تحاریر برائے ’بلاگنگ‘ زمرہ


فلمستان – نئے ڈومین پر

اردو بلاگستان میں موضوعاتی بلاگنگ کے آغاز کی خواہش کا اظہار کافی عرصے سے ہوتا رہا ہے اور اس ضمن میں چند پس پردہ کوششیں بھی کی گئیں لیکن وہ مشہور زمانہ سرخ فیتے کا نشانہ بن گئیں اور یوں ‘ بن کھلے مرجھانے’ والا معاملہ ہو گیا :)

بلاگستان کے چند اراکین مختلف مواقع پر فلموں کو اپنی تحاریر کا موضوع بناتے رہتے ہیں۔ اسی دوران ایک مرتبہ فلم ریویوز پر بلاگ بنانے کا خیال آیا اور یوں ساتھیوں کے تعاون کی یقین دہانی نے اس خیال کو حقیقت کا جامہ پہنایا۔

سب سے پہلے تکنیکی پہلو پر نظر ڈالی گئی اور چند ہی روز میں ابوشامل ڈاٹ کام کے ایک ذیلی ڈومین پر فلمستان کا آغاز ہوا۔ تکنیکی شعبے میں ساجد اقبال اور محمد اسد نے بہت تعاون کیا جبکہ تحاریر کے سلسلے میں جعفر حسین، نعمان یعقوب، عمیر ملک اور خاور بلال نے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور عملی طور پر اس میں وقتا فوقتا اپنا حصہ ڈالا ہے۔
(more…)

Google Buzz

نئی تھیم

کسی بھی بلاگ کے مندرجات کے علاوہ اس کے لیے سب سے اہم چیز “تھیم” ہوتی ہے کیونکہ آپ کی تحاریر کیسی نظر آتی ہیں اس کا تمام تر انحصار تھیم پر ہوتا ہے۔ اگر آپ کا بلاگ ورڈپریس پر ہے تو آپ کے لیے تھیم کے انتخاب کا معاملہ اور زیادہ مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ ورڈپریس کے لیے موجودہ تھیمز کی تعداد لاکھوں میں نہیں تو ہزاروں میں ضرور ہوگی۔ 2007ء میں بلاگنگ کے آغاز کے ساتھ ہی تھیمز کی “آمد و رفت” کا سلسلہ جاری رہا جو ایک سال قبل نئے ڈومین “ابوشامل ڈاٹ کام” پر منتقلی کے بعد تھم گیا۔ azul وہ واحد تھیم تھی جو میں نے ایک سال سے زیادہ عرصہ استعمال کی اور میرے خیال میں یہ تھیم بلاگ کی پہچان بن گئی ہوگی :) لیکن پھر بھی ایک ایسی تھیم کی کمی ہمیشہ محسوس ہوتی رہی جو خاص طور پر تیار کی گئی ہو اور اس میں “سادگی و پرکاری” کا حسین امتزاج بھی ہو۔ اس ضرورت کو میرے عزیز دوست اور مشہور ڈیزائنر خاور بلال نے شدت سے محسوس کیا اور نہ صرف اس جانب توجہ دلائی بلکہ ایک نئی تھیم کو خود سے ڈیزائن کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ اور گزشتہ ماہ انہوں نے ایک تھیم ڈیزائن کر کے ارسال کی اور یوں یہ نئی تھیم ڈیولپمنٹ کے مرحلے سے گزرنے کے لیے برادر ساجد اقبال کے پاس پہنچی جنہوں نے بہت عرق ریزی سے اسے حقیقت کے قالب میں ڈھالا ہے۔ (more…)

Google Buzz

بلاگ مسائل

جمعہ 11 جون کو دنیائے کھیل کے بڑے میلوں میں سے ایک “فیفا ورلڈ کپ فٹ بال 2010ء” کا آغاز ہوا اور اس حوالے سے ایک تحریر اس بلاگ کی زینت بنی۔ قارئین کے تبصرے بھی آئے لیکن بدقسمتی سے ہفتہ 12 جون کو کسی تکنیکی خامی کے باعث بلاگ اپنی جمعرات 10 جون والی پوزیشن پر واپس چلا گیا اور یوں فٹ بال ورلڈ کپ کے حوالے سے تحریر “گووووووول” بمعہ تبصرہ جات غائب ہو گئی۔ یہی صورتحال فلمستان اور وکی نامہ پر بھی رہی۔ فلمستان پر آخری تحریر بغیر تدوین شدہ صورت پر واپس گئی اور وکی نامہ چند روز تک اپ ڈیٹ نہ ہونے کے باعث کسی “نقصان” سے محفوظ رہا لیکن جیسے ہی تبدیلیاں کیں تو وہ بھی اپنی پچھلی پوزیشن پر واپس چلا گیا۔ یوں میں گزشتہ کئی روز سے ایک پریشانی میں مبتلا رہا۔

اس سلسلے میں برادر ساجد اقبال، جن کا میں ممنون احسان ہوں کہ ابتداء سے لے کر آج تک ابوشامل ڈاٹ کام اور ذیلی بلاگز کے لیے بھرپور معاونت فراہم کر رہے ہیں، نے اپنے قیمتی وقت میں سے چند دن نکالے اور بالآخر بدھ 16 جون کو بالآخر تمام بلاگز کو مطلوبہ حالت میں واپس لے آئے۔ تاہم اب بھی ممکن ہے کہ چند مسائل موجود ہوں جیسا کہ تبصروں کا شامل نہ ہونا وغیرہ۔ اس لیے میری قارئین سے گزارش ہے کہ (more…)

Google Buzz

ہم چھوڑ چلے ہیں محفل کو

ارے نہیں نہیں، عنوان سے یہ مت سمجھیے کہ میں “اردو محفل” کو چھوڑ گیا ہوں، بلکہ یہ داستان ہے مشہور زمانہ فیس بک کو چھوڑنے کی۔

پاکستان میں فیس بک پر عائد پابندی ہٹائی گئی، چیک کرنے کے لیے فیس بک کی طرف نظر دوڑائی لیکن نجانے کیوں دل ایک عجیب سی کیفیت سے دوچار تھا، ایک احساس جرم تھا، دل آمادہ نہیں ہو پا رہا تھا اس کے استعمال پر۔ کئی بہانے آئے، حقائق سے لاکھ نظریں چرانے کی کوشش کی لیکن احساس جرم دل پر غالب رہا۔ پھر اچانک ہی فیس بک انتظامیہ کا ایک بیان نظر سے گزرا کہ انہوں نے مخصوص صفحات تک پاکستانی صارفین کی رسائی بند کر دی ہے اور قبول کیا ہے کہ وہ صفحات بدستور فیس بک پر موجود ہیں جو پاکستان میں فیس بک پر پابندی کی وجہ بنے۔

فیس بک انتظامیہ کے اس بیان کے بعد تو یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ انہیں اپنے کروڑوں مسلمان صارفین کا بالکل خیال نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں یہ بات پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ فیس بک انتظامیہ نے یہودیوں اور ہولوکاسٹ کے خلاف اور نازیوں کے حق میں صفحات حذف کیے ہیں جو اس کے دوغلے طرز عمل کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں۔

گو کہ یہاں بیٹھ کر اس کے خلاف رونا کچھ اچھا نہیں لگتا،وہ یہودی ہیں یا کتنے یہودی نواز ہیں، ان کے ساتھ کیسا رویہ رکھتے ہیں اور ہمارے ساتھ کیسا، یہ سب ان کی مرضی پر منحصر ہے لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ ایک پیشہ ورانہ ادارے کی حیثیت سے انہیں یہ بات زیب نہیں دیتی کہ اس طرح کا طرز عمل اختیار کریں اور ایک طرف جھکاؤ رکھیں۔ میرے خیال میں مارک زکربرگ عمر کے ساتھ ذہنی طور پر بھی ابھی اتنا بڑا نہیں ہوا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ فیس بک خود سنبھالنے کے بجائے کسی پیشہ ور شخصیت کے حوالے کرے جو اپنے تجربات کی روشنی میں ایک سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ کو بہتر انداز میں (more…)

Google Buzz

پاکستانی بلاگنگ کے لیے ایک افسوسناک دن

توہین رسالت پر مبنی خاکے بنانے والوں کو کھلی چھوٹ دینے پر لاہور کی عدالت عالیہ نے معروف ویب سائٹ فیس بک پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تو گویا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ ایک جانب جہاں قدامت پسند طبقوں نے اس فیصلے کو سراہا وہیں روشن خیال طبقہ بھی پیچھے نہ رہا انہوں نے اس پابندی کو دقیانوسی قرار دیا۔ بھلا بلاگرز اس میدان میں کیوں پیچھے رہتے؟ جمعرات، 20 مارچ کو کراچی پریس کلب میں چند انگریزی بلاگرز نے پریس کانفرنس کی اور موقف اپنایا کہ فیس بک پر پابندی بلاجواز ہے اور اس سے پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ پریس کانفرنس میں اس وقت مسئلہ کھڑا ہو گیا جب صحافیوں کے ایک سوال پر بلاگرز نے فیس بک کی کھلے الفاظ میں مذمت نہیں کی، جس پر صحافیوں اور ان کے درمیان جھگڑا شروع ہو گیا اور یوں یہ پریس کانفرنس ایک افسوسناک انجام کا شکار ہوئی۔

سب سے پہلے تو یہ بات ذہن میں واضح رکھنی چاہیے کہ آزادی اظہار رائے کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ آپ کسی کی مقدس شخصیات، مذہب، رنگ، نسل یا ثقافت کو زد پر رکھ کر اس کا مضحکہ اڑائیں۔ اگر آزادی اظہار رائے یہی ہے تو فیس بک نے ہولوکاسٹ کے حوالے سے صفحات کو کیوں حذف کیا؟ اگر ہولوکاسٹ اتنا ہی بڑا مسئلہ ہے تو محض چند ہزار فین کا حامل صفحہ “Everybody draw Muhammad” لاکھوں بلکہ کروڑوں رپورٹس ہونے کے باوجود کیوں نہ حذف کیا گیا؟ فیس بک انتظامیہ کا اس صفحے کو حذف نہ کرنا ہی ان کی دوغلی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس لیے فیس بک انتظامیہ کی ارادوں اور واضح موقف کے بعد عدلیہ کے پاس پابندی عائد کرنے کا فیصلہ دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔

اگر کوئی مجھ ایک ڈیڑھ ہفتہ قبل کہتا تو شاید میرا موقف دوسرا ہوتا لیکن ابھی گزشتہ ہفتے فیس بک انتظامیہ کی جانب سے ہولوکاسٹ کے خلاف ایک صفحے کو فوری طور پر حذف کرنے اور پھر توہین رسالت پر مبنی صفحے کو حذف کرنے نے مجھے اپنا موقف تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے اور میں اور میرے کئی بلاگر ساتھی عدلیہ کے اس فیصلے کی بھرپور تائید کرتے ہیں۔ (more…)

Google Buzz

فلمستان – ایک منفرد بلاگ کا آغاز

یہ ذرائع ابلاغ کا دور ہے اور انسان کی بنیادی ضروریات میں روٹی، کپڑا اور مکان کے ساتھ ساتھ اب معلومات یعنی انفارمیشن بھی شامل ہو چکی ہے۔ ٹی وی چینلوں اور انٹرنیٹ نے ابلاغ کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے اور اب دنیا جہاں کی معلومات محض انگلی کے چند اشاروں کی محتاج ہے۔ لیکن روایتی طریقوں کے علاوہ ابلاغ کے کچھ اور موثر ذرائع بھی ہیں جن میں فلم کو ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔ فلم کے کچھ منفی پہلو ہیں تو کچھ تربیتی پہلو بھی ہیں، وہ انسانی معاشرے کی حقیقی و مصنوعی عکاسی بھی کرتی ہے اوررائے عامہ کو ہموار کرنے یا پھر پروپیگنڈے کے لیے انہیں ایک بہترین ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں فلم بینی کو ایک اہم مقام حاصل ہے اور اس کے حوالے سے تجزیے و تبصرے شایع کرنے والی ویب سائٹس دنیا کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ویب سائٹس میں شمار ہوتی ہیں۔

دور جدید میں فلمیں انسانی ذہنوں پر کتنا اثر رکھ رہی ہیں، اس کا اندازہ محض اس بات سے لگا لیجیے کہ بریو ہارٹ کے اجراء کے بعد اسکاٹ لینڈ میں انگلستان سے آزادی چاہنے والوں کی تعداد میں بڑی حد تک اضافہ ہوا اور عوامی سطح پر کیے گئے سروے سے معلوم ہوا کہ جتنی بڑی تعداد اب انگلستان سے آزادی کی خواہش رکھنے لگی ہے اتنی تعداد پہلے کبھی نہ تھی۔ اس لیے ہم اس ابلاغی دور میں اس اہم ذریعے کو یکسر نہیں چھوڑ سکتے۔ یہی وجہ اردو میں ایک فلمی تجزیہ بلاگ کا آغاز کرنے کا محرک ثابت ہوئی جو اب آپ کی نظروں کے سامنے ہے۔

“فلمستان” پر ہماری کوشش ہوگی کہ مشہور (یا غیر مشہور)، اچھی (یا بری) اور شاہکار (یا پروپیگنڈہ) فلموں پر تبصرے اور تجزیے پیش کریں اور ان کی خامیوں اور خوبیوں اور کہانی میں کمزوریوں یا پروپیگنڈہ فلموں میں اصل واقعات کو پردۂ سیمیں کے پیچھے چھپانے کی کوششوں کا ذکر کریں، زیر تبصرہ فلموں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات قارئین تک پہنچائیں تاکہ وہ کسی بھی فلم کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے سکیں اور فلم بینی کے دوران یہ بلاگ ان کے لیے مددگار ثابت ہو۔

میں اس سلسلے میں تکنیکی مدد فراہم کرنے پر برادر ساجد اقبال ، محمد اسد اسلم اور نعمان یعقوب کا شکر گزار ہوں اور ساتھ میں تحاریر کا وعدہ کرنے اور حوصلہ افزائی کرنے پر جعفر اور خاور بلال کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

ذاتی طور پر مجھے دو قسم کی فلمیں ہی پسند ہیں، ایک اینی میٹڈ اور دوسری جنگی۔ اس لیے میری جانب سے تو ایسی ہی فلموں پر تبصرے ممکن ہیں لیکن کبھی کبھار کوئی ایسی فلم بھی نظروں سے گزرتی ہے موضوع میں دلچسپی نہ ہونے کے باوجود دل کو چھو جاتی ہے۔ اس لیے ان فلموں پر بھی تبصرے ہوں گے اور ساتھی لکھاریوں کی جانب سے مختلف النوع فلموں پر تجزیے تو ہوں گے ہی۔

امید ہے کہ اردو بلاگنگ کمیونٹی اس منفرد بلاگ کو سراہے گی اور اس سے اردو بلاگنگ کو ایک نئی جہت عطا ہوگی۔

نوٹ: میں نے اس تحریر میں تبصرے معطل کر دیے ہیں۔ قارئین اس لنک پر فلمستان کی تعارفی تحریر پر تبصرہ کر سکتے ہیں۔

Google Buzz

روزنامہ ایکسپریس بلاگنگ بارے مضمون

پاکستان میں بلاگنگ نہ تو بہت زیادہ پرانی ہے اور نہ اتنی زیادہ مؤثر جتنی ترقی یافتہ ممالک میں ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ انٹرنیٹ کے حوالے سے ہمارا رویہ مغربی افراد کے مقابلے میں مختلف ہے۔ ہمارے ہاں ایسا طبقہ بھی پایا جاتاہے کہ جو انٹرنیٹ کو کلی طور پر “حرام” سمجھتا ہے اور دوسری جانب ایسے افراد کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے جو انٹرنیٹ جو محض تفریح طبع کا ذریعہ سمجھتی ہے۔ یوں انٹرنیٹ جس نے مغرب میں ترویج علم میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے ہمارے ہاں ایک لاحاصل سی شے بن کر رہ گئی ہے۔
دنیا بھر میں انٹرنیٹ کے ذریعے تبدیلی کے عمل میں بلاگنگ ایک اہم محرک ثابت ہوئی ہے اور اس کی کئی مثالیں موجود ہیں چاہے وہ براک اوباما کی فتح ہو یا ایران میں “انقلاب سبز”۔ لیکن ہمارے ہاں اس کے عملی اثرات اب تک نظر نہيں آ رہے۔ جو لوگ بلاگنگ اور سوشل میڈیا نیٹ ورکنگ کے ذریعے اس تبدیلی کو لانے کے خواہاں ہیں، ان کی عوامی سطح پر پذیرائی تو چھوڑیے ذرائع ابلاغ کے ادارے بھی انہیں گھاس نہیں ڈالتے۔
لیکن گزشتہ چند سالوں سے میڈیا نے ابلاغ کی اس نئی صنف کو قبول کرنا شروع کیا ہے اور بلاگرز کے مضامین اخبارات میں شایع ہونے کے ساتھ ساتھ میڈیا سے وابستہ کئی افراد خود بلاگنگ سے وابستہ ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے بلاگستان کی صدا اب روایتی ذرائع ابلاغ تک بھی پہنچنے لگی ہے۔
ابھی گزشتہ ہفتے موقر روزنامہ ایکسپریس کے شفیع موسی منصوری صاحب نے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ بلاگنگ کے حوالے سے سنڈے میگزین کے لیے ایک فیچر لکھنا چاہ رہے ہیں اور اس سلسلے میں انہیں بلاگرز کی آراء اور ان کے روابط درکار ہیں۔ اس طرح ایک ملاقات ہوئی، جس میں بلاگنگ کے مختلف پہلوؤں پر ان کے سوالات کے جوابات کے ساتھ انہیں مختلف اہم بلاگرز کے روابط بھی دیے تاکہ وہ مزید بلاگرز کی رائے بھی جان سکیں۔ شفیع منصوری صاحب بہت محنتی صحافی ہیں، جس موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں اس کا حق ادا کرتے ہیں اور موضوع پر زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کا شوق بھی رکھتے ہیں۔
یوں 9 مئی 2010ء کو آنے والے سنڈے میگزین میں “بلاگ: جہاں ہر رائے بے لاگ” کے نام سے تین صفحات کا ایک طویل فیچر چھپا جس میں بلاگرز عنیقہ ناز، نعمان یعقوب، عواب علوی، بینش سحر خان، محمد نوید علی، زبیر انجم اور مجھ سے ہونے والی گفتگو کے ساتھ ساتھ بلاگنگ اور پاکستانی بلاگنگ کے بارے میں سیر حاصل معلومات شایع ہوئی ہيں۔ بدقسمتی سے ایکسپریس کے سنڈے میگزین کا کوئی انٹرنیٹ ایڈیشن شایع نہیں ہوتا، اس لیے اس مضمون کو پڑھنے کا واحد طریقہ اس اخبار کو خریدنا ہی ہے۔ لیکن میں نے اس مضمون کو اسکین کر کے نیچے چسپاں کر دیا ہے، اور اس خبر کی تاخیر کا نتیجہ بھی اسکیننگ پر لگنے والا وقت ہے۔
میں روزنامہ ایکسپریس کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے بلاگنگ جیسے اہم موضوع کو اپنے میگزین میں جگہ دی اور بلاگرز کی آراء کو اہمیت دی اور ان کے مشوروں کی روشنی میں ایک اچھا مضمون ترتیب دیا۔
اس سلسلے میں اپنی جانب سے اور تمام بلاگر ساتھیوں کی طرف سے ایکسپریس سنڈے میگزین کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

 

 

page 1

صفحہ ١ - فل سائز میں دیکھنے کے لیے کلک کیجیے

 

 

 

page 2

صفحہ ٢ - فل سائز میں دیکھنے کے لیے کلک کیجیے

 

 

 

page 3

صفحہ ٣ - فل سائز میں دیکھنے کے لیے کلک کیجیے

 

Google Buzz

پاکستان کا بلاگستان – بی بی سی پر پاکستانی بلاگستان کا جائزہ

پاکستان کا بلاگستان بھی پاکستان جیسا ہی ہے۔ قدامت و جدیدیت پسندی کے درمیان جھولتا، اردو اور انگریزی میڈیم کے درمیان منقسم، شدت جذبات سے لبریز، رنگارنگ اور بہت ہی دلچسپ۔

یہ الفاظ ہیں معروف اردو بلاگر نعمان یعقوب کے اس جائزے کے جو 8 مارچ 2010ء کو بی بی سی اردو پر شایع ہوا۔ ویسے تو یہ پورا مضمون ہی پڑھنے کے قابل ہے جس میں انہوں نے بلاگستان کا بہت خوب نقشہ کھینچا ہے لیکن اس میں میرے لیے جو بات انتہائی مسرت کی ہے وہ میری رائے کا شامل ہونا ہے اور اس کے لیے میں برادر نعمان کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے جن بلاگرز کا انٹرویو لینا مناسب سمجھا اس میں مجھے بھی شامل کیا۔

باقی آپ یہ مضمون پڑھ کر ہی اندازہ لگا لیں گے کہ انہوں نے موضوع کا کس عمدگی سے احاطہ کیا ہے۔

میری نعمان سے بھی گزارش ہے اور بی بی سی اردو والوں سے بھی کہ کم از کم سہ ماہی یا پھر ماہانہ بنیادوں پر پاکستانی بلاگستان (اردو و انگریزی) کا ہلکا سا جائزہ پیش کر دیں تو اس سے بلاگز کو بہت ترویج ملے گی۔ گو کہ بی بی سی اردو پاکستان کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی اردو ویب سائٹس میں سے ایک ہے لیکن اس کے باوجود بی بی سی کے بلاگز اتنے معروف نہیں ہیں جتنا کہ دیگر اردو بلاگز ہیں اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستانی بلاگرز خصوصاً اردو بلاگرز کو آگے بڑھایا جائے۔

آپ نعمان یعقوب کا لکھا گیا پورا مضمون یہاں ملاحظہ کر سکتے ہیں:

پاکستان کا بلاگستان

Google Buzz

مودودی دا کھڑاک

تحریر: زبیر انجم صدیقی

یہ نگارشات لکھنے کا محرک بی بی سی اردو پر آٹھ فروری کو شائع ہونے والا محمد حنیف کا بلاگ بنا ہے جس کا عنوان ہے ’’مودودی دا کھڑاک‘‘۔ میں خود بھی محمد حنیف کےاسلوب تحریر کا مداح ہوں اور ان کے بعض واقعات پر لکھے گئے کالم انتہائی شاندار ہیں جن کا مشاہدہ بی بی سی اردو کی ویب سائیٹ پر جا کر کیا جا سکتا ہے۔ ۔مگر ان کے اس مضمون نے ہمارے قلم کاروں ہی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی ایک خامی کو بے نقاب کیا ہے۔ اور وہ ہے تحقیق و اکتشاف سے جی چرانا اور صلاحیتوں اور کاوشوں کو سہل کاموں تک ہی محدود رہنا۔ میرا مقصود ان انگارشات میں حنیف صاحب یا کسی بھی شخصیت کو موضوع بنانا نہیں ہے بلکہ اس معاملے پر بات کرنا ہے جس کی نشاندہی محمد حنیف کا بلاگ پڑھ کر ہوئی ہے اسی لئے نمونے کے طور پر انہی کے کالم کا ایک حصہ ملاحظہ فرمایئے:

خدا کے لیئے فلم سے زیادہ ایک قوم کی پکار ہے جس میں ہر ایک کو بظاہر اپنا چہرہ دکھائی دیا، اپنے دل کی دھڑکن سنائی دی۔اس فلم کا سب سے مقبول ڈائیلاگ وہ ہے جو ہندوستانی اداکار نصیر الدین شاہ کمرہ عدالت میں کہتے ہیں۔
‘داڑھی اسلام میں ہے، اسلام داڑھی میں نہیں۔’
یہ ڈائیلاگ جماعت اسلامی کے بانی حضرت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کا لکھا ہوا ہے۔ اور جب نصیر الدین شاہ اپنی پیٹ تک آئی داڑھی کو سہلا کر یہ ڈائیلاگ بولتے ہیں تو سینما ہال میں دیر تک تالیاں بجتی ہیں۔ راقم کو کبھی یہ سمجھ نہیں آئی کہ تالیاں اسلام کے لیے بج رہی ہیں، داڑھی کے لیے، ان کے باہمی آسان تعلق کے لیے یا پھر نصیر الدین شاہ کے لیے۔ کیونکہ راقم یہ سوچنے لگتا ہے کہ ہماری ہی زندگی میں یہ کیسے ہوا کہ ناصر ادیب کی بجائے ہمارے پاپولر ڈائیلاگ رائٹر حضرت مودودی قرار پائے

محمد حنیف کا مکمل بلاگ یہاں ملاحظہ کیجیے

جن لوگوں نے بی بی سی اردو پر محمد حنیف کا مذکورہ بلاگ پڑھا ہے ان پر یہ واضح ہو جائے گا محمد حنیف مولانا مودودی کے نظریات و افکار شدید اختلاف رکھتے ہیں یا ناپسند کرتے ہیں اور اس پر کسی کو کوئی اعتراض بھی نہیں ہونا چاہیے ۔ہر کسی کو کوئی بھی رائے رکھنے اور اس کا ابلاغ لوگوں تک کرنے کا حق حاصل ہے۔

حنیف صاحب نے مودودی کے بارے اپنی رائے کا اظہار ان کی بھد اُڑانے کے انداز میں کیا ہے۔ وہ ایک اچھا مزاحیہ کالم ضرور ہے۔ مجھے بھی یہ کالم پڑھ کر بہت مزہ آیا ہے خاص طور پر عنوان ’’ مودودی دا کھڑاک ‘‘ کا جواب نہیں ہے۔ مگر میں صرف یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مودودی صاحب کے افکار کا مقابلہ مزاحیہ کالموں اور لطیفوں سے نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے سنجیدہ تحقیقی اور علمی کام کیا ہے جس سے صرف پاکستان ہی کے نہیں بلکہ دنیا بھر کے کروڑوں لوگ براہ راست واقف ہیں۔ جن تحریر کردہ کتابوں کی تعداد ساٹھ سے زائد ہے اور ان کا دنیا کی چھیالیس زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ جو فکری کام مولانا مودودی نے کیا ہے وہ بالکل اسی سطح کا ہے جو بیسویں صدی میں ان کے ہم عصر علامہ اقبال ، ڈاکٹر علی شریعتی اور سید قطب کر چکے ہیں۔ اگر آپ مودودی کے نظریات کو غلط سمجھتے ہیں تو فکری اور نظری دلائل کے ذریعے ان کا جواب پیش کریں۔ اور ان کے افکار کو غلط ثابت کر کے وہ ’’سحر‘‘ توڑ دیں جو انہوں نے پاکستان اور بیرون ملک کے لکھوکھا ذہنوں پر طاری کر رکھا ہے۔

جس وقت مولانا مودودی نے تحریر و تصنیف کا آغاز کیا اس وقت روس میں سرخ انقلاب آچکا تھا اور کارل مارکس کا معاشی و سیاسی نظریہ چہار دانگ عالم میں ذہنوں کو اپیل کر رہا تھا۔ دنیا کے کئی ملکوں میں اشتراکیوں نے تختے الٹ دیئے تھے اور پاکستان سمیت دنیا کے ہر ملک میں اشتراکی تحریکیں موجود تھیں۔ اس لئے کہ کمیونزم ایک جامد اور مجرد نظریہ نہیں تھا بلکہ اپنے جلو میں ایک مکمل سیاسی و معاشی نظام لئے ہوئے تھا جس کا عملی تجربہ بھی ہو چکا تھا۔ اس وقت مولانا مودودی نے اشتراکیت اور سرمایہ داری کی مخالفت محض کمیونسٹ اور اشتراکی شخصیت کی بھد اڑا کر نہیں کی بلکہ کارل مارکس اور اینجل کے سارے کام کا جائزہ لکھ کر اس کو فکری اور نظری اعتبار سے رد کیا اور اس کے مقابلے میں اسلام کا معاشی اور سیاسی نظریہ اس طرح پیش کیا کہ اسلام کاوہ سیاسی نظام جو کئی صدیوں سے عملاً کہیں موجود نہیں ہے۔ لوگوں کے ذہنوں میں اشتراکیت اور سرمایہ دارانہ جمہوریت کے متبادل اور زیادہ بہتر تصور کے طور پر واضح ہو گیا۔ اگر وہ چاہتے تو وہ بھی کارل مارکس اور اشتراکی حکومتوں اور ان کے نظریات کی بھد اڑا سکتے تھے مگر ان ہتھکنڈوں سے مزاح تو پیدا کیا جاسکتا تھا مگر سوشلزم اور کمیونزم کے افکار کامقابلہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ علامہ اقبال کی مثال ہی کو لے لیں وہ فلسفے کے طالب علم ہوئے، انہوں نے بھی مغربی مفکرین کی بھد اڑانے جیسے سہل کام کرنے کے بجائے Reconstruction of Religious Thoughts in Islamجیسا شہرہ آفاق مقالہ لکھ کر اپنے فلسفے کی عمارت اس طرح تعمیر کی کہ کانت، نطشے، ہیگل ، برکلےاور گوئٹے جیسےمغربی فلسفیوں کے فلسفے کے پرخچے اڑا دیئے۔ انہوں نے افکار و نظریات کا مقابلہ افکارو نظریات ہی سے کیا۔ کسی بھی ذہن میں کوئی رائے حتمی نہیں ہوتی آپ اس سے اچھی رائے اور خیال پیش کریں وہ اس رائے کا قائل ہو جائے گا۔

اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ
جس دیئے میں جان ہو گی وہ دیا رہ جائے گا

کیونکہ بھد اڑانے سے مزاح تو پیدا ہو سکتا ہے مگر افکار کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ، افکار کا مقابلہ افکار کرتے ہیں ، نظریات کی جنگ نظریات ہی سے جیتی جا سکتی ہے ، بالکل اسی طرح جیسے کہا جاتا ہے کہ نظام کا متبادل نظام ہی ہوسکتا ہے انارکی نظام کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ کسی ٹھوس اور علمی کا م کا جواب طعن و طنز سے کرنے سے خود اپنا ہلکا پن ہی نمایاں ہوتا ہے۔ اور یہ پیغام جاتا ہے کہ جواب دینے والا اپنی بات میں کوئی سنجیدہ ، علمی اور تعمیری پیغام نہیں رکھتا۔ محسن انسانیتﷺ میں نعیم صدیقی کیا خوب لکھتے ہیں:

جو لوگ خود کوئی تعمیری نصب العین نہیں رکھتے وہ کسی تعمیری کام کو محض اس لئے نہیں ہونے دینا چاہتے کہ کہ ایسا ہونے سے خود ان کا کھوکھلا پن دنیا کے سامنے نمایاں ہونے لگتا ہے

ہمارا معاشرہ کیونکہ تحقیق و اکتشاف سے جی چرانے والا اور سہل پسند ہے اس لئےہمارے لکھاری بھی اپنی تحریروں میں اس مرض کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ صرف محمد حنیف ہی پہ کیا موقوف تمام اخبارات کے کالمز اٹھا کر دیکھ لیں کہ کتنے کالم نگاروں نے سنجیدہ معاملات کو اپنے کالم کا موضوع بنایا ہے۔ بقول اقبال:

یہ اک مرد تن آساں تھا، تن آسانوں کے کام آیا

Google Buzz

بلاگ قارئین سے رابطہ، آسان ترین ذریعہ

گزشتہ ایک ڈیڑھ سال سے اردو بلاگنگ کا دامن وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے اور ہر ایک دو ماہ بعد ایک سے بڑھ کر ایک بلاگر اس میدان میں قدم رکھ رہا ہے۔ انہی میں سے ایک ہمارے نئے بلاگر ریاض شاہد صاحب ہیں، جو تاریخ و اسلام کے موضوعات پر تو اپنے قلم کے جوہر دکھا ہی رہے ہیں لیکن انہوں نے تکنیکی طور پر اپنے بلاگر ساتھیوں کو نئی معلومات سے آگاہ کرنے کا بھی بیڑہ اٹھا رکھا ہے۔
ابھی گزشتہ دنوں انہوں نے اپنے قارئین سے فوری طور پر منسلک رہنے کے لیے جی میل کو اپنے بلاگ میں نصب کرنے کا طریقہ پیش کیا جو کئی بلاگرز کے لیے کارآمد ہوگا۔
لیکن افسوس کہ یہ طریقہ محض جی میل تک ہی محدود ہے۔ میں نے سوچا کہ اس کا دائرہ تھوڑا وسیع کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ تو جی ہم آپ کو متعارف کرواتے ہیں میبو سے۔
میبو فوری پیغام رسانی (instant messaging) کا ایک ٹول ہے اور اس کا میبو بار دراصل آپ کے بلاگ کے لیے ہے تاکہ آپ کے قارئین آپ کے مواد کو فیس بک، ٹویٹر اور دیگر سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کے ذریعے پھیلا بھی سکیں اور آپ سے ہمہ وقت رابطہ میں بھی رہ سکیں۔ آپ میبو کے اکاؤنٹ میں اپنے یاہو، ایم ایس این، جی میل، فیس بک، آئی سی کیو، اے آئی ایم وغیرہ کے کھاتوں کو یکجا کر سکتے ہیں اور اپنی ویب سائٹ سے تمام بلاگ قارئین اور روابط سے منسلک ہو سکتے ہیں۔ میبو بار انتہائی سادہ و کارآمد بار ہے۔ اس کے لیے آپ کو سب سے پہلے میبو پر اپنا اکاؤنٹ بنانا ہوگا جو بالکل مفت ہے۔ پھر آپ انٹیگریشن وزرڈ کے ذریعے با آسانی اس بار کو اپنے بلاگ میں شامل کر سکتے ہیں۔
اس بار کو آپ وکی نامہ پر دیکھ سکتے ہیں۔ اگر پسند آئے تو اسے ضرور استعمال کیجیے اور اپنے قارئین سے فوری طور پر منسلک ہو جائیے۔

Google Buzz