زنجبار، لونگ کی سرزمین

بارشوں کے مختصر موسم سے قبل ستمبر، اکتوبر اور نومبر زنجبار میں لونگوں کی کاشت کے اہم مہینے ہیں۔ میں اکتوبر کے آخری ایام میں زنجبار پہنچا، اس لیے مجھے توقع تھی کہ جزیرے کی سڑکوں کے کناروں پر مجھے لونگوں سے بھری چٹائیاں دیکھنے کو ملیں گی جنہیں دھوپ میں سکھانے کے لیے رکھا جاتا ہے۔ لیکن حیران کن طور پر اب جزیرے پر لونگ تلاش بسیار کے بعد ہی نظر آتی ہے۔

مجھے جلد پتہ چل گیا کہ زنجبار اور اس کے شمالی جزیرے پمبا پر لونگ کی پیداوار میں بہت کمی آ گئی ہے۔ 1964ء میں زنجبار کے عرب سلطان کا تختہ الٹے جانے کے بعد زنجبار کی ریاستی تجارتی کارپوریشن نے لونگوں کی خرید و فروخت پر اپنی اجارہ داری قائم کر لی۔ نتیجتا کسانوں کو نجی خریداروں کو فروخت کرنے سے حاصل ہونے والی آمدنی کا محض نصف ہی مل پاتا، اس طرح اس اہم پیداوار کی کاشت میں کسانوں کی دلچسپی کم سے کم ہوتی چلی گئی۔ زنجبار -جو اب تنزانیہ کا نیم خود مختار علاقہ ہے – اور پمبا کبھی لونگ کی پیداوار میں عالمی رہنما تھے؛ آج بھی [[انڈونیشیا]] اور [[مڈگاسکر]] کے بعد دنیا میں تیسرے سب سے بڑے لونگ کے پیداواری علاقے ہیں۔ عالمی پیدوار میں زنجبار اور پمبا کا حصہ 8 فیصد ہے۔

زنجبار کی حکومت کی زیادہ تر توجہ لونگوں کے بجائے سیاحت کو فروغ دینے پر مرکوز ہے؛ اس کے باوجود جزیرے کی تاریخ کا لونگ کی تجارت سے گہرا رشتہ موجود ہے۔

19 ویں صدی کے اوائل میں جب لونگ پہلی بار مڈگاسکر سے زنجبار پہنچے، اس وقت وہ یورپ، شمالی افریقہ اور ایشیا میں ایک مشہور مسالے کے طور پر صدیوں سے جانے جاتے تھے۔ چینی 2500 سال پہلے سے خوشبو اور سانسوں کو مہکانے کے لیے اس کا استعمال کرتے تھے، اور انڈونیشیا کے جزائر سے لونگ حاصل کرتے تھے۔ چوتھی صدی عیسوی میں ہندی اور عربی تاجروں نے [[بحیرۂ روم]] کے علاقوں میں لونگ کو متعارف کروایا۔ 13 ویں صدی تک وینس کے تاجر،بذریعہ مصر، یورپ میں لونگ کے سب سے بڑے فراہم کنندہ تھے۔ بالآخر یورپی قوتوں، خصوصا پرتگیزیوں اور ولندیزیوں، نے لونگ اور دیگر نفع بخش مسالوں تک براہ راست رسائی حاصل کرنے کے لیے بحری راستوں کو دریافت کرنے کا آغاز کیا۔

سلطنت عمان اپنے عروج کے زمانے میں، بمطابق 1856ء

[[پرتگیزی سلطنت|پرتگیزی]] سب سے پہلےاس سرزمین تک پہنچے جب 1498ء میں [[واسکوڈے گاما]] نے موزمبیق کے ساحل پر اپنا جہاز لنگر انداز کیا، اس نے دیکھا کہ عربی بڑے پیمانے پر بولی جاتی ہے اور اس نے پایا کہ وہ بہت سارے مسلمانوں کے درمیان ہے۔ ہند اور [[جزیرہ نما عرب]] سے تعلق رکھنے والے بہت سارے مسلمان مقامی افراد کے ساتھ رہتے تھے۔ افریقہ سونا، ہاتھی دانت، عنبر، گوند، تمر کے تنے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ غلاموں کو سوتی کپڑے، تانبے، کھجوریں، برتن اور دیگر اشیاء کے بدلے میں فراہم کرتا تھا۔

اسلام آٹھویں صدی عیسوی میں ان تاجروں کے ذریعے اس علاقے میں پہنچا جو مون سون کی ہواؤں کےساتھ جزیرہ نما عرب سے جنوب کا سفر کرتے تھے۔ 10 ویں صدی عیسوی تک فارسی اورعرب باشندے افریقہ کے کئی ساحلی مقامات پر باقاعدہ رہائش پذیر تھےاور [[بحر ہند]] کے ساحلی علاقے کے ساتھ تجارتی جال بچھا چکے تھے۔ زنجبار کے اصلی باشندے خود کو "شیرازی" کہتے ہیں اور فارس کے شہر شیراز کے تاجروں کے ساتھ اپنے تاریخی روابط کا دعوی کرتے تھے۔ جزیرہ زنجبار کے ایک گاؤں کزمقاضی میں واقع ایک مسجد کا محراب 500 ہجری کے کوفی نقوش و نگار سے مزین ہے جو فارسی باشندوں کی جانب سے مسجد کی تعمیر سے منسوب کیا جاتا ہے۔ آج اس جگہ پر موجود مسجد گو کہ 18 ویں صدی میں از سر نو تعمیر کی گئی مسجد ہے لیکن اس میں اصل محراب اب بھی موجود ہے جسے مشرقی افریقہ کے ساحلوں پر اسلامی طرز تعمیر کی قدیم ترین مثالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

تجارت نے ناگزیر ثقافتی تبادلے بھی کیے۔ چند تاجر اپنے اہل خانہ کو ساتھ لائے جبکہ زیادہ تر نے مقامی خواتین ہی سے نکاح کر لیے۔ مسلم آبادی بڑھتی رہی؛ اس طرح زبان کو اختیار کرنے کا عمل بھی بڑھ گیا اور بالآخر اک نئی زبان وجود میں آئی جو آج سواحلی کہلاتی ہے۔ سواحلی، جو عربی لفظ ساحل سے ماخوذ ہے، درحقیقت مقامی بانتو زبان اور عربی کا ملاپ ہے۔

ایک انتباہی نشان، زنجبار کے کثیر الثقافتی پس منظر کو ظاہر کر رہا ہے (فوٹو: چارلس او سیسل)

سواحلی ذخیرۂ الفاظ کے ایک تہائی کے عربی الاصل ہونے کو پہچانا جا سکتا ہے، لیکن زبان نے اپنا افریقی بانتو گرامیٹکل ڈھانچہ اب بھی برقرار رکھا ہوا ہے۔ سواحلی صدیوں تک عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی، جب تک یورپی نو آبادیاتی اور مشنری اسکولوں نے 19 ویں صدی میں لاطینی رسم الخط متعارف نہیں کروا دیا۔ (مجھے اب بھی 1970ء کی دہائی کے اواخر تک زنجبار کے مرکزی بازار میں عربی رسم الخط میں لکھے گئے عوامی اشارات یاد ہیں۔) گرچہ زنجبار اور پمبا کی 10 فیصد آبادی خود کو عرب شمار کرتی ہے، لیکن عربی چند ہی افراد بولتے ہیں۔

سواحلی میں پرتگیزی زبان کے الفاظ بھی شامل ہیں۔ بحر ہند میں تقریبا 300 سال تک موجودگی کے باوجود پرتگیزی نے [[موزمبیق]] کے بالائی مشرقی افریقی ممالک میں بہت کم طویل المیعاد اثرات مرتب کیے۔ انہوں نے علاقے میں مکئی، کسافا اور انناس متعارف کروائے لیکن بہتر زراعتی تکنیک پیش نہیں کی۔ ان کی عیسائیت کی تبلیغ کی خواہشات بھی مختصر میعاد کا اثر ڈال سکیں۔

بحر ہند کی تمام تجارتی ریاستوں میں صرف [[سلطنت عمان]] ہی میں اتنا دم خم تھا کہ وہ خطے میں پرتگیزیوں کو چیلنج کر سکتی۔ زنجبار سے تعلق رکھنے والے عالمی سطح پر معروف مؤرخ ڈاکٹر عبد الشریف کے مطابق خلیج کے دیگر عربوں کی طرح عمانی بھی صدیوں سے مشرقی افریقہ کے ساتھ تجارت کر رہے تھے لیکن عمان کے مقاصد کسی بھی دوسری خلیجی ریاست کے مقابلے میں زیادہ جاہ پسند تھے۔

جب 1698ء میں [[ممباسا]] میں پرتگال کا مرکزی گڑھ فورٹ جیسس عمانیوں کے ہاتھ آیا، تو پرتگیزی بحر ہند کی تجارت پر اپنی بالادستی کھو بیٹھے۔ اس قلعے پر قبضے کے فورا بعد عمانیوں نے زنجبار پر قبضہ کر لیا اور پرتگیزیوں کے دو صد سالہ عہد کاخاتمہ کر دیا۔ اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے انہوں نے جزیرے کے مغربی حصے میں ایک قلعہ تیزی سے تعمیر کیا جو 1701ء میں مکمل ہوا۔ اس کے بعد عمان بحر ہند کی تجارتی قوت بن گیا۔

مشرقی افریقہ میں عمانی مفادات کو 1749ء میں عمان میں بوسیدی خاندان کے برسر اقتدار آنے پر نئی جہت ملی، اور 1806ء سے شروع ہونے والے سلطان سعید بن سلطان کے 50 سالہ دور میں ان میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔ عمان میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے بعد سعید نے اپنی توجہ مشرقی افریقہ کی جانب کی۔ انہوں نے 1828ء میں زنجبار کا پہلا دورہ کیا اور ہر کامیاب دورے پر ان کے جزیرے پر قیام میں اضافہ ہوا۔

تجارت پر انحصار کرنے والی ریاست کے سربراہ کے طور پر سلطان نے لونگ کی تجارت کے معاشی فوائد کو سراہا۔ انہوں زنجبار میں لونگ کے درختوں کی کاشت کے لیے فوری اقدامات اٹھائے۔ حتی کے انہوں نے لونگ کی کاشت یا جائیداد کی قرقی کے احکامات تک جاری کیے۔1850ء تک زنجبار اور پمبا دنیا کے سب سے بڑے لونگ کے پیداواری علاقے بن گئے۔ 19 ویں صدی کے دوران برطانیہ کی جانب سے سلطان پر غلاموں کی تجارت اور غلامی کے خاتمے کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث لونگ کی کاشت کی اقتصادی اہمیت اور زیادہ بڑھ گئی۔

زنجبار میں سلطان کی موجودگی ایک مستقل قیام گاہ کی تعمیر کا سبب بنی جو اسٹون ٹاؤن (پتھر کا قصبہ) کہلائی۔ یہ جزیرے کے سب سے مغربی علاقے قلعے کے ساتھ تعمیر کیا گیا علاقہ تھا۔ علاقے کی بیشتر عمارات 19 ویں صدی کی تعمیر کر دہ ہے جبکہ چند شاہی محلات اور حرم اور عوام کے لیے قائم حمام خانوں کے آثار اب بھی موجود ہیں۔

1856ء میں جب سلطان سعید کا انتقال ہوا تو اس کی ریاست دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ ایک بیٹے ماجد نے مشرقی افریقہ کے علاقے حاصل کیے جبکہ عمان ثوینی کے زیر نگیں آ گیا۔ گو کہ 19 ویں صدی میں ماجد کا علاقہ زیادہ ترقی یافتہ تھا لیکن 20 ویں صدی میں عمان میں تیل کی دریافت نے ترقی کا پلڑا عمان کی جانب گرا دیا۔ 1964ء میں افریقہ کی زنجباری اکثریت نے ماجد کے جانشینوں میں سے جمشید کاتختہ الٹ کر عربی اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔ یہ واقعہ جزیرے پر انگریزی اقتدار اعلی کے خاتمے کے محض ایک ماہ بعد پیش آیا۔

