الیگزینڈر پشکن کا شاہکار "اشک ریز فوارہ"

ادب خصوصاً شاعری میں ایسی طاقت ہے کہ جو کسی شخصیت یا مقام کو بھی لازوال حیثیت دے سکتی ہے۔ اگر علامہ اقبال کی 'مسجد قرطبہ' نہ ہوتی تو شاید برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں میں سرزمین ہسپانیہ کی اس مسجد کے لیے وہ عقیدت نہ ہوتی جو اب موجود ہے۔ ہسپانیہ جانے والے بیشتر پاکستانی سیاح صرف مسجد قرطبہ دیکھنے کے لیے اتنا طویل سفر کرتے ہیں اور پھر وہاں جا کر ان اشعار کی نگاہ سے 'حرم قرطبہ' کو دیکھتے ہیں۔ بالکل اسی طرح روس کے مشہور شاعر الیگزینڈر پشکن نے خانان کریمیا کے دارالحکومت باغچہ سرائے کے ایک معمولی سے فوارے کو وہ لازوال حیثیت بخشی، جس کی بدولت یہ مقام آج بھی مرجع خلائق بنا ہوا ہے۔ باغچہ سرائے کے قدیم محل میں واقع "اشک ریز فوارہ"(Fountain of Tears) جس سے وابستہ رومانوی داستان آج بھی لاکھوں روسیوں کو جوق در جوق سرزمین کریمیا کی جانب کھینچتی ہے۔

کریمیا کے شہر باغچہ سرائے کا مشہور فوارہ جسے پشکن نے لازوال حیثیت دی

کریمیا کے شہر باغچہ سرائے کا مشہور فوارہ جسے پشکن نے لازوال حیثیت دی

میں گزشتہ چند سال سے سعودی/امریکی جریدے سعودی ارامکو ورلڈ کا مستقل قاری ہوں۔ اس رسالے کا مقصد سعودی عرب کی قومی تیل کمپنی سعودی ارامکو کے غیر ملکی ملازمین کو مقامی و مسلم ثقافت سے آگہی فراہم کرنا ہے۔ اس دو ماہی جریدے کی مارچ/اپریل 2012ء شمارے میں ایک اشک ریز فوارے کے حوالے سے معلوماتی مضمون شایع ہوا جس کے مصنف اعزاز یافتہ اسکرین رائٹر اور اشاعتی و ریڈیو اداروں سے وابستہ رہنے والے اعزاز یافتہ صحافی شیلڈن چاڈ ہیں۔ مونٹریال، کینیڈا سے تعلق رکھنے والے چاڈ مشرق وسطیٰ، مغربی افریقہ، روس اور مشرقی ایشیا میں کافی سیاحت کر چکے ہیں۔ اکتوبر میں وہ رہوڈس میں ہونے والی "تہذیبوں کے مکالمے" میں خصوصی مقرر تھے۔

میں نے اس مضمون کا ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے، اس سے پہلے میں 'زنجبار: لونگ کی سرزمین' نامی مضمون ترجمہ کر کے شایع کیا تھا۔ امید ہے کہ یہ مضمون بھی قارئین کی معلومات میں اضافے کا سبب بنے گا:

جزیرہ نما کریمیا بحیرۂ اسود میں اپنے محل وقوع کے اعتبار سے صدیوں سے بہت اہمیت کا حامل ہے، اور اس علاقے میں روس کی دلچسپی پر، پیٹر اعظم کےعہد سےاب تک، کئی کتب لکھی جا چکی ہیں۔ لیکن روس کی روح میں کریمیا کی تڑپ کا حقیقی اظہار شاعری کے معمولی کلام سے ہو سکتا ہے : الیگزینڈر پشکن کی 1824ء کی " باغچہ سرائے کا فوارہ" سے۔ یہ خانان کریمیا کی 500 سال قدیم محل سے وابستہ ایک رومانوی داستان کا بیان ہے – جو آج یورپ میں اسلامی طرز تعمیر کے بچ جانے والے محض تین نمونوں میں سے ایک ہے – اور مقامی افراد میں وطن کی محبت کا سرچشمہ بھی۔

پشکن کو روسی ادب کا بانی اور ملک کا عظیم ترین شاعر تسلیم کیا جاتا ہے۔ " باغچہ سرائے کا فوارہ" نہ صرف ان کی مقبول ترین نظموں میں سے ایک ہے، بلکہ اسے 'روسی الف لیلیٰ' بھی کہا جا سکتا ہے: 3500 الفاظ کی یہ نظم محل کے معمار خانان کریمیا کی دنیا کو ایک مرتبہ پھر زندہ کرتی ہے۔

یہ نظم کہانی ہے ایک زندہ دل فاتح اور ایک قیدی کنیز کی، جسے حرم کی کینہ پرور ملکہ نے قتل کیا۔ یہ نظم روسی عوام کے دلوں میں کیا درجہ رکھتی ہے؟ اس کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ محض پشکن کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ہر سال ڈھائی لاکھ سے زائد افراد روس کے چپے چپے سے اس محل کی سیر کے لیے آتے ہیں خصوصاً شاعر کے 'اہم کردار' یعنی اشک ریز فوارے کا نظارہ کرنے کے لیے، جس نے پشکن کو دنیا بھر ادب میں لازوال محبت کی زبردست علامات میں سے ایک بنا دیا ہے۔

لیکن مقامی عجائب گھر کے ڈائریکٹر یعقوب اپازوف کہتے ہیں کہ 800 سال پرانی خانان کریمیا کی سلطنت کے آل کے لیے باغچہ سرائے کی حیثیت اس معمولی سے چشمے سے کہیں زیادہ ہے۔ "یہ محل ملت کا قلب ہے، اور باغچہ سرائے اس کا مکمل اثاثہ ہے۔" محل کے باہر لگی تختی پر "خانان کریمیا کا باغچہ سرائے محل" یوکرینی اور روسی ہی میں نہیں بلکہ کریمیائی تاتار زبان میں بھی تحریر ہے۔

زمانہ قدیم سے جزیرہ نما پر وارد ہونے والی تہذیبوں نے کریمیا میں اپنے پیشروؤں کی علامات کو مٹانے کی کوشش کیں۔ فوارے اور محل کی قسمت میں بھی تقریباً یہی لکھا تھا۔ لیکن "اشک ریز فوارے" کی اس کہانی کی بدولت یہ دونوں آج بھی قائم ہیں، اس نظم نے نہ صرف روسی عوام، بلکہ زار، عظیم ملکہ اور کمیونسٹ پارٹی کے پہلے جنرل سیکرٹری کو بھی اپنی جانب راغب کیا۔ اگر پشکن کا یہ شاعرانہ شاہکار نہ ہوتا، تو شاید آج یہ محل بھی نہ ہوتا۔

16 ویں سے 18 ویں صدی کے اواخر تک باغچہ سرائے خانان کریمیا کی ریاست کا دارالحکومت تھا، وہ ریاست جو 1438ء میں آلتن اوردہ یعنی سنہری لشکر (انگریزی: Goldern Horde) کی ریاست سے الگ ہوئی۔ سنہری لشکر کی یہ ریاست منگول و ترک قبیلوں کا اتحاد تھی جو بحر الکاہل سے دریائے وولگا تک پھیلی ہوئی تھی۔ خانان کریمیا بحیرۂ اسود سے قزوین-وولگا خطے تک پھیلی تھی، اور ایک زبردست قوت تھی، اس کے بادشاہ چنگیز خان کی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ اس خاندان کے بانی مانلی گیرائے نے "دو براعظموں کے شہنشاہ اور خانِ خانانِ بحرین" کا لقب اختیار کیا۔ 250 سالوں سے زائد عرصے، 1532ء سے 1784ء تک باغچہ سرائے محل گیرائے خاندان کے 48 خانان کی قیام گاہ رہا۔

لیکن اب باغچہ سرائے میں خانان کی شہنشاہی کو 235 سال بیت چکے ہیں، محل کو روسیا لیا گیا ہے، بیرونی نظارہ اب "ایشیائی بروق" طرز تعمیر کا ہے۔ کریمیائی تاتار تاریخ سے وابستہ اور محل کی سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر اولکسا ہیوورونسکی کا تسلیم کرنا ہے کہ "اب محل اپنی اصلی تعمیری صورت سے کہیں زیادہ مختلف ہے۔" مزید برآں 1736ء کے روسی حملے میں محل کی تاریخی دستاویز تباہ ہو گئی تھیں، جس کے بعد سے ہم خانان اور محل کے دیگر باسیوں کی روز مرہ کی زندگی کے بارے میں معلومات اور اُس عہد کے بارے میں دستاویزات سے محروم ہے۔

یہی پس منظر باغچہ سرائے کے بارے میں روایتی تاریخ کے بجائے داستان گوئی و شاعری کے لیے بہتر مقام بناتا ہے۔

فوارے کے گرد انگریزی حرف L کی شکل کا آنگن ہے۔ اس کا ناہموار فرش صدیوں تک پڑنے والے کروڑوں قدموں سے چکنا ہو چکا ہے۔ یہ سایہ دار و ٹھنڈی جگہ ہے، البتہ باغ حرم کی جانب کھلنے والے دروازے سے کسی حد تک دھوپ ضرور آتی ہے۔

اشک ریز فوارے کونے میں نصب ہے، جس کے ساتھ پشکن کا ایک مجسمہ لگا ہے۔ پشکن نے 1820ء میں پہلی بار یہ فوارہ دیکھا تو اپنے دوست کو بتایا کہ کہ ایک ٹوٹے فوارے کے زنگ زدہ لوہے کے پائپ سے پانی قطرہ بہ قطرہ گرتا ہے لیکن بعد ازاں جب اس نے فوارے کو دیکھا تو اسے لگا کہ گویا یہ ایک تنہا آنکھ ہے اور یہ خیال آتے ہی ایک شاعرانہ کوند اس کے دماغ میں لپک گئی۔ 1821ء سے 1824ء تک اس نے اس نظم پر کام کیا، جو مارچ 1824ء میں شایع ہوئی۔ یہ اپنے وقت میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی نظم تھی۔ بعد ازاں 1826ء میں پشکن نے ایک مختصر و اضطراری نظم بھی شایع کی جس کا عنوان تھا "فوارۂ باغچہ سرائے کے محل کی جانب"۔

اگر صاف صاف کہا جائے تو 1820ء کا پشکن کا پہلا تاثر گو کہ خفیف اور معمولی سا تھا لیکن اب بھی کسی حد تک درست ہے۔ جیسا کہ امریکہ کے ایک سیاح میٹ براؤن نے فوارہ دیکھنے کے بعد کہا کہ "یہاں آنے سے قبل، میں نے لونلی پلانٹ پر پڑھا تھا کہ ایک روتا ہوافوارہ ہے۔ یہ پڑھ کو تو آپ توقع رکھتے ہیں کہ محل میں داخل ہوں گےاور ایک شاندار عمارت دیکھنے کو ملے گی لیکن یہاں ملنے والا نظارہ تو بہت ہی مایوس کن ہے۔"

مشہور عالم فوارہ اور پشکن کا مجسمہ

مشہور عالم فوارہ اور پشکن کا مجسمہ

لیکن روسی اس سے اتفاق نہیں کرتے: پشکن کے شاعرانہ شاہکار پڑھنے اور اس سے متاثر ہونے کا نتیجہ ان طویل قطاروں کی صورت میں نکلتا ہے جو بظاہر ایک حقیر سے فوارے کو عظمت کی نگاہ سے اور دلی تمناؤں و جذبات کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ چند لوگ لرزتے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ، اس پر سفید گلاب رکھتے ہیں، جو پشکن کی دوسری نظم کے چند اشعار کی جانب اشارہ ہیں۔

ماسکو کی فیشن ڈیزائنر لدمیلا نوسویان سال میں ایک حتیٰ کہ کبھی کبھار دو مرتبہ بھی اس فوارے کا دورہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ انہیں بچپن میں پہلی بار پشکن کو سننا آج بھی یاد ہے۔ "یہ ایک جادوئی دنیا کی کہانی ہےجس کا [سائبیریامیں] اورین برگ کی سطح مرتفع کی حقیقت سے کچھ لینادینا نہیں۔ جادوئی لوگ، حیرت انگیز و خوبصورت لباس – اور ایک خوابناک داستان۔"

انہوں نے بمشکل اس امر کو تسلیم کیا کہ فوارہ بظاہر واجبی صورت کا ہے۔ "گو کہ حقیقت بہت ہیجان خیزنہیں، لیکن یہ اس صورت میں بھی خوابوں کو برقرار رکھتا ہے۔ یہاںمیں کئی مرتبہ سحر زