فلا تقلُ لّهمآ أُفٍّ

زندگی بہت تیز رفتار ہو گئی ہے، ہم کولہو کے بیل کی طرح ایک روٹین میں بندھ گئے ہيں۔ اس معمول میں شاذ و نادر ہی کوئی تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ صبح سویرے اٹھنا، بچوں کو اسکول چھوڑنا، پھر اپنے دفتر روانگی، سارا دن کام کرنے کے بعد روزانہ ایک ہی وقت پر گھر پہنچنا اور پھر چند لمحے گھر والوں کے ساتھ گزارنے کے بعد سو جانا اور صبح دوبارہ وہی چکر۔ ہمارے پاس اپنے قریبی ترین افراد کے ساتھ گزارنے، ان کے بارے میں سوچنے اور ان کے مسائل کو جاننے اور سمجھنے کے لیے بھی وقت نہیں بچا۔

زندگی کی اس بے ہنگم دوڑ کے درمیان ایک لمحہ ایسا بھی آیا جس نے مجھے اپنے رویے کے بارے میں سوچنے کا موقع دیا اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ وہ موقع تھا جسے غم کا موقع کہا جاتا ہے۔ وہ لمحہ جس میں پلک جھپکتے میں زندگی کی حقیقت و حیثیت میرے سامنے آشکار ہوگئی۔ معلوم ہو گیا کہ یہ روز مرہ کے کام جنہیں ہم اپنے اور اپنے ارد گرد کے افراد سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں، اور ان کاموں کو پورا کرنے میں جتے رہتے ہیں، اُن کی حیثیت کیا ہے۔ اور اندازہ ہوتا ہے کہ اصل اہمیت ان کاموں کی نہیں جنہیں ہم نے اہم سمجھ رکھا ہے بلکہ ان افراد و معاملات کی ہے جنہیں ہم اہمیت تو بہرحال دیتے ہیں لیکن اتنی نہیں جتنی کے وہ حقدار ہوتے ہیں۔

ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمارا عقیدہ ہے کہ دنیا کی زندگی کا خاتمہ دراصل ایک عارضی جدائی ہے اور اللہ تبارک تعالیٰ نے انسان کو لافانی بنایا ہے۔ وہ ایک دنیا سے دوسری دنیا میں منتقل ہو جاتا ہے بقول اقبال کہ "موت تجدیدِ مذاق ِ زندگی کا نام ہے"۔ لیکن اس دنیا کی بھول بھلیوں میں ہم اس قدر کھو جاتے ہیں کہ ہمارے پاس اپنوں کے لیے بھی وقت نہیں بچتا اور جب وہ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو پھر دل میں اک بے کلی سی رہ جاتی ہے کہ کاش ہم ان کے ساتھ گزارے گئے لمحات کو اور اچھے انداز سے گزارتے، اے کاش کہ ان کی صحبت سے مزید فیض اٹھا لیتے لیکن مہلت ختم ہو چکی ہوتی ہے۔

تو قدر کیجیے اس مہلت کی، ان لمحات کی جو آپ کو اپنے والدین کے ساتھ میسر ہیں، یقین کیجیے والدین جیسا آپ کی زندگی میں کوئی نہیں آئے گا، ان کی اہمیت کو سمجھیے، انہیں اولیت و اہمیت دیجیے کیونکہ ان کے خلاء کو کوئی پر نہیں کر سکتا۔ اگر آپ کو والدین میں سے کسی کی خدمت کا موقع ملتا ہے تو آپ بہت سعادت مند ہیں اور ان کی جدائی کے غم کے باوجود آپ کو ایک دلی اطمینان و سکون ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی بساط کے مطابق ان کی خدمت کی اور انہیں خوش رکھنے کی کوشش کی بالکل اسی طرح جس طرح وہ بچپن میں آپ کی خوشی کو ملحوظ خاطر رکھتے تھے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

14 تبصرے

  1. اپنی اغراض ميں ڈوبا انسان اپنے اُوپر وقت کو تنگ کر ليتا ہے ۔ جو انسان مقاصد کا متلاشی ہوتا ہے اُس کيلئے يہی وقت کشادہ ہو جاتا ہے ۔ صرف آزمائش شرط ہے

  2. "معلوم ہو گیا کہ یہ روز مرہ کے کام جنہیں ہم اپنے اور اپنے ارد گرد کے افراد سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں، اور ان کاموں کو پورا کرنے میں جتے رہتے ہیں، اُن کی حیثیت کیا ہے۔ اور اندازہ ہوتا ہے کہ اصل اہمیت ان کاموں کی نہیں جنہیں ہم نے اہم سمجھ رکھا ہے بلکہ ان افراد و معاملات کی ہے جنہیں سے ہم اہمیت تو بہرحال دیتے ہیں لیکن اتنی نہیں جتنی کے وہ حقدار ہوتے ہیں"

  3. درست فرمایا آپ نے

  4. اللہ بھلا کرے آپ کا۔ آپ نےایک بڑی اچھی یاد دہانی کرائی۔ اللہ ہم سب کو اپنے والدین کی قدر اورخدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔جانے انجانے میں اُن کی شان میں ہم سے جو کوتاہیاں اور گستاخیاں ہو چکی ہیں اُن سے درگزر فرمائے۔ آپ سمیت جن کے والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں وفات پا چکے ہیں، مولا کریم اپنی بے پناہ رحمت کے صدقے میں اُن کی مغفرت فرمائے، اور ہم سب کو جنت الفردوس میں یکجا کرے۔آمین

  5. بہت اچھی تحریر ہے پڑھ کر واقعی احساس ہوتا ہے کہ ہمیں اپنی ترجیحات کو گاہے گاہے جانچتے رہنا چاہیے.

    شکریہ اس یاد دہانی کا.

  6. جزاک اللہ ایک انتہائی اہم توجہ دلائی ہے آپ نے۔
    زندگی کے عام معمولات تو ایسے ہی بے ڈھب ہوتے ہیں ۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ دینی جذبات رکھنے والے بہت سے لوگ بھی اس فریضے سے غفلت کے مرتکب ہیں ۔ میری دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں ان غافل لوگوں میں شامل نہ ہونے دے اور ہمارے والدین کو ہمارے لیے جنت بنا دے ۔آمین ۔

  7. حجاب says:

    بلکل ٹھیک لکھا ہے آپ نے ۔۔

  8. برادرم ابو شامل - اس اہم یاد دہانی کا بے حد شکریہ -

  9. زبیر انجم صدیقی says:

    مرگ اک ماندگی کا وقفہ ہے
    یعنی آگے چلیں گے دم لے کر

  10. اچھی یادہانی ہے، واقعی والدین کا ساتھ کسی نعمت سے کم نہیں.اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے.

  11. میرا تبصرہ اس تحریر کے متْعلق نہیں----گھومتے پھرتے آپ کا بلاگ سامنے آ گیا
    بلاگ کی پیشانی پہ تحریر مصرعہ چیک کر لیں

    • ابوشامل says:

      خوش آمدید۔ آپ نے یہ نہیں بتایا کہ اس مصرعے میں مسئلہ کیا ہے؟
      میرے خیال میں تو مصرعہ بالکل درست ہے

  12. میں نے یہ مصرعہ کئ جگہ یوں پڑھا ہے
    مرے ہنگامہ ہاءے نو بہ نو کی انتہا کیا ہے

    • ابوشامل says:

      توجہ دلانے پر بہت شکر گزار ہوں۔ اسے پہلی فرصت میں درست کرواتا ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.