Urdu Language Support
کمپیوٹر پر اردو پڑھنا اور لکھنا اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ انگریزی، بلکہ شاید اس سے کہیں زیادہ آسان ہے کیونکہ یہ ہماری اپنی زبان ہے۔ آپ چاہے Windows 2000 ® استعمال کرتے ہوں یا Windows XP ® یا پھر جدید Windows Vista ® یا Windows 7 ® حتیٰ کہ اگر آپ Mac OS Xاور Linux بھی استعمال کرتے ہیں تب بھی آپ اپنے آپریٹنگ سسٹم میں اردو کی بھرپور سپورٹ پائیں گے اور محض چند لمحوں میں کمپیوٹر پر اردو لکھنے اور پڑھنے کے قابل بن سکتے ہیں۔ ذیل میں تمام آپریٹنگ سسٹمز میں اردو کی تنصیب (installation) کا طریقہ درج ہے۔ اس کے علاوہ مفید روابط [links] بھی پیش کیے جا رہے ہیں۔
Windows 2000 ® میں اردو کی تنصیب
Windows XP ® میں اردو کی تنصیب
اگر آپ Windows XP ® استعمال کرتے ہیں تو کمپیوٹر کو اردو اور لکھنے کے قابل بنانا بہت آسان ہے۔
1۔ اپنے Control Panel کے Regional and Language Options میں جائیے۔
2۔ یہاں Languages کے ٹیب پر جائیے اور Install files for complex script and right-to-left languages (including Thai) پر چیک مارک لگا دیجیے۔
3۔ آپ apply یا OK کریں گے تو آپ سے Windows XP ® کی سی ڈی مانگی جائے گی۔ اپنے CD-ROM میں سی ڈی ڈالیے۔ چند فائلز کاپی ہونے کے بعد کمپیوٹر ری اسٹارٹ کرنے کا پیغام ملے گا۔ کمپیوٹر کو ری اسٹارٹ کیجیے۔
4۔ ری اسٹارٹ ہونے کے بعد دوبارہ Regional and language options میں آئیے اور Languages کے ٹیب میں Details کے بٹن پر کلک کیجیے۔
5۔ یہاں پر آپ کو Installed Services میں آپ کو تنصیب شدہ زبان(یں) نظر آ رہی ہوں گی۔ آپ Add کے بٹن پر کلک کیجیے اور Input language میں ڈراپ ڈاؤن مینیو سے Urdu کا انتخاب کیجیے۔ Keyboard layout/IME میں بھی ازخود Urdu منتخب ہو جائے گی۔
لیجیے آپ کا کمپیوٹر اردو لکھنے کے قابل ہو چکا ہے۔ آپ Alt+shift کے ذریعے کی بورڈز کے درمیان سوئچ کر سکتے ہیں۔
نوٹ: اگر آپ Microsoft کا فراہم کردہ ڈیفالٹ کی بورڈ استعمال نہیں کرتے تو آپ اپنی مرضی کا لے آؤٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کر کے انسٹال کر سکتے ہیں اور دوبارہ Installed Services میں جا کر Add کے بٹن پر کلک کیجیے اور Input language میں Urdu اور Keyboard layout/IME میں اپنی مرضی کے نصب کیے گئے کی بورڈ کو منتخب کر لیں۔
Windows Vista ® میں اردو کی تنصیب
1۔ Windows Vista ® کے کنٹرول پینل میں جائیے اور Regional and Language Options کھولیے۔
2۔ کھلنے والی ونڈو میں Keyboard and Languages پر جائیے اور Change Keyboards کا بٹن دبادیں۔
3۔ یہاں Add پر کلک کریں اور جو ونڈو ظاہر ہوگی یہیں آپ زبان اور کی بورڈ کو منتخب کریں گے۔ آپ Islamic Republic of Pakistan کا انتخاب کریں۔
4۔ اس طرح Windows Vista ® میں اردو کی تنصیب کامرحلہ مکمل ہوا۔ آپ بالکل Windows XP ® کی طرح Alt+Shift کے ذریعے کی بورڈز کے درمیان سوئچ کر سکتے ہیں۔
نوٹ: اگر آپ Microsoft کا ڈیفالٹ کی بورڈ استعمال نہیں کرتے یا کر سکتے تو اپنی مرضی کا کی بورڈ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کریں اور پھر مندرجہ بالا عمل دہراتے ہوئے Islamic Republic of Pakistan کے ذیل میں Urdu کی جگہ اپنے پسندیدہ کی بورڈ کو منتخب کر لیں۔
Windows 7 ® میں اردو کی تنصیب
Windows 7 ® میں اردو کی تنصیب کا طریقہ کار بعینہٖ وہی ہے جو Windows Vista ® میں ہے۔
Mac OS X میں اردو کی تنصیب
اس کے لیے مجھے کسی ایک صارف کی تلاش ہے جو Mac استعمال کرتا ہو اور اس سلسلے میں ایک چھوٹا سا ٹیوٹوریل بنا کر دے سکے۔
Ubuntu Linux میں اردو کی تنصیب
کسی بھی جدید Ubuntu Linux پر اردو کی بورڈ محض چند لمحوں میں نصب کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے Systemسے Preferences کے مینیو میں جا کر Keyboard کا انتخاب کیجیے اور Layout کے ٹیب میں جا کر پاکستان کو منتخب کر کے Add کر لیجیے۔ اب آپ کے اوبنٹو آپریٹنگ سسٹم میں اردو کا Phonetic کی بورڈ نصب ہو چکا ہے۔ علاوہ ازیں اپنی مرضی کا شارٹ کٹ بھی منتخب کر سکتے ہیں۔
اگر آپ ٹاسک بار میں Keyboard Indicator دیکھنا چاہتے ہیں تو Ubuntu کے ٹاسک بار پر رائٹ کلک کر کے Add to panel پر کلک کیجیے۔کھلنےوالی ونڈوسے Keyboard indicatorکو ٹاسک بار میں Add کر لیجیے۔ اب Keyboard indicator آپ کے ٹاسک بار کی زینت بن چکا ہے۔
فونٹس[Fonts]
چند سال قبل اردوکے فونٹس نایاب نہیں تو کمیاب ضرور تھے۔ لیکن آہستہ آہستہ جیسے جیسے یونیکوڈ (یعنی تحریری) اردو کا استعمال بڑھتا گیا،اردو فونٹس کی ضرورت بھی بڑھتی گئی۔ پہلے پہل تونسخ فونٹس ہی میدان میں آئے خصوصابی بی سی کا اردو نسخ ایشیا ٹائپ فونٹ بڑے پیمانے پر پھیلااور شہرت سمیٹی۔ اس کے بعدآہستہ آہستہ کئی فونٹس (نفیس ویب نسخ وغیرہ) میدان میں آئے لیکن ایک اچھے نستعلیق فونٹ کی طلب اور زیادہ بڑھتی گئی۔
نستعلیق فونٹ کی تخلیق تکنیکی اعتبار سے “جوئے شیر” لانے کے مترادف اور ایک طویل و صبر آزما عمل تھا اور ہے۔ ابتدا میں نفیس نستعلیق کے ذریعے ایک اچھی کوشش کی گئی جو خوبصورتی کے اعتبار سے تو بلاشبہ ایک انتہائی دلکش فونٹ تھا لیکن اتنا بھاری تھا کہ اسے دستاویزات اور ویب سائٹ پر استعمال نہیں کیا جاسکتا تھا۔ البتہ چند ٹیلی وژن چینل آج بھی اپنا ticker چلانے کے لیے اسی فونٹ کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ خوبصورتی کے اعتبار سے بلاشبہ اس کا کوئی ثانی نہیں۔
