ہم چھوڑ چلے ہیں محفل کو

ارے نہیں نہیں، عنوان سے یہ مت سمجھیے کہ میں "اردو محفل" کو چھوڑ گیا ہوں، بلکہ یہ داستان ہے مشہور زمانہ فیس بک کو چھوڑنے کی۔

پاکستان میں فیس بک پر عائد پابندی ہٹائی گئی، چیک کرنے کے لیے فیس بک کی طرف نظر دوڑائی لیکن نجانے کیوں دل ایک عجیب سی کیفیت سے دوچار تھا، ایک احساس جرم تھا، دل آمادہ نہیں ہو پا رہا تھا اس کے استعمال پر۔ کئی بہانے آئے، حقائق سے لاکھ نظریں چرانے کی کوشش کی لیکن احساس جرم دل پر غالب رہا۔ پھر اچانک ہی فیس بک انتظامیہ کا ایک بیان نظر سے گزرا کہ انہوں نے مخصوص صفحات تک پاکستانی صارفین کی رسائی بند کر دی ہے اور قبول کیا ہے کہ وہ صفحات بدستور فیس بک پر موجود ہیں جو پاکستان میں فیس بک پر پابندی کی وجہ بنے۔

فیس بک انتظامیہ کے اس بیان کے بعد تو یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ انہیں اپنے کروڑوں مسلمان صارفین کا بالکل خیال نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں یہ بات پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ فیس بک انتظامیہ نے یہودیوں اور ہولوکاسٹ کے خلاف اور نازیوں کے حق میں صفحات حذف کیے ہیں جو اس کے دوغلے طرز عمل کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں۔

گو کہ یہاں بیٹھ کر اس کے خلاف رونا کچھ اچھا نہیں لگتا،وہ یہودی ہیں یا کتنے یہودی نواز ہیں، ان کے ساتھ کیسا رویہ رکھتے ہیں اور ہمارے ساتھ کیسا، یہ سب ان کی مرضی پر منحصر ہے لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ ایک پیشہ ورانہ ادارے کی حیثیت سے انہیں یہ بات زیب نہیں دیتی کہ اس طرح کا طرز عمل اختیار کریں اور ایک طرف جھکاؤ رکھیں۔ میرے خیال میں مارک زکربرگ عمر کے ساتھ ذہنی طور پر بھی ابھی اتنا بڑا نہیں ہوا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ فیس بک خود سنبھالنے کے بجائے کسی پیشہ ور شخصیت کے حوالے کرے جو اپنے تجربات کی روشنی میں ایک سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ کو بہتر انداز میں چلائے۔

میرے بلاگ (اور وکی نامہ اور فلمستان پر بھی) 60 سے 70 فیصد ٹریفک فیس بک کی مرہون منت تھا۔ اس لیے فیس بک سے اپنے اکاؤنٹ کو حذف کرنے کا فیصلہ میرے لیے بہت مشکل معاملہ تو رہا لیکن میں یہ کر گزرا، الحمد للہ، مجھے اس پر کوئی غم یا افسوس نہیں ہے۔ جب کوئی میرے احساسات کا خیال نہیں رکھتا تو میں کیوں اس سے چپکا رہوں۔

اب اس پوسٹ کے ذریعے آپ کے پاس یہ پیغام بھی پہنچاتا ہوں کہ مجھ سے رابطے کے لیے جو احباب فیس بک استعمال کیا کرتے تھے، انہیں مایوسی ہوگی کیونکہ اب میرا فیس بک کھاتہ فعال نہيں رہا بلکہ میں نے اسے حذف کر دیا ہے۔ اب میں ٹویٹر اور گوگل بز پر منتقل ہو چکا ہوں۔ آپ دونوں سائٹس پر میرے پروفائل یہاں اور یہاں ملاحظہ کر سکتے ہیں اور ابوشامل ڈاٹ کام، وکی نامہ اور فلمستان کے حوالے سے اپ ڈیٹ رہ سکتے ہیں۔ مجھے قوی امید ہے کہ قارئین فیس بک کی طرح یہاں بھی مجھ سے رابطے میں رہیں گے۔

اہم روابط

میرا ٹویٹر پروفائل

میرا گوگل بز پروفائل

فیس بک کھاتے کو غیر فعال (deactivate) کیسے کیا جائے؟

فیس بک کھاتے کو حذف (delete) کیسے کیا جائے؟

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

28 تبصرے

  1. کافی دوست فیس بُک کو چھوڑ رہے ہیں، اور اپنے بلاگز پر لکھ بھی رہے ہیں، خیر یہ تو آپ کا اور ان سب کا ذاتی سا مسئلہ سو کیا کہا جا سکتا ہے لیکن میرا ایک سیدھا سادہ سوال ہے کہ فیس بُک کو ایک طرف رکھیے، ویب کی دنیا میں اس وقت لاتعداد ایسا مواد موجود ہے جو اسلام، قرآن، رسولِ پاک (ص) اور اسلامی عقائد و شعائر کے خلاف ہے اور حد سے زیادہ دل آزار ہے سو کیا اس کی وجہ سے ہم سب کو ویب اور انٹرنیٹ ہی نہیں چھوڑ دینا چاہیئے؟
    والسلام

    • وارث صاحب، واقعی یہ میرا ذاتی معاملہ ہی ہے، اس تحریر کو لکھنے کا مقصد ہر گز اس رحجان کو مزید آگے بڑھانا نہیں ہے بلکہ صرف اطلاع دینا ہے کہ اب میں فیس بک پر دستیاب نہیں ہوں۔ یہ ہر شخص کا انفرادی معاملہ ہے کہ وہ کیا قدم اٹھاتا ہے اور اٹھاتا بھی یہ نہیں اٹھاتا۔ آپ کا کہنا بالکل درست ہے لیکن جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں کہ فیس بک استعمال کرتے ہوئے دل کی کیفیت کچھ عجیب سی تھی اس لیے میں نے اسے جاری رکھنا مناسب نہ سمجھا۔ تبصرے کے لیے شکر گزار ہوں۔

  2. بہت اچھا کیا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ باقی لوگوں کو بھی اس کا احساس ہو جائے

  3. وارث بھائی آپ ویب کو بھی ایک طرف رکھئے، دنیا میں اس وقت لا تعداد ایسا مواد اور انسان موجود ہیں جو شعائر اسلام کا کھلا مذاق اڑاتے ہیں، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں پھبتیاں کستے ہیں، کیا آپ کسی ایسی جگہ جانتے بوجھتے جائیں گے؟
    فیس بک نہ ہی پہلی اور نہ ہی آخری سوشل نیٹورکنگ ویب سائٹ ہے، مجھے تو یہ خیال ہی مضحکہ خیز لگتا ہے کہ ایک فیس بک چھوڑنے کی بات کو لوگ انتہا میں جا کر نیٹ چھوڑ دینے کی باتیں کیوں کرنے لگتے ہیں .
    جب دنیا نہیں چھوڑ رہے تو نیٹ کیوں چھوڑیں؟ لیکن ایسی جگہوں پر جانے سے ضرور کترائیں گے جہاں معلوم ہو کہ نہ صرف وہاں گھٹیا مواد ہو سکتا ہے بلکہ شکایت پر سنوائی بھی نہیں ہو گی .

    • جہانزیب بھائی، یہ جو آپ نے بات کی ہے نا کہ فیس بک آخری سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ نہیں ہے، یہ بالکل درست ہے۔ میرے خیال میں گوگل بز اس کا بہترین متبادل ہے۔

  4. میں خود واپس آرکٹ پر جا چکا ہوں.

  5. برادرم جہانزیب، اس جملے کا یہ مطلب نہیں تھا کہ نیٹ چھوڑو، اسکا مطلب یہ تھا کہ پھر منطقی طور پر تو یہ ہونا چاہیئے کہ نیٹ بھی چھوڑو 🙂

    مجھے نہیں علم کہ دیگر احباب فیس بُک کو کس لیے استعمال کرتے ہیں لیکن اپنے بارے میں جانتا ہوں، مجھے شعر و ادب سے دلچسپی رکھنے والے دوست بلکہ نامور اور ابھرتے ہوئے نئے شعرا کہیں اور اتنے نہیں ملے جتنے فیس بُک پر، اردو محفل پر بھی نہیں۔ پھر یہ کہ ان میں سے بہت سارے رومن میں لکھتے تھے اب بھی لکھتے ہیں لیکن اگر آپ مسلسل اردو میں لکھتے رہیں گے اور ان کی حوصلہ افزائی کریں گے تو وہ بھی اس طرف آئیں گے اور آ رہے ہیں۔

    جہاں تک متنازعہ صفحات کا تعلق ہے تو جب ابھی ان پر پابندی نہیں بھی تھی تو میرے دل میں ان کو دیکھنے کی کوئی خواہش پیدا نہیں ہوئی تھی، اور نہ اب ہے اور نہ میرے ایمان پر کوئی فرق پڑا ہے لیکن جس مقصد کیلیے میں فیس بُک کو استعمال کر رہا ہوں وہ جاری ہے۔

    • اس امر میں تو کوئی شبہ نہیں ہے کہ اپنے بلاگ اور اردو بلاگنگ کے حوالے سے ترویج کے جتنے مواقع فیس بک پر حاصل تھے وہ کہیں حاصل نہیں ہوئے۔ لیکن ذاتی طور پر مجھے کوئی دلیل اس بات پر قائل نہ کر سکی، اس لیے میں نے یہ قدم اٹھایا۔

  6. فیصل says:

    ماشا اللہ فہد. آپ ایک مرتبہ پھر ہم سے نمبر لے گئے.
    🙂
    بس میرے بھی کچھ ہی دن ہیں فیس بُک پر. ہر چند دن بعد سٹیٹس اپڈیٹ کر رہا ہوں تا کہ دوست احباب پہلے سے جانتے ہوں.
    امید ہے ملت فیس بُک والے اپنی سروس بہتر کریں گے، وگرنہ لنکڈ ان، گوگل بز، ٹویٹر، وغیرہ تو ہیں ہی.
    یار زندہ صحبت باقی.

    • ارے نہیں جناب، یہ کوئی نمبر لینے والا معاملہ نہیں ہے۔ ہر کسی کی ذاتی رائے اور ذاتی فیصلہ ہے۔
      ویسے مجھے ملت و پاک جیسے ناموں سے جاری ہونے والی نقول سے کوئی امید نہیں ہے۔ ان کا حشر بھی "اسلامی کولا" جیسا ہی لگتا ہے 🙂

  7. دوست says:

    چلو جی اللہ مبارک کرے یہ چھوڑنا آپ کو. ہم ابھی تک وہیں ہیں.

    • مبارکباد کاہے کی جناب؟ چلیے آپ نے برکت کی دعا کی ہے تو ہم بھی کیے دیتے ہیں کہ اللہ آپ کی وہاں موجودگی میں برکت دے 🙂

  8. شازل says:

    شامل صاحب آپ نے بہت ہمت دکھائی
    ادھر بھی کچھ معاملہ اسی طرح ہے ، لیکن آپ کی طرح ہمت نہیں ہے
    کاش ہم باتیں کرنے کی بجائے کچھ عمل ہی کرلیتے
    مبارک ہو

    • میں ہر گز کسی کو نہیں کہوں گا کہ وہ فیس بک چھوڑے۔ وہاں رہ کر بھی بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔ "مبارکباد" قبول نہیں کروں گا۔

  9. سب فیس بک چھوڑنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ فیس بک چھوڑیں نہیں بلکہ اپنا اکاؤنٹ بلاک کروائیں۔ اگر یہ جنگ ہے تو محاذ مت چھوڑیں ہمت سے جنگ لڑیں۔

  10. اب تو فيس بک چھوڑنے والے کو ايسے مبارک ملتی ہے جيسے عمرے سے واپس آئے بندے کو

    • ہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس ایک جملے کو پڑھ کر جتنے چہروں پر مسکراہٹ آئی ہوگی، اس کے لیے میں کچھ بھی کر سکتا ہوں 🙂 ۔

  11. شازل says:

    ایسے بندے کو تو پھولوں سے لد دینا چاہئے

  12. میں آپکی سوچ سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
    شامل بھائی ٹریفک کے کم ہونے کا غم نہ کریں۔ آپ نے فیس بوک کا در اللہ کے لئے بند کیا ہے تو وہ کوئی نہ کوئی در ضرور کھولے گا۔
    اللہ آپکو استقامت دے، آپ کے اس فیصلے سے میری بھی حوصلہ افزائی ہوئی ہے کیونکہ میں بھی اپنا اکاونٹ ختم کرچکا ہوں۔
    میرے خیال سے فیس بوک موجود رہنا یا اسے چھوڑ دینا لوگوں کا اپنا فیصلہ ہے، جس کا دل چاہے وہاں رہے جس کا دل چاہے نقل ماکانی کرلے

    • بہت شکریہ کاشف، یہ آپ کی ذرہ نوازی ہے کہ آپ اس قابل سمجھتے ہیں۔ میرے لیے یہ حوصلہ افزائی ہی کافی ہے کہ آپ جیسے دوست میری بات کو نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ عمل بھی کرتے ہیں۔

  13. محمد راشد says:

    ابو شامل آپ نے بھت اچھا کام کیا لکین گزراش یے کہ "Follow This Blog" اور فیس بک کے نشاں کو بھی نکال دیں. شکریہ

    • نشاندہی کا شکریہ برادر۔۔۔ ویسے بلاگ کے لیے ایک نئی تھیم پر کام جاری ہے۔ اس کے بعد آپ کو یہ بلاگ ایک نئے روپ میں نظر آئے گا۔

  14. ہم خیال دوستوں میں اضافہ.......... انتہائی خوش آئند۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  15. دانشمندانہ فیصلہ.

  16. طالوت says:

    میرے خیال میں فیس بک سمیت تما م مغربی ادارے دوغلانہ رویہ رکھتے ہیں ۔ آج اگر گوگل بز یا تویٹر وغیرہ پر بھی اس قسم کی کوئی ناپسندیدہ حرکت ہو تو غالب امکان ہے کہ ان کا رویہ فیس بک سے مختلف نہ ہو گا۔ میری رائے میں جنگ جیتنے کے لئے اگلے مورچے ہی ضروری ہیں پچھلے مورچوں سے دفاع تو ممکن ہے مگر جنگ نہیں جیتی جا سکتی ۔ تاہم جو احباب صرف دفاع کے قائل ہیں ان کا اقدام بھی قابل تعریف ہے ۔ بہرحال اس پر تو طویل بحثیں کی جا سکتی ہیں۔ میں فیس بک چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتا اگرچہ میرے لئے یہ کچھ خاص فائدہ مند نہیں مگر کبھی کبھارچرکہ لگانے کا موقع بھی مل سکتا ہے چھوڑنے پر تو کوئی امید نہیں ۔
    وسلام

    • آپ کی رائے بالکل درست ہے طالوت! لیکن جب تک ہم اور ہمارے لوگ اس کی اہمیت کو نہ سمجھیں تب تک ہم متبادل ذرائع تو استعمال کر سکتے ہیں نا؟ اسی لیے میں نے ٹویٹر اور بز کا انتخاب کیا۔ باقی جو لوگ ابھی تک فیس بک کے محاذ پر موجود ہیں، اللہ انہیں بھی استقامت دے کہ وہ جن نیک ارادوں کے ساتھ وہاں موجود ہیں وہ مکمل ہوں۔ والسلام

  1. June 9, 2010

    [...] This post was mentioned on Twitter by Abu Shamil, Abu Shamil. Abu Shamil said: ہم چھوڑ چلے ہیں محفل کو - میرے بلاگ پر تازہ تحریر http://tinyurl.com/2vutfts [...]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.