شتر بے مُہار: آسٹریلیا کی تعمیر و تخریب میں اونٹوں کا ’’کردار‘‘

تحقیق و ترجمہ /عبدالخالق بٹ

کسی نے سابق مفتی اعظم سعودی عرب عبدالعزیز بن عبداللہ بن بازؒ(1910 ء تا 1999ء ) سے پوچھا ’’اگر آپ کی بینائی لوٹ آئے تو آپ سب پہلے کیا دیکھنا چاہیں گے؟ ‘‘، ’’اونٹ !‘‘عبداللہ بن باز ؒنے بلا توقف جواب دیا۔

’’اونٹ؟ اس میں ایسی کیا خاص بات ہے؟‘‘ سوال کرنے والے نے حیرت سے استفسار کیا۔

مفتی صاحبؒ کاجواب تھا: ’’یہ تو مجھے نہیں پتہ، تاہم قرآن پاک میں اللہ فرماتا ہے:

اَفَلاَ یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ (الغاشیۃ۔ 17)

ترجمہ: تو کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے؟

میں تو بس یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ آخر اونٹ کس طور تخلیق کئے گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر قرآن پاک میں اس طور سے کیا ہے۔‘‘

اونٹ کی اہمیت اور افادیت سے عرب بادہ نشینوں سے زیادہ کون واقف ہوگا؟ جن کی زندگی کے سب رنگ اسی خاکستری مخلوق سے پھوٹتے تھے، عہد جاہلیت اور مابعد اسلام عربی ادب کا قابلِ ذکر حصہ اونٹوں کے خواص اور ان سے متعلق واقعات سے مزّین ہے۔ جب کہ دوسری طرف اردو محاورات میں اس معصوم جانور کو ’’کینہ پروری‘‘ اور ’’کوئی کل سیدھی نہ ہونے‘‘ کا طعنہ دیا جاتا ہے۔

یہ سخت جان وسخت کوش جانور ہر طرح کے نامساعد حالات کو بخوبی جھیلنے کی بے مثال صلاحیت رکھتا ہے، یہی وجہ تھی کہ انیسویں صدی کے نصف اول میں نوآبادیاتی نظام کے دوران جب و سطی آسٹریلیا کو کھوجنے کا آغاز ہواتو 1860ء سے 1907ء کے درمیا ن ہزاروں کی تعداد میں اونٹ برآمد کئے گئے، ان کی بدولت وسطی اور مغربی آسٹریلیا کے علاقوں تک رسائی ممکن ہوسکی، ان اونٹوں کو سواری کے علاوہ نو آباد علاقوں میں ریلوے اور ٹیلی گراف لائنوں کی تنصیب، بارودی سرنگوں اور تعمیری سامان کی ترسیل کے لیے استعمال کیا گیا۔

یہ اونٹ دنیا کے مختلف علاقوں اور اقسام سے تعلق رکھتے تھے، ان میں عرب و افریقہ کے ’’بشاری ‘‘ اور راجھستان کے ’’بیکانیری‘‘ اونٹ سواری کے لیے جبکہ زیریں ہند، چین اور منگولیا کے اونٹ باربرداری کے لیے برآمد کئے گئے، زیریں ہند کے اونٹوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ 800 کلو گرام وزن باآسانی اٹھا سکتے ہیں، جبکہ چین اور منگولیا کے ’’باختری‘‘اونٹ کی انفرادیت اُس کے دو کوہان تھے۔ آسٹریلیا میں زیادہ تعداد انڈیا سے لائے گئے اونٹوں پر مشتمل تھی۔

کم و بیش پچاس سال سے بھی زیادہ عرصے تک یہ اونٹ سواری اور باربرداری پر مامور رہے۔

1920ء میں ان کی تعداد 20 ہزار تک پہنچ چکی تھی مگر اس زمانے میں جدید ذرائع نقل و حمل مثلاً موٹر گاڑیوں اور ریل کی ایجاد و فروغ نے انہیں یکسر بے مصرف بنادیا، یوں ان اونٹوں کو ویرانوں میں آوارہ گردی کرنے کے لیے چھوڑدیا گیا۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ آسٹریلیا کی ناردرن ٹریٹری، مغربی اور جنوبی آسٹریلیا کے بنجر اور نیم بنجر علاقوں اور کوئنز لینڈ کے مختلف حصوں میں پھیل گئے۔

آسٹریلیا میں اونٹوں کی خدمات ترک کرنے کے بعد سے انہیں پسند نہیں کیا گیا بلکہ ان کا شمار ایک ناگوار مخلوق میں کیا جانے لگا، اس کی وجہ ان اونٹوں کی تعداد میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہے۔ 2009ء میں ان آوارہ اونٹوں کی تعدادایک ملین (10 لاکھ) تک ریکارڈ کی گئی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تعداد صرف 9 سال میں دوگنی ہوئی، اور آج یہ تعداد 1.5 ملین (پندرہ لاکھ) تک پہنچ چکی ہے۔ یوں اب یہ اونٹ آسٹریلیا میں پائے جانے والے مویشیوں میں عددی اعتبار سے پہلے نمبر پر ہیں۔

انفرااسٹرکچر کی تباہی:

خشک سالی میں یہ اونٹ غول در غول قریبی آبادیوں کا رخ کرتے ہیں اورمویشیوں کی حفاظت کے لیے لگائی گئی باڑ تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ پانی کے حصول کے لیے نلکوں، پمپس، مویشیوں کے لیے مختص آبی ذخائر یہاں تک کہ بیت الخلاء تک کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ نقصانات زیادہ تر قبائلیوں اور دور دراز مقامات پر آباد افراد کو جھیلنے پڑتے ہیں جہاں تعمیراتی سامان کا حصول کافی مہنگا ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ اونٹ روڈ اور ریلوے کے لیے ہی مسائل پیدا نہیں کرتے بلکہ کبھی کبھی رن وے پر بھی آ دھمکتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ ان اونٹوں کی وجہ سے سالانہ 10 ملین ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اونٹ 'پبلک سیفٹی ایشو' بنتے جارہے ہیں۔

ماحول پر پڑنے والے اثرات:

یہ درختوں، جھاڑیوں اور بیل بوٹوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ ننھے پودوں کو کھاتے اور انہیں برباد کرتے ہیں۔ یہ کم و بیش ہر طرح کے پھل دار درخت ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق یہ آسٹریلیا میں موجود پودوں کا 80فیصد کھا چکے ہیں۔ ان پودوں میں آسٹریلیا کے اصل باشندوں (Aboriginal) کی روایتی غذابھی شامل ہے۔ ان اونٹوں سے متاثر ہونے والے علاقوں میں سر فہرست وسطی آسٹریلیا ہے جہاں پودوں پر بڑے پیمانے پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

ان اونٹوں پر عائد "فرد جرم" میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ بیماریوں کے چلتے پھرتے ذخائر بن چکے ہیں، ان اونٹوں سے انسانوں اور مویشیوں میں اُن بیماریوں کے پھیل جانے کا خدشہ بھی ہے جو اب تک آسٹریلیا کے آباد علاقوں میں نہیں پائی جاتیں۔

ماحول پر اثرات:

عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی بہت سی وجوہات میں سے ایک وجہ آسٹریلیا کے ’آوارہ اونٹ‘ بھی قرار پائے ہیں۔ آسٹریلیا میں ان اونٹوں کی تعداد 1.2ملین (12 لاکھ)تک پہنچ چکی ہے، جن میں سے ہر اونٹ سالانہ ایک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈپیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ان اونٹوں نے آسٹریلیا کو گرین گیسز خارج کرنے والا سب سے بڑا ملک بنادیا ہے۔ ویسے تواونٹ، گائے کی طرح جگالی کرنے والاجانور ہے مگر یہ بڑی مقدار میں میتھین گیس بھی خارج کرتا ہے۔ اندازہے کہ ہر سال ایک اونٹ 100 پونڈ میتھین خارج کرتا ہے جو ایک کار کے سالانہ اخراج کا ایک چوتھائی ہے۔

ماحول اس وقت متاثر ہونا شروع ہوتا ہے جب جانوروں کی تعداد فی اسکوائر کلومیٹر ایک جانور سے تجاوز کرجائے، جبکہ آسٹریلیا کی شمالی ریاست کے دو علاقوں (صحرائے سمپسن اورجنوبی صحرائی علاقوں ) میں ان کی تعداد اس معیار سے کہیں زیادہ ہے۔ یوں تو کم امکان ہے کہ ان اونٹوں کے نر م پاؤں مٹی کو نقصان پہنچاتے ہوں گے تاہم یہ اونٹ ایکو سسٹم میں خرابی اور آبی ذخائر کو آلودہ کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔

’’شتر‘‘کشتن روز اول…… قتل عام کی تجویز:

ایڈیلیڈ میں قائم ’’نارتھ ویسٹ کاربن کمپنی ‘‘کے منیجنگ ڈائریکٹر ’ٹائم مور‘ ان اونٹوں کے مارے جانے کے زبردست حامی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ’’یہ اونٹ 30سے پچاس سال جنگل میں کہیں بھی رہیں ان کی تعدادمیں لازمی اضافہ ہوگا اورنتیجتاً ہر نو سال بعد گیسوں کا اخراج بھی دوگنا ہو گا۔

آسٹریلیا میں اونٹ

’مسٹر مور‘ کی تجویز ہے کہ ان اونٹوں کو گولی مارنے کے لیے ہیلی کاپٹر اور موٹر وہیکل استعمال کی جائیں اور اس کام میں مدد دینے والے افراد اور اداروں کو کاربن کریڈٹ بطور انعام دیا جائے۔ اس ضمن میں ان کا نعرہ ہے کہ ’’ایک اونٹ مارو، ایک کاربن کریڈٹ پاؤ‘‘۔ان کاکہناہے کہ اس منصوبے میں شمولیت کے نتیجے میں آسٹریلیا کے مقامی باشندوں (Aborigines) کو روزگار کے وسیع مواقع میسر آئیں گے۔ ’مسٹر مور‘ کہتے ہیں ہم ایک اختراع پسند قوم ہیں اس لیے ہمیں درپیش مسائل کا حل بھی منفرد ہے۔ ‘‘

اس سلسلے میں ایک منصوبہ ’دریائے ڈوکر‘ کے اطراف آباد افراد کواونٹوں کی تباہ کاریوں سے نجات دلانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے جس کے تحت اس علاقے میں چھ ہزاراونٹوں کو ہلاک کیا جائے گا۔

آسٹریلیا کے ’ڈیزرٹ نالج کوآپریٹیو ریسرچ سینٹر‘نے تحقیق کے بعد ایک تجویز حکومت کو دی ہے جس کے مطابق ابتدائی چا رسال کے دوران چھ لاکھ سترہزار اونٹ ہلاک کئے جائیں گے، جبکہ آئندہ چار سال میں پانچ لاکھ اونٹ مارے جائیں گے جس کے بعد ان کی تعداد 0.1 فی مربع کلو میٹر ہوجائے گی۔ یوں ان علاقوں میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جاسکے گا۔ علاوہ ازیں ان اونٹوں سے ’نجات‘ پانے کے لیے یہ تجویز بھی ہے کہ ان کا گوشت کھانے میں استعمال کیا جائے، انہیں برآمد کیا جائے، مخصوص علاقوں میں مضبوط باڑ لگا کر انہیں نقصان پہنچانے سے روکا جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے قتل عام کے حوالے قانون سازی کی جائے اور اس راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔

یوں توآسٹریلیا کے لیے اونٹوں کا مسئلہ روز بروزسنگین ہوتا جارہا ہے، تاہم اگر حکومت ان کا مارنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اسے جانوروں کے حقوق کی علم بردارتنظیموں کی جانب سے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا جو’ کنگروز‘ کے قتل کئے جانے پر پہلے ہی توانا آواز میں ڈھل چکی ہیں۔ تاہم مذکورہ تجاویز میں سے ایک یعنی ان کی برآمد کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے، چنانچہ بیماریوں سے پاک اونٹوں کو سعودیہ، متحدہ عرب امارات، برونائی اور ملائیشیا برآمد کیا جارہا ہے جہاں ان کا گوشت بطورغذا استعمال ہورہاہے۔ جبکہ بعض ممالک میں یہ ’’اونٹ دوڑ‘‘ کے لیے برآمد کئے جا رہے ہیں۔

دی غان ایکسپریس، افغان ساربانوں کی یاد میں چلائی جانے والی ٹرین

دی غان ایکسپریس

انگریزی دان دنیا ’کیمل ٹرین‘(camel train)‘‘ کی اصطلاح سے بخوبی واقف ہے۔ اس کا سب سے پہلا استعمال اور اطلاق اونٹوں کے اس کارواں پر کیا گیا جوجنوبی آسٹریلیا کے مقام ’اوڈناڈاٹا‘ سے وسطی آسٹریلیا میں ’ایلس اسپرنگز‘ کے درمیان محو سفر رہتا تھا۔ 1929ء میں ٹرین سروس کی ’ایلس اسپرنگز‘ تک توسیع کے بعد ’کیمل ٹرین‘ کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ تاہم دولت مشترکہ کے زیر اہتمام چلنے والی اس ’ایکسپریس پسنجر ٹرین‘ کو عوامی سطح پر ’ دی افغان ایکسپریس‘ کہا جانے لگا۔ بعد ازاں حکومت نے اس ٹرین کو اُن افغان ساربانوں سے منسوب کردیا جو انیسویں صدی میں اپنے اونٹوں کے ہمراہ آسٹریلیا پہنچے اور اس کے گمنام گوشوں کی تلاش میں بھیجی جانے والی مہم میں شرکت کے علاوہ بعد کے ادوار میں آسٹریلیا کی تعمیر و ترقی میں اپنے اونٹوں کے ہمراہ اہم کردار اداکیا۔ یوں اس کا باقاعدہ نام ’’دی غان ایکسپریس‘‘قرار پایا۔

’’دی غان‘‘ براستہ ایلس اسپرنگز، جنوب میں ایڈیلیڈ سے ،شمال میں ڈارون کے درمیان ہفتے میں دو روز چلتی ہے، اورجنوباً شمالاً کم و بیش 2979 کلومیٹر (1,851میل) کا سفر دودن میں طے کرتی ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

2 تبصرے

  1. فیصل says:

    بھائی صاحب 2۔1 ملین تو بارہ لاکھ بنتے ہیں، تصحیح کر لیں 🙂
    ویسے آج کل یہاں میڈیا میں کافی چرچا ہے ان جنگلی اونٹوں کا۔
    اگر کوئی این جی او ارادہ کر لے تو تیسری دنیا کے کافی ممالک کو ان کا گوشت مفت نہیں تو کافی کم قیمت پر ہی بھیجا یا بیچا جا سکتا ہے۔

  2. عرفان عادل says:

    جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ۔
    مفتی صاحب کا جواب تھا کہ اللہ نے آسمان ،زمین اور پہاڑ سے پہلے اونٹ کا ذکر فرمایا تو اونٹ میں ایسی کیا خاص بات ہے ۔ سو میں اسے سب سے پہلے دیکھنا چاہوں گا ۔
    ویسے اگر یہاں اگر عبدالغفار عزیز صاحب کا اونٹ کے حوالے سے ایک انتہائی معلوماتی مضمون بھی شایع کردیا جائے تو بہتر ہو۔ ترجمان القرآن کی ویب سائٹ سے مل جائے شاید۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *