کہانی راشد آباد کی


چند سال پہلے، جب گرمی اپنے جوبن پر تھی، کراچی سے میرپور خاص جاتے ہوئے راستے میں دور سے کچھ چمکتا دکھائی دیا۔ سڑک سے اٹھنے والی حدت کی وجہ سے منظر دھندلایا ہوا تھا، پھر ذہن میں ‘ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی’ کا ‘سنہرا اصول’ بھی گردش کررہا تھا لیکن منظر واضح ہوتا گیا اور جب قریب پہنچے، تو وہ ایک مسجد تھا۔ اپنے اردگرد کے علاقے سے کہیں مختلف ایک انوکھی بستی تھی۔ گاڑی میں سوال اٹھا “کون سی جگہ ہے یہ؟” مختصر سا جواب آیا “راشد آباد!”

وائی کنگز کے درمیان – پہلی قسط


ایک ہزار سال سے بھی پہلے، جب وائی کنگ حملہ آوروں کے بیڑے مغربی یورپ کے ساحلوں اور دریاؤں کے کناروں پر بسنے والے لوگوں کے لیے خوف کی علامت تھے، وائی کنگ سرزمین ہی کے تجارت کی طرف مائل افراد مشرق کا رخ کررہے تھے۔ ان میں دلیری و شجاعت اور حوصلے کی ہرگز کمی نہ تھی، وہ اعلیٰ پوستین چڑھائے اور عنبر کی ڈلیاں لیے ان وسیع میدانوں میں داخل ہوتے جو آج یوکرین، بیلاروس اور روس میں شامل ہیں اور پھر وہاں سے وسط ایشیا میں قدم رکھتے۔ یہاں وہ مسلمان تاجروں سے ملتے اور ان چیزوں کے بدلے چاندی کے سکے حاصل کرتے، جو وہ خود نہیں ڈھال سکتے تھے لیکن انہیں پسند بہت تھے۔

وہ مختلف راستے اپناتے یہاں تک کہ نویں اور دسویں صدی میں تجارت کا ایک وسیع جال بچھ گیا۔ اسکینڈینیویا کے چند باشندے زمینی اور دریائی سفر کرتے، جبکہ دیگر بحیرۂ اسود اور بحیرۂ قزوین سے آتے اور اونٹ کی پشت پر سوار ہو کر بغداد تک پہنچ جاتے جو اس وقت عباسی خلافت کا مرکز تھا اور تقریباً 10 لاکھ نفوس کا ایک جیتا جاگتا شہر تھا۔ یہاں اسکینڈینیویا کے ان باشندوں نے ایسا تجارتی مرکز دیکھا جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا، وہ اپنی سرزمین پر جنہیں شہر سمجھتے تھے وہ تو ابھی چھوٹے موٹے قصبے تھے۔

انقلاب کا آغاز اپنی ذات سے


انقلاب کا آغاز اپنی ذات سے۔ پہلے اپنے ظرف کو اتنا بلند کریں کہ وہ آپ کو وزیر اعلیٰ پنجاب سے مفت لیپ ٹاپ وصول کرنے اور میٹرو میں بیٹھ کر سفر کی سہولت حاصل کرنے سے روکے۔

مخالفت بھی کرنی ہے لیکن فائدہ بھی اٹھانا ہے، اس سوچ کے ساتھ کبھی “انقلاب” نہیں آیا کرتے۔

دماغ کی بتی کیسے جلائیں؟


کبھی کبھار ایسا لگتا ہے کہ دماغ منجمد ہے، اس میں موجود ہر خیال ‘ڈیپ فریز’ ہوچکا ہے اور اسے نکالنے کی مشق بالکل ایسی ہی ہوجائے جیسے عاشورے سے قبل عید الاضحیٰ والا گوشت فریزر سے نکالنے کی کوشش کی جائے۔ ہر خیال، ہر سوچ، ہر منصوبہ اور ہر ارادہ اس طرح سے دماغ میں نہیں آتا، جس طرح اسے آنا چاہیے۔ جو لوگ لکھتے ہیں، یا جو میری طرح لکھنا چاہتے ہیں، انہیں کئی بار اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جس میں وہ کچھ تحریر کرنے بیٹھتے ہیں تو گویا خود پر جبر کرنا پڑتا ہے۔ الفاظ بجائے خود ذہن میں آنے کے سوچ سوچ کر قلم زد ہوتے ہیں اور اس کڑی مشق کے باوجود تحریر میں وہ جان نظر نہیں آتی۔ بارہا اس مرحلے سے گزرنا پڑا اور کیونکہ علاج خود سے کرنے کا عارضہ بھی ہے اس لیے پہلی کوشش تو یہی رہی کہ کسی سے مشورے کا ‘احسان’ نہ لیا جائے لیکن جب ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تو استادوں سے مدد طلب کی، جنہوں نے ‘رائٹرز بلاک’ سے نکالا۔

اردو سوشل میڈيا سمٹ، قصہ ہمالیہ کے سر ہونے کا


میں اور ماؤنٹ ایورسٹ پر؟ مذاق کرتے ہو یار، یہ کیسے ممکن ہے؟ لیکن دوسرے ہی لمحے یہ خیال کہ اگر اچانک میں خود کو ماؤنٹ ایورسٹ کی کسی چٹان پر پاؤں؟ وہ بھی ایسی جگہ پر کہ جہاں سے واپس آنا ممکن نہ ہو، اور چوٹی سر کرنے کے علاوہ بھی کوئی چارہ نہ ہو تو؟ تو شاید معرکہ سر ہوجائے۔ اردو سوشل میڈیاسمٹ 2015ء کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ اردو بلاگرز کے مشترکہ پلیٹ فارم “اردو سورس” سے جب پہلی بار خیال پیش ہوا تو “دیوانے کی بڑ” محسوس ہو رہا تھا لیکن پانچ، چھ ماہ میں ہم نے بے یقینی کی انتہائی گہرائیوں سے یقین کی بلندیوں تک ہر انتہا کا سفر کیا۔ اتنے نشیب و فراز دیکھ لیے ہیں کہ سفر کے اختتام پر اب سب کچھ خواب سا لگتا ہے۔ لیکن ۔۔۔۔۔ آپ نے چاہے امتحان کی تیاری کتنی ہی اچھی کیوں نہ کر رکھی ہو؟ پرچے خواہ بہترین کیوں نہ ہوئے ہو؟ سب سے زیادہ تناؤ نتیجے والے دن ہی ہوتا ہے۔ ایک بے چینی اور بے کلی سی دل و دماغ پر چھا جاتی ہے۔ تناؤ کی کیفیت میں دماغ جسم کا ساتھ چھوڑتا محسوس ہوتاہے۔ 8 مئی کی صبح کچھ یہی کیفیت میری تھی۔

دھوبی کے کتے ہوگئے گھر کے نہ گھاٹ کے


القصہ اک وہ دین تھا دنیا کا دوست دار
واعظ، ادیب، ناصح، مشفق، صلاح کار

مونس، رفیق، موجب تسکین، غم گسار
ہم درد، بے ریا و ہوا خواہ جاں نثار

وہ کھینچتا تھا بار امیر و فقیر کا
دنیا میں اس میں ربط تھا شاہ و وزیر کا

اب ہم نے اپنے دیں کو بنایا چھوئی موئی
دنیا میں اور دیں میں لگانے لگے دوئی

تمہیں لیڈرکہوں یا اپنی مجبوری کا مفتوحہ علاقہ؟


تحریر: زبیرانجم صدیقی

اگر چہ ہمارے ٹی وی چینلز نے اگست کےآغاز سے ہی کپتان کے آزادی مارچ اور طاہرالقادری کی سرگرمیوں کی غیرمتوازن اور صحافتی اقدار سے ماورا کوریج کر کے قوم کو سنسنی میں مبتلا کررکھا تھا ۔ مگر دونوں مارچز کے شرکا کے اسلام آباد کے ریڈزون میں پہنچنے کے بعد بال بائی بال کمنٹری نے اس سنسنی کوہیجان میں بدل دیا ۔ انقلاب اور آزادی کی تاریخ پہ تاریخ ملتی رہی ۔نہ ’’انقلاب‘‘ آیا نہ ’’آزادی‘‘ ملی ۔

ہاشم خان ، بال بوائے سے سات مرتبہ کے چیمپئن تک


پشاور سے خیبر ایجنسی جانے والے راستے پر واقع ایک معمولی سے گاؤں نواں کلی کے 8 سالہ بچے نے اپنے والد کے ہمراہ پشاور میں قائم برطانوی افواج کے افسران کے کلب میں قدم رکھا۔ درۂ خیبر کی حفاظت کی ذمہ داری پر مامور انگریز افواج کے لیے بنائے گئے کلب میں مختلف کھیلوں کے میدان تھے۔ اس بچے کو ٹینس کورٹس میں بال بوائے کی حیثیت سے خدمات کی ذمہ داری دی گئی۔ یہ وہ دن تھے جب جب کلب میں اسکواش کورٹس کی تعمیر ہو رہی تھی۔ آؤٹ ڈور، بغیر چھت والے اسکواش کورٹس جن کو دیکھتے ہی ننھے دل میں تجسس ابھرا، اور یہیں سے ہاشم خان اور پاکستان کے اسکواش میں عظیم سفر کی داستان شروع ہوتی ہے۔

شیشہ و تیشہ


شاہراہ فیصل کراچی کی شہ رگ ہے، ہوائی اڈے اور بندرگاہ کو ملانے والی یہ شاہراہ اس وقت بھی جاگتی اور زندگی کو رواں رکھتی ہے جب پورا شہر سوجاتا ہے۔ دفتری اوقات میں یہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ درحقیقت، یہ شہر کے قلب سے گزرتا ہوا ایسا خطِ زندگی ہے جو اسے ہر دم جواں اور پیہم رواں رکھتا ہے۔ یہ شاہراہ عوام کے کئی رازوں سے اسی طرح واقف ہے، جیسے ان کے گھر کی دیواریں۔

ہمارا اکبری مزاج


چند روز قبل محترم ریاض شاہد کے بلاگ پر مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کا وہ مشہور قصہ پڑھا، جس میں انہوں نے دو یورپی باشندوں کی ہندوستان میں چھاپہ خانہ لگانے کی درخواست نامنظور کردی تھی۔ وجہ؟ اس کی چھپائی میں وہ نفاست اور خوبصورتی نہ تھی، جو ہاتھ سے لکھی خطاطی میں ہوتی تھی۔گو اکبر کو خود پڑھنا لکھنا نہیں آتا تھا، لیکن پھر بھی شاہی مزاج چھاپہ خانے کی ایسی بھدی چھپائی کو کہاں برداشت کرتا؟ اسے تو اپنے دربار میں موجود دنیا کے بہترین خطاطوں پر ناز تھا۔ یورپی وفد کی پیشکش رد کردی گئی اور یوں ہندوستان علم کی دوڑ میں پیچھے ہی رہ گیا، بلکہ آج تک پيچھے ہی ہے۔