے پیچھے ایک بڑا محرک پیسہ ہوتا ہے اسلیے جو بھی کام کریں اس پہلو کو ذہن میں رکھ کر کریں۔ میرا والنٹیرنگ کا کچھ تجربہ ہے لیکن عموما لوگ خصوصا پاکستانی دوست اس کا مطلب آزادی سمجھتے ہیں یعنی دل کیا تو کام کر لیا ورنہ نہ کیا۔ اس لیے پیسہ دے کر کام کروانا زیادہ بہتر رہتا ہے۔
    ۲۔ صرف جذبے سے کام نہیں چلتا، ایک ٹیم بننی چاہیے، ذمہ داریاں دی جائیں اور مقررہ وقت پر مقررہ کام کیے جانے کی توقع کی جائے۔
    ۳۔ پہیے کو دوبارہ ایجاد کرنے کا فائدہ نہیں، جو ہو چکا ہے اس کو لے کر آگے بڑھیں۔
    ۴۔ میرے ایک استاد کے مطابق ایک ہاتھ سے کام، دوسرے سے ڈھول بجانا چاہیے۔ یعنی مناسب تشہیر۔
    ۵۔ طلب اور رسد کو ذہن میں رکھ کر مواد کی تیاری۔ لوگ فلسفے پڑھنے سے زیادہ ایک موبائل فون کا ریویو پڑھنا چاہیں گے۔
    ۶۔ ویب ٹو خصوصاً یو ٹیوب، فلکر، فیس بُک، ٹویٹر وغیرہ کا بہتر استعمال۔
    ۷۔ ٹیم کی تیاری، ممبران کی حوصلہ افزائی اور غلطیوں پر جواب طلبی، ایک ٹیم کی شکل میں کام کرنے کی عادت ڈالنے کی تربیت۔

    جلدی میں یہی کچھ ذہن میں آیا ہے۔ انشااللہ مزید تفصیل جلد ہی ۔

    • ابوشامل says:

      برادر عزیز فیصل، آپ کے حرف حرف سے اتفاق ہے لیکن کچھ زمینی حقائق بھی ہوتے ہیں۔ اور ان میں سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں جتنے بھی لوگ اردو کے دامن سے وابستہ ہیں وہ اکثر درمیانے یا نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں یعنی ان کا سب سے بڑا مسئلہ مالی حالات کی خرابی ہے۔ ایسی ہزاروں خواہشیں ہیں جن کی تکمیل کی جا سکتی ہے اور اردو کے دامن کو انٹرنیٹ پر مزید وسیع کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے پیسے کی ضرورت ہے جو ہے نہیں۔ آپ نے بالکل درست کہا کہ رضاکارانہ کام ایسا ہی ہو رہا ہے خصوصا پاکستان میں کہ دل چاہا تو کیا ورنہ چھوڑ دیا تاہم یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ اردو کی ترویج، جس سے امیر طبقے کو کوئی غرض نہیں ہے، کے لیے کون اپنا سرمایہ شوقیہ دینا چاہے گا۔
      تشہیر کے حوالے سے آپ کا کہنا بالکل درست ہے لیکن اس میں بھی ایک مسئلہ ہے۔ اردو میں لکھنے اور کام کرنے والے بیشتر افراد انگریزی میں نہیں لکھ سکتے اس لیے وہ انگریزی اخبارات، رسائل یا بلاگز کے لیے کوئی اچھا مضمون لکھ کر نہیں بھیج پاتے اگر ایسا ممکن ہو جائے تو بہت اچھا ہوگا۔ ہم پاکستان کے مشہور آئی ٹی اور ٹیکنالوجی بلاگز پر اردو میں ہونے والی پیشرفت کے حوالے سے مضامین لکھ سکیں گے۔ یہ تشہیر کی سمت میں بہت اہم قدم ہوگا۔
      باقی آپ نے جو جواب طلبی، ذمہ داری اور احتساب کی بات کی ہے میرے خیال میں یہ اسی وقت مناسب رہے گی جب آپ پیسہ دے کر کام کروائیں۔ یعنی بات لے دے کر وہی پہلے پوائنٹ پر آتی ہے۔
      میں آپ کے منصوبوں اور مزید تفصیلات کا شدت سے منتظر ہوں۔ ناچیز بھی ان میں اپنی بساط کے مطابق کچھ نہ کچھ کر گزرے گا۔

  18. کاشف says:

    میری ناقص راۓ کے مطابق یہاں مسلہٴ مواد (content) بنانے والوں کا نہیں بلکے پڑھنے اور راۓ دینے والوں (users) کا ہے. پاکستان میں انٹرنیٹ استمال کرنے والے بیشتر لوگ یا تو اس بات سے بےخبر ہیں کہ ویب سائٹس پر اردو میں بھی گفتگو کی جاسکتی ہے، یا پھر وہ تکنیکی ناواقفیت کا شکار ہیں اور کمپیوٹر پر اردو لکھنے کو مشکل عمل گردانتے ہیں.

    چناچہ، اگر پڑھنے والوں کو یہ سہولت میسر آجاۓ کہ اردو فونٹ انسٹال کرنے کے بجائے وہ رومن رسم الخط کو نستعلیق اردو میں تبدیل کرسکیں تو آپ کی ویب سائٹ سے رابطہ کرنا اور اس میں موجود مواد پر راۓ دینا آسان ہوجائے گا اور لوگ نا صرف خود یہ کام کرینگے بلکے اس کی تشیر بھی کریں گۓ.

    اس سلسلے میں گوگل ٹرانسلٹریٹ پروگرام ایک انتہائی عمدہ کاوش ہے.

    • ابوشامل says:

      کاشف صاحب، سب سے پہلے تو بلاگ پر خوش آمدید۔
      آپ کا کہنا بالکل درست ہے کہ اصل مسئلہ لوگوں میں آگہی کی کمی ہے کہ وہ جانتے ہی نہیں کہ کمپیوٹر پر اردو لکھی جا سکتی ہے۔ اس کی تشہیر کرنے کی ضرورت ہے۔
      اس سلسلے میں دو ہی ٹولز اچھے ہو سکتے ہیں ایک کمپیوٹر پر اردو کی انسٹالیشن اور دوسرا گوگل ٹرانسلٹریشن۔ مجھے امید ہے کہ آپ اس سلسلے میں رابطے میں رہیں گے۔

  19. آپ كی بلاگ پوسٹ پڑھنے کے بعد میری دل موجود بھرگڑی صاحب کے لیے عزت اور بھی بڑھ گئی۔ اور دوسری طرف آپ کے بلاگ کی کسٹمائزشن دیکھ کر مجھے اپنا http://sindhicomputing.org پر کیا ہوا کام پھیکا نظر آرہا ہے، اور اس سلسلے میں آپ کی رہنمائی بھی چاہوں گا۔ اور نہ صرف یہ کہ بھرگڑی صاحب نے آپ کی اس پوسٹ کا حوالہ دے کر ہمیں مزید متحرک کرنے کی کوشش بھی کی ہے، جس سلسلے میں آپ بھی خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ بحوالہ: http://sindhicomputing.org/?p=681

    • ابوشامل says:

      منگریو صاحب، سب سے پہلے تو بلاگ پر خوش آمدید۔ مجھے خوشی ہے کہ میرا یہ آپ کے توسط سے پیغام سندھی بلاگرز اور انٹرنیٹ صارفین تک بھی پہنچا ہے اور ہو سکتا ہے اس تحریر کے ذریعے انٹرنیٹ پر اردو اور سندھی لکھنے والوں میں تعاون قائم ہو۔ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ بھرگڑی صاحب نے میری تحریر کا حوالہ دیا۔
      اپنے بلاگ کی کسٹمائزیشن کے حوالے سے صرف اتنا عرض کر سکوں گا کہ یہ میں نے کسی سے کروائی ہے، اور اب بھی اسے بہتر بنانے میں متعدد لوگوں کی کاوشیں ہیں۔

