سوزش باطن کے ہیں احباب منکر

اشتہارات کی دنیا میں ہر شے ایک سراب ہے۔ آپ سگریٹ پی کر پہاڑوں کی چوٹیاں سر کر سکتے ہیں، نہ ہی ایک کولڈ ڈرنک پی کر طوفانوں سے ٹکرا سکتے ہیں۔ ان اشتہارات کا عام زندگی کی حقیقتوں سے بہت کم تعلق ہوتا ہے اور زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ ظاہر و باطن میں تفاوت ایک دوغلا و منافق شخص کی نشانی ہوتی ہے۔ اس کی شخصیت کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے ظاہری لیپا پوتی کے ذریعے مردہ جسم کے اندر روح پھونکنے کی کوشش کی جائے لیکن یہ عمل بھی اس کے چہرے پر وہ حیات آفریں شگفتگی نہیں لا سکتا جو زندگی کا خاصا ہے۔

کچھ اس ہی طرح کی کوششیں ہمارے متصادم طبقات (آزاد خیال و قدامت پسند) کرتے رہتے ہیں۔ قدامت پسندوں کے نزدیک محض داڑھی کو ایک مخصوص حد تک بڑھا لینا اور پائنچوں کو ایک حد تک اٹھالینا ذریعہ نجات ہے یا پھر چند ظاہری افعال کا انجام لینا ہی کافی سمجھا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب آزاد خیال طبقہ ہے، جس کا نام ہی کافی ہے، جن کا اصول ہے اپنے مقاصد و اہداف کے حصول کے لیے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کیا جائے۔ اس کے نزدیک اپنے مدمقابل طبقے کے ہر عمل و تعلیم سے انحراف ہی دنیاوی فلاح کا طریقہ ہے۔ نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ نہ ہی مذہب پسند طبقہ دین کو حقیقی روح کے مطابق سمجھ کر ایک اچھا انسان تخلیق کر پاتا ہے اور نہ ہی آزاد خیال طبقہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ایک مخلص و کارآمد فرد حاصل کرتا ہے۔

ظاہر پریہی زور دراصل ہماری قوم میں منافقت کو بڑھانے کا سبب بنا ہے، وہی منافقت جو ہمارے آج کے تمام مسائل کی جڑ ہے۔ گو کہ ظاہرکی اہمیت اپنی جگہ ہے لیکن محض ظاہر پر زور دینا ایسا ہی ہے جیسا کہ لاش کو آرائش کے بعد سجا کر بٹھا دیا جائے۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ظاہر چاہے کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ بنا لیں اگر باطن اچھا نہیں ہے تو روح سے اٹھنے والا تعفن ناقابل برداشت گا۔

اصل چیز باطن ہے، اگر باطن نیک ہے توظاہر میں بھی نظر آئے گا۔ اگر باطن نیک طینت نہیں تو ظاہر کو کتنا ہی خوشنما کیوں نہ بنا لیا جائے، ہم انفرادی و اجتماعی دونوں سطحوں پر اپنے مسائل کو حل نہیں کر سکتے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

10 تبصرے

  1. اس دوغلے پن سے جان چھڑانا مجھے تو بہت مشکل لگتا۔
    جب بھی نفس غالب ہوتاھے۔اپنی بات چاھے غلط ہی کیوں نہ منوا ہی لیتا۔
    اپنے اندر کا بندہ اس دوغلے پن کو سمجھتا ھے÷لیکن حیلے بہانے کرکے درمیانی رستہ نکل ہی آتا ھے۔

  2. جعفر says:

    بہت اہم موضوع پر لکھا ہے اور بہت عمدہ لکھا ہے۔
    میں نے ایک دو دفعہ ایسے ہی خیالات کو قلمبند کرنے کی کوشش کی تھی لیکن بوجوہ ناکام رہا۔
    ویسے ان خیالات کا رکھنے والا متذکرہ دونوں طبقات کی جانب سے مردود ٹھہرایا جاتا ہے۔

    • یہی المیہ ہے جناب ہمارے معاشرے کا۔ اگر کوئی شخص معتدل رائے رکھتا ہے تو اس کو اتنا دھتکارا جاتا ہے کہ بالآخر وہ بھی شدت پسندی اختیار کر لیتا ہے۔

  3. باطن کا درست اور صالح ہونا یقیناً بہت ضروری ہے، باقی ظاہر کے بھی کچھ قواعد دین نے بتائے ہیں.

    اشتہارات وا قعی اصل زندگی سے دور ہوتے ہیں...اکثر. اسی لیے مجھے ایریئل دھلائی کا پاوڈر اور زونگ کے اشتہارات مزے کے لگتے ہیں کیونکہ ان میں زیادہ اصل لوگ اور ان کی زندگی دکھائی جاتی ہے.

  4. Usman Chugtai says:

    صحيع کہا منافقت؛

  5. خرم says:

    کہا بالکل درست ہے آپ نے لیکن یہ دوغلا پن کوئی دوچار برس کی بات نہیں، صدیوں کی مسلسل کاوش کا نتیجہ ہے۔ اس آکاس بیل کو جڑ سے اکھاڑنے میں کم از کم ایک نسل تو لگے گی لیکن اس کے لئے بھی بسم اللہ کرنا ضروری ہے۔

  6. ابو شامل بھائی صاحب!
    آپ نے ایک ہی ہلے میں دو متضاد طبقوں پہ تنقید کی۔ اسکی کوئی خاص وجہ تھی؟۔ (:
    اسمیں کوئی شک نہیں کہ ظاہر کا کوئی نہ کوئی ربط البتہ ضرور ہوتا ہے باطن کے ساتھ۔اور لازم نہیں کہ ہر فرد کا باطن اسکے چہرے سے عیاں ہو۔
    میری ذاتی رائے میں انسان کے ہر عمل کے پیچھے کچھ مخصوص محرکات ہوتے ہیں۔ عام طور پہ آدم بیزار لوگ در حقیقت اتنے آدم بیزار نہیں ہوتے جتنا ہم انہیں سمجھتے ہیں۔ بلکہ انکا روز مرہ کا واسطہ کچھ ایک ہی طرح کے آدم ذادوں سے پڑتا ہے جس پہ وہ نصحیت کر تے ایک وقت آتا ہے آدم بیزارگی کی حد تک دوٹوک بات کرتے ہیں۔ جسے ہم انکی آدم بیزار طبعیت پہ دلیل کرتے ہیں۔ایسے میں وہ اپنی داڑھی شرعی اور پائنچے اونچے رکھنے کے علاوہ اپنے دیگر ظاہر پہ بھی نہائت توجہ دیتے ہیں۔ چونکہ ایسے لوگوں کو اپنی دانست میں محض اللہ کی رضا کے علاوہ کوئی دنیاوی لالچ نہیں ہوتا اس لئیے ایسے لوگ شرعی معاملات پہ قطعی اور دو ٹوک رویہ اپناتے ہیں۔ جو ہمیں اپنے جائز یا ناجائز رکھ رکھاؤ کی وجہ سے الجھن میں ڈال دیتا ہے۔ لیکن درحقیقت ایسے لوگ اپنے اندر بہت گداز رکھتے ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہوتی ہے کہ انکے گداز کو جاننے کے لئیے ہم کتنا فہم و ادارک رکھتے ہیں۔اب کچھ ان کی دیکھا دیکھی عقیدت کی وجہ سے یا بناوٹی طور پہ اسے اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ایسے لوگوں میں علم کی کمی اور عدم مجاہدے کی وجہ سے سے وہ بھونڈی حرکات سرزد ہوتی ہیں جن میں اولاَ کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔

    جبکہ پاکستان میں بسنے والے قسم قسم کے نام نہاد روشن خیالوں کے بارے میں یہ رائے بہت پختہ ہے کہ یہ اسقدر پنترے بدلتے ہیں کہ بعض اوقات انہیں خود پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کیا ہیں۔ اور عموما انکا خبث باطن انکی اشکال سے عیاں نہیں ہوتا۔ تاوقتیکہ یہ کسی خاص محفل میں لاجواب ہو جائیں اور انکی گھڑی گھڑہائے دلائل ختم ہوجائیں تو یہ بڑی آسانی سے مغلظات پہ اتر آتے ہیں۔

    • برادر جاوید، ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا ضروری تھا کیونکہ ہمارے زوال کے اسباب میں دونوں طبقوں کا کردار قریباً قریباً یکساں ہی ہے۔
      بہرحال، آپ کے فلسفے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اچھا کیا آپ نے اس جانب توجہ دلائی تاہم میں اب بھی اسی رائے کا قائل ہوں کہ ہماری دنیاوی و اخروی فلاح کا راستہ ان راستوں کے بالکل درمیان سے ہے جسے ہمارے ہمارے دونوں انتہاؤں تک پہنچے ہوئے طبقات سے اختیار کر رکھا ہے۔
      نام نہاد روشن خیالوں کے بارے میں مجھے بھی یقین ہے کہ ان کی حقیقت میں کوئی رائے نہیں ہیں، یہ ابن الوقت یا چڑھتے سورج کے پجاری ہیں۔ اسی سے اندازہ لگا لیں کہ کل اشتراکیوں کے گن گاتے تھے تو آج سرمایہ دارانہ نظام کی گود میں بیٹھے ہوئے ہیں۔

  7. زین says:

    بقول عبدالکلام آزاد کے ’’ مذہب کے دوکانداروں نے جہل و تقلید اور تعصب و ہوا پرستی کا نام مذہب رکھا ہے ۔۔۔۔ اور روشن خیالی و تحقیق جدید کے عقل فروشوں نے الحاد بے قیدی کو حکمت و اجتہاد کے لباس فریب سے سنوارا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہ مدرسہ میں علم ہے .....نہ محراب مسجد میں اخلاص.....نہ میکدہ میں رندان بے ریا۔۔۔۔‘‘

  1. December 14, 2010

    [...] This post was mentioned on Twitter by Urdublogz.com, Abu Shamil. Abu Shamil said: ابوشامل - سوزش باطن کے ہیں احباب منکر http://bit.ly/eaPhhl [...]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.