نفیس نستعلیق کے بعد ایک قابل استعمال نستعلیق فونٹ کی طلب اور بڑھ گئی اور اس مرتبہ یہ بیڑہ مرکز فضیلت اردو کے محسن حجازی اور ان کی ٹیم نے اٹھایا جنہوں نے پاک نستعلیق کے نام سے ایک ایسا فونٹ پیش کیا جو نفیس نستعلیق کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز تھا لیکن خوبصورتی میں وہ نفیس نستعلیق جیسا نہ تھا۔ گویا ایک خوبصورت اور قابل استعمال نستعلیق فونٹ کے لیے اردو کے چاہنے والوں کو 2008 کے آخری ایام تک کا انتظار کرنا پڑا جب پشاور سے تعلق رکھنے والے امجد علوی اپنی ماہرانہ قابلیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک ایسا فونٹ تخلیق کرنے میں کامیاب ہوگئے جو معروف خطاط مرزا احمد جمیل کے شہرہ آفاق “نوری نستعلیق” خط کی بنیاد پر بنایا گیا اور اس نے تمام آپریٹنگ سسٹمز اور بیشتر سافٹ ویئرز پررفتار و خوبصورتی کے اعتبار سے بہترین نتائج دیے۔ یہ انٹرنیٹ پر اردوکی ترویج کے سلسلے میں ایک بہت بڑی جست تھی اور اس نے گویا ناممکن کو ممکن بنانے کے لیے ایک راستہ بنادیا جس پرچلتے ہوئے اردو کمپیوٹنگ مستقبل میں کافی ترقی کرسکتی ہے۔
جدید ترین جمیل نستعلیق نامی خط میں علوی نستعلیق کی چند خامیوں کو دور کرنے کے علاوہ اس کی اشکال (ligatures) میں بھی کافی اضافہ کیا گیا اور یہی اِس وقت دنیائے اردو کا سب سے بہترین فونٹ ہے جو مائیکروسافٹ آفس سے لے کر اوپن آفس اور انٹرنیٹ ایکسپلورر سے لے کر موزیلا فائرفاکس تک تمام سافٹ ویئرز میں بہترین نتائج دے رہا ہے۔ اس فونٹ کی سب سے خوبی اس میں کشیدہ کرنے کی سہولت ہے۔
آپ اردو کے کئی خوبصورت فونٹس یہاں سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ میری ذاتی فانٹ کلیکشن یہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ اس میں نستعلیق سمیت اردو کے کئی معروف فونٹس شامل ہیں۔








میرا تذبذب پرما لنکس کے بارے میں ہے: پوسٹ کا پرمالنک اردو میں ہو یا انگریزی میں؟
فی الوقت تو میں اردو پرمالنکس ہی استعمال کر رہا ہوں لیکن سوچتا ہوں کہ بیشتر لوگ سرچ کرتے وقت اردو کے الفاظ کو اردو میں ٹائپ کرنے کی بجا ئے انگریزی حروف استعمال کرتے ہوئے رومن اردو میں ہی لکھتے ہیں سو شاید بہتر ہو اگر میں پوسٹ کا پرمالنک انگریزی میں کر دوں۔
کیا میرا یوں سمجھنا درست ہے؟
دیگر اردو بلاگرز یا تو پوسٹ نمبر والا پرمالنک استعمال کر رہے ہیں یا پھر میری طرح اردو والا-
آپ کے بلاگ پر انگریزی والا پرمالنک استعمال ہو رہا ہے۔ سوچا آپ کا مشورہ اس ضمن میں لے لوں۔
آپ کچھ راہنمائی فرما دیں تو مشکور ہوں گا۔
[جواب]
ابوشامل Reply:
March 5th, 2010 at 13:48
جناب عرفان! پرما لنکس کے بارے میں میرا موقف یہی ہے کہ انہیں انگریزی میں ہونا چاہیے۔ تکنیکی طور پر جو مسائل ہوتے ہیں ان سے قطع نظر سرچ میں یہ بہت کام آتے ہیں اور آپ کی تحریر نمایاں ہو جاتی ہے۔ میں یہی سفارش کروں گا کہ آپ انگریزی والا پرما لنک استعمال کریں۔
[جواب]
بہت ممنون ہوں جناب آپ نے بات واضح کر دی.
[جواب]