ابوشامل

شاہ عبد اللطیف بھٹائی-وڈیو پوسٹ


ہمارے عزیز دوست اور اِس بلاگ پر ‘کبھی کبھار’ اپنی تحاریر کے ساتھ جلوہ گر ہونے والے زبیر انجم نے شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے عرس کے موقع پر اپنے ادارے ‘سماء ٹی وی’ کے لیے یہ پیکیج تیار کیا تھا۔ تقریباً 2 منٹ کی اس وڈیو میں اسکرپٹ اور آواز دونوں زبیر انجم کی ہے۔ یہ پیکیج شاہ لطیف کے عرس کے موقع پر سماء ٹی وی سے نشر کیا گیا۔ ملاحظہ کیجیے

غازی انور پاشا شہید……پاک دل پاکباز – چوتھی و آخری قسط


اس سلسلے کی پہلی، دوسری اور تیسری قسط ملاحظہ کیجیے

انور پاشا کی مدینہ آمد

وزیر جنگ انور پاشا جب سویز اور شام کے محاذوں کے دورے سے فارغ ہوئے تو زیارتِ مدینہ کا قصد کیا۔ اس سفر میں ان کے ہمراہ جمال پاشا اور دیگر اعلیٰ فوجی حکام شامل تھے۔ انور پاشا کی مدینہ منورہ آمد کے حوالے سے عوام میں زبردست جوش و خروش پایا جاتا تھا۔ چنانچہ ٹرین بروز جمعہ مدینہ کے اسٹیشن پر پہنچی تو ایک خلقت انور پاشا کے استقبال کے لیے موجود تھی، ہر کوئی ان کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب تھا، مگر انور پاشا کا حال یہ تھا کہ اپنے ہمراہیوں کے برعکس آپ نے اپنے نشاناتِ افسری اور فوجی لباس محض اس لیے زیب تن نہ کیا کہ سرکار دوجہاںؐ کے حضور پیش ہونے آئے ہیں۔

غازی انور پاشا شہید……پاک دل پاکباز – تیسری قسط


غازی انور پاشا شہید پہلی اور دوسری قسط

کمیونسٹوں سے جنگ اور شہادت:

انور پاشا نے اپنے قول کو نبھایا اور اناطولیہ سے پرے رہتے ہوئے اپنی مجاہدانہ سرگرمیاں جاری رکھیں۔ انور پاشا باطوم سے تفلس، باکو، عشق آباد اور مرو کے راستے بخارہ پہنچے جہاں انہوں نے ترکستان پر کمیونسٹ روس کے ممکنہ حملے کی صورت میں مختلف گروہوں کو مزاحمت پر آمادہ کیا۔ کمیونسٹوں کے خلاف کارروائی کے دوران انور پاشا کو’’بسماچی‘‘ ازبکوں کے ایک مقامی رہنما نے گرفتار کرلیا، جہاں انور پاشا کو تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد ’’ایشاں سلطان‘‘ کی زیر قیادت بسماچیوں کے ایک دوسرے گروہ نے رہا کروایا۔ رہائی پاتے ہی انور پاشا نے دو سو تاجک مجاہدوں کے ساتھ دوشنبے میں موجود روسی افواج پر حملہ کردیا، یہ حملہ اچانک اور اس قدر زوردار تھا کہ روسی افواج کو دوشنبے خالی کرنا پڑا۔

غازی انور پاشا شہید……پاک دل پاکباز – دوسری قسط


غازی انور پاشا شہید – پہلی قسط یہاں ملاحظہ کریں

جنگ بلقان:

انور پاشاطرابلس میں اٹلی کو ہزیمت اٹھانی پڑی تو بلقانی ریاستیں ترکی پر ٹوٹ پڑیں۔ ایسے میں انور پاشا کو ترکی واپس آنا پڑا۔ یورپ جس طرح طرابلس پر حملے کے وقت اٹلی کا پشتیبان تھا اسی طرح بلقانی ریاستوں کا پاسدار بن گیا۔ یہ دور خلافتِ عثمانیہ کے لیے بہت کٹھن ثابت ہوا، ترکی کو پے درپے شکست کا سامنا کرنا پڑا، مقدونیہ اور تھریس (تراقیا) چھن گئے، ادرنہ (ایڈریا نوپل) طویل محاصرے کے بعد سپرانداز ہوگیا۔ اور تو اور خود استنبول خطرے میں پڑگیا۔ اُس وقت کامل پاشا صدرِاعظم تھا، جسے عملاً برطانیہ کا کارندہ سمجھا جاتا تھا، اس کے ذریعے جنگ ملتوی کرواکر لندن میں صلح کی کانفرنس کا انتظام کیا گیا، جس میں قرار پایا کہ خلافتِ عثمانیہ مقدونیہ، تھریس کے وسیع علاقے، ادرنہ اور جزیرۂ اقریطش (کریٹ) سے دست بردار ہوجائے۔ 30 جنوری 1913ء کو کامل پاشا کی وزارت اس تجویز کو قبول کرنے والی تھی کہ انور پاشا جان پر کھیل کر اُس ایوان میں جاپہنچا جہاں وزارت کا اجلاس ہورہا تھا، اس کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا جس پر پانچ سو سے زیادہ فوجی افسروں کے دستخط تھے۔ مطالبہ یہ تھا کہ یا تو جنگ جاری رکھی جائے یا وزارت مستعفی ہوجائے۔ وزیر جنگ ناظم پاشا، انور پاشا کو روکنے کے لیے آگے بڑھا، اس کے ایڈی کانگ نے گولی چلادی، جس سے انور پاشا بال بال بچے، مگر اُن کا ایک ساتھی مارا گیا۔ انور پاشا کے ساتھیوں کی جوابی فائرنگ سے ناظم پاشا مارا گیا۔ انور نے اندر پہنچتے ہی مطالبہ پیش کردیا یعنی جنگ جاری رکھی جائے یا استعفیٰ دے دیا جائے۔ کامل پاشا اور اس کے ساتھی مستعفی ہوگئے۔ تھوڑے ہی عرصے میں محمود پاشا کی زیرصدارت نئی وزارت بن گئی، لندن میں صلح کی جو تجویز قرار پائی تھی، ٹھکرا دی گئی اور جنگ ازسرنو شروع ہوگئی۔ ترکوں نے پامردی کا ثبوت دیا، تھریس کا خاصا حصہ بچالیا گیا جبکہ ادرنہ کو بھی واگزار کروالیا گیا۔ اس مہم میں انور پاشا بنفس نفیس شریک ہوئے اور ادرنہ میں فاتحانہ داخل ہوئے۔

غازی انور پاشا شہید……پاک دل پاکباز – پہلی قسط


میانہ قد، سبک اندام،خوب صورت اور چمکدار آنکھیں ، شجاعت میں بے مثال، جوشِ عمل کا کوہِ گراں، نہایت خلیق، بردبار، شیریں گفتار، پیکرِ ایثار اور شرم وحیا، رفقا میں گہری اور پائیدار وفاداری پیدا کرلینے کے جوہر سے متصف، عوام کا محبوب اور حُبِّ ملت کے لیے مرتبۂ شہادت پر فائز ہونے والا بطلِ جلیل۔ یہ ہیں اوصاف انور پاشا کے، جو خلافتِ عثمانیہ کے عہدِ زوال میں مہرِ اُمید بن کے طلوع ہوئے۔

محترمہ کا ورثہ


میرا تعلق ایسے گھرانے سے رہا ہے جس کے خون میں بھی پیپلز پارٹی بسی رہی ہے۔ اور اس کی وجہ صرف اور صرف یہی کہ بھٹو خاندان سندھی ہے۔ ہوش سنبھالا تو پایا کہ ‘جیے بھٹو’ کے نعرے کو کلمے کی سی حیثیت حاصل ہے۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ ضیاء الحق کے طیارے کو پیش آنے والے جان لیوا حادثے کے بعد ہمارے گھر میں کتنی خوشی منائی گئی تھی اور بے نظیر کی شادی والے دن محلے میں مہندی کی کتنی بڑی تقریب منعقد ہوئی تھی۔ بچپن کی اِن یادوں کے ساتھ جب شعور کی عمر میں قدم رکھا تو ایک ایک کر کے نظروں کے سامنے سے پردے ہٹنے لگے۔ صرف زبان کی بنیاد پر کسی کی حمایت میں کیسے کر سکتا ہوں؟ یہ تو دین کے احکامات کے علاوہ عقل کے بھی خلاف ہے اورانسانیت اور بنیادی اخلاقیات کے بھی۔ پھرعمر و شعور کی منازل جیسے جیسے طے ہوتی رہیں، دل و دماغ میں سے قوم پرستی کی پرتیں ہٹتی چلی گئیں (الحمد للہ)۔

آیا ہے رمضان، جاگ اٹھا ایمان


آیا ہے رمضان، جاگ اٹھا ایمان
ہر نیکی آزاد ہوئی اور قید ہوا شیطان

فجر سے گھنٹوں پہلے ہر گھر میں ہے بیداری
نیند سے سب کو نفرت ہے اور سحری سب کو پیاری
بچے تک اٹھ بیٹھے، اللہ کی دیکھو شان
ہر نیکی آزاد ہوئی اور قید ہوا شیطان
آیا ہے رمضان، جاگ اٹھا ایمان

’آزاد صحافت‘ دہشت گردوں کی غلام


آج سے کوئی تین سال قبل میں پاکستان کے ایک بہت بڑے ٹیلی وژن چینل میں ملازمت کے لیے انٹرویو کی غرض سے گیا۔ انٹرویو لینے والے پینل میں چینل کے ڈائریکٹر نیوز اور شعبہ تحقیق کے سربراہ کے علاوہ ملک کے ایک معروف صحافی بھی شامل تھے، جو پاکستان ٹیلی وژن کے لیے بھی خدمات انجام دے چکے تھے اور انہیں اس چینل میں ملازمت اختیار کیے ہوئے چند ہی روز ہوئے تھے۔ گو کہ میں نیوز روم میں سب ایڈیٹر کےعہدے کے لیے انٹرویو دینے گیا تھا لیکن وہاں دورانِ گفتگو یہ عقدہ کھلا کہ ادارے کو ضرورت شعبہ تحقیق (ریسرچ ڈپارٹمنٹ) کے لیے ایک فرد کی ہے۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ شعبہ تحقیق میں کام کر لیں گے؟ میرا جواب یہی تھا کہ میں نے آج تک کیا نہیں ہے اور نہ ہی مجھے تجربہ ہے کہ اس میں کام کس طرح ہوتا ہے۔ اس پر معروف صحافی نے کہا کہ شعبہ تحقیق کا کام یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی پروگرام میں کوئی مہمان آتا ہے تو اس کے لیے میزبان کو سوالات تیار کر کے دینا ہوتے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی پروگرام میں وصی ظفر کو بلایا جاتا ہے تو ان سے جو سوالات پوچھے جائیں گے وہ سب شعبہ تحقیق بنا کر دیتا ہے۔ میں نے سوال کیا کہ کس طرح کے سوالات؟ انہوں نے ایک تاریخی جملہ کہا “ایسے سوالات جو آگ لگا دیں”۔ یہ سنتے ہی میرا ماتھا ٹھنکا اور بے اختیار میرے منہ سے نکل گیا کہ میرے خیال میں میڈیا کا کام آگ لگانا نہیں بلکہ آگ بجھانا ہے۔ میرا یہی جملہ بعد ازاں میرا انتخاب نہ ہونےکی وجہ بنا۔ لیکن اس انٹرویو سے مجھ پر یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ ہمارے میڈیا کا کردار صرف اور صرف معاشرے میں انتشار پھیلانا ہے اور گزشتہ 10 سالوں میں نجی ذرائع ابلاغ نے یہی ‘قومی خدمت’ انجام دی ہے۔

چوہدری شجاعت حسین پھر جاگ گئے


پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی قیادت میں تقریباً نو سال تک ملکی معاملات چلانے کے لیے تشکیل دی گئی قومی ٹیم کے سینٹر فارورڈ اگر شوکت عزیز تھے تو فل بیک کی اہم پوزیشن چوہدری شجاعت حسین کے پاس تھی۔ جنرل مشرف نے اپنے کیرئیر میں بڑے بڑے معرکہ انجام دیے۔ اور بعض تو ایسے حیرت انگیز کہ عقل حیران رہ جائے۔ ایوب خان کے زمانے میں صرف چینی کی قیمت میں چند پیسوں کا اضافہ ہوا تو قیامت کھڑی ہو گئی تھی لیکن مجال ہے کہ اکبر بگٹی کے قتل سے، محسن پاکستان کی نظر بندی تک، سینکڑوں پاکستانیوں کی گمشدگی سے ملکی حدود میں امریکی ڈرون حملوں اور نفع بخش قومی اداروں کی فروخت تک۔ کہیں کوئی حکومت مخالف تحریک کھڑی ہونے پائی ہو۔ دراصل ایوب خان کے پاس سینٹر فارورڈز تو بہت تھے لیکن چوہدری شجاعت حسین جیسا فل بیک نہیں تھا۔ یہاں حکومت بھنور میں پھنسی وہاں چوہدری صاحب حرکت میں آگئے۔

نئی سیاسی فلم: مفاہمت سے منافقت تک


تحریر: حارث رقیب عظیمی

(مہمان بلاگر)

پرویز مشرف کی نو سالہ آمریت کے بعد خدا خدا کرکے وطن عزیز میں جمہوریت بحال ہوئی تو اسے دیگر چھوٹے چھوٹے امراض کے علاوہ شخصی آمریت اور بدعنوانی جیسے دو بڑے عارضے لاحق تھے۔ لیکن یہ تمام امراض و عوارض تو پچھلی جمہوریتوں میں بھی الحمدللہ موجود رہے ہیں۔ سو نئی جمہوریت کی یہ بڑی مشکل تھی کہ گزشتہ جمہوریتوں کے گناہوں میں اب کیسے اضافہ کیا جائے۔