کولمبس – تصویر کا دوسرا رخ


بڑی شخصیات عام طور پر قوموں کے عروج کی نمائندہ ہوتی ہیں اس لیے مورخین ان کی شخصیت کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کے لیے ان کی کامیابیوں کو نمایاں کرتے ہیں اور ان کے کارناموں کو غیر معمولی اور عوام کے لیے سود مند ثابت کرنے کی کوششوں میں جتے رہتے ہیں۔
مزید برآں انہیں لافانی حیثیت دینے کے لیے عوامی مقامات پر ان کے مجسمے نصب کیے جاتے ہیں؛ ان کی کامیابیوں کو نمایاں کرنے کے لیے تصاویر پیش کی جاتی ہیں؛ ممالک، شہر، ادارے اور سڑکیں ان سے موسوم کی جاتی ہیں؛ ان کی عظمت کی تشہیر کے لیے کتابیں لکھی جاتی ہیں، ان کی شجاعت کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے نظمیں تخلیق ہوتی ہیں اور ڈاک ٹکٹ اور کرنسی نوٹ بھی شائع کیے جاتے ہیں۔ ہیرو سازی (Hero-making) کے اس عمل میں انہیں روایتی اخلاقیات سے بالاتر ثابت کرنے کے لیے ان کے کمزوریوں اور جرائم سے بھی پردہ پوشی کی جاتی ہے۔ اگر ان سے کوئی جرم سرزد بھی ہوا ہوتو وہ انسانیت کے وسیع تر مفاد میں تھا اور اس لیے اس سے مکمل تجاہل برتا جانا چاہیے۔۔
کرسٹوفر کولمبس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا. 1506ء میں غربت کے ہاتھوں گمنام موت کا شکار ہونے والے کرسٹوفر کولمبس رفتہ رفتہ ہیرو کے درجے پر پہنچ گیا کیونکہ یہ یوروامریکن باشندوں کے لیے وقت کی ضرورت تھی؟ کرکپیٹرک سیل نے اپنی کتاب" Conquest of paradise: Christopher Columbus and the Columbian Legacy" میں اس شخص کے ابھرتے ہوئے افسانے کا سراغ لگایا ہے جسے 'دریافت کرنے والا جہاز راں اور سیاح' کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔
اپنی موت کے فوراً بعد وہ ایسے کپتان کی حیثیت سے مشہور ہوا جو کامیابی سے یورپ سے امریکہ پہنچا اور قدیم دنیا کو نئی دنیا سے منسلک کیا۔ وہ نو دریافت شدہ علاقوں سے دولت کے انبار سمیٹ کر لایا۔ ایک عام سے کپتان کا تاثر اس وقت مکمل طور پر تبدیل ہو گیا جب یورپی ہجرت کر کے امریکہ پہنچے اور وہاں قیام اختیار کیا، کولمبس ایک ایسے شخص کی حیثیت میں ابھر کر آیا جس نے دنیا کا ایک چوتھائی حصہ یورپ کو عطا کیا جہاں انہوں نے اپنی اضافی آبادی کو منتقل کیا۔
17ویں اور 18 ویں صدی میں نئی دنیا میں رہائش اختیار کرنے والے اور قدیم مقامی آبادی کے علاقوں پر قبضہ کرنے والے افراد، خصوصاً یورپ میں زیر عتاب رہنے والے مذہبی فرقوں کے لیے کولمبس ایسی عظیم شخصیت تھی جس نے انہیں مشکل سے بچایا اور انہیں ایسا محفوظ مقام فراہم کیا جہاں وہ آزادی سے اپنے ایمان کے مطابق زندگی گذار سکتے ہیں۔ 19 ویں صدی میں جب مورخین نے ہسپانوی ادبی ذخائر میں موجود قدیم دستاویزات کا مطالعہ کیا تو اس کی سفری مہمات کو اس کی کامیابیوں کے ساتھ بیان کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ہیرو سازی کا یہ عمل مکمل ہوا
شمالی اور جنوبی امریکہ میں ہیرو کی حیثیت سے اس کے تاثر کو وسیع پیمانے پر پھیلایا گیا۔ اس کی "خدمات" کے عوض میں شہروں، اداروں اور سڑکوں کے نام اس سے موسوم کیے گئے۔ ایک عہد ساز شخصیت کی حیثیت سے تاریخ دانوں نے امریکہ کی تاریخ کو دو ادوار 'قبل از کولمبس' اور 'بعد از کولمبس' میں تقسیم کر دیا۔ 1963ء میں امریکی کانگریس نے یوم کولمبس کو قومی دن قرار دیا۔ اسکولوں کی نصابی کتب میں اسے ایک 'دریافت کرنے والی' شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا اور ان حقائق سے پردہ پوشی کی گئی کہ مذکورہ براعظم 1492ء سے عرصہ قبل چینیوں سمیت کئی قوموں نے دریافت کر لیا تھا۔ اسے عیسائیت کے پشتیبان کے طور پر پیش کیا گیا جس نے عثمانی ترکوں اور ان کی بحری قوت کو للکارا۔ اس کا نیا امیج ایک انسان دوست کا تھا، ایک ایسا شخص جس نے ترقی کی راہوں پر یورپیوں کی رہنمائی کی اور ان کی تہذیب کو فروغ دیا۔
اس کا یہ تاثر (امیج) جدید عہد تک مسلمہ رہا۔ قدیم سرخ ہندی (Red Indian) باشندے جنہیں مظالم کا شکار بنایا گیا تھا وہ اس حیثیت میں نہیں تھے کہ یورپ نواز تاریخی تحاریر کا جواب دے پاتے جو ان کے خلاف تعصب سے بھری پڑی ہے۔ تاریخ کے اس متعصب اور تحقیر آمیز انداز کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے ان کے پاس کچھ نہیں تھا۔ لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مقامی دانشور ابھرے جنہوں نے امریکی تاریخ دانوں اور سیاسی کارکنوں کے تعاون سے ایک ہیرو کی حیثیت سے کولمبس کے افسانوی تاثر کو للکارا۔
1992ء میں کولمبس کی امریکہ آمد کی 500 ویں سالگرہ کے موقع پر مقامی سرخ ہندیوں اور ان کے حامیوں نے زبردست احتجاج کیا اور تاریخی کتابوں کی بنیاد پر کولمبس کے متضاد تاثر کو سامنے لائے۔ ان کا دلیل یہ تھی کہ جس شخص نے مقامی آبادی کے ساتھ بدترین سلوک اختیار کیا، انہیں قتل کیا اور غلام بنایا حالانکہ انہوں نے اس کا ساتھیوں سمیت خیرمقدم کیا تھا اور انہیں کھانا اور رہائش بھی فراہم کی؛ ایسی شخصیت کو اس عظمت کا مستحق قرار نہیں دیا جا سکتا
اپنے پہلے سفر پر اس نے مقامی باشندوں کو اغوا کیا اور انہیں اسپین لے جاکر بطور غلام ہسپانوی حکمرانوں کو تحفتاً پیش کر دیا۔ اس نے مقامی آبادی سے حتی الامکان سونا حاصل کیا۔ اس کے اپنے مطابق: "سونا سب سے شاندار ہے؛ سونا خزانے تشکیل دیتا ہے، اور جس کے پاس یہ ہو وہ دنیا میں سب کچھ کر سکتا ہے، حتٰی کہ روحوں کو جنت بھی لے جا سکتا ہے"۔ 1495ء میں جب وہ ہیٹی پہنچا تو اراوک قبیلہ اس کے مظالم کا نشانہ بنا۔ "سپاہیوں نے گولیوں کی بوچھاڑ سے درجنوں کو ٹھکانے لگا دیا، چھوڑے گئے کتے ان کے سینے اور پیٹ چیر پھاڑ دیتے، اور جھاڑیوں میں چھپے مفرور مقامی باشندوں کا پیچھا کرتے"۔ اس بدترین قتل عام کا نتیجہ یہ ہوا کہ دو سال کے اندر اندر ہیٹی کی نصف آبادی کا خاتمہ ہو گیا۔ 1650ء تک ہیٹی میں کوئی مقامی باشندہ نہ بچا۔
اپنے 1493ء کے سفر میں کولمبس نے بطور انعام اپنے افسران کو مقامی عورتوں کے ساتھ زیادتی کرنے کی پیشکش کی۔ ہیٹی میں غلاموں کے ہسپانوی باشندوں کے ساتھ زبردستی جنسی تعلقات استوار کرائے جاتے۔ اس نے اپنے ایک دوست کو انتہائی مسرت کے عالم میں لکھا: "کسی عورت کے لیے ایک سو قشتالوی (castellanies) بالکل اسی طرح با آسانی حاصل کیے جا سکتے ہیں جیسے کھیت کے لیے، یہ بہت عام ہے اور اور ایسے بہت سے دلال ہیں جو لڑکیوں کی تلاش میں لگے رہتے ہیں؛ نو سے دس سالہ لڑکیوں کی بہت زیادہ طلب ہے"۔ مقامی باشندوں کے مصائب و آلام یہیں ختم نہیں ہوئے۔ کولمبس کے بعد کورٹ اور پزارو جیسے دیگر ظالم اور لالچی ہسپانوی "فاتحین" آئے جنہوں نے نہ صرف مقامی آبادی کا قتل عام کیا بلکہ ان کی دولت اور وسائل کو بھی لوٹ لیا۔ ایزٹک اور انکا کی عظیم تہذیبوں کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا گیا۔ شمالی امریکہ کے یورپی مہاجرین نے زبردستی مقامی قدیم آبادی کی زمینوں پر قبضہ کر لیا اور ان کو بے یار و مددگار صورتحال میں جھوڑ دیا۔
کسی بھی روایتی تاریخ کی کتاب میں پیش نہ کیے جانے والے اس نئے مواد کی بنیاد پر دانشور اور سیاسی کارکنان نے اس کے ہیرو کے امیج کے خلاف زبردست تحریک سے موازنہ شروع کیا۔ یورپیوں کی آمد کے 500 سال مکمل ہونے کے جشن کے خلاف کئی کتب لکھی گئیں، پمفلٹ تقسیم کیے گئے اور اخبارات میں مقالے لکھے گئے، ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا اور مظاہرے کیے گئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تصویر کا دوسرا رخ ابھر کر سامنے آیا اور عوام کو کولمبس کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر تبدیل کرنا پڑا۔
کچھ لوگوں کے لیے وہ ایک ہیرو ہے، ایک ایسا شخص جو امید اور الہام لے کر آیا، لیکن چند کے نزدیک وہ مقامی آبادی کے لیے تباہی، مصائب و آلام اور اذیت لے کر آیا، جس نے انہیں نہ صرف اپنی زمینوں سے بے دخل کیا بلکہ اپنی ثقافت اور تہذیب سے بھی محروم کر دیا۔ کیا وہ واقعی ایک ہیرو کہلانے کے قابل ہے؟
مضمون: Columbus-the other side از مبارک علی ۔ ترجمہ: ابوشامل

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

5 تبصرے

  1. سکندر (اعظم!) کے بارے میں یہی کچھ خیالات میرے ذہن میں اُبھرتے ہیں۔ کیا یہ شخص مشرقی یا مسلمان ہوتا تو بھی لوگ اسے ایسا سراہتے یا اسے قاتلِ اعظم قرار دے کر اسکی مذمت کرتے!

  2. اجمل says:

    میں نے پچاس پچپن سال قبل تاریخ کی ایک کتاب میں پڑھا تھا کہ ہندوستان اور امریکہ کے متعلق کولمبس کو عرب تاجروں سے علم ہوا تھا جو اس زمانہ میں یورپ آیا کرتے تھے ۔ اسلئے میں نے کبھی کولمبس کو امریکہ دریافت کرنے والا نہیں سمجھا ۔

  3. بہت عمدہ مضمون لکھا ہے ابو شامل اور اب آپ پر قرض ہے کہ یہ بھی لکھیں کہ کولمبس سے کتنی دیر پہلے مسلمانوں نے امریکہ کو دریافت کیا تھا۔

  4. فیصل says:

    بہت اچھی تحریر ہے۔ اب مجھے سمجھ آیا کہ میرے بعض لاطینی امریکی دوستوں‌کی شکلیں‌چینیوں‌جیسی کیوں‌ہیں یقینآ‌چینی وہاں‌کسی دور میں‌پہنچے تھے۔
    ویسے یہ صرف کولمبس تک ہی محدود نہیں، ہیرو سازی کا یہ عمل تو کئی شخصیات کے معاملہ میں‌ہوا ہے۔ اسلامی تاریخ‌بھی اس سے نہیں‌بچی، ہم جسکو ہیرو بنائیں‌تو انسانوں‌سے بھی بالا درجہ دے دیتے ہیں‌اور جسکو ولن بنائیں‌تو شیطان سے بھی زیادہ ذلیل کہتے ہیں۔ یقینآ تاریخ‌دانوں‌نے اپنا فرض ہرگز صحیح نہیں‌نبھایا۔
    میری تو اب یہ حالت ہے کہ ہر انسان کو بس انسان ہی سمجھتا ہوں، شیطان یا دیوتا نہیں چاہے وہ کسی بھی مذہب، فرقے یا علاقے سے تعلق رکھتا ہو۔

  5. ابوشامل says:

    تمام حضرات کا تبصروں کا شکریہ۔
    اجمل صاحب! یورپیوں کو یہ زعم ہے کہ کوئی چیز اس وقت تک وجود نہیں رکھتی جب تک انہیں اس کا علم نہ ہو حالانکہ امریکہ پہلے سے موجود تھا اور وہاں لوگ رہتے تھے اس کے باوجود یہ کہنا کہ یہ کولمبس نے "دریافت" کیا کیسا مضحکہ خیز لگتا ہے۔ ہاں انہیں یہ کہنا چاہیے کہ کولمبس کے ذریعے اُنہیں نئی دنیا کا علم ہوا، دریافت کا لفظ کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے؟
    محب صاحب! یہ قرض تو ہم "قرض حسنہ" سمجھ کر لے لیتے ہیں۔ انشاء اللہ بہت جلد اس پر بھی کچھ لکھنے کی کوشش کروں گا۔
    فیصل بھائی! آپ کا کہنا درست ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *