تمہیں لیڈرکہوں یا اپنی مجبوری کا مفتوحہ علاقہ؟


تحریر: زبیرانجم صدیقی

اگر چہ ہمارے ٹی وی چینلز نے اگست کےآغاز سے ہی کپتان کے آزادی مارچ اور طاہرالقادری کی سرگرمیوں کی غیرمتوازن اور صحافتی اقدار سے ماورا کوریج کر کے قوم کو سنسنی میں مبتلا کررکھا تھا ۔ مگر دونوں مارچز کے شرکا کے اسلام آباد کے ریڈزون میں پہنچنے کے بعد بال بائی بال کمنٹری نے اس سنسنی کوہیجان میں بدل دیا ۔ انقلاب اور آزادی کی تاریخ پہ تاریخ ملتی رہی ۔نہ ’’انقلاب‘‘ آیا نہ ’’آزادی‘‘ ملی ۔

ہاشم خان ، بال بوائے سے سات مرتبہ کے چیمپئن تک


پشاور سے خیبر ایجنسی جانے والے راستے پر واقع ایک معمولی سے گاؤں نواں کلی کے 8 سالہ بچے نے اپنے والد کے ہمراہ پشاور میں قائم برطانوی افواج کے افسران کے کلب میں قدم رکھا۔ درۂ خیبر کی حفاظت کی ذمہ داری پر مامور انگریز افواج کے لیے بنائے گئے کلب میں مختلف کھیلوں کے میدان تھے۔ اس بچے کو ٹینس کورٹس میں بال بوائے کی حیثیت سے خدمات کی ذمہ داری دی گئی۔ یہ وہ دن تھے جب جب کلب میں اسکواش کورٹس کی تعمیر ہو رہی تھی۔ آؤٹ ڈور، بغیر چھت والے اسکواش کورٹس جن کو دیکھتے ہی ننھے دل میں تجسس ابھرا، اور یہیں سے ہاشم خان اور پاکستان کے اسکواش میں عظیم سفر کی داستان شروع ہوتی ہے۔

شیشہ و تیشہ


شاہراہ فیصل کراچی کی شہ رگ ہے، ہوائی اڈے اور بندرگاہ کو ملانے والی یہ شاہراہ اس وقت بھی جاگتی اور زندگی کو رواں رکھتی ہے جب پورا شہر سوجاتا ہے۔ دفتری اوقات میں یہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ درحقیقت، یہ شہر کے قلب سے گزرتا ہوا ایسا خطِ زندگی ہے جو اسے ہر دم جواں اور پیہم رواں رکھتا ہے۔ یہ شاہراہ عوام کے کئی رازوں سے اسی طرح واقف ہے، جیسے ان کے گھر کی دیواریں۔

ہمارا اکبری مزاج


چند روز قبل محترم ریاض شاہد کے بلاگ پر مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کا وہ مشہور قصہ پڑھا، جس میں انہوں نے دو یورپی باشندوں کی ہندوستان میں چھاپہ خانہ لگانے کی درخواست نامنظور کردی تھی۔ وجہ؟ اس کی چھپائی میں وہ نفاست اور خوبصورتی نہ تھی، جو ہاتھ سے لکھی خطاطی میں ہوتی تھی۔گو اکبر کو خود پڑھنا لکھنا نہیں آتا تھا، لیکن پھر بھی شاہی مزاج چھاپہ خانے کی ایسی بھدی چھپائی کو کہاں برداشت کرتا؟ اسے تو اپنے دربار میں موجود دنیا کے بہترین خطاطوں پر ناز تھا۔ یورپی وفد کی پیشکش رد کردی گئی اور یوں ہندوستان علم کی دوڑ میں پیچھے ہی رہ گیا، بلکہ آج تک پيچھے ہی ہے۔

میرے خوابوں کا پاکستان


90ء کی دہائی کے اوائل کا زمانہ تھا، آمریت کے طویل دور کے خاتمے کے بعد پاکستان جمہوری عہدمیں تازہ تازہ داخل ہوا تھا۔ نئی امنگیں، نئے حوصلے اور نئی توانائیاں تھیں۔ کرکٹ کے میدانوں میں فتوحات نے پوری قوم کو سحر زدہ کر رکھا تھا اور اس کے بعد ہاکی کے عالمی کپ، اسنوکر کی ورلڈ امیچر چیمپئن شپ اور معمول کی اسکواش فتوحات نے کھیلوں کی دنیا میں پاکستان کا سورج نصف النہار پر پہنچا دیا تھا۔ اس چکاچوند میں ہم نے شعور کی آنکھ کھولی تو گویا ہمارے لیے تو پاکستانی ہونا اور اس پر فخر کرنا بنتا بھی تھا۔ شاید یہ وجہ بھی ہو کہ اس وقت دنیا اس قدر جڑی ہوئی نہیں تھی، لے دے کر ملک میں تین ٹی وی چینل آیا کرتے تھے جس کی وجہ سے بھانت بھانت کی بولی سننے کے بجائے ایک ہی بات ملتی۔ گو کہ ”سب اچھا نہ تھا“ لیکن آج کی طرح سب برا بھی نہیں تھا۔ہم اس وقت بیٹھ کر سوچتے تھے تو ہمیں لگتا تھا کہ 2010ء میں پاکستان ایک ترقی یافتہ ملک بن جائے گا۔ پھر مسلم دنیا کی واحد ایٹمی قوت نے اسے ایک امتیازی حیثیت بھی دے دی تھی۔

کرک نامہ، اک نیا سنگ میل


عرصہ ہوا ہم ایک اور بلاگ کو پیارے ہو گئے، جی ہاں! کرکٹ بلاگ کرک نامہ کو اور اب تو کئی دن گزر جاتے ہیں اِس کوچے کا رخ کیے ہوئے۔ بہرحال، اب آئے ہیں تو ذکر کرتے چلیں کہ کرک نامہ اک اور سنگ میل طے کر چکا ہے یعنی اب وہ اردو سے آگے بڑھ کر انگریزی میں بھی جاری ہو گیا ہے۔

شتر بے مُہار: آسٹریلیا کی تعمیر و تخریب میں اونٹوں کا ’’کردار‘‘


تحقیق و ترجمہ /عبدالخالق بٹ

کسی نے سابق مفتی اعظم سعودی عرب عبدالعزیز بن عبداللہ بن بازؒ(1910 ء تا 1999ء ) سے پوچھا ’’اگر آپ کی بینائی لوٹ آئے تو آپ سب پہلے کیا دیکھنا چاہیں گے؟ ‘‘، ’’اونٹ !‘‘عبداللہ بن باز ؒنے بلا توقف جواب دیا۔

’’اونٹ؟ اس میں ایسی کیا خاص بات ہے؟‘‘ سوال کرنے والے نے حیرت سے استفسار کیا۔

مفتی صاحبؒ کاجواب تھا: ’’یہ تو مجھے نہیں پتہ، تاہم قرآن پاک میں اللہ فرماتا ہے:

اَفَلاَ یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ (الغاشیۃ۔ 17)

ترجمہ: تو کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے؟

میں تو بس یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ آخر اونٹ کس طور تخلیق کئے گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر قرآن پاک میں اس طور سے کیا ہے۔‘‘

نظام اسلامی کے قیام کی صحیح ترتیب


پاکستان بلکہ دنیا کے کسی بھی ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے حوالے سے ہمیشہ دو رائے رہی ہیں۔ ایک رائے اصطلاحی زبان میں زمام کار کو ہاتھ میں لے کر اوپر سے پورے نظام کو درست کرنے کے حق میں ہے تو دوسری کے مطابق معاشرے کی اس طرح اصلاح کی جائے کہ وہ خود سے معاشرے میں تبدیلی کے لیے آمادۂ کار ہو جائے یا پھر اگر کبھی اوپر سے بھی تبدیلی آئے تو اس کے لیے تیار ہو۔ پاکستان میں اول الذکر خط پر جماعت اسلامی کام کر رہی ہے جبکہ موخر الذکر پر گزشتہ دو صدیوں سے تبلیغی جماعت عمل پیرا ہے۔ لیکن یہ سوال کئی ذہنوں میں کلبلاتا ہے کہ آخر نظام اسلامی کے قیام کی درست ترتیب کیا ہے۔ اس حوالے سے سید ابو الاعلیٰ مودودی نے ترجمان القرآن کی ستمبر 1948ء کی اشاعت میں ایک سوال کا بہت دلچسپ انداز میں جواب دیا تھا۔ اس میں نہ صرف مختصراً ان دونوں رائے کے بارے میں بتایا گیا ہے بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ہم پہلے طریقے میں ناکام رہے تو پھر ہم دوسرا طریقہ اپنائیں گے۔ کیا جماعت اسلامی، جو سیاست کے میدان میں اب کافی اندر تک داخل ہو چکی ہے، فیصلہ کرنے کا اتنا دم خم رکھتی ہے کہ وہ دوسرے طریقے کو اپنانے پر غور کرے اور سب سے اہم سوال یہ کہ کیا واقعی “دوسرا طریقہ” آزمانے کا وقت آ چکا ہے؟ یہ سوال تو سید صاحب کی تحریر پڑھنے کے بعد میرے ذہن میں ابھرا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

کیا آپ کو یہ کمال حاصل ہے؟


پاکستان میں اک نیا رحجان پنپ رہا ہے، وہ ہے ذرائع ابلاغ کی مذمت۔ کہاں وہ پرویز مشرف دور کا زریں عہد تھا کہ ہر کوئی ذرائع ابلاغ کے گن گاتا تھا اور کہاں آج کے دن کہ جہاں کسی محفل میں کوئی موضوع زیر بحث بنا ، محض ایک دو باتوں کے بعد تان ذرائع ابلاغ پر جا ٹوٹتی ہے کہ یہ سب میڈیا کا کیا دھرا ہے، اس نے یہ کر دیا، اس نے وہ کر دیا۔ اس بہتی گنگا سے بچنے کی ہم حتی الامکان کوشش کرتے ہیں لیکن آخر کب تک؟ بالآخر یہ ہمارا شعبہ ہے اور اس کی زبوں حالی پر دل تو کڑھے گا۔

تیزی سے بدلتا منظرنامہ، اردو کے لیے کیا کیا جائے؟


انٹرنیٹ پر اردو رضاکار برادری سے وابستگی کو تقریباً چھ سال ہونے والے ہیں اور اس پورے عرصے میں میں نے تقریباً تمام افراد کو انتہائی مخلص، بامروّت، با اخلاق اور ایثار و قربانی کے جذبے سے لبریز پایا ہے۔ انتہائی نامساعد حالات میں رضاکاروں نے اپنے ذاتی و معاشی مسائل کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جس طرح اردو کی خدمت کی، اس کا عشر عشیر بھی ذمہ دار ادارے کر پاتے تو آج قومی زبان اس حالت میں نہ ہوتی۔

لیکن اس کے باوجود میں نے دیکھا ہے کہ بڑے بڑے کارنامے انجام دینے کے باوجود وہ نتائج حاصل نہیں ہو پاتے، جن کو ذہن میں رکھ کر کام کیا جاتا ہے یا پھر کی گئی محنت کی وصولیابی جتنا صلہ نہیں مل پاتا۔