قدیم شفا خانہ جسے اثناء عشری شفا خانہ بھی کہا جاتا تھا، طرز تعمیر کا حسین شاہکار ہے (تصویر: چارلس او سیسل)

انقلاب کے بعد عربوں کی بڑی تعداد جزیرہ سے ہجرت کر گئی – جو اس وقت کل آبادی کا 20 فیصد تھے – لیکن اس کے باوجود جزیرے کی 90 فیصد سے زائد آبادی اب بھی مسلمان ہے۔ عیسائیوں، ہندوؤں اور پارسیوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ ڈاکٹر شریف نے کہا کہ یہ بحر ہند کے ساحلی علاقوں کی نمایاں خصوصیت ہے۔ پرتگیزیوں کی آمد سے قبل بحر ہند تجارت میں بندھا ہوا تھا۔ تاجر کیا چاہتے ہیں؟ وہ اپنی اشیاء فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے خریداروں اور فروخت کنندگان کو عدم رواداری یا ثقافتی عدم برداشت میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ۔ بلکہ وہ لوگوں کی آمد اور تجارت کرنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔۔۔ چاہے وہ چینی ہوں، یہودی، ہندو، عیسائی یا کوئی بھی۔

سلطان سعید اور ان کے جانشینوں نے اسی روایتی تحمل کو اپنایا اور اس کی حوصلہ افزائی کی۔ زنجبار کی کثیر الثقافتی علامات آج بھی جزیرے کی موسیقی، مذہبی روایات، غذا، ملبوسات اور طرز تعمیر میں جھلکتی ہیں۔

عربی، ہندی اور افریقی موسیقی کی روایتوں کے ملاپ سے موسیقی کا اک نئے انداز نے جنم لیا جو طارب کہلاتا ہے۔ سلطان کے محل میں درباری موسیقی کے طور پر شروع ہونے والے طارب کی روایت آج بنیادی طور پر دو گروپوں نے برقرار رکھی ہوئی ہے ایک نادی اخوان الصفا اور دوسرا کلچر میوزیکل کلب نے۔ آخر الذکر نے یورپ، امریکہ اور عرب ممالک کے دورے کر رکھے ہیں۔ طارب موسیقی میں عود، قانون، وائلن، سیلو اور مدھر سروں، کے ساتھ ساتھ باجے اور دف کے مختلف آلات شامل ہیں۔ جنہیں محبت، ارمان اور درباری رقابتوں کے بارے میں شاعری کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے۔ اسٹون ٹاؤن کے مختلف ریستورانوں اور ہوٹلوں میں طارب کی موسیقی اور گلوکاروں کو سنا جا سکتا ہے۔

میناروں سے اذان، ہندوؤں کے مندروں اور عیسائیوں کے گرجوں کی گھنٹیوں کی آوازیں اسٹون ٹاؤن کے صوتی منظرنامے کا حصہ ہیں۔ عبادی، سنی، بخاری اور اثنائے عشری شیعہ برادری کی الگ الگ مساجد ہیں۔ پارسیوں کی چھوٹی سی برادری پر جزیرے پر موجود ہے۔ عرب دنیا کے ساتھ ثقافتی تعلقات بدستور برقرار ہیں لیکن سیاسی رہنما عرب انجمن یا سیاسی مدد کے لیے عرب ممالک کی جانب دیکھنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتے۔ جزیرے کی افریقہ میں سیاسی شمولیت کا حقیقی اظہار 1985ء میں ہوا جب زنجبار سے تعلق رکھنے والے علی حسن ایمونیی تنزانیہ کے صدر بنے اور 10 سال تک اس عہدے پر برقرار رہے۔

زنجبار کے کھانوں پر عرب و جنوبی ایشیا کے اثرات ہیں۔ لیکن گزشتہ 10 سے 15 سالوں میں سیاحوں کی آمد نے کچھ نئے رحجانات بھی جنم دیے ہیں جیسا کہ "زنجباری پیزا"۔

اسٹون ٹاؤن کی سڑکوں پر برصغیر کے تعمیراتی اثرات کی مثالیں نظر آتی ہیں جن میں سب سے نمایاں قدیم شفا خانہ ہے، جسے 1890ء میں ایک اسماعیلی ہندوستانی خاندان نے نجی رہائش گاہ کے طور پر بنایا تھا۔ 1964ء کے انقاب کے بعد زنجبار کا بے مثال تعمیراتی خزانہ تباہی کا نشانہ بننے لگا کیونکہ سخت گیر اشتراکی پابندیوں نے سرمایہ کاری اور معیشت کو شدید نقصان پہنچایا تھا، اور کئی پڑھے لکھے زنجباری اپنا وطن چھوڑ گئے۔ 1990ء کی دہائی کے اوائل میں نجی سرمایہ کاری کا آغاز اور زیادہ آزاد سیاسی ماحول کی ابتداء ہوئی۔ 2000ء میں اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے (یونیسکو) نے اسٹون ٹاؤن کو 'عالمی ثقافتی ورثہ' قرار دیا۔

یونیسکو اور آغا خان چیئرٹیبل ٹرسٹ کے متعدد بڑے منصوبوں کے نتیجے میں قدیم شفا خانہ سمیت متعدد اہم تعمیرات کو از سر نو بحال کیا گیا اور زنجبار کے تعمیراتی ورثے کو محفوظ کیا جا رہا ہے۔ پہلے سے کہیں زیادہ سیاح اسٹون ٹاؤن کی تنگ گلیوں اور لونگ کی کاشت کو دیکھنے کے لیے یہاں آ رہے ہیں۔ 2007ء میں ریکارڈ ڈیڑھ لاکھ سیاحوں نے جزیرے کا رخ کیا۔

زنجبار کے حسین ساحل، دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے پرکشش حیثیت رکھتے ہیں

زیادہ تر سیاح زنجبار کے خوبصورت سفید ریت کے ساحلوں کو دیکھنے اور غوطہ خوری کے لیے آتے ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاری نے کئی پرتعیش و مناسب ہوٹلوں کے قیام کی وجہ بنی۔ سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدنی زنجبار کے تاریخی ورثے کو مزید محفوظ کرنے کی حوصلہ افزائی کرے گی۔

زوال پذیر ہونے کے باوجود لونگ بدستور زنجبار کی سب سے بڑی زرعی جنس ہے اور سیاحت کے بعد زر مبادلہ حاصل کرنے کا دوسرا اہم ترین ذریعہ بھی۔ 2010ء میں نائب وزیر برائے زراعت نے کہا کہ حکومت لونگ کی پیداواری میں اضافے کے لیے کاشت کاروں میں مفت بیج تقسیم کر رہی ہے۔ دریں اثناء گزشتہ اکتوبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں حزب اختلاف کی سب سے اہم جماعت کے رہنما سیف شریف حماد نے لونگ کی صنعت کی نجکاری کا مطالبہ کیا تھا۔ گو کہ حماد اب زنجبار کے نائب صدر کے عہدے پر موجود ہیں، لیکن اس طرح کی بڑی تبدیلیاں راتوں رات نہیں ہو سکتی۔ لیکن اگر کاشتکاروں کو عالمی مارکیٹ میں مکمل حصہ داری کے ذریعے منافع حاصل کرنے کی مکمل اجازت ہو تو لونگ کے جزیرے کے طور پر زنجبار کی شناخت ماضی کا حصہ نہیں بنے گی۔

کچھ مصنف کے بارے میں

یہ مضمون 1969ء سے 1971ء تک زنجبار میں امریکی قونصل خانے میں خدمات انجام دینے والے چارلس او سیسل کا تحریر کردہ ہے۔ موصوف امریکی دفتر خارجہ میں 35 سال تک خدمات انجام دینے کے بعد 2001ء میں ریٹائر ہوئے اور اب زندگی کو فوٹوگرافی اور تصنیف کے لیے وقف کر دیا ہے جس میں ان کا سب سے اہم موضوع اسلامی ثقافت ہے۔ وہ امریکی ریاست کے ورجینیا کے شہر الیگزینڈریا میں رہتے ہیں۔ ان سے chuck@cecilimages.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

سعودی ‏ارامکو ورلڈ جریدے میں یہ مضمون مارچ/اپریل 2011ء کی اشاعت میں شایع ہوا۔ ناچیز کو اس کے ترجمے و تلخیص کا شرف حاصل ہوا ہے اور اب یہ قارئین کی نظر ہے۔ مکمل مضمون یہاں پڑھا جا سکتا ہے جو انگریزی زبان میں ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

7 تبصرے

  1. عبداللہ says:

    بہت عمدہ مضمون،
    شیئر کرنے کا شکریہ

  2. عبدالخالق بٹ says:

    السلام علیکم
    زبردست ، بہت عمدہ مضمون ہے ، صوتی تبادل کے اصول کے تحت ‘ ج ‘ کا ‘ گ ‘ سے بد لنا عام بات ہے اسی لیے زنجبار کو زنگبار بھی کہا جاتا ہے اور یہاں کے باشندے کو زنگی کہتے ہیں ،نورالدین زنگی وغیرہ شائد یہیں سے تعلق رکھتے تھے ،
    مزید یہ کہ ابتدا میں لفظ ‘ بار ‘ساحلی شہر کے لیے بولا جاتا تھا جیسے مالابار وغیرہ بعد میں‘بار ‘شہر یا آبادی کے مترادف کے طور پر برتا جانے لگا اور جیسا کہ صوتی تبادل میں‘ب ‘ کا ‘و‘سے بدلتا ہے اور‘ر ‘ کا
    ‘ڑ ‘ سے اور ْ ڑ ‘ کا ‘ ر ‘ سے بدلنا معمول ہے اس اصول کے تحت لفظ ‘ بار ‘ ‘ واڑ ‘ بن گیا ، جیسے پونا واڑ ، ہند واڑہ اور پٹھان واڑی اسی کی تبدیل شدہ شکلیں ہیں ۔۔۔ واللہ عالم بالصواب

    • ابوشامل says:

      وعلیکم السلام
      بہت خوب بٹ صاحب۔ میرے خیال میں فارسی اسے زنگبار بولتے ہوں گے اور عربوں نے زنجبار کر دیا۔

      • عبدالخالق بٹ says:

        جی بالکل فارسی میں کالے کو زنگ بولتے ہیں جس کی ضد فرنگ یعنی گورا یا سفید ہے ،یہی فرنگ یا افرنگ عربی میں افرنجہ ہوگیا ہے جو فرانس کے لیے بولا جاتا ہے ۔ اور ہاں فرنگ پر ایک فارسی مثل بھی سن لیں
        برعکس نہند نام زنگی کافور ، یعنی یہ اس شخص کے بارے میں کہتے ہیں جس میں وہ صفت نہ پائی جائے جس کی وجہ سے وہ مشہور ہو ۔ جیسے کسی زنگی یعنی کالے کا نام کافور یعنی سفید رکھ دیا جائے۔
        واللہ عالم بالصواب

  3. تحریر بھی خوب معلوماتی ہے اور اس پہ آپکا اسقدر شاندار ترجمہ خوب سے خوب تر ہے۔

    اللہ تعالٰی آپ کو جزائے خیر دے۔ آمین

  1. May 20, 2012

    [...] اس مضمون کا ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے، اس سے پہلے میں ‘زنجبار: لونگ کی سرزمین‘ نامی مضمون ترجمہ کر کے شایع کیا تھا۔ امید ہے کہ یہ [...]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.