سقوط مشرقی پاکستان - چند اہم وجوہات

ہر سال 16 دسمبر آتا ہے، مشرقی پاکستان کی یادیں تازہ ہوتی ہیں۔ قائد کے پاکستان کے ٹوٹنے کی وجوہات زیر غور آتی ہیں اور بالآخر "رات گئی بات گئی" کی طرح ختم ہو جاتی ہیں لیکن ہم نے کبھی ان وجوہات سے سبق حاصل کرنے اور موجودہ صورتحال میں انہی غلطیوں کو دہرانے سے بچنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی اور بہت ساری باتیں ایسی بھی ہیں جنہیں بہت کم زیر غور لایا جاتا ہے۔ اب آزادئ اظہار رائے کا دور ہے، بہت سارے پہلوؤں پر کھلے عام بحث کی جا رہی ہے ورنہ کچھ عرصہ قبل تک عام آدمی کے ذہن میں تصور ہی یہی تھا کہ بنگالیوں نے پاکستان سے غداری کی جس کے نتیجے میں پاکستان ٹوٹا۔ میں کچھ عرصہ قبل جماعت اسلامی پاکستان کے سابق نائب امیر، جو ڈھاکہ میں جماعت کے امیر بھی رہ چکے ہیں، خرم مراد صاحب کی خود نوشت "لمحات" پڑھ رہا تھا۔ مرحوم کیونکہ خود ڈھاکہ میں رہ چکے تھے اور اُن ایام کو اپنی نظروں سے دیکھ چکے تھے جس میں یہ عظیم سانحہ رونما ہوا اس لیے ان کی کتاب اس حوالے سے بہت اہمیت کی حامل ہے۔

ان کی کتاب "لمحات" اور دیگر چند کتب پڑھ کر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سب سے اہم سبب یہاں کی عسکری و سیاسی قیادت کا غیر جمہوریت پسندانہ رویہ تھا۔ اس کے علاوہ اور بھی دیگر کئی وجوہات ہیں، جن کا ذکر یہاں کروں گا۔

سقوط مشرقی پاکستان

مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کی چند انتہائی بنیادی وجوہات تھیں۔ ایک آبادی کے لحاظ سے وہ زیادہ بڑا علاقہ تھا جس کی وجہ سے کہ مغربی پاکستان کی نوکر شاہی اور عسکری قیادت کو یہ "خطرہ" لاحق ہو گیا کہ اگر سیاسی نظام کو جمہوری انداز میں چلنے دیا گیا تو بنگالی برسر اقتدار رہیں گے۔ اسی وجہ سے بنگال سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو پنجاب سے تعلق رکھنے والے غلام محمد نے برطرف کر کے پاکستان کے سیاسی نظام میں ایسی بدعت کا آغاز کیا جس کا خمیازہ بعد میں آنے والی کئی جمہوری حکومتیں بھگتتی رہیں۔ مغربی پاکستان میں دارالحکومت کراچی میں بیٹھ کر ایسی نوکر شاہی اور عسکری قیادت، جس کا 90 فیصد مغربی پاکستان کے باشندوں پر مشتمل ہو، حکومت چلانا کوئی آسان کام نہ تھا۔ فوج اور نوکر شاہی تو کسی کی دال نہ گلنے دیتی، یہ تو خواجہ ناظم الدین جیسے شریف النفس انسان تھے، جن کو ہٹانے سے جمہوری حکومتوں کے قتل کا سلسلہ چل نکلا۔ رہی سہی کسر محمد علی بوگرہ کی حکومت کے خاتمے نے پوری کر دی جن کے دور میں دستور ساز اسمبلی ایک ایسی ترمیم منظور کرنے جا رہی تھی جس میں گورنر کے اختیارات کو کم کیا جانا تھا لیکن غلام محمد نے پہلے اسے برطرف کر دیا، یوں مطلق العنان آمریت کی مضبوط بنیاد ڈال گئے۔

دوسری وجہ یہ تھی کہ پاکستان کے یہ دونوں بازو ہزار میل کے فاصلے پر صرف اور صرف اسلام کے رشتے سے جڑے تھے۔ جب قیام پاکستان کے بعد حکمرانوں نے اسلام میں دلچسپی ہی نہ دکھائی تو پھر یہ رشتہ بے معنی تھا۔ وہاں سوشلسٹ اور سیکولر نظریات پھلتے پھولتے رہے اور انہی سے بنگلہ قوم پرستی نے بھی جنم لیا تو یہ جلتی پر تیل والا کام ہو گیا۔

تیسری اہم وجہ ہماری قیادت کا بے وجہ جذباتی پن تھا جس میں بنگالی کو اردو کے ساتھ قومی زبان کا درجہ نہ دینا تھا۔ اس بے جا اصرار کے نتیجے میں بنگالی قوم پرستوں کو عوام کے جذبات سے کھیلنے کا موقع ملا۔ "سرکاری زبان صرف اردو ہوگی" کا نعرہ تو لگا لیا گیا لیکن یہ محض جذباتی نعرہ تھا اور نتیجہ وہی ہوا کہ اردو آج تک سرکاری زبان نہ بن سکی اور بنگالی بولنے والے بھی ہم سے الگ ہو گئے۔ اس خواہ مخواہ کی کشمکش نے مغربی اور مشرقی پاکستان کے باشندوں کے درمیان نفرت کے بیج بو دیے اور زبردست انتشار پیدا ہوا جو بالآخر سقوط مشرقی پاکستان پر منتج ہوا۔

پھر ماحول ایسا تخلیق کر دیا گیا کہ جس میں مغربی پاکستان کے باشندوں کے بنگال کے باشندوں کے مقابلے میں احساس تفاخر و برتری تھا اور وہ انہیں کم تر سمجھتے تھے۔ بنگال کے باشندوں کی ذہانت، حب الوطنی، قوت اور صلاحیت کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا اور انہیں دیگر قوموں کے مقابلے میں آگے بڑھنے کے مواقع نہیں دیے جاتے۔

چوتھی اہم وجہ وسائل کی تقسیم میں زبردست عدم توازن تھا اور یہ تک کہا گیا کہ "مغربی پاکستان کی سڑکوں سے پٹ سن کی خوشبو آتی ہے" لیکن اس کے باجود 25 سالوں میں مشرقی پاکستان میں جس بڑے پیمانے پر صنعتی ترقی ہوئی۔ اس لیے یہ کہنا تو بالکل درست نہیں ہوگا کہ اقتصادی لحاظ سے بنگال کا علاقہ تقسیم ہند کے بعد مزید کمزور ہو گیا البتہ صوبوں کے درمیان وسائل کی یکساں تقسیم کا مسئلہ اُس وقت بھی آج ہی کی طرح گمبھیر تھا۔

پانچویں ایک اہم وجہ، جس پر کم دھیان دیا جاتا ہے، دارالحکومت کا کراچی سے اسلام آباد منتقل کیا جانا تھی۔ کراچی پاکستان کی تمام اقوام کا شہر تھا جو حقیقتاً پاکستانیت کا مظہر بھی تھا۔ اس کے مقابلے میں جس نئے دارالحکومت کا انتخاب کیا گیا وہ فوج کے صدر دفاتر (جی ایچ کیو) کے دامن میں واقع تھا اور یوں سیاست دانوں پر واضح کر دیا گیا کہ اب حکومت فوج کی گود میں بیٹھ کر چلے گی۔ دارالحکومت کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی نے بھی بنگالیوں کے ذہنوں پر بہت کچھ واضح کر دیا کہ ان کے اقتدار میں آنے کے جمہوری حق کو ختم کرنے کے لیے ایک اور چال چلی جا چکی ہے۔

چھٹی سب سے بڑی اور اہم وجہ 1970ء کے انتخابات کے بعد فاتح عوامی لیگ کی اقتدار میں آنے کی تمام راہیں مسدود کرنا تھی جس کی مغربی پاکستان کی فوجی و سیاسی قیادت نے مل کر بھرپور کوشش کی۔ گو کہ 1970ء کے انتخابات میں بھی شیخ مجیب الرحمٰن نے علیحدگی کا نعرہ نہیں لگایا تھا کہ بلکہ انہوں نے "چھ نکات بھی نافذ ہوں گے اور پاکستان بھی ایک رہے گا" کا بیان تک دیا۔ چاہے ان کے ارادے کچھ بھی ہوں، لیکن ان کے اس بیان سے اتنا اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ مشرقی پاکستان کے عوام میں اس وقت بھی پاکستان مخالف جذبات اتنے زیادہ نہیں تھے، وہ مغربی پاکستان کی فوج اور افسر شاہی کے ضرورخلاف تھے اور اپنا آئینی و قانونی حق ضرور مانگتے تھے لیکن وہ وفاق پاکستان کے ہر گز خلاف نہ تھے یہی وجہ ہے تھی کہ مجیب الرحمٰن کو اس طرح کے بیانات بھی جاری کرنا پڑے ۔

25 مارچ 1971ء کو مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن سے قبل عوامی لیگ کی مرکزی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان سے علیحدگی کے حوالے سے بحث کے بعد بھاری اکثریت نے پاکستان کے ساتھ رہنے اور اسے برقرار کھنے پر رائے دی۔ اس میں صرف عوامی لیگ کی حامی طلبہ تنظیم چھاترو لیگ واحد تنظیم تھی جس کی مرکزی کمیٹی نے پاکستان کے حق میں رائے نہ دی۔ اس لیے یہ کہنا کہ وہ آپریشن کے آغاز سے قبل ہی علیحدگی چاہتے تھے غلط تھا۔ اوپر سے انتخابات کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کا ہٹ دھرمی والا رویہ بھی تابوت میں آخری کیل بن گیا۔

گو کہ سقوط مشرقی پاکستان کے حوالے سے بہت کچھ لکھا گیا ہے لیکن میں خرم مراد مرحوم کی خود نوشت سے ایک اہم اقتباس یہاں پیش کرنا چاہوں گا ، جس میں انہوں نے سقوط مشرقی پاکستان سے قبل کے چند اہم واقعات کو پیش کیا ہے:

یہ سوال بار بار سامنے آتا ہے کہ "کیا مجیب الرحمن پاکستان کے لیے سنجیدہ تھے، اور کیا ان کو اقتدار دے دیا جاتا تو پاکستان ایک رہتا؟" ہمارا اصولی موقف یہ تھا کہ "چونکہ انتخابات ہو گئے ہیں، اسمبلی میں عوامی لیگ کی اکثریت ہے، اس لیے عوامی لیگ کو اقتدار منتقل کر دیا جائے۔" لیکن اس صاف اصولی موقف کے باوجود میں بھٹو صاحب کی اس بات کو بالکل بے وزن نہیں سمجھتا، جس کے مطابق اس بات کا بڑا خطرہ تھا کہ عوامی لیگ اسمبلی کے اجلاس میں آنے کے بعد پاکستان توڑنے کی قرارداد پاس کر دیتی۔ پھر اس کے بعد کسی کے بھی بس میں نہیں تھا کہ پبلک کے نمایندوں کے فیصلہ کو قانونی طور پر روک سکے۔ جبکہ یہ اسمبلی دستور ساز تھی۔

پھر یہ خوف بھی پایا جاتا تھا کہ پاکستان کو اپنے وسائل و ذرائع میں سے علاحدہ ہونے والے حصے کو اثاثہ دینا پڑتا۔ مثال کے طور پر خزانہ، اسلحہ، ہوائی جہازوں، ٹینکوں اور اثاثہ جات میں آدھے سے زیادہ حصہ ادا کرنا پڑتا کیونکہ اسمبلی کی قرارداد سے یہ ایک قانونی اور دستوری کارروائی ہوتی۔ اس کے برعکس بغاوت کے نتیجے میں علاحدگی میں یہ ذمہ داری نہ ہوتی۔ ممکن ہے کہ مغربی پاکستان کے فیصلہ ساز لوکوں کو سامنے یہ بات بھی ہو، اس لیے وہ "بے دام علاحدگی" کو اپنے حصے کےلیے "نفع بخش سودا" تصور کرتے ہوں گے۔ اگرچہ ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے 25 مارچ کے آرمی ایکشن کے بعد کراچی جا کر بیان دیا کہ "خدا کا شکر ہے، پاکستان بچا لیا گیا"۔ آرمی ایکشن کے غلط فیصلے کے باوجود، میں بھٹو صاحب جیسے ذہین آدمی سے یہ توقع نہیں رکھتا، کہ انہوں نے یہ بیان محض آرمی ایکشن کے حوالے سے دیا ہوگا۔ یقیناً ان کے سامنے کچھ اور باتیں بھی ہوں گی۔ اگرچہ ان باتوں میں تلخی پیدا کرنے اور ہٹ دھرمی کی آگ بھڑکانے کا ایک بڑا فعال سبب وہ خود بھی تھے۔

25 مارچ 1971ء تک مجیب الرحمٰن نے یہ نہیں کہا کہ "آزاد بنگلہ دیش بننا چاہیے"۔ حالانکہ اس دوران مغربی پاکستانی فوجی حکمرانوں اور مغربی پاکستان جو بہرحال ایک سیاسی اکائی نہیں تھا، بلکہ چار صوبے تھے، اس میں سے دو بڑے صوبوں کے سیاسی قائد مسٹر بھٹو نے مشرقی پاکستانی قیادت کا پیمانہ صبر لبریز کر دیا تھا۔ اس دوران ڈھاکہ کے ریس کورس میدان میں دس دس لاکھ حاضرین کے جلسے ہوئے۔ بنگلہ دیش کا جھنڈا تک بن گیا تھا اور ہر جگہ لہرایا جا رہا تھا۔ بنگلہ دیش کی عظمت کے گیت ایک سماں باندھ رہے تھے اور جارحانہ نعرے فضاؤں میں گونج رہے تھے۔ ریڈیو بنگالی قوم پرستوں کے قبضے میں تھا جہاں سے سونار بنگلہ کا ترانہ نشر کیا جا رہا تھا۔ بنگالی سول سروس ان کے ساتھ تھی۔ یہاں تک کہ جنرل ٹکا خان کو جب صدر یحییٰ خان نے مشرقی پاکستان کا گورنر بنا کر بھیجا تو ڈھاکہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ان سے حلف لینے سے انکار کر دیا، اور وہ گورنر نہ بن سکے۔ اتنی ہمہ گیر ہڑتال اور ایسا عدم تعاون تھا کہ ہائی کورٹ کا کوئی بھی جج اس فرض کی بجا آوری کے لیے تیار نہیں تھا۔

ان حالات میں جنرل یحییٰ خان اور بھٹو صاحب ڈھاکہ آئے تو بات چیت شروع ہوئی۔ یہی نظر آ رہا تھا کہ بات چیت کا کامیاب ہونا بہت مشکل ہے۔ شیخ مجیب الرحمٰن کے بارے میں آج بھی میں سو فی صد اطمینان سے یہ بات نہیں کہہ سکتا کہ وہ پاکستان کو ایک رکھتے۔ میرے خیال میں ان کو اقتدار دینے سے پہلے مشرقی پاکستان میں عام لوگوں سے ریفرنڈم کرا لیا جاتا تو عام لوگ تو یہی کہتے کہ "پاکستان ایک رہے گا"۔ اس نتیجے پر پہنچنے کے لیے 25 مارچ سے پہلے بھی مثبت نتائج کے لیے قوی شواہد موجود تھے، حتیٰ کہ آرمی ایکشن کے کچھ عرصہ بعد بھی عام لوگ یہی فیصلہ دیتے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

32 تبصرے

  1. عنیقہ ناز says:

    اگر خرم صاھب نے یہ بات لکھی ہے تو یہ خاصی دلچسپ بات ہے کہ بھٹو صاھب کا یہ فرمانا کہ خدا کا شکر پاکستان بچ گیا. اس سے انکی مراد اثاثوں کی تقسیم نہ ہونا تھی.
    حالانکہ ہمیں پاکستانی تاریخ میں یہ پڑھایا جاتا ہے کہ انڈیا نے ہمیں ہمارے اثاثے صحیح طور پہ ادا نہیں کئے اور اسے انکی طرف سے زیادتی بتائ جاتی ہے. مگر جب ہم اپنے اثاثے بچانے کے لئے ایک قوم کوبغاوت کے مقام پہ لیجاتے ہیں تو اسے اپنی عقلمندی اور اس میں خدا کی مدد شامل حال سمجھتے ہوئے اسکا شکریہ ادا کرتے ہیں. بھٹو صاھب کا یہ قول آج سے پہلے بھی کئ دفعہ پڑھا. اگرچہ کہ آج اسے ایک اور رخ سے سمجھنے کا موقع بھی ملا. یہی نہیں،بہت سارے لوگوں کی طرح مجھے بھی اس جملے سے آج تک یہ نہیں سمجھ میں آیا کہ بچ جانیوالا حصہ جو کہ جانیوالے حصے کے مقابلے میں چھوٹا تھا وہ پاکستان کہلایااور اسے بچا کر خوشی کا اظہار کیا گیا. یہ کہنا کہ مجیب الرحمن ایسا کرنے والا تھا. کوئ معنی نہیں رکھتا. اسی بھٹو کو بعد میں حکومت سے الگ کر کےپھانسی چڑھا دیا گیا.پاکستان کی بقاء کی خاطر.پاکستان نہ ہوا پرانی فلموں کی ہیروئن ہو گیا. ہر کوئ اسے بچانے کے لئے دوڑا آتا ہے اور اپنی اپنی دلیلیں پیش کرتا ہے.
    بنگالی مسلمان ہونے کے باوجود اپنی بنیادی ثقافت میں مغربی پاکستان سے بالکل الگ تھے اور آپ نے جانے کن وجوہات کی بناء پہ ان چیزوں کے تذکرے سے گریز کیا ہے.مغربی پاکستان میں لوگ ہمیشہ سے اپنے آپکو بہتر مسلمان سمجھتے تھے. جیسا کہ اب بھی کچھ علاقوں کے لوگوں کو اس بات کا زعم ہے.
    جس وقت پاکستان بنا ہے اس وقت بھی وہاں لوگ ایسے ممسلمان نہ تھے جیسا کہ اجکل پاکستان میں لوگوں کو مسلمان بنانے کی تحریک چلائ ہوئ ہے. وہ لوگ رقص موسیق، اور دیگر فنون میں بے حد دلچسپی رکھتے تھے. اور ان شعبہ جات میں مغربی پاکستانیوں سے کہیں آگے تھے. شاید آپکے علم میں نہ ہو کہ مغربی پاکستان اور بالخصوص پنجاب میں بنگالیوں کو اس وجہ سے بھی حقیر سمجھا جاتا تھا اور انہیں ثقافتی سطح پہ ہندئووں سے قریب قرار دینے میں کوئ امر مانع نہیں تھا.. یہی نہیں وہاں تعلیمی تناسب مغربی پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھا اور اسی حساب سے سیاسی بیداری بھی. یہ یاد رہنا چاہئیے کہ بنگال وہ سر زمین ہے جس پہ انگریزوں نے سب سے آخیر میں قبضہ کیا اور جس کی سرزمین ٹیپو سلطان نے اپنی بہادری اور سرفروشی کی کہانی رقم کی.
    بنگالیوں نے اپنے آزاد رو ہونے کا ثبوت دیا اوراس سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا جو ایک اور عصبیت کی طرف جا رہی تھی. کیا انہوں نے غلط کیا.
    یہ بات کہنا کہ مشرقی پاکستان بعد میں سوشلسٹ اور دیگر تحریکوں کا شکار ہوا. وہاں کے ماحول سے صحیح آگہی نہیں ہے.

    • جی عنیقہ صاحبہ میں بھی یہی سمجھتا ہوں کہ مجیب الرحمن کے حوالے سے خدشات زیادہ تھے کیونکہ ابتداء ہی سے دونوں بازوؤں کے درمیان بد گمانیاں بہت زیادہ پیدا ہو گئی تھیں اور بدقسمتی سے اس کی بنیاد ڈالنے والے ہمارے ایسے رہنما تھے جن کا نام لے کر عقیدت سے آج بھی گردنیں جھکتی ہیں، نام نہیں لیتا کہ لوگ ناراض ہو جائیں گے۔ دونوں بازوؤں میں ثقافتی تفریق کے علاوہ اور بھی بہت سارے عوامل تھے جن کو میں نے تحریر کی طوالت کے خطرے کے باعث پیش نہیں کیا، صرف چیدہ چیدہ وجوہات پیش کی ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف ان کو تازہ کرنا اور موجودہ صورتحال میں ایک مرتبہ پھر متوقع نتائج کو دیکھنا ہے۔ ویسے میرے خیال میں فنون لطیفہ کے حوالے سے بنگال کے باشندوں کے بارے میں آپ کی رائے شاید اتنی بہتر نہیں ہے۔ بنگلہ دیش میں آج بھی مذہب ایک بہت اہم محرک ہے۔ بہت بڑا تبلیغی اجتماع اس بات کا عکاس ہے کہ وہ لوگ مذہب پر مرتے ہیں البتہ یہ حقیقت ہے کہ وہاں غیر مسلموں کا تناسب مغربی پاکستان کے مقابلے میں زیادہ تھا، پھر قوم پرستی کے "عذاب" نے ہمیشہ کی طرح یہاں بھی پنجے گاڑے اور امت مسلمہ کو ایک نیا زخم عطا کیا۔ باقی بنگال کی سرزمین پر انگریزوں کے قبضے اور ٹیپو سلاھن کے حوالے سے خرم بھائی تصحیح کر چکے ہیں۔ تبصرے پر مشکور ہوں۔

  2. خرم says:

    عنیقہ بہنا یہ جو آپ نے فرمایا کہ بنگال وہ سرزمین ہے جسے انگریزوں نے سب سے آخر میں فتح کیا غالباَ سہو ہوگا کیونکہ انگریز براستہ بنگال ہی ہندوستان میں وارد ہوئے تھے۔ سراج الدولہ کو جب انگریزوں نے شکست دی اس وقت ٹیپو سلطان بچے تھے ابھی۔ ٹیپو بھی بنگال کے حکمران نہیں تھے اگرچہ میسور جنوبی ہند کی ریاست تھی لیکن مدراس (حال چنائے) کے پڑوس میں تھی۔ باقی بنگلہ دیش کی علیحدگی کے ذمہ دار ہمارے “محب وطن“ سیاستدان ہی تھے کہ فوج کو تو پاکستان کے قیام کے 11 برس بعد ہمت ہوئی تھی اقتدار پر قبضہ کرنے کی۔ اس سے بہت پہلے ہم بنگالیوں کے ساتھ ناانصافی کا آغاز کرچکے تھے اور اس جرم میں اس دور کے تمام سیاسی قائدین برابر کے شریک تھے۔ فوج تو ہماری سیاسی کلاس کے لئے ایک بیرونی طاقت تھی کہ انگریز کے دور میں فوج اور سیاستدانوں کا براہ راست میل ملاپ ممکن نہ تھا ۔ سول بیوروکریسی کا معاملہ بہرحال اس کے برعکس تھا۔ اسی لئے میرے تئیں پاکستان کے مسائل کے ذمہ دار ابتدائی گیارہ سالوں کی سول بیوروکریسی اور سیاسی قیادت ہے۔

    • تصحیح کا بہت شکریہ برادر خرم، 11 برس بعد کی "ہمت" تو الگ بات ہے لیکن غلام محمد کی جانب سے خواجہ ناظم الدین کی حکومت کو ہٹائے جانے اور اسمبلی کو برطرف کرنے کے پیچھے پر فوج کے واضح ہاتھ تھے حقیقتا لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد ہی پاکستان میں افسر شاہی اور عسکری قیادت نے سیاست میں اہم کردار ادا کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ بنگال کے باشندوں کے ساتھ روز اول سے نا انصافی کی گئی خصوصاً اردو بنگالی تنازع کے حوالے سے جو ایڈونچر کیا گیا اس نے بہت زیادہ بد گمانیاں پیدا کیں اور حاصل نتیجہ کچھ بھی نہ نکلا یعنی اردو کو وہ درجہ نہ مل سکا جس کی وجہ سے اتنا بڑا جھگڑا مول لیا گیا۔ میں آپ کی رائے سے متفق ہوں کہ ملک کے ابتدائی سالوں میں بیورو کریسی اور سیاسی قیادت نے کچھ ایسی غلطیاں کیں جس کا خمیازہ آج تک بھگتنا پڑ رہا ہے اور بالآخر ایوب خان کی آمریت نے اس ملک کے سیاسی نظام میں وہ جراثیم چھوڑے، جو آج تک اس کے جسم کو بیمار کیے ہوئے ہیں۔

  3. انسان اقتدار کا بھوکا ہے اور وہ اسکیلیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوتا ہے. بھٹو نے اپنے اقتدار کییلیے ملک دو ٹکڑے کرنا بھی جائز سمجھا. جو باتیں قیاس کی جا رہی ہیں وہ قیاس ہی رہیں گی
    حیرانی کی بات یہ ہے کہ بعد میں بھی کسی سیاسی اور عسکری قیادت نے دونوں حصوں کو قریب لانے کی کوشش نہیں کی.

    • میرا پاکستان! بھٹو صاحب انتہائی ذہین آدمی تھے لیکن ان کا سب سے بڑا مسئلہ اقتدار تھا جس کے لیے انہوں نے کچھ بھی کرنا گوارا کیا۔ شاید ایک نیام میں دو تلواریں کے نہ رہنے والا معاملہ تھا۔ بھٹو بہرصورت اقتدار چاہتے تھے جو حقیقتاً مجیب الرحمن کا حق تھا۔ مجھے حیرت ہو رہی ہے کہ آپ علیحدگی کے بعد دونوں حصوں کو قریب لانے کی بات کر رہے ہیں؟ مجھے یہ بتائیے کہ جب دونوں حصے ایک تھے اس زمانے میں دونوں کو قریب لانے کی کتنی کوشش کی گئی؟

  4. آپ مجھے رات گئی بات گئی والی فہرست میں ڈال سکتے ہیں لیکن سقوط ڈھاکہ کا سب سے الم ناک پہلو ی ہے کہ ہم نے کسی بھی مملکت اور قوم پر گزر جانے والے اس عظیم سانحے سے ذرہ برابر سبق حاصل نہیں کیا اور آج پھر چند سالوں بعد ہم دوبارہ اسی مقام پر کھڑے ہیں اور سیاستدانوں، فوج اور عوام کے رویے میں ذرہ برابر تبدیلی نہیں آئی اور کسی بھی وقت بلوچستان میں اسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے.. جس انداز سے سیاسی معاملات چلائے جارہے تھے اور جو لوگ اس وقت بھی اقتدار کے کھیل میں شامل تھے یا یوں کہہ لیں کہ جنہوں نے ایک پیڑی بعد نچلی سطح سے اوپر آناتھا.. دیر سویر جغرافیائی لحاظ سے اتنے دور ملکوں نے الگ ہوہی جانا تھا جبکہ درمیان میں بھارت جیسا دیرینہ دوست موجود تھا..

    • آپ کا کہنا درست ہے راشد بھائی، اگر سبق حاصل کر لیا جاتا تو شاید آج بلوچستان میں اسی صورتحال کا سامنا نہ ہوتا بلکہ گزشتہ چند دن کے مطالعے سے اندازہ ہوا کہ ہم بالکل وہی غلطیاں کر رہے ہیں جو بنگال میں کی گئیں۔ وہاں کم از کم آخر تک پاکستان دوست عناصر بھی موجود تھے اور پاکستان کے خلاف قائدانہ سطح پر کوئی بیان نہ دیا جاتا تھا جبکہ بلوچستان میں تو یہ صورتحال ہے کہ کئی علاقوں میں قومی پرچم نہیں لہرایا جا سکتا اور قومی ترانہ پڑھنا ممنوع ہے۔ بلوچستان پیکیج کی صورت میں ایک اچھی کوشش کی گئی ہے، اللہ کرے کارگر ثابت ہو۔

  5. آج تو پاکستان میں این آر او نامی فلم چل رہی ہے۔ اور پوری قوم دیکھ رہی ہے ۔ کسی نے آج سوگ نہیں منایا اور نہ اپنی غلطیوں پر ماتم کیا۔

  6. نبیل says:

    میں نہیں جانتا کہ خرم مراد کی خود نوشت سے حوالہ جات پیش کرکے تاریخ سے کس قدر دیانت برتی جا سکتی ہے۔ خرم مراد کے علاوہ بھی سقوط ڈھاکہ کے ہزاروں عینی شاہدین موجود ہیں اور کئی لوگوں نے اپنی یاد داشتیں رقم کی ہیں۔ مشرقی پاکستان میں بغاوت کے دوران کچھ لوگ پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر بنگالی دانشوروں کے قتل عام میں ملوث رہے ہیں۔ خرم مراد ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

    • برادر نبیل، میری نیت پر شک نہ کیجیے کہ جو زیر مطالعہ تھا اس میں سے پیش کر دیا۔ اگر یہی رائے اپنے نام سے پیش کر دیتا تو غلط ہوتا اس لیے حوالہ دینا ضروری سمجھا۔ آپ بات کو جس رُخ کی جانب لے جانا چاہ رہے ہیں، اسے کسی اور وقت کے لیے رکھ چھوڑتے ہیں۔

  7. sadia saher says:

    سلام

    آج 38 سال کے بعد بھی ھم فیصلہ نہین کر سکے اس المیے کے اصل مجرم کون تھے غلطیاں کیا تھیں کیوں دلوں میں اتنی نفرت بڑھی ھمیں اسکولوں میں اسلام کی تاریخ پڑھائ جاتی ھے مغلوں کی تاریخ پڑھائ جاتی ھے مگر پاکستان کےتاریخی المیے سے بارے میں صرف چند باتیں جانتے ھیں
    جو حالات اس وقت تھے اسی طرح کے حالات بلوچستان کے ھیں ان کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا رھا ھے پہلے وہ اپنا حق مانگتے تھے اب آزادی مانگ رھے ھیں
    ھم لوگ ماضی سے سبق حاصل نہیں کرتے وہی غلطیان دھراتے جاتے ھیں اقتدار کے بھوکے حکمران اس وقت تھے اقتدار کے بھوکے اب بھی ھیں عوام اس وقت بھی بے بس تھے حقائق سے بے خبر پہلے تھے اور اب بھی ھیں
    پہلے جو ھوا وہ ایک المیہ ھے مگر جو آج کل ھو رھا ھے وہ ؟؟
    کیا ھماری تاریخ ھمیشہ خون سے لکھی جائے گی ؟؟؟

    • وعلیکم السلام محترمہ، میرے خیال میں فیصلہ تو ہو چکا ہے کہ مجرم کون تھے اور دونوں حصوں کے درمیان نفرتوں کے بڑھنے کی وجوہات بھی سامنے ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم ماضی کی ان غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے اپنے مستقبل کا تعین کریں۔ میرے خیال میں عوام اب بے خبر نہیں ہیں، ذرائع ابلاغ کی صورت میں انہیں نئی آواز ملی ہے۔ ججوں کی بحالی کی تحریک اور این آر او کا خاتمہ اسی انقلاب کا نتیجہ ہیں۔ امید یہی ہے کہ حالات بہتری کی جانب ہی جائیں گے لیکن تب جب غیر ملکی ریشہ دوانیاں ختم ہوں گی۔

  8. عنیقہ ناز says:

    خرم غلطی کی طرف توجہ دلانے کا شکریہ. نجانے کیوں میرے ذہن میں میسور اور سراج الدولہ کا رشتہ جڑا ہوا تھا.
    سعدیہ کی اس بات پہ کہ ہمیں اسکولوں میں کیا پڑھایا جاتا ہے. یہی کہہ سکتی ہوں کہ جب میری عمر گیارہ بارہ سال تھی تو اس وقت بھی میں سوچتی تھی کہ ہماری کتابوں میں بنگلہ دیش کے بارے میں کچھ کیوں نہیں لکھا ہوتا. حالانکہ میں اپنے اردگرد کے لوگوں سے انیس سو اکہتر کی جنگ کے قصے بڑے سنتی تھی.
    یہ بات تھوڑا شعور ہونے پہ معلوم ہوئ کہ درباری موئرخ دربار کے ساتھ ختم نہیں ہوئے اور دنیا بھر میں تاریخ کو ہر قوم نے اپنے حساب سے ترتیب دینے کی کوشش کی.
    اسکولوں میں ہمیں تاریخ پڑھائ کہاں جاتی ہے. نتیجتآ بہت ساری صحیح یا غلط چیزیں ادھر ادھر سے سن کر ہی علم میں آتی ہیں. اور ہم میں سے چند ایک ہی اسے مختلف کتابوں یا ماخذات سے درست جاننے کی کوشش کرتے ہیں.
    جب ہم اپنی تاریخ کے اہم واقعات کو صحیح سے نہیں جانتے تو ہم ان سے کیا سبق سیکھ سکتے ہیں. ہم اپنی ہر ناکامی کا ذمہ دار بیرونی قوتوں کو ٹہراتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ اس طرح ہم اپنے آپکو کتنا بے وقوف اور دنیاوی معاملات سے کتنا بے بہرہ قرار دیتے ہیں کہ. جسکا دل چاہتا ہے ہمیں بےوقوف بناتا ہے اور ہم بن جاتے ہیں. جو جس طرح چاہتا ہے ہمارے حالات سے کھیلتا ہے اور ہمارے حالات بناتا ہے ہم ویسا ہی کرتے ہیں. تو اس میں دوسروں کا کیا قصور.ہماری یہ ادا کوئ قابل فخر بات نہیں.

    • عنیقہ صاحبہ! آپ کا کہنا درست ہے کہ ہمارے معاشرے میں یہ جو رویہ پایا جاتا ہے کہ ہر واقعہ دوسروں کی سازش ہے اس نے ہمیں بے عملی کی انتہا پر پہنچا دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی اصلاح پر آمادہ نہیں ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ رویہ بھی بالکل درست نہیں ہوگا کہ ہر سازش سے منہ پھیر لیا جائے اور ہر عمل کا ذمہ دار اپنی ذات کو سمجھا جائے۔ ہمیں دونوں رویوں کے درمیان میں چلنا چاہیے۔

  9. عبداللہ says:

    16 دسمبر کا سبق از مسعود اشعر، روزنامہ جنگ 16 دسمبر 2009ء
    (عبد اللہ! میں نے اس تبصرے میں ترمیم کر دی ہے، پورے کے پورے مقالے یہاں چسپاں نہ کیا کریں، صرف ربط اور مختصر تعارف دے دینا کافی ہے۔ نقل شدہ مواد چسپاں کرنے سے آئندہ گریز کریں)

  10. خرم مراد مرحوم صاحب کی کتاب سے جو اقتباس آپ نے نقل کیا ہے اس کے آخری بند سے میں سو فیصد متفق ہوں ۔ بنگلہ دیش بن جانے کے کچھ سال بعد میرے بنگالی دوستوں نے جو بنگلہ دیش کی سرکاری ملازمت میں اعلٰی عہدوں پر تھے یہی نظریہ پیش کیا تھا
    غلام محمد پنجاب کا رہنے والا تو تھا لیکن اُس کے کردار کے ماخذ دو تھے ۔ ایک ۔ آئی سی ایس آفسر ہوتے ہوئے گورا شاہی کا معتقد ہونا ۔ دو ۔ مرزائی جو تاجِ برطانیہ کے نمک خوار تھے
    اردو کو قومی زبان بنانے کی تجویز اے کے فضل الحق صاحب کی سربراہی میں بنگال کے تین رُکنی وفد نے دی تھی ۔البتہ صوبائی زبانیں صوبوں نے خود چننا تھیں جو قائد اعظم کی وفات اور قائد ملت کے قتل کے بعد کھٹائی میں پڑ گیا
    مشرقی پاکستانیوں کے ساتھ ناروا سلوک جن لوگوں نے کیا انہوں نے مغربی پاکستانیوں کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا ۔ اس ٹولے میں کم از کم ایک مشرقی پاکستانی اسکندر مرزا بھی شامل تھا
    عوام کی مناسب تربیت نہ تھی اور حکومت پر ایسے خود غرض لوگ قابض ہو گئے تھے جن کا محبِ وطن ہونا ہی مشکوک تھا
    مشرقی پاکستان کے سانحہ کے تینوں کردار وہی ہیں جن کی آپ نے تصوير لگائی ہے
    ایک بہت اہم حقیقت کا ذکر نہیں کیا گیا کہ جب انتخابات ہونے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت کو پاکستان کی کُل نشستوں میں سے 33 فیصد سے زائد نہ مل سکیں تو اس نے تقریر کرتے ہوئے مجیب الرحمٰن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا "اُدھر تم ۔ اِدھر ہم" اور یہ بھی اعلان کیا تھا کہ "جو رکن اسمبلی مشرقی پاکستان اجلاس میں شرکت کیلئے جائے گا ہم اُس کی ٹانگیں توڑ دیں گے"
    ایک سوال جو میں ایک سے زیادہ بار پوچھ چکا ہوں اُس کا مجھے کوئی جواب نہیں دیتا ۔ 12 دسمبر 1971ء کو اعلان ہوا کہ صدرِ پاکستان یحیٰ خان قوم سے خطاب کریں گے ۔ اس اعلان کی تردید نہیں کی گئی مگر کوئی تقریر نشر نہ کی گئی ۔ 16 دسمبر 1971ء کو جب مشرقی پاکستان پر بھارت کا قبضہ ہو گیا تو صدر یحیٰ خان کی ایک تقریر نشر کی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ ہم خون کے آخری قطرے تک مشرقی پاکستان کا دفاع کریں گے مزید یہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ ہتھیار ڈالنے سے قبل جنرل امیر عبداللہ خان نیازی نے مشرقی پاکستان سے کئی بار ٹیلیفون کیا کہ میری بات صدر جنرل یحیٰ سے کرائی جائے مگر بات نہ کرائی گئی
    میرا سوال ہے کہ 12 دسمبر سے 16 دسمبر 1971ء تک صدر یحیٰ کہاں تھا اور ملک میں کس کا حُکم چل رہا تھا ؟

    عنیقہ ناز صاحبہ کے اس بیان کی تائید کرتے ہوئے مین مزید وضاحت کر دوں کہ بھارتی حکومت نے پاکستان کے حصہ میں آنے والے اثاثوں میں سے آج تک کچھ نہیں دیا ۔ نہ اس سلسلہ مین برطانیہ کے حکمرانوں نے بھارت کو کچھ کہا اور نہ اقوامِ متحدہ کو انصاف کی توفیق ہوئی ۔ سب کے مطالبے صرف پاکستان کے خلاف ہوتے ہیں

    سقوطِ ڈھاکہ پر ہر سال صفحے کالے کئے جاتے ہیں مگر آج تک اس سے کوئی سبق حاصل کرنے کی کوشش نہ ہمارے سیاستدانوں نے کی ہے اور نہ عوام کی اکثریت نے

    • درست فرمایا اجمل صاحب، بھٹو کا یہی رویہ تھا جس کی وجہ سے دہائیوں کی بدگمانیوں کو دھونے کا وقت آیا تو معاملات مزید خراب ہو گئے۔
      میں بھی یہ مضمون لکھتے ہوئے یہی سوچ رہا تھا کہ کیا ہم ہر سال صفحے کالے کرتے رہیں گے اور ان وجوہات کو پیش کرتے رہیں گے اور کوئی سبق حاصل نہ کریں گے؟ لیکن پھر سوچا کہ اگر اس حادثے کو یاد بھی نہ کیائے تو شاید یہ سانحہ بن جائے گا۔

  11. Hasan says:

    jinab e aali zara khuram murad ka apna kirdaar bhee mulahiza kar lain...

    http://img3.imageshack.us/img3/8878/b8c9609532.jpg

    • کمال ہے آپ کو حوالہ بھی روزنامہ پاکستان کا ملا ہے؟ کسی اچھے صحافی سے روزنامہ پاکستان اور روزنامہ خبریں کی ساکھ کا پوچھ لیں، اس انٹرویو کی حقیقت واضح ہو جائے گی۔ باقی جماعت اسلامی کا 1971ء میں کیا کردار تھا؟ اس کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ قائد اعظم کے پاکستان کو بچانے کی آخری کوشش تھی جو ناکام ثابت ہوئی۔ جماعت حالات کا درست ادراک نہ کر سکی اور اس کا خمیازہ اسے 10 ہزار کارکنوں کی جانوں کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ اگر 1971ء میں جماعت کا کردار اتنا ہی گھناؤنا ہوتا تو وہ اسی وقت بنگلہ دیش میں ختم ہو چکی ہوتی لیکن آج بھی قائم ہے اور اپنے میدان میں بھرپور کام کر رہی ہے۔

  12. Hasan says:

    خرم مراد کا تو يہ حال ہے کہ چور مچائے شور- جماعت اسلامی کا خود بڑا کردار ہے بنگلہ ديش ميں حالات خراب کرنے ميں-

    • اچھا حسن صاحب، مجھے بس اتنا بتائیے کہ اگر میں اپنی تحریر میں خرم مراد صاحب کا ذکر نہ کرتا تو آپ کیا رائے رکھتے؟

  13. عبداللہ says:

    اجمل صاحب فرماتے ہیں،
    مشرقی پاکستان کے سانحہ کے تینوں کردار وہی ہیں جن کی آپ نے تصوير لگائی ہے!
    جی نہیں یہ تصویر ابھی نامکمل ہے ایک اور اہم کردار ایوب خان بھی تھا جس نے یہ زہریلا پودا لگایا یا جس سے یہ زہریلا پودا لگوایا گیاجس نے 71 میں اپنا پھل دیا

    • بلاشبہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے محض تین کردار نہ تھے اور اگر وجوہات کا بغور جائزہ لیا جائے تو ابتداء قیام پاکستان کے ساتھ ہی ہو چکی تھی اور اس طرح ابتدائی قائدین بھی دونوں حصوں کے درمیان دوریاں بڑھانے میں شریک رہے لیکن اس امر میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ مشرقی و مغربی پاکستان کے تعلقات کے تابوت میں آخری کیل ان تین رہنماؤں نے ٹھونکی جن کی تصویر یہاں موجود ہے۔
      چلیں تصویر کا ذکر آیا ہے تو ایک بات بتاتا جاؤں، میں نے گزشتہ سال جب 16 دسمبر پر لکھا تو اس کے لیے خود یہ تصویر بنائی تھی۔ اس سال میں نے یہ تصویر روزنامہ نوائے وقت اور وقت چینل کی سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے رپورٹ میں دیکھی ہے 🙂 ۔ بغیر اجازت لیے اور بتائے مواد نقل کر کے قوم کی خدمت کر رہا ہے نوائے وقت!

  14. عبداللہ says:

    حسن بہت خوب!
    یہ حقیقت تو خیر ہم سب کو پتہ ہے کہ مودودی صاحب کے سب سے بڑے نقاد خود ان کے اپنے بیٹے ہی تھے اور یہ انٹرویو صحیح ہے یا غلط اس سے قطع نظر اس میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کی سچائی سے انکار کرنا ناممکن ہے!

    • کمال ہے عبد اللہ، انٹرویو کے صحیح یا غلط ہونے سے "قطع نظر" ہو کر آپ کس بنیاد پر اس انٹرویو کی "سچائیوں" کی خوبیاں کر رہے ہیں؟ ویسے مولانا کے بیٹے کو شاید جماعت میں موروثیت شروع نہ کرنے کا غم تھا 🙂 ۔ خیر یہ ایک الگ بحث ہے۔

  15. اچھا آرٹیکل لکھا ہے مگر ابھی بھی فقط ادھورے سچ کا ذکر جاری ہے ابھی بھی سارا قصور پنجابیوں کا نکالا جا رہا ہے جس میں سب سے سیاہ کردار یحی کا تھا۔

    تین کرداروں میں ایک کا تعلق سندھ سے ایک کا پنجاب سے اور ایک کا بنگلہ دیش سے تھا۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے یحی کا نام تو سیاہ حروف سے لکھا جاتا ہے اور لکھا جانا بھی چاہیے مگر سندھی بھٹو اور بنگالی مجیب کا سیاہ کردار روشن اور ہیرو کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اس پر کب احساس ہوگا ہمیں اور کب لکھا جائے۔

    بنگالیوں کو ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے ان سے زیادہ دنیا کی کوئی قوم مظلوم تھی نہ ہے جب کہ ان کی اپنی حرکات بھی بہت سیاہ تھی اگر ان پر ظلم ہوا تو انہوں نے بھی ظلم کی انتہا کر رکھی تھی اور مظالم کے لیے وہ سب سے زیادہ خود ذمہ دار ہیں۔

    پہلا مارشل لا اسکندر مرزا نے لگوایا ایوب کو بلوا کر ۔ ایوب مرزا پٹھان تھا اور اسکندر مرزا بنگالی اور جس وزیر اعظم کو برطرف کیا گیا وہ پنجابی۔ اصولا تو یہ پنجاب کے ساتھ پٹھان اور بنگالی قوم کی زیادتی تھی مگر کمال خوبی سے یہ پنجاب کے حصہ میں ڈالی جاتی ہے۔ پھر جاتے جاتے ایوب اقتدار یحی کو دے کر گیا ، اس لحاظ سے بھی ایوب کا کردار پاکستان میں سب سے سیاہ ہے۔ پھر مجیب اور بھٹو کی اقتدار کے لیے خونی کشمکش اور دونوں کا انجام ساری دنیا کے سامنے ہیں فقط ہمارے۔

    ایک کو اسی کی قوم نے گولیوں سے بھون ڈالا
    دوسرے کے اسی کی قوم نے پھانسی دے ڈالی۔

    قدرت نے اپنا فیصلہ کر دیا کیا ہم بھی اس فیصلے کو سمجھ پائیں گے۔

    • بہت شکریہ محب بھائی، اس حوالے سے تحریر میں کمی پوری کرنے کا۔ اصل میں جب کسی خاص موضوع پر لکھا جاتا ہے اور خصوصاً ایسے موضوع پر جس پر کتابیں بھی حق ادا نہ کر پائیں تو اس مضمون کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ بس اس بات کو یاد رکھیے کہ "تالی کبھی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی" لیکن اس کے باوجود اگر آپ مشرقی و مغربی پاکستان کے ربع صدی کے تعلقات کو دیکھیے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ بنیادی طور پر مسئلہ مغربی پاکستان کی افسر شاہی اور فوج تھی۔ باقی اس میں کئی لوگوں کے نام آتے ہیں خصوصاً اس حوالے سے بھٹو کے کردار کو نمایاں کر کے دکھانے کی بہت زیادہ ضرورت ہے اور اس پر لکھا بھی بہت کم گیا ہے۔ مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے میں ایک بڑا اور اہم کردار بھٹو کی اقتدار کی بھوک تھی اور اسی وجہ سے "ادھر تم، ادھر ہم" کا نعرہ بھی لگایا۔ وجہ صرف یہی تھی کہ کہیں اقتدار مجیب کو نہ مل جائے۔ یہاں میرا مقصد کسی بھی نسلی یا لسانی اکائی کے دامن میں تمام برائیاں ڈالنا نہیں تھا فقط اس کے اصل قصور وار عناصر کو سامنے لانا تھا جو میرے خیال میں اب سب کے سامنے ہیں۔

  16. حافظ سلمان زاہؔد says:

    "مشرقی پاکستان کو پاکستان کے حکمران ایک چوتھائی صدی تک بھی پاکستان کاحصہ نہیں رکھ سکیں گے. اور وہ الگ ہو جائے گا."
    ابو الکلام آزاد نے پاکستان بننے سے پہلے ان خیالات کا اظہار کیا.
    پاکستان کے بانیان نے ابولکلام آزادکی اس بات پر توجہ کیوں نہیں دی؟
    کیا اس کی وجہ صرف یہ ہی تھی کہ ابولکلام آزاد کا تعلق کانگریس سے تھا.

  17. Mudassar says:

    Bohat khoobsurat tehreer oor us say be umda tabsaray , Allah humein Apni galtiyon say kuch seekhnay ki toufeeq dey , amen !

  18. ع. شاہ says:

    بہت بڑا سوال یہ ہے کہ آیا، آغا یحی خان پنجابی تها؟

  1. December 16, 2010

    [...] This post was mentioned on Twitter by Adeel Ayub, Rai M. Azlan Shahid and Abu Shamil, Abu Shamil. Abu Shamil said: سقوط مشرقی پاکستان پر میری گزشتہ سال کی تحریر http://www.abushamil.com/fall-of-east-pakistan/ [...]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *