بلاگ قارئین سے رابطہ، آسان ترین ذریعہ

February 8, 2010 72 مشاہدات

گزشتہ ایک ڈیڑھ سال سے اردو بلاگنگ کا دامن وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے اور ہر ایک دو ماہ بعد ایک سے بڑھ کر ایک بلاگر اس میدان میں قدم رکھ رہا ہے۔ انہی میں سے ایک ہمارے نئے بلاگر ریاض شاہد صاحب ہیں، جو تاریخ و اسلام کے موضوعات پر تو اپنے قلم کے جوہر دکھا ہی رہے ہیں لیکن انہوں نے تکنیکی طور پر اپنے بلاگر ساتھیوں کو نئی معلومات سے آگاہ کرنے کا بھی بیڑہ اٹھا رکھا ہے۔
ابھی گزشتہ دنوں انہوں نے اپنے قارئین سے فوری طور پر منسلک رہنے کے لیے جی میل کو اپنے بلاگ میں نصب کرنے کا طریقہ پیش کیا جو کئی بلاگرز کے لیے کارآمد ہوگا۔
لیکن افسوس کہ یہ طریقہ محض جی میل تک ہی محدود ہے۔ میں نے سوچا کہ اس کا دائرہ تھوڑا وسیع کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ تو جی ہم آپ کو متعارف کرواتے ہیں میبو سے۔
میبو فوری پیغام رسانی (instant messaging) کا ایک ٹول ہے اور اس کا میبو بار دراصل آپ کے بلاگ کے لیے ہے تاکہ آپ کے قارئین آپ کے مواد کو فیس بک، ٹویٹر اور دیگر سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کے ذریعے پھیلا بھی سکیں اور آپ سے ہمہ وقت رابطہ میں بھی رہ سکیں۔ آپ میبو کے اکاؤنٹ میں اپنے یاہو، ایم ایس این، جی میل، فیس بک، آئی سی کیو، اے آئی ایم وغیرہ کے کھاتوں کو یکجا کر سکتے ہیں اور اپنی ویب سائٹ سے تمام بلاگ قارئین اور روابط سے منسلک ہو سکتے ہیں۔ میبو بار انتہائی سادہ و کارآمد بار ہے۔ اس کے لیے آپ کو سب سے پہلے میبو پر اپنا اکاؤنٹ بنانا ہوگا جو بالکل مفت ہے۔ پھر آپ انٹیگریشن وزرڈ کے ذریعے با آسانی اس بار کو اپنے بلاگ میں شامل کر سکتے ہیں۔
اس بار کو آپ وکی نامہ پر دیکھ سکتے ہیں۔ اگر پسند آئے تو اسے ضرور استعمال کیجیے اور اپنے قارئین سے فوری طور پر منسلک ہو جائیے۔

4

وکی نامہ

January 25, 2010 217 مشاہدات

2007ء کے اواخر میں مختلف ساتھیوں کی تحریک میں نے انٹرنیٹ پر اپنی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے بلاگنگ کی دنیا میں قدم رکھا۔ اس وقت بلاگنگ کے بارے میں “ککھ” نہیں پتہ تھا اور نہ ہی اسے مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے کا ارادہ تھا۔ لیکن جتنے اچھے ساتھی اس میدان میں میسر آئے اور ان کی حوصلہ افزائی اور بلاگنگ سے خود کو پہنچنے والے فوائد کے باعث اسے نہ صرف مستقل چلا پایا بلکہ تحریروں کی “ڈبل سنچری” تک کر ڈالی۔

اب تک میرے بلاگ پر پیش کی جانے والی 200 تحاریر پر تقریباً 1750 تبصرے ہو چکے ہیں جو میری توقعات سے کہیں زیادہ ہیں۔ ویسے میں ذاتی طور پر بلاگ کا حوالہ بہت زیادہ نہیں دیتا لیکن جہاں ضرورت پڑتی ہے وہاں یہی کہتا ہوں کہ میرے بلاگ پر تحریر سے زیادہ تبصرے سیر حاصل ہوتے ہیں، اور یہ سب ان تبصرہ نگاروں کی بدولت ہے جو اپنا قیمتی وقت لگا کر کسی موضوع کر قابل گفتگو سمجھتے ہیں۔

اس “ڈبل سنچری” کی خوشی میں نے اپنے بلاگ پر ایک قدم آگے بڑھایا ہے اور وہ ہے وکیپیڈیا پر لکھے گئے بہترین مضامین کی بلاگ پر منتقلی تاکہ بلاگ دنیا سے وابستہ افراد اپنے قیمتی تبصروں کے ذریعے ان مضامین کو مزید بہتر بنا سکیں یا پھر نت نئے مضامین کی راہ دکھا سکیں۔ ابھی گزشتہ بلاگرز ملاقات میں ایک مرتبہ پھر کئی بلاگرز نے مطالبہ کیا کہ میں اپنے لکھے گئے وکیپیڈیا کے مضامین کو اپنے بلاگ پر منتقل کروں اور اس ضمن میں سب ڈومین بنا کر اس پر کام کا آغاز کرنے کی تجویز دی گئی۔ تکنیکی دشواریوں کے باعث میں نے عذر تراشا کہ میرے لیے یہ ممکن نہیں لیکن اردو بلاگرز بھی بڑے سیانے نکلے، عمار ضیاء خان نے چند ہی گھنٹوں میں میرے بلاگ پر سب ڈومین بنا کر اس میں ورڈپریس انسٹال کر کے حوالے کر دیا کہ اب آپ جانیں اور آپ کا نیا بلاگ۔

تو صاحبو! اب ہم پر ایک اور بلاگ لاد دیا گیا ہے “وکی نامہ” جہاں میں فی الوقت تو وکیپیڈیا پر لکھے گئے بہترین مضامین کو پیش کرنے میں جتا ہوا ہوں لیکن ایک مرتبہ بڑی تعداد میں مضامین منتقل ہو جانے کے بعد میرا ارادہ اس کو بلاگنگ کی دنیا میں اردو وکیپیڈیا کے ترجمان کے طور پر پیش کرنے کا ہے۔ لیکن فی الوقت اسے صرف مضامین تک ہی محدود رکھوں گا۔

وکی نامہ کو بہتر بنانے کے لیے مجھے قارئین کی مدد ہمیشہ کی طرح اب بھی درکار ہوگی۔ امید ہے کہ ساتھی اس سلسلے میں ضرور اپنی قیمتی آراء سے نوازیں گے۔

ابو شامل کا وکی نامہ

21

پاکستان کی سیاسی جماعتیں- مدد درکار

January 25, 2010 171 مشاہدات

اردو وکیپیڈیا پر پاکستان کے حوالے سے مقالوں پر کام کرنے کے دوران موجودہ و سابق معروف قومی سیاسی جماعتوں کے پرچموں کی ضرورت بھی پڑی اور بہت سارے پرچم وکی میڈیا کامنز میں مل گئے لیکن چند جماعتیں ایسی بھی تھیں جن کے پرچم موجود نہیں تھے۔ “اپنی دنیا آپ پیدا کرنے” کا عزم لے کر ناموجود پرچم خود بنانے کی ٹھانی۔ ابتدائی طور پر جن پرچموں کی نشاندہی کی گئی، انہیں معروف اوپن سورس ویکٹر گرافکس سافٹ ویئر انک اسکیپ پر بنایا گیا۔ نتائج آپ ذیل میں دیکھ سکتے ہیں، یہ صرف امیچز ہیں، آپ پرچم پر کلک کر کے ویکٹر ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں:

متحدہ مجلس عمل کا پرچم

متحدہ مجلس عمل کا پرچم

نیشنل پارٹی بلوچستان کا پرچم

نیشنل پارٹی بلوچستان کا پرچم

بلوچستان نیشنل پارٹی کا پرچم

بلوچستان نیشنل پارٹی کا پرچم

جمعیت علمائے اسلام کا پرچم

جمعیت علمائے اسلام کا پرچم

اسلامی جمہوری اتحاد کا پرچم

اسلامی جمہوری اتحاد کا پرچم

اب اس سلسلے کو کچھ مزید آگے بڑھانے کا ارادہ ہے۔ اگر بلاگ قارئین پہلے وکی میڈیا کامنز کے اس زمرے پر ایک نظر ڈالیں، یہاں میرے اور دیگر وکی صارفین کے تیار کردہ پاکستان کی قومی سیاسی جماعتوں کے جھنڈے موجود ہیں۔ اس فہرست کو دیکھنے کے بعد براہ مہربانی نشاندہی کریں کہ وہ کون سی معروف قومی سیاسی جماعتیں ہیں جن کے پرچم موجود نہیں ہیں اور بعد میں ان پرچموں کا کوئی بھی نمونہ پیش کر دیں ، چاہے وہ کسی بھی فارمیٹ میں ہو، تو اس کام کو مزید آگے بڑھایا جا سکے گا۔ امید ہے کہ بلاگ کے قارئین اس سلسلے میں میری اور اردو وکیپیڈیا کی ضرور مدد کریں گے تاکہ اردو کی ترویج کو ہر سمت میں آگے بڑھایا جا سکے اور پاکستان کے حوالے سے معلومات کو بہتر سے بہترین بنایا جا سکے۔

17

یوم مہران، شاہراہ مہران پر

January 22, 2010 202 مشاہدات

عرصہ سے میں نے اخبارات میں آنے والی غلطیوں پر اپنے قلم کو روکے رکھا ہے لیکن آج جتنی بڑی غلطی جنگ اخبار سے کی ہے، اس نے مجھے مجبور کر دیا ہے کہ اس کا ذکر یہاں کیا جائے۔
آج جنگ اخبار کے صفحۂ اول پر سرخی کے نیچے ایک خبر کچھ یوں ہے

“سندھ کے عوام اتوار کو انڈس ہائی وے کے طور پر منائیں، وزیر اعلیٰ”

یہ دراصل وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی جانب سے اتوار کو “انڈس ڈے” منانے کا مطالبہ ہے جسے جنگ اخبار کے عظیم مدیران نے “انڈس ہائی وے” کر دیا۔

یوں جنگ کے کارناموں کی فہرست میں ایک اور شاندار اضافہ ہوا۔ اس کارنامے پر تو جنگ اخبار کے مدیران کا نام سنہری حروف سے لکھا جانا چاہیے۔

8

امن کی آشا کے جواب میں بھارت کی بھاشا

January 20, 2010 319 مشاہدات

انڈین پریمیر لیگ کے لیے کھلاڑیوں کی “نیلامی” کے موقع پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ جس طرح کا رویہ اختیار کیا گیا وہ اس بات کا عکاس ہے کہ “امن کی آشا” رکھنے والے کتنی بڑی بھول کا شکار ہیں۔ جب کرکٹ جیسے معمولی کھیل میں بھی بھارت پاکستانی کھلاڑیوں کے حصہ لینے کا روادار نہیں تو بڑے پیمانے پر کس طرح دونوں ممالک ساتھ چل سکتے ہیں۔ بھارت نے یہی حرکت ٹوئنٹی 20 چیمپینز لیگ کے موقع پر بھی کی تھی، جب پاکستان کی قومی ٹوئنٹی 20 چیمپین ٹیم سیالکوٹ اسٹالینز کو شرکت نہیں کرنے دی گئی اور یوں چند سال قبل برطانیہ میں دنیا بھر کی قومی ٹوئنٹی 20 چیمپین ٹیموں کو شکست دینے والی ٹیم یہ ٹورنامنٹ ٹی وی پر ہی دیکھ پائی۔

دنیا بھر میں آئی پی ایل کے اس قدم کو حیران کن سمجھا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان ٹوئنٹی 20 کرکٹ کا موجودہ عالمی چیمپین ہے اور اس طرز میں دنیا کے بہترین کھلاڑی پاکستان کے پاس ہیں۔ ٹوئنٹی 20 میں پاکستان دنیا کی تمام بڑی ٹیموں کو شکست دے چکا ہے، چاہے ٹیسٹ اور ون ڈے میں اس کی کارکردگی کیسی بھی ہو۔ اس صورتحال میں دنیا کی سب سے بڑی لیگ میں دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کی شمولیت کو روکنا سمجھ سے باہر ہے۔

حیران کن امر یہ ہے کہ جن کھلاڑیوں کو آخری بولی میں پاکستانیوں پر ترجیح دے کر خریدا گیا ہے وہ یا تو انتہائی کم تجربہ کار ہیں یا چلے ہوئے گھوڑے ہیں، جن کی اب کسی ٹیم میں کوئی جگہ نہیں۔ جن کھلاڑیوں کو سب سے زیادہ قیمت میں خریدا گیا ان کا ریکارڈ ملاحظہ کیجیے۔ کیرون پولارڈ کو 7 لاکھ 50 ہزار ڈالرز میں خریدا گیا جبکہ انہوں نے اب تک صرف 10 ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنل میچز کھیلے ہیں جن میں 7 اننگ میں صرف 86 رنز اسکور اور 7 وکٹیں لے رکھی ہیں۔ دوسری جانب اسی قیمت پر خریدے گئے شین بونڈ مسلسل اپنی فٹنس سے مقابلہ کر رہے ہیں اور حال ہی میں انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ سے صرف اس لیے ریٹائرمنٹ لی کیونکہ وہ چھوٹی طرز کی کرکٹ پر اپنی توجہ مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔ اس وقت شین بونڈ کی عمر 34 سال ہے اور بلاشبہ وہ ہر گز 18 سالہ محمد عامر سے اچھا آپشن نہیں ہیں۔ ٹوئنٹی 20 کھیلنے کا ان کا تجربہ بھی محض 13 مقابلوں کا ہے جس میں 17 وکٹیں ان کے ہاتھ لگی ہیں۔ کیا یہ کھلاڑی کسی بھی طرح عامر یا عمر گل یا شاہد آفریدی کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جن پاکستانی کھلاڑیوں کو ٹھکرایا گیا ان میں آئی پی ایل کے پہلے ایڈیشن کے بہترین کھلاڑی سہیل تنویر، متنازع انڈین کرکٹ لیگ کے شعلہ فشاں بلے باز عمران نذیر، اکمل برادران اور ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ وکٹیں رکھنے والے عمر گل بھی شامل تھے۔

فرنچائزز کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستانی کھلاڑیوں کو نہ خریدنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ وہ کسی ایسے کھلاڑی پر رقم نہیں لگانا چاہتے جس کی شرکت یقینی نہ ہو۔ لیکن  آخری بولی سے چند روز قبل ہی سے یہ افواہیں گردش میں تھیں کہ آئی پی ایل انتظامیہ نے فرنچائزز کو پاکستانی کھلاڑیوں کی بولی نہ لگانے کی ہدایت کر دی ہے۔ گو کہ انتظامیہ نے ان افواہوں کی تردید کی لیکن بولی میں پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ ہتک آمیز سلوک اور پھر للت مودی کے بیان نے واضح کر دیا کہ انتظامیہ اور فرنچائزز نے پہلے ہی طے کر لیا تھا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو آئی پی ایل میں شامل نہیں کرنا۔

پاکستان کے کئی کھلاڑیوں نے آئی پی ایل کے پہلے ایڈیشن میں شرکت کی تھی جن میں سے سہیل تنویر کو شاندار کارکردگی کی بدولت پلیئر آف دی ٹورنامنٹ قرار دیا گیا تھا۔ سہیل کی ٹیم راجھستان رائلز نے پہلے ایڈیشن میں فتح حاصل کی تھی۔ اگلے سال ممبئی حملوں کے باعث پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کو بھارت جانے سے روک دیا اور رواں سال انہیں اجازت دی گئی جس پر 26 پاکستانی کھلاڑیوں نے آئی پی ایل کو اپنی دستیابی سے آگاہ کیا۔ جن میں سے 11 کو حتمی فہرست میں شامل کیا گیا، جنہیں بولی کے موقع پر کسی نے نہیں خریدا۔

موجودہ صورتحال میں پاکستانی کھلاڑیوں کو حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے، خصوصاً بھارت کے حوالے سے انہیں کسی خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ جب اس سال آئی پی ایل کے لیے پاکستانی کھلاڑیوں نے نام دیے اور کھیلوں کے کئی ملکی تجزیہ کاروں نے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن شاید کھلاڑی اور بورڈ آئی پی ایل انتظامیہ کے حوالے سے کسی خوش فہمی کا شکار تھا، جو اب دور ہو گئی ہوگی۔ اب پاکستانی کھلاڑیوں کو اپنی تمام تر توجہ قومی کرکٹ ٹیم پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، جو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں بری طرح شکست کھانے کے بعد ممکنہ طور پر تبدیلی کے بہت بڑے عمل سے گزرے گی۔ دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی مقامی سطح پر کوئی بڑا مقابلہ کرانے کی ضرورت ہے جس میں ملکی حالات کے باعث غیر ملکی کھلاڑیوں کی شرکت تو ممکن نہیں ہوگی، لیکن قومی ٹوئنٹی 20 چیمپین شپ کی طرز کا کوئی کامیاب مقابلہ منعقد کروایا جا سکتا ہے تاکہ کھلاڑیوں کے اعتماد کو بحال کیا جا سکے۔

21