دماغ کی بتی کیسے جلائیں؟

کبھی کبھار ایسا لگتا ہے کہ دماغ منجمد ہے، اس میں موجود ہر خیال ‘ڈیپ فریز’ ہوچکا ہے اور اسے نکالنے کی مشق بالکل ایسی ہی ہوجائے جیسے عاشورے سے قبل عید الاضحیٰ والا گوشت فریزر سے نکالنے کی کوشش کی جائے۔ ہر خیال، ہر سوچ، ہر منصوبہ اور ہر ارادہ اس طرح سے دماغ میں نہیں آتا، جس طرح اسے آنا چاہیے۔ جو لوگ لکھتے ہیں، یا جو میری طرح لکھنا چاہتے ہیں، انہیں کئی بار اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جس میں وہ کچھ تحریر کرنے بیٹھتے ہیں تو گویا خود پر جبر کرنا پڑتا ہے۔ الفاظ بجائے خود ذہن میں آنے کے سوچ سوچ کر قلم زد ہوتے ہیں اور اس کڑی مشق کے باوجود تحریر میں وہ جان نظر نہیں آتی۔ بارہا اس مرحلے سے گزرنا پڑا اور کیونکہ علاج خود سے کرنے کا عارضہ بھی ہے اس لیے پہلی کوشش تو یہی رہی کہ کسی سے مشورے کا ‘احسان’ نہ لیا جائے لیکن جب ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تو استادوں سے مدد طلب کی، جنہوں نے ‘رائٹرز بلاک’ سے نکالا۔

سب سے پہلے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آخر ایسا ہوتا کیوں ہے؟ جس طرح جسم مسلسل محنت سے تھک جاتا ہے، پٹھے چڑھ جاتے ہیں اور انہیں آرام کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح دماغ کے لیے بھی آرام ضروری ہے۔ معمول کی نیند اپنی جگہ، لیکن اس کے علاوہ بھی ذہن کو پریشانیوں سے جھنجھٹوں سے نکالنا ضروری ہے۔ یہ پریشانی مالی بھی ہوسکتی ہے، کسی دوسرے تناؤ کا نتیجہ بھی، اور ہم جیسے بند شب و روز میں جکڑے ہوئے شہریوں کے لیے روٹین کی غلامی بھی، جس کو بہرصورت انجام دینا پڑتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دماغ کی تخلیقی صلاحیت کو زنگ لگنے لگتا ہے۔ پھر اگر وہ لکھاری ہے تو تحریر میں، مصور ہے تو فن پاروں میں اور اگر تخلیق کار ہے تو نئے منصوبے میں جان نہیں ڈال پاتا۔

اب اس مسئلے سے جان کیسے چھڑائی جائے؟ سب سے پہلے تو اس کام سے ہی جان چھڑا لیں۔ یہ “روز کا آنا جانا” دراصل “قدر” کھو دیتا ہے، اس لیے آپ اگر کچھ عرصے کے لیے وہ کام چھوڑ دیں، جس میں آپ کی تخلیقی صلاحیت صرف ہوتی ہے، تو یہ دوری “محبت” میں اضافہ بھی کرے گی اور اس کام کے لیے آپ کی لگن بھی بڑھائے گی۔

اگر آپ لکھاری ہیں تو پہلے کام کے ساتھ آپ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ لکھنے کے بجائے پڑھنے کی طرح دھیان دیں۔ یہ تو ہر لکھاری کو ہمہ وقت کرنا چاہیے لیکن اگر آپ رائٹرز بلاک سے دوچار ہوں تو لکھے کے بجائے ان لکھاریوں کو پڑھنا شروع کردیں جو آپ کو بہت پسند ہیں۔ چند دنوں میں ہی محسوس ہوگا کہ آپ کا دل اب لکھنے کی جانب مائل ہونے لگا ہے۔ بس جیسے ہی اس طلب میں اضافہ ہو، قلم یا کی بورڈ سنبھالیے اور شروع ہوجائیے!

اپنی بیٹھنے اور لکھنے کی جگہ بدلیں! کہنے میں تو یہ بہت عجیب لگ رہا ہے لیکن اس کا رائٹرز بلاک بہت گہرا تعلق ہے۔ ہم زیادہ تر دفتر میں بھی اور گھر پر بھی ایک مخصوص جگہ پر بیٹھ کر کام کرتے ہیں، جب ہم سالوں تک ایک ہی جگہ بیٹھتے ہیں تو دماغ اس معمول کا عادی ہوجاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ نئی سوچ اور تخلیق اس میں جنم نہیں لے پاتی۔ جگہ بدل کر دیکھیں، آپ کو خود اندازہ ہوگا کہ یہ معمولی سا فرق ذہن میں کتنی تبدیلیاں لاتا ہے۔

کچھ میرے اپنے راز بھی ہیں 🙂 کیونکہ ‘خوش قسمتی’ سے میں لکھنے کی جانب راغب ہوں اور یہ پیشہ ورانہ مجبوری بھی ہے تو ایسے چند طریقے خود سے بھی ایجاد کرنا پڑتے ہیں۔ اس میں ایک طریقہ تو یہ ہے کہ لکھنے کا انداز تبدیل کردیں۔ ذہن میں تصور کے ساتھ تحریر لکھنا یا خیالات کے بہاؤ کے ساتھ تحریر کو اختتام تک پہنچانا یا پھر بار بار مٹا کر دوبارہ لکھنا۔ ان میں سے کوئی بھی انداز اگر آپ اپناتے ہیں تو دوسرے کو اختیار کرنے کی کوشش کریں۔ دماغ کو یہ نئی مشق بہت پسند آتی ہے کیونکہ وہ ‘طرز کہن پہ اڑنا’ پسند نہیں کرتا۔ جیسا کہ ایک طریقہ جو میں نے آزمایا ہے، بالخصوص کرک نامہ پر، کہ تحریر کے نکات پہلے ترتیب دے ڈالیں۔ آپ اس تحریر میں کیا لکھنا چاہتے ہیں، کیا نتیجہ پیش کرنے کے خواہاں ہیں، وہ سب کچھ پہلے نکات کی صورت میں موجود ہے اور پھر ان میں سے ہر نکتے کو پچھلی کڑی سے ملاتے چلے جائیں اور آخر میں ابتدائیہ و اختتامیہ شامل کرکے تیار تحریر پائیں۔ یہ بالکل اس طرح ہوتا ہے جیسا کہ ہم بچوں کے رسالوں میں نقطے ملاتے تھے۔ پہلے کچھ سمجھ نہیں آتا تھا لیکن نقطے ملانے کے بعد واضح تصور ابھر آتی تھی۔

اگر کسی موضوع پر ذہن میں نکات اکٹھے نہیں ہو رہے، یا اس کی گرہیں نہیں کھل رہیں تو آزمودہ طریقہ یہ ہے کہ اس موضوع پر کسی کے ساتھ گفتگو کرلیں۔ یہ گفتگو اپنے بھائی سے بھی ہوسکتی ہے، اہل خانہ کے کسی فرد سے بھی، دوست، ساتھی بلاگر یا استاد سے بھی۔ جو اس موضوع پر کچھ عبور رکھتا ہو اس سے بات کرنا دراصل اپنے ذہن کو کھولنا ہے۔ آپ کو باتوں کے دوران ہی احساس ہوگا کہ آپ کے دماغ میں کچھ نئے نکات آ رہے ہیں اور کچھ باتیں آپ کو دوسرے سے بھی ملیں گی۔اگر آپ کو میری طرح باتیں یاد رکھنے میں مشکل پیش آتی ہے تو پھر آڈیو ریکارڈنگ کا سہارا لیں۔ آجکل تقریباً ہر موبائل یا اسمارٹ فون میں آڈیو ریکارڈنگ کی سہولت موجود ہوتی ہے، اسے استعمال کریں اور بعد میں اپنی تحریر کے لیے اس ریکارڈ شدہ گفتگو سے مدد لیں۔

کچھ لوگوں میں خودکلامی کی عادت ہوتی ہے، یہ وہ مشق ہے جو دراصل دماغ سے نکل کر زبان تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کو ہوا میں ضائع نہ ہونے دیں، ریکارڈ کرلیں۔ یہ بعد میں آپ کو لکھنے میں کافی مدد دے سکتی ہے۔

ویسے تحریر اس طرح لکھنا کہ گویا لکھاری بات کررہا ہے، کمال ہے۔ قاری کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ بھی مصنف کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔ اس لیے اگر آپ ایسا کرنا چاہتے ہیں تو آڈیو ریکارڈنگ بہت اچھا طریقہ ہوسکتا ہے۔

کیا آپ بھی اس صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں؟ اگرہاں تو کس طرح نکلتے ہیں؟ مجھے اپنے مشوروں سے ضرور نوازیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *