
تحریر: زبیر انجم صدیقی
امریکی و برطانوی اخبارات، سی این این اور بی بی سی جیسے بڑے نشریاتی ادارے سولہ فروری سے ایک بہت بڑی “کامیابی” کی خبر نشر کر رہے ہیں۔ اور وہ “کامیابی” ہے افغانستان میں مغربی ذرائع ابلاغ کے بقول ملا عمر کے سیکنڈ اِن کمانڈ، ملٹری کمانڈر، امیر المومنین کے شوریٰ اور عسکریت پسندوں سے رابطے کا ذریعہ، مذاکرات کار اور مزاحمت کے سب سے بڑے جرنیل (انسرجنسی کمانڈر) ملا عبد الغنی برادر کی گرفتاری۔ جس کے بعد جمعرات 18 فروری کو بغلان میں طالبان کے شیڈو گورنر ملا عبدالسلام اور قندوز میں طالبان کے شیڈو گورنر ملا میر محمد کو بھی پاکستان سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملا برادر کی گرفتاری حقیقتاً اتنی نہیں تو اس سے کچھ کم درجے کی کامیابی ضرور ہوتی، اگر یہ اب سے چار یا پانچ مہینے پہلے ہوتی مگر اس وقت نہیں ہے۔ شاید اسی لئے ان پاکستانی ذرائع ابلاغ نےاس خبر کو اتنی لفٹ نہیں کرائی جتنا کہ وہ بالعموم نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کی خبروں کو اہمیت دیا کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں گزشتہ چند دنوں پیش آنے والے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو درج ذیل امکانی صورتیں بنتی ہیں۔
ملا عبد الغنی کی گرفتاری طالبان کے سابق آپریشنل کمانڈر ملا داد اللہ کی ڈرون حملے میں ہلاکت سے کافی مماثلت رکھتی ہے۔ ملا داد اللہ کو دو ہزار سات میں قندھار میں امریکی ڈرون حملے میں اس وقت ہلاک ہوئے تھے جب انہیں امیر المومنین ملا محمد عمر کی حکم عدولی کرنے پر ان کے منصب سے معزول کر کے عسکری کارروائیوں سے علیحدہ کر دیا گیا تھا۔ اس بارے میں ایک خیال یہ ہے کہ ملا عمر کی تائید سے محروم ہونے کے بعد ملا داد اللہ کی قندھار کے قریب موجودگی کی اطلاع آئی ایس آئی نے سی آئی اے کو فراہم کی تھیں جس پر کارروائی کرتے ہوئے انہیں ڈرون حملے میں ہلاک کیا گیا۔
یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ طالبان کے امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد نے اجازت کے بغیر افغان حکومت سے مذاکرات کرنے پر ملا عبد الغنی برادر کو دسمبر میں ان کے منصب سے علیحدہ کر دیا تھا۔ جس پر وہ ملا عمرسے ناراض ہو کر دسمبر میں ہی پاکستان آ گئے تھے۔ اور اس کے بعد سے ملا عمر نے تمام ذمہ داریاں طالبان دور حکومت میں قندھار کے گورنر ملا حسن رحمانی کو دے دی تھیں۔ اور ان دنوں ملا عمر کے بعد طالبان کے سے بڑے رہنما وہی ہیں اور وہی “ڈے ٹو ڈے” بزنس دیکھنے کے ذمہ دار ہیں، نہ کہ ملا برادر۔
سترہ فروری کو مالدیپ کے صدر کے ترجمان نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ مالدیپ کے صدر نے جنوری میں لندن کانفرنس سے قبل طالبان کے نمائندوں اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی تھی۔ صدارتی ترجمان کے مطابق ان مذاکرات میں افغانستان میں اقوام متحدہ کے سفیر بھی موجود تھے۔ دونوں جانب سے کے وفود گیارہ گیارہ ارکان پر مشتمل تھے۔ افغان مزاحمت کاروں کا گیارہ رکنی وفد تین حصوں کی نمائندگی کر رہا تھا۔
اول، حزب اسلامی کا وفد (جس میں مالدیپ کے صدارتی ترجمان کے مطابق انجینئر گلبدین حکمت یار کا بیٹا بھی شامل تھا۔ حزب اسلامی کا دائرہ اثر مشرقی افغانستان ہے)
دوم، حقانی نیٹ ورک کا وفد (جنوبی مشرقی افغانستان میں مولانا جلال الدین حقانی کی قیادت میں قابض افواج کے خلاف برسر پیکار گروہ)
اور سوم، ملا برادر کی سربراہی میں طالبان کا وفد جس کے بارے میں غالب امکان یہی ہے کہ اسے ملا عمر کی تائید حاصل نہیں تھی
اس سے پہلے افغانستان میں اقوام متحدہ کے سفیر نے تیس جنوری کو انکشاف کیا تھا کہ ان کے حال ہی میں طالبان کی ” کوئٹہ شوریٰ” کے اہم رکن سے مذاکرات ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ رابطے کہاں اور کس رکن سے ہوئے ہیں۔ مگر سترہ فروری کو مالدیپ کے صدارتی ترجمان کی جانب سے مذاکرات کی میزبانی کی تصدیق کے بات یہ سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے کہ یہ مذاکرات کہاں اور کوئٹہ شوریٰ کے کس رکن سے ہوئے تھے۔
ہمارے اس تجزیے کو اس سوال پر غور کرنے سے بھی تقویت ملتی ہے کہ۔ پاکستان(آئی ایس آئی) طالبان کے کلیدی رہنما کو ایک ایسے وقت میں کیوں گرفتار کرائے گا کہ جب پاک فوج کے سربراہ نے افغانستان میں سیاسی مصالحت کے لئے امریکہ اور طالبان سے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کرنے کی پیشکش بلکہ خواہش ظاہر کی ہوئی ہے۔ اور جس کے لئےپاکستان کو طالبان کے جتنے اعتماد کی ضرورت آج ہے اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ تو میرا سوال یہ ہے کہ پاک فوج کم از کم ایسے وقت میں طالبان کو کوئی بڑا دھچکہ کیوں دے گی۔ اور اس اعتماد کو کیوں خطرے میں ڈالے گی جس کا مصالحت میں کلیدی کردار ادا کرنے کے لئے سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
آئی ایس آئی اور افغان طالبان کے درمیان ہم آہنگی گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد بھی کسی نہ کسی صورت میں قائم رہی ہے۔ جس وقت گیارہ ستمبر کا حملہ ہوا آئی ایس آئی کے سربراہ واشنگٹن ہی میں موجود تھے۔ تاہم حملوں کے بعد وہاں ان کے قیام کو توسیع دے کر ان سے طالبان کے اسٹریٹجک اہداف کی ایک فہرست حاصل کی گئی تھی۔ مگر “خدا کے فضل و کرم” اور اپنے”اسٹریٹجک اثاثے” کی حفاظت کے پیش نظر وہ سارے اہداف ڈمی ثابت ہوئے اور طالبان کی سیاسی و عسکری قیادت کو بڑا نقصان نہیں پہنچ سکا۔ ملا برادر اور ان کے دو ساتھیوں کی گرفتاری کو اس تناظر میں بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد کے کلیدی ساتھی نہیں رہے تھے بلکہ اپنے مذاکراتی رابطوں کی وجہ سے ان کے لئے ایک بوجھ بن گئے تھے۔
گرفتاریوں کے اس غیر متوقع سلسلے کو ایک اور تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ دو نومبر دو ہزار دس کو امریکہ میں مڈ ٹرم الیکشن ہوں گے جس میں کامیابی کے لئے ڈیموکریٹس کو بہت ساری “فتوحات” اور”بڑی کامیابیوں” کی ضرورت ہے۔ جن میں اوباما انتظامیہ کی نئی افغان پالیسی کی کامیابی بھی شامل ہے۔ اسی لئے تیرہ فروری کو افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند کے ضلع مرجاہ میں شروع ہونے والے آپریشن مشترک کا “میڈیا ہائپ”‘(ابلاغیاتی بلبلہ) پیدا کیا گیا ہے۔ جسے کبھی گیارہ ستمبر کے بعد امریکی فوج کا سب بڑا آپریشن۔ کبھی طالبان کے زیر انتظام سب بڑی آبادی کو سر کرنے کا خطرناک معرکہ اور کبھی اوباما کی نئی” سرج پالیسی” کا لٹمس ٹیسٹ قرار دیا جارہا ہے۔ حالانکہ جس قسم کی مہم پر پندرہ ہزار امریکی، برطانوی اور افغان فوجی مرجاہ کی جانب روانہ ہوئے ہیں، طالبان اس قسم کی جنگ لڑ ہی نہیں رہے ہیں۔ وہ تو پورے افغانستان میں گوریلا جنگ لڑ رہے ہیں، وہ حملہ کرتے ہیں بھاگتے ہیں، نشانہ بناتے ہیں غائب ہو جاتے ہیں، ان سے یہ توقع رکھنا ہی فضول ہے کہ وہ مرجاہ پر کنٹرول قائم رکھنے کے لئے اتحادی فوج کے خلاف صف بستہ ہو کر لڑیں گے۔ اور”شدید مزاحمت” ہوگی۔ طالبان آپریشن سے کئی دن پہلے ہی مرجاہ سے نکل گئے تھے۔ اس لئے میرا خیال یہی ہے کہ چند دن کے بعد اتحادی فوج”شدید مزاحمت” کو”کچلتے”ہوئے۔ پچاسی ہزار کی آبادی پر کنٹرول قائم کر لے گی۔ جسے اوباما کی سرج پالیسی کی پہلی آزمائش کی “بڑی کامیابی” قرار دے دیا جائے گا۔ اور ملا برادر کی گرفتاری کے بارے میں جس طرح کی خبریں، بیانات اور تجزیے امریکی اخبارات میں شائع ہو رہے ہیں، وہ کچھ اس طرح کے ہیں:آئی ایس آئی اور سی آئی اے کے درمیان تعاون میں اضافے کا ثبوت۔ پاک امریکہ انٹیلیجنس تبادلہ ایک نئی بلند سطح پر پہنچ گیا۔ وائٹ ہائوس نے طالبان لیڈر کی گرفتاری کو مشترکہ کوششوں کی فتح قرار دے دیا۔ امریکی ٹی وی چینلز ہوں یا اخبارات سب کے سب”بڑی کامیابی” کے نشے میں چور اورپاکستان کے تعاون کے لئے رطب اللسان ہیں۔ ذیل میں ہم صرف ایک امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے حوالے دے رہے ہیں۔
“American and Pakistani intelligence agents continued to press their offensive against the group’s leadership after the capture of the insurgency’s military commander”
“Together, the three arrests mark the most significant blow to the Taliban’s leadership since the American-backed war began eight years ago”.
“The three recent arrests — all in Pakistan — demonstrate a greater level of cooperation by Pakistan in hunting leaders of the Afghan Taliban than in the entire eight years of war”.
اوراس اقتباس پر تویہ کہنے کا دل چاہتا ہے کہ” اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا‘‘۔
Pakistani military and intelligence agencies, led by Gens. Ashfaq Parvez Kayani and Ahmed Shuja Pasha, may finally be coming around to the belief that the Taliban — in Pakistan and Afghanistan — constitute a threat to the existence of the Pakistani state.
“I believe that General Kayani and his leaders have come to the conclusion that they want us to succeed,” a senior NATO officer in Kabul said.
اس تجزیے کے بعد یہ سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے کہ امریکی صدر براک اوباما کو فوجی انخلاء کے لئے افغانستان میں فوجی کامیابی کی نہیں بلکہ صرف کامیابی کے تاثر کی ضرورت ہے اور یہ ساری نئی پالیسی اس تاثر کو حاصل کرنے ہی کی سر توڑ کوشش ہے۔ یہ تو تھی غیر حقیقی”بڑی کامیابی” کا تجزیہ۔ اگلے بلاگ میں ہم آپ کو حقیقی بڑی خبر دیں گے۔