  20. بہت خوب جناب. تحریر اور پھر تبصروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اردو کا مستقبل روشن ہے. انشا اللہ.
    آپ کے بیان کردہ مسائل اور تبصروں میں بھی جو مسائل لکھے گئے وہ سب کے سب ہی قابلَ غور اور طلب ہیں. میرے نزدیک بھی اصل مسئلہ یہ ہے کہ لوگ اس بات سے آشنا ہی نہیں ہیں کہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پہ اردو بھی لکھی جاتی ہے. رومن لکھ لکھ کام چلاتے ہیں. ونڈوز سیون یا وسٹا والوں کو طریقہ بتانا آسان تو ہے لیکن ایک انسٹالر اس ساری رام کہانی کو ختم کر سکتا ہے جو کہ بہت ضروری ہے. ایکس پی والوں کو تو میں مشورہ ہی نہیں دیتا، کہ وہ سن کر ہی بدک جاتے ہیں!
    مجھے بہت ہی شدت سے انتظار رہے گا کسی ایک سٹینڈرڈ کی بورڈ اور انسٹالر کا.

    • ابوشامل says:

      آپ کے انتظار کی گھڑیاں ختم ہو گئیں، ایم بلال صاحب نے ایک انسٹالر تیار کر دیا ہے، ملاحظہ کیجیے۔

  21. آپ کی اس پوسٹ سے تحریک ملی اور اللہ کے فضل سے میں نے ونڈوز کے لئے ”پاک اردو انسٹالر“ تیار کر دیا ہے۔
    دیکھیئے اور مزید اس کو بہتر کرنے کے لئے مشورہ ضرور دیجئے گا۔
    http://www.mbilalm.com/blog/pak-urdu-installer/

    • ابوشامل says:

      بلال صاحب، انٹرنیٹ پر اردو کی ترویج کے لیے آپ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں، میں نے آپ کے بنائے گئے دونوں انسٹالرز ڈاؤنلوڈ کر لیے ہیں اور انہیں ایک مرتبہ چیک کرنے کے بعد پھر ان کے اجراء کا یہاں سے بھی اعلان کر دوں گا۔ ویسے قوی امید ہے کہ آپ نے ٹیسٹنگ کے تمام مراحل مکمل کر لیے ہوں گے اور اس کے بعد جاری کیا ہوگا۔ اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین

  22. mera shumar bhi unhi chand likhny walon main hota hy jo angrez zuban main likhty hayn per socha khalisatan urdu hy... kai baar urdu main ain nya silisla likhny ka irada kia aor har bar is irady ko tark karna parha iski barhi waja wohi hhy jo is mazmoon ka nafs e mazmoon hy.... umeed per agar dunia qaaim hy to yaqeenan urdu bhi qayam rahy gi.

    • ابوشامل says:

      ازلان! سب سے پہلے تو بلاگ پر خوش آمدید۔ آپ کے لیے خوشخبری ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے کوششیں شروع ہو گئی ہیں اور پہلی کوشش آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں
      http://www.mbilalm.com/blog/pak-urdu-installer/
      اس لنک پر پیش کیے گئے سافٹ ویئر ایکس پی سے لے کر سیون تک کسی بھی ونڈوز آپریٹنگ سسٹم میں بغیر کسی مسئلے کے اہم فونٹس اور فونیٹک کی بورڈ انسٹال کر دیتے ہیں۔ امید ہے کہ آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔

  23. ایک حدیث شریف میں ہے کہ الدال علی الخیر کفاعلیہ۔ یعنی خیر کی طرف نشاندہی کرنے والا گویا اس کا کرنے والا ہے۔

    آپ نے ایک اہم بات کی طرف توجہ کرائی اور پھر بلاگرز دوست نے اس کام پر محنت کی تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسکا بہتر نتیجہ م بلال م کی کوشش سے سامنے آگیا۔ لھذا م بلال م کے ساتھ آپکا شکریہ ادا نہ کرنا انصاف نہیں ہوگا ۔لھذا میں آپکا بھی مشکور ہوں کہ آپکے سبباتنا بڑا مسئلہ قابل توجہ بن کر حل ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ آپکو جزائے خیر عطا فرمائے۔ اور مستقبل میں بھی خیر کے کاموں کی طرف نشان دہی کی توفیق دے ۔آمین

    • ابوشامل says:

      درویش صاحب، میرے شکریے کی کیا ضرورت ہے۔ مجھے تو خوشی ہے کہ میرے چند الفاظ بہت سارے لوگوں کو متحرک کرنے اور ایک اہم کام کی تکمیل کا باعث بنے۔ اس پر میں اللہ کا بھی شکر گزار ہوں اور آپ جیسے تمام افراد کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔
      والسلام

  24. urdutext says:

    میری رائے میں کلیدی تختہ کے نقشہ میں تغیر سے کوئی خاص نقصان نہیں۔ تاریخی طور پر اردو طبعہ نویس نہ اپنانے سے خاصہ نقصان ہوا۔ بحرحال تاریخی وجوہات تو اپنی جگہ مگر حال کے لیے کچھ کیا جا سکتا ہے۔ ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ ملک میں شمارندہ فروخت کرنے والے کاروباریوں کو قانوناً اس بات کا پابند کیا جاوے کہ متصفح جال کا معین تلاش کندہ 'گوگل پاکستان' کو مقرر کر کے گاہک کو دیں۔ اس میں یہ خوبی بھی ہے کہ اردو کلیدی تختہ اس میں موجود ہوتا ہے (صوتی!)۔
    http://www.google.com.pk/

    اس کے علاوہ دوست احباب کو بھی تلقین کرو کہ یہی صفحہ استعمال کریں۔ ابھی گوگل نے اردو کو باظابط زبان کا درجہ نہیں دیا، ورنہ فائرفاکس کے لیے درسداد بھی بنایا جا سکتا ہے جس طرح دوسری زبانوں کے لیے دستیاب ہیں۔

    https://addons.mozilla.org/en-US/firefox/search/?q=Google.de&cat=all

  25. مکی says:

    لیجیے جناب ہم نے بھی وعدہ وفا کردیا 🙂
    http://makki.urducoder.com/?p=2623

    • ابوشامل says:

      کیا کہنے جناب۔ جیتے رہیے۔ اب اس بلاگ کے urdu language support کے صفحے کو اپ ڈیٹ کرنے کا وقت آن پہنچا ہے 🙂

  26. جب تک تعلیمی اداروں کے نصاب میں اردو کی بورڈ (خواہ کوئی بھی ہو) کو شامل نہیں کیاجاتا . مسئلہ جوں کا توں رہے گا. آج کل انٹرنیٹ پر اردو پڑھنے والے تو بے شمار ملیں گے. مگر لکھنے والے ندارد. وجہ صرف ایک ہی ہے کہ اگر کوئی اردو سپورٹ انسٹال بھی کرلے تو اردو کی بورڈ کی مشق نہ ہونے کے سبب کچھ لکھ نہیں پاتا. آج اردو انٹرنیٹ کو لکھنے والوں کی ضرورت ہے. جس کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں جن کی مدد سے طالب علموں کومجبور کیا جاسکے کہ وہ کمپیوٹر پر اردو لکھنا سیکھیں. ورنہ حالات جوں کے توں رہیں گے.

  27. میں ابنتو پر اردو فونٹس کیسے انسٹال کروں؟ میں جانتا ہوں کہ ابنتو میں اردو کی تنصیب موجود ہے لیکن اس میں کچھ الفاظ موجود نہیں. انکی جگہ خالی ڈبے آجاتے ہیں. اگر ابنتو 11.04 کے لیے فونیٹک کلیدی تختہ (کی بورڈ) مل جاے تو مزہ آجاے.
    شکریہ.

    • ابوشامل says:

      آصف علی صاحب، سب سے پہلے تو بلاگ پر خوش آمدید۔
      اوبنٹو پر تو کوئی مسئلہ ہی نہیں، وہاں اردو سپورٹ کو انسٹال کرنا ونڈوز سے کہیں زیادہ آسان ہے۔ بہرحال فونٹ انسٹال کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ فونٹ کی فائل کھولیں اس میں آپ کو نیچے انسٹال فونٹ کا بٹن نظر آ رہا ہوگا۔ اس پر کلک کر دیں، فونٹ انسٹال ہو جائے گا۔
      آپ کے لیے معاملہ بالکل آسان کیے دیتے ہیں، ہمارے عزیز دوست محمد علی مکی نے لینکس کے لیے ایک انسٹالر تیار کیا ہے جس کو چلا دیں، فونٹس اور فونیٹک کی بورڈ سب انسٹال ہو جائے گا۔ یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں اور دعائیں دیں 🙂
      http://makki.urducoder.com/?page_id=1289&did=47

  28. ان پیج سے آپ کا شکوہ بجا ہے، میرا بہت ساتھ رہا ہے ان پیج سے، مگر میں اب اسے الوداع کہہ چکا ہوں. خوش خبری یہ ہے کہ ان پیج کا جو نیا ورژن ہے 3ء0 مکمل یونیکوڈ کو سپورٹ کرتا ہے. اس سائٹ میں لکھا ہے کہ جمیل نوری نستعلیق ان پیج کا پائریٹڈ ورژن ہے. اس دعوے کی حقیقت کہاں تک صحیح ہے؟
    http://www.axiscomputers.com

  29. Naseem says:

    اچھا تبصرہ ھے

  30. دعا says:

    پاک اردو انسٹالر ان تمام لوگوں کے لئے ہے جو کہتے ہیں کہ اردو انسٹال کرنا اتنا مشکل ہے۔

  31. ابوشامل صاحب! میں گورنمنٹ کالج میں لیکچرر یوں. آپ کی کوشش قابل تحسین ہے کہ آپ کی تحریک سے ایک اچھا اردو انسٹالر تیار ہوا مگر میں آپ کی دو باتوں سے متفق نہیں یوں.

    ایک تو آپ نے لکھا تھا کہ انٹرنیٹ کی دنیا میں اردو زبان میں بہت اعلی اور تخلیقی مواد موجود نہیں دوسرا یہ کہ اردو میں اچھا اور تعمیری لکھنے والوں کی کمی ہے.

    حقیقت یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر اردو ادب کی عظیم کتب بڑی تعداد میں دستیاب ہیں، ہاں یہ سوال الگ ہے کہ کس فارمیٹ میں ہیں. آپ PDF فارمیٹ میں اردو کی بے شمار کتابیں سرچ اور ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں. مثال کے طور پر میں نے مشتاق احمد یوسفی، احمد ندیم قاسمی، قدرت اللہ شہاب، منٹو، پریم چند کی کتابوں کے علاوہ اردو تراجم، شرحیں اور مشہور لغات اردو میں سرچ اور ڈاؤن لوڈ کے ہیں.
    باقی آپ کی یہ بات کہ اردو میں اچھا اور تعمیری لکھنے والوں کی کمی ہے، اردو کے شعراء اور نثرنگاروں کے ساتھ زیادتی ہے. شاید آپ کا مطالعہ وسیع نہیں ہے.
    البتہ میں بھی اس بات کے حق میں ہوں کہ مواد امیج فارمیٹ میں نہ ہونا بہتر ہے.

  32. رضوانہ سید علی says:

    میں بچپن سے لکھتی چلی آ رہی ہوں.بچوں کے رسالے تعلیم وتربیت اور ہمدرد نونہال پڑھنے والے مجھے جانتے ہیں.اردو ڈائجسٹ سے بھی تعلق رہاہے.بچوں کے لئے نو کتابیں لکھی ہیں.جن میں سے پانچ کہ نیشنل بک فاؤنڈیشن سے ایوارڈ مل چکا ہے.نظام تعلیم پہ ایک کتاب سہ رنگا نظام تعلیم کے نام سے جنگ پبلیشرز سے چھپ چکی ہے.دو افسانوی مجموعے نوک قلم پہ خار اور پیلے پھولوں کا نوحہ کے عنوان سے چھپ چکے ہیں.ایک ناول خواب گزیدہ کے عنوان سے خون دل میں قلم ڈبو کر لکھا ہے.ابھی بلاگز میں ایک بھائی کا جملہ دیکھا کہ ان کے استاد کہتے تھے کی ایک ہاتھ سے کام کرو دوسرے سے ڈھنڈورہ پیٹو.واقعی پاکستان میں تو ایسا کرنے والا ہی کامیاب ہے ورنہ کوئی پوچھنے والا نہیں.اردو کانفرنسوں کا نقشہ بھی ایک بھائ نے بالکل درست کھینچا ہے.میں نے بھی ابھی پرسوں ہی سچ بلاگز پہ ادب کے ٹھیکدار کے نام سے کچھ ایسا مضمون ہی لکھا ہے.مجھے یہ پلیٹ فارم بیحد پسند آیا ہے.انشااللہ آئندہ قلمی رابطہ رہے گا.اردو کے ساتھ ایک ستم یہ ہو رہا ہے کہ اسے تعلیمی نظام میں ثانوی حیثیت دے دی گئی ہے.اسی لئے سب خرابی پیدا ہو رہی ہے.

  33. آپ کی تحریر واقعی قابل تعریف ہے says:

    میں آپ سے متفق ہوں. پھر اس کے ساتھ ہمیں ایک اور کام بھی کرنا ہوگا کہ جو بھی ویڈیو اپلوڈ کرے اس کا نام انگریزی کے بجائے اردومیں لکھےالیکن ایسا کرنے والے کی ویڈیو کوئی نہیں دیکھے گاہاں اگر وہ اردو اور انگریزی دونوں کا استعمال کرے تو اسکی ویڈیو بھی چلے گی اور لوگو ں کا اردو کی طرف رجحان بھی بڑھے گااب آپ کہیں گے کہ صرف ویڈیو ہی کی بات کیوں تو میں یہ عرض کرتا چلوں کہ اردو میں نیٹ پر کافی تحریری مواد موجود ہے . اگر کہا جائے کہ اردو میں بصری مواد نہ ہونے کہ برابر ہے تو بے جا نہ ہوگا. اور کو ئی بھی ہنر زبان یااسطرح کی کوئی دیگرعملی (پریکٹیکل) علوم کو تحریری طور پر سمجھانا ناممکن ہے اور ایک بات اور کہ ہمارے پیارے پاکستانی بھائی اگر کچھ اپلوڈکرنے کی سوچھتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ کسی خاص موضوع پر ہی کچھ اپلوڈ کرنا ہوگا پھر اگر آپ انگریزی میں دیکھیں گے تو آپ کو چھوٹی سے چھوٹی چیز کے بارے میں ویڈیو ملے گی شاید کہ میری بات آپ کو عجیب لگے پھر یہ میرا ذاتی تجربہ و رائے ہے

  34. راج ولی says:

    میں آپ سے متفق ہوں. پھر اس کے ساتھ ہمیں ایک اور کام بھی کرنا ہوگا کہ جو بھی ویڈیو اپلوڈ کرے اس کا نام انگریزی کے بجائے اردومیں لکھےالیکن ایسا کرنے والے کی ویڈیو کوئی نہیں دیکھے گاہاں اگر وہ اردو اور انگریزی دونوں کا استعمال کرے تو اسکی ویڈیو بھی چلے گی اور لوگو ں کا اردو کی طرف رجحان بھی بڑھے گااب آپ کہیں گے کہ صرف ویڈیو ہی کی بات کیوں تو میں یہ عرض کرتا چلوں کہ اردو میں نیٹ پر کافی تحریری مواد موجود ہے . اگر کہا جائے کہ اردو میں بصری مواد نہ ہونے کہ برابر ہے تو بے جا نہ ہوگا. اور کو ئی بھی ہنر زبان یااسطرح کے کوئی دیگرعملی (پریکٹیکل) علوم کو تحریری طور پر سمجھانا ناممکن ہے اور ایک بات اور کہ ہمارے پیارے پاکستانی بھائی اگر کچھ اپلوڈکرنے کی سوچھتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ کسی خاص موضوع پر ہی کچھ اپلوڈ کرنا ہوگا پھر اگر آپ انگریزی میں دیکھیں گے تو آپ کو چھوٹی سے چھوٹی چیز کے بارے میں ویڈیو ملے گی شاید کہ میری بات آپ کو عجیب لگے پھر یہ میرا ذاتی تجربہ و رائے ہے باقی آپ کی مرضی .لیکن میرایہ سوال ہے کہ اس تصویری مواد تک ہماری رسائی کیسے ممکن ہوسکتی ہے.کیونکہ اس تمام اخبار ناول وغیرہ کو کوئی ٹیکس کنورٹ تو نہیں کرے گا .اسکے لیے بھی کچھ کرنا پڑے گا.اور ہمیں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اردو سرچنگ کے بارے میں آگاہ کرنا ہوگا کیونکہ جتنے لوگ گوگل پر اردو میں سرچنگ کریں گے اتنی ہی اردو کی اہمیت بڑے گی اور شاید گوگل اپنے مفاد کے لیے ہی سہی پھر اردو کی کچھ خدمت کرلے.

  35. اکرام شاہد says:

    سلام:
    جناب آپ سے گذارش ہے کہ جمیل نوری نستعلیق کے ساتھ ساتھ جمیل نوری کشیدہ کی طرف توجہ دینی ہوگی کیونکہ" جمیل نوری کشیدہ" جمیل نوری نستعلیق سے کہیں ذیادہ جاذب نظر اور سکرین پر آسانی سے پڑھا جانیوالا فونٹ سٹائل ہے۔
    شکریہ

  36. ikram shahid says:

    سلام:
    جناب آپ سے گذارش ہے کہ جمیل نوری نستعلیق کے ساتھ ساتھ جمیل نوری کشیدہ کی طرف توجہ دینی ہوگی کیونکہ" جمیل نوری کشیدہ" جمیل نوری نستعلیق سے کہیں ذیادہ جاذب نظر اور سکرین پر آسانی سے پڑھا جانیوالا فونٹ سٹائل ہے۔
    شکریہ

  1. June 8, 2011
  2. June 16, 2011

    [...] تھی جو کہ وقت کے ساتھ ساتھ دم توڑ چکی تھی۔ کچھ دن پہلے ابو شامل صاحب کی تحریر نے اس کام کو کرنے کی تحریک دی اور اللہ کے فضل سے میں [...]

  3. June 16, 2011

    [...] تھی جو کہ وقت کے ساتھ ساتھ دم توڑ چکی تھی۔ کچھ دن پہلے ابو شامل صاحب کی تحریر نے اس کام کو کرنے کی تحریک دی اور اللہ کے فضل سے میں [...]

  4. June 18, 2011

    [...] جب کام شروع ہوا تو میری معلومات کے مطابق دو جگہوں یعنی ابوشامل صاحب کے بلاگ اور اردو محفل پر بحث کی گئی۔ ان دونوں لنکس پر [...]

  5. June 20, 2011

    [...] بات چلی ہے اردو کی ترقی کی ۔ میری اس تحریر کی وجہ بھی ابو شامل صاحب ہی ہیں (یعنی دعاؤں یا بددعاؤں کا رخ ادھر ہی رکھیے) ۔ نہیں ایسا [...]

  6. July 11, 2011

    [...] شامل صاحب نے یہاں منادی لگائی کہ جناب کمپیوٹر پر اردو انسٹال/فعال کرنا نئے حضرات کے [...]

  7. July 27, 2011

    [...] دنوں ابو شامل نے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو کی ترویج کیلئے ایک ایسے [...]

  8. August 10, 2011

    [...] (A detailed article regarding the problems associated with Urdu Language on Internet can be found here) [...]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *