تحقیق و ترجمہ /عبدالخالق بٹ
کسی نے سابق مفتی اعظم سعودی عرب عبدالعزیز بن عبداللہ بن بازؒ(1910 ء تا 1999ء ) سے پوچھا ’’اگر آپ کی بینائی لوٹ آئے تو آپ سب پہلے کیا دیکھنا چاہیں گے؟ ‘‘، ’’اونٹ !‘‘عبداللہ بن باز ؒنے بلا توقف جواب دیا۔
’’اونٹ؟ اس میں ایسی کیا خاص بات ہے؟‘‘ سوال کرنے والے نے حیرت سے استفسار کیا۔
مفتی صاحبؒ کاجواب تھا: ’’یہ تو مجھے نہیں پتہ، تاہم قرآن پاک میں اللہ فرماتا ہے:
اَفَلاَ یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ (الغاشیۃ۔ 17)
ترجمہ: تو کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے؟
میں تو بس یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ آخر اونٹ کس طور تخلیق کئے گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر قرآن پاک میں اس طور سے کیا ہے۔‘‘
پاکستان بلکہ دنیا کے کسی بھی ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے حوالے سے ہمیشہ دو رائے رہی ہیں۔ ایک رائے اصطلاحی زبان میں زمام کار کو ہاتھ میں لے کر اوپر سے پورے نظام کو درست کرنے کے حق میں ہے تو دوسری کے مطابق معاشرے کی اس طرح اصلاح کی جائے کہ وہ خود سے معاشرے میں تبدیلی کے لیے آمادۂ کار ہو جائے یا پھر اگر کبھی اوپر سے بھی تبدیلی آئے تو اس کے لیے تیار ہو۔ پاکستان میں اول الذکر خط پر جماعت اسلامی کام کر رہی ہے جبکہ موخر الذکر پر گزشتہ دو صدیوں سے تبلیغی جماعت عمل پیرا ہے۔ لیکن یہ سوال کئی ذہنوں میں کلبلاتا ہے کہ آخر نظام اسلامی کے قیام کی درست ترتیب کیا ہے۔ اس حوالے سے سید ابو الاعلیٰ مودودی نے ترجمان القرآن کی ستمبر 1948ء کی اشاعت میں ایک سوال کا بہت دلچسپ انداز میں جواب دیا تھا۔ اس میں نہ صرف مختصراً ان دونوں رائے کے بارے میں بتایا گیا ہے بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ہم پہلے طریقے میں ناکام رہے تو پھر ہم دوسرا طریقہ اپنائیں گے۔ کیا جماعت اسلامی، جو سیاست کے میدان میں اب کافی اندر تک داخل ہو چکی ہے، فیصلہ کرنے کا اتنا دم خم رکھتی ہے کہ وہ دوسرے طریقے کو اپنانے پر غور کرے اور سب سے اہم سوال یہ کہ کیا واقعی “دوسرا طریقہ” آزمانے کا وقت آ چکا ہے؟ یہ سوال تو سید صاحب کی تحریر پڑھنے کے بعد میرے ذہن میں ابھرا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
پاکستان میں اک نیا رحجان پنپ رہا ہے، وہ ہے ذرائع ابلاغ کی مذمت۔ کہاں وہ پرویز مشرف دور کا زریں عہد تھا کہ ہر کوئی ذرائع ابلاغ کے گن گاتا تھا اور کہاں آج کے دن کہ جہاں کسی محفل میں کوئی موضوع زیر بحث بنا ، محض ایک دو باتوں کے بعد تان ذرائع ابلاغ پر جا ٹوٹتی ہے کہ یہ سب میڈیا کا کیا دھرا ہے، اس نے یہ کر دیا، اس نے وہ کر دیا۔ اس بہتی گنگا سے بچنے کی ہم حتی الامکان کوشش کرتے ہیں لیکن آخر کب تک؟ بالآخر یہ ہمارا شعبہ ہے اور اس کی زبوں حالی پر دل تو کڑھے گا۔
انٹرنیٹ پر اردو رضاکار برادری سے وابستگی کو تقریباً چھ سال ہونے والے ہیں اور اس پورے عرصے میں میں نے تقریباً تمام افراد کو انتہائی مخلص، بامروّت، با اخلاق اور ایثار و قربانی کے جذبے سے لبریز پایا ہے۔ انتہائی نامساعد حالات میں رضاکاروں نے اپنے ذاتی و معاشی مسائل کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جس طرح اردو کی خدمت کی، اس کا عشر عشیر بھی ذمہ دار ادارے کر پاتے تو آج قومی زبان اس حالت میں نہ ہوتی۔
لیکن اس کے باوجود میں نے دیکھا ہے کہ بڑے بڑے کارنامے انجام دینے کے باوجود وہ نتائج حاصل نہیں ہو پاتے، جن کو ذہن میں رکھ کر کام کیا جاتا ہے یا پھر کی گئی محنت کی وصولیابی جتنا صلہ نہیں مل پاتا۔
جب آپ اک طویل اور انجانے سفر کے لیے پہلا قدم اٹھاتے ہیں، تو یقین نہیں ہوتا کہ آخر کہاں تک پہنچ پائیں گے۔ ذہن میں کئی سوالات ابھر رہے ہوتے ہیں کہ جس منزل کا ایک دھندلا سا خواب ذہن میں سجا ہے کیا وہ کبھی شرمندۂ تعبیر بھی ہوگا؟ کچھ اسی ذہن کے ساتھ دو سال قبل ڈائری میں لکھی چند یادداشتوں، کاغذ کے چند ٹکڑوں پر لکھے گئے نسخوں اور باہمی گفتگو کے بعد دسمبر کے آخری ایام میں محمد اسد کے ساتھ مل کر اک عمارت کی پہلی اینٹ رکھی تھی۔ غالباً 26 یا 27 دسمبر کو اسد نے ڈومین خریدنے کے بعد مجھے کرک نامہ کے “لوگو” اور “تھیم” کا دیدار کروایا اور جب یکم جنوری کو شب 12 بجے سائٹ لانچ کر کے مجھے دکھائی گئی تو یقین آیا کہ اک خواب حقیقت کا روپ دھارنے جا رہا ہے لیکن اندازہ نہیں تھا کہ یہ کتنا آگے جائے گا، یا ہم اسے کتناچلا پائیں گے؟
14 ویں صدی کے ایرانی میر علی تبریزی نے خواب میں اک محو پرواز پرندہ دیکھا، جس کی حرکات و سکنات اور پروں کی جنبش نے بعد ازاں تبریزی کی تخلیقی صلاحیتوں کو اک نئی راہ دکھلائی اور یوں خط نستعلیق وجود میں آیا۔ نستعلیق کے پیچ و خم اسے دنیا کے خوبصورت ترین خطوں میں شمار کرتے ہیں۔ یہ خط شاہی محلات تک میں داد و تحسین سمیٹتا گیا یہاں تک کہ شہزادے شمشیر کے ساتھ نستعلیق پر بھی طبع آزمائی کرنے لگے۔ امیر تیمور کا پوتا ابراہیم بن شاہ رخ نستعلیق کے اولین بہترین خطاطوں میں سے ایک تھا اور اس کے بعد ہندوستان سے لے کر سلطنت عثمانیہ تک شاہوں، شہزادوں اور خطاطوں کی اک طویل فہرست ہے جو خط نستعلیق پر مہارت رکھتے تھے۔
1260ء کے موسم بہار میں جب قاہرہ کے شہری روزمرہ کی زندگی میں مصروف تھے تو مملوک سلطان مظفر سیف الدین قطز کو اک ایسے خطرے کا سامنا تھا، جس سے اس وقت کے حاکم تھر تھر کانپتے تھے، منگول!!
مملوک سلطان اور اس کے جرنیلوں کے سامنے منگول حکمران ہلاکو خان کے چار ایلچی کھڑے تھے۔ انہوں نے قطز کو ایک خط دیا، جس میں سفارتی آداب کی قطعاً کوئی پروا نہ کی گئی تھی اور یہ اس لہجے میں نہیں لکھا گیا تھا جو کسی سلطنت کا حاکم اپنے کسی ہم منصب کو بھیجتا تھا:
تسوید و ترجمہ: عبدالخالق بٹ
یورپ میں عہد ِنشاۃ ثانیہ(14ویں تا17ویں صدی) کامیابی اور سرفرازی کے نئے امکانات کے ساتھ طلوع ہوا۔ اس عہد میں تعمیرات، سائنس، فلسفہ، ادب، مصوری، موسیقی، رقص اور فنِ حرب سمیت ہر شعبۂ زندگی میں بیداری کی لہر پیدا ہوئی اور جب یورپ نے خود کو جہانبانی کا اہل ثابت کردکھایا تو انہیں ’’شانِ کئی‘‘ بھی ملی اور’’ دنیانئی ‘‘بھی ملی، اور یہ عین قانونِ فطرت تھا، بقول شاعر:
کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں
عربی کے مشہورمقولے : ’’اطلبو العلم ولو بالصین‘‘۱ (علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے) میں جہاں اشہب جستجو کو مہمیز دی گئی ہے وہیں اس میں اہل چین کے علم وفن کا اعتراف اور سرزمین عرب سے اس کی طویل مسافت کا ذکر موجود ہے۔
یوں تو عرب چین تعلقات زمانہ قبل از اسلام قائم ہوچکے تھے ،مگر اس تعلق کی نوعیت تجارتی تھی، ابھی عرب و چین کے مابین مثبت یا منفی کسی بھی طرح کے سیاسی اورعسکری معاملات کا آغازنہیں ہواتھا۔
سن 920ء کے اوائل میں عباسی خلیفہ المقتدر کو صقالبہ (Slavs) کے بادشاہ کی جانب سے خط ملا، جو قازان کے شمال میں موجودہ روسی علاقے میں حکومت کرتا تھا۔ بادشاہ نے خلیفہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسلام کے بنیادی عقائد سکھانے کے لیے کسی وفد کو بھیجیں تاکہ لوگوں میں دین کا بنیادی شعور اجاگر کیا جاسکے اور اس کے علاوہ یہاں ایک مسجد بھی تعمیر کی جائے۔ کیونکہ اس زمانے میں یہ علاقے بہت دور دراز بلکہ دنیا کے سب سے بڑے شہر بغداد کے باسیوں کے لیے تو ایک اجنبی دنیا ہی شمار ہوتے تھے، اس لیے خلیفہ نے کافی پس و پیش کے بعد ایک سال بعد ایک وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ یہ وفد جون 921ء میں بغداد سے روانہ ہوا۔ گو کہ اس سفارت کے نتائج کے بارے میں کافی معلومات موجود نہیں ہیں کیونکہ سفیر کی باضابطہ رپورٹ گردشِ زمانہ کی نذر ہو گئی لیکن اس مہم سے ہمیں اس وقت کی “اجنبی دنیا” کی ایک مسحور کن دستاویز ضرور ملتی ہے، ڈھائی ہزار میل کے سفر کی مکمل داستان، وفد کے ایک رکن ابن فضلان کے قلم سے۔ یہ رومی عہد کے بعد روس کے بیابانوں اور وہاں کے باسیوں کا پہلا تفصیلی احوال تھا۔ ابن فضلان کے اپنے مطابق میں اس سفرنامے میں “ترک، خزر، روسی، صقالبی اور باشکرد ممالک میں لوگوں کے مذہبی عقائد، بادشاہوں اور عام معاملات کے بارے میں جو کچھ دیکھا” شامل ہے۔