مجھے جھوٹ بولنے دیں

سندھی زبان کے معروف ادیب اور ڈرامہ نگار امر جلیل نے روزنامہ جنگ کے لیے کالم لکھنے کا آغاز کیا ہے اور موضوع انتہائی انوکھا چنا ہے "سب جھوٹ" اور ان کا دعویٰ ہے کہ سچ سن سن کر قوم کے کان پک گئے ہیں، اس لیے انہيں کچھ جھوٹ بھی سنانا چاہیے۔ کہتے ہیں کہ روشنی کی اصل قدر اندھیرے کے باعث ہوتی ہے اور میٹھے کا اصل مزا کڑوا و کھٹا کھانے کے بعد آتا ہے بالکل اسی طرح یہ ضرورت ہے کہ عوام کو جھوٹ سنایا اور دکھایا جائے۔ اس دلچسپ موضوع کے ساتھ وہ آج (13 اکتوبر 2009ء) کو روزنامہ جنگ کے ادارتی صفحے پر جلوہ افروز ہوئے ہیں اور وہ بھی انتہائی طنزیہ کالم کے ساتھ۔ مجھے اس کالم کی سب سے اہم بات مصنف کی بے خوفی لگی۔ ذرا یہ جملے ملاحظہ کیجیے۔

ہمارے ہاں حاکم بننے کیلئے آپکے والد کا حاکم ہونا ضروری ہے۔

میں نے کئی مرتبہ اپنی گنہگار آنکھوں سے رحمان ڈکیت کو ٹیلیویژن پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے دیکھا ہے لیکن لوگ بضد ہیں کہ رحمان ڈکیت مارا جاچکا ہے۔

ان دو "جارحانہ" قسم کے جملوں کے ساتھ ملاحظہ کیجیے امر جلیل کا پورا کالم۔

مجھے جھوٹ بولنے دیں

امر جلیل

اس کالم میں آپ جھوٹ پڑھیں گے۔ جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں پڑھیں گے۔ یہ میرا آپ سے وعدہ ہے، میں فطرتاً جھوٹا ہوں، جھوٹ بولنا میری عادت ہے۔ میں آپکو جھوٹے قصے سناؤں گا، آپ کو جھوٹی کہانیاں سناؤں گا۔ پچھلے 62 برسوں سے آپ نے صرف سچ سنا ہے، سچ پڑھا ہے اور سچ دیکھا ہے۔ آپ جھوٹ کا نام تک بھول چکے ہیں۔ میں آپ کو یاد دلاؤں گا کہ جس طرح سکّے کے دو رخ ہوتے ہیں اسی طرح سچ کے سکّے کا دوسرا رخ جھوٹ ہوتا ہے۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ باولا کون ہے جو کھلم کھلا جھوٹ بولنے کے درپے ہے۔ اس شخص کا ارادہ کہیں پاکستان پر حکومت کرنے کا تو نہیں ہے؟
آپ غلط سوچ رہے ہیں بھائی۔ میں حقیر فقیر قسم کا گندا بندہ ہوں، محکوم ہوں، میری کیا مجال کہ حاکم بننے کے خواب دیکھ سکوں۔ ہمارے ہاں حاکم بننے کیلئے آپکے والد کا حاکم ہونا ضروری ہے۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ ہمارے ہاں ایم این ایز کے بچے این اے اور ایم پی ایز کے بچے ایم پی اے بنتے ہیں۔ انہیں میں سے وزیر، وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بنتے ہیں۔ پاکستان میں وڈیروں، چوہدریوں، سرداروں ، پیروں اور مرشدوں کے خاندانوں کیلئے اسمبلیوں میں نسل در نسل سیٹیں مختص ہوتی ہیں۔ ساس، بہو، سسر بیٹے بیٹیاں، پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں، چاچے، مامے، کزن اور ٹیلنٹڈ کزن اسمبلیوں میں ایک ساتھ بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اب آپ خود ہی سوچیں کہ ان حالات میں مجھ جیسا حقیر فقیر پاکستان کا حاکم کیسے بن سکتا ہے۔ خاص طور پر جبکہ میری بیوی ابھی زندہ ہے۔
میں جھوٹ اس لئے بولنا چاہتا ہوں کہ میرے دل میں وطن اور وطن کے لوگوں کا درد ہے۔ اس سے پہلے وطن اور وطن کے لوگوں کا درد مجھے جگر میں محسوس ہوتا تھا۔ اس سے پہلے سارے جہاں کا درد مجھے جگر میں محسوس ہوتا تھا۔ تب میں گلی کوچوں میں گاتا پھرتا تھا۔
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
پھر ایک کیا، دونوں جہاں کسی کی محبت میں ہار کے، ہم چل پڑے شب غم گزار کے۔ تب ایک جہاں کی جگہ وطن نے سنبھال لی۔ تب میں مارا مارا پھرتا تھا اور رک رک کر یہ کہتا تھا ”سارے وطن کا درد ہمارے جگر میں ہے“۔
ایک ڈاکٹر نے مجھے اپنے پاس بلایا اور کہا تھا ”بیٹا، تیرے جگر میں وطن کا درد نہیں ہے، تجھے ہیپا ٹائٹس سی ہوگیا ہے“۔
میں ڈرگیا تھا۔ وطن کا درد میں نے جگر سے دل کی طرف منتقل کردیا تھا۔ تب سے مجھے وطن کا درد جگر کی بجائے دل میں محسوس ہوتا ہے۔
پچھلے 62 برسوں سے عوام نے صرف سچ سنا ہے، سچ پڑھا ہے اور سچ دیکھا ہے۔ حکمرانوں نے عوام سے صرف سچ بولا ہے۔ سچ کی اس قدر بوچھاڑ اچھی نہیں ہوتی۔ تاریکی کے بعد آنے والی روشنی آنکھوں کو اچھی لگتی ہے۔ لگاتار روشنی میں رہنے سے آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ ہم بینائی کھوبیٹھتے ہیں۔ لگاتار میٹھا کھانے سے آپ ذیابیطس کے مریض ہوجاتے ہیں، آپ کے گردے خراب ہوجاتے ہیں، آپ ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہوجاتے ہیں، آپ دبلے ہوتے جاتے ہیں اور ایک روز غائب ہوجاتے ہیں۔ ویسے بھی میٹھا کھانے کا مزہ کچھ پھیکا کچھ تیکھا، کچھ کڑوا کھانے کے بعد آتا ہے۔ حلوہ کھانے سے دانت کھٹے نہیں ہوتے۔ کچھ کھٹا کھانے کے بعد آپ جان جائیں گے کہ دانت کھٹے ہونا کس کو کہتے ہیں۔ اسی طرح اندھیرے کے بعد اجالا اچھا لگتا ہے، رات کے بعد دن اچھا لگتا ہے۔ جھوٹ سننے کے بعد سچ اچھا لگتا ہے۔
لگاتار استعمال میں رہنے کی وجہ سے بیچارہ سچ گھس گیا ہے، اپنی قدر کھوبیٹھا ہے۔ لوگ بھول چکے ہیں کہ جھوٹ کیا ہوتا ہے اور جھوٹا کسے کہتے ہیں۔ پچھلے دنوں رحمان ڈکیت کے ہلاک ہونے کی خبر آئی تھی۔ ہر خبر کی طرح یہ خبر بھی سچ تھی کیونکہ سرکار کبھی جھوٹ نہیں بولتی۔ اس کے بعد میں نے کئی مرتبہ اپنی گنہگار آنکھوں سے رحمان ڈکیت کو ٹیلیویژن پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے دیکھا ہے لیکن لوگ بضد ہیں کہ رحمان ڈکیت مارا جاچکا ہے۔ ان کے کان سچ سننے کے عادی ہوچکے ہیں، وہ سچ کے سوا کچھ نہیں سنتے۔
یہ تشویشناک صورتحال ہے، سچ سننے، سچ پڑھنے اور سچ دیکھنے کی اس قدر عادت اچھی نہیں ہوتی۔ سرکار تو آخر کار سرکار ہوتی ہے۔ انڈا دے یا بچہ دے۔ یہ سرکار کی مرضی پر منحصر ہے۔ کون جانے سرکار کس کروٹ بیٹھے اور جھوٹ بولنا شروع کردے۔ سرکار کے منہ سے لگاتار 62 برس سچ اور صرف سچ سننے کے بعد سرکار کے منہ سے ایک جھوٹ سننے کے بعد لوگ سکتے میں آجائیں گے۔ وہ اتنا بڑا صدمہ برداشت نہیں کرسکیں گے۔ پوری قوم کوما میں چلی جائیگی۔
ایسی بپتا پڑنے سے پہلے میں لوگوں کو ذہنی طور پر جھوٹ سننے کے لئے آمادہ کرنا چاہتا ہوں۔ بہت سچ سن چکی ہے یہ قوم!ْ نصف صدی اور اضافی بارہ برس چھوٹا عرصہ نہیں ہوتا۔ ایک شخص کے سینئر سٹیزن ہونے کے بعد سٹھیانے کیلئے اتنا عرصہ کافی ہوتا ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی آبادی میں 35 فیصد لوگوں کے دماغ میں خلل ہے۔ ان اعدادوشمار میں یقیناً صداقت ہے۔ کوئی سبب تو ہے کہ چھوٹے بڑے موبائل فون پر پانچ روپے میں پوری رات بات کرتے ہیں، اور دن بھر دفتروں، دکانوں، اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اونگھتے رہتے ہیں اور خراٹے لینے لگتے ہیں۔ ان حالات میں میرا قومی فرض بنتا ہے کہ میں لوگوں کو جھوٹ سننے پر آمادہ کروں اور جھوٹ کا بول بالا کروں۔
ایک عرصے سے میں گلی کوچوں، سڑکوں، چوراہوں اور بازاروں میں صدا لگاتے پھرتا تھا ”ہے کوئی خدا کا نیک بندہ جو مجھے اپنے سمعی، بصری اور اشاعتی ادارے سے جھوٹ بولنے کی اجازت دے!“
کیا مجال کہ کسی کے کان پر جوں تک رینگتی، مجھے بعد میں پتہ چلا کہ انسان کے سر میں طرح طرح کی وبائیں اور بلائیں پڑجانے کے بعد جوؤں نے اپنا مسکن بدل لیا ہے، اپنا حلیہ تک تبدیل کرلیا ہے۔ اب جوئیں انسان کے سر میں رہنے کے بجائے سوٹ پہن کر اور ٹائی لگا کر سیکریٹریٹ میں رہنے لگی ہیں۔ یاد رہے کہ سیکریٹریٹ سرکار کا سر ہوتا ہے جس میں جوئیں سیکشن آفیسر، ڈپٹی سیکریٹری، جوائنٹ سیکریٹری اور سیکریٹری کا روپ دھار کر رہنے لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں حکومتیں اکثر اوقات سرکھجاتے نظر آتی ہیں۔
جس ملک اور معاشرے میں صرف سچ بولا جاتا ہو، ایسے ملک اور معاشرے میں جھوٹ بولنا اور سراسر جھوٹ لکھنا آسان کام نہیں۔ میں اپنے انجام سے واقف ہوں۔ جھوٹ لکھنے کی پاداشت میں ہوسکتا ہے مجھ پر کاروکارری کا الزام لگا کر مجھے قتل کردیا جائے۔
ہوسکتا ہے مجھ پر بلاسفیمی کی تہمت لگا کر میرا سر کاٹ کر تن سے الگ کردیا جائے لیکن میں دھن کا پکا ہوں، بچپن سے آج تک جتنے گانے میں نے سنے ہیں ان سب گانوں کی دھنیں مجھے یاد ہیں۔ خاص طور پر راگ درباری کی دھن گنگنانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔
لہٰذا مجھے کچھ بھی ہوجائے، حالات دگرگوں ہوجائیں، میں کہتا پھروں گا ”سچ کھپے“۔
چونک گئے نا؟ میں جانتا تھا آپ چونک جائیں گے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ شخص جو جھوٹ بولنے اور جھوٹ لکھنے کے درپے تھا، اچانک ”سچ کھپے“ کیوں کہہ بیٹھا ہے! سچ چاہئے“۔
لفظ ”کھپے“ کے دو معنی ہیں۔ ایک معنیٰ سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ تب اس لفظ کو بڑی پذیرائی ملی تھی جب صدر پاکستان آصف علی زرداری نے فرمایا تھا ”پاکستان کھپے“ یعنی ”پاکستان چاہئے“۔
لفظ ”کھپے“ کا دوسرا مطلب ہے، ختم ہوجائے، Finish ہوجائے۔ جیسے ”دارو کی یہ بوتل کھپے (یعنی ختم ہوجائے) اس کے بعد دوسری بوتل کھولیں گے“۔
ایک اور مثال : ”امریکی ڈالروں کا یہ انبار کھپے یعنی ختم ہوجائے، اس کے بعد دوسرے انبار پر ہاتھ ماریں گے“۔
اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ میں نے ”سچ کھپے“ کس حوالے سے استعمال کیا ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

13 تبصرے

  1. کیا ہم آپکا مواد آپکے نام سے شائع کر سکتے ہیں؟

    • جی ہاں! جو مواد میرا اپنا تحریر کردہ ہے اسے آپ میرے علم میں لا کر شایع کر سکتے ہیں لیکن کسی اور کے تحریر کردہ مواد کے لیے آپ کو متعلقہ شخص سے اجازت لینا ہوگی۔ مندرجہ بالا کالم جنگ کے کالم نگار امر جلیل صاحب کا ہے اور میرا نہیں خیال کہ مذکورہ کالم شایع کرنے کی اجازت آپ کو ملے گی۔

  2. ان کی گنہگار آنکھوں نے" اسلام آبادی" رحمان ڈکیت کو دیکھا ہو گیا

  3. کمال ہے میں نے تو ساری زندگی حکومتی جھوٹ ہی سنا ہے یہ کس طرح ہو گیا کہ عوام سچ سنتے کان پک گئے ہیں حیرت ہے

  4. بہت شاندار.. اور جو ہمارے "مشہور کالم نگار" ہیں جو ریسرچر "گوگلر" ملازم بھی رکھتے ہیں شاید ان کو امر جلیل صاحب کے "جھوٹ" کی روشنی میں اپنا سچ درست طریقے سے نظر آنا شروع ہو جائے.

  5. مکی says:

    مجھ جیسا حقیر فقیر پاکستان کا حاکم کیسے بن سکتا ہے۔ خاص طور پر جبکہ میری بیوی ابھی زندہ ہے۔

    یقیناَ اچھا کالم ہے، پر ایک دن یہ صاحب بھی مجازاً جھوٹ بولتے بولتے باقیوں کے رنگ میں رنگ جائیں گے اور سچے جھوٹ بولنا شروع کردیں گے..

  6. جعفر says:

    امر جلیل خبریں میں اسی نام سے کالم لکھا کرتے تھے اور میں خبریں صرف ان کے کالم کی وجہ سے پڑھا کرتا تھا۔۔
    تحریر کی تعریف کرنا تو سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے ۔۔۔

  7. بلال says:

    اس لئے کہتے ہیں کہ
    جھوٹ اتنا بولو کہ سچ کا گمان ہونے لگے

    ویسے اب ہم گمان سے ایک قدم آگے بڑھ کر یقین کی منزل تک پہنچ چکے ہیں...

  8. MAHI says:

    Thats strange people fed up by truth as for as in my concern awam wanna listen truth they fed up by lie
    no doubt jalil'topic is unique and very intersting
    people may enjoy this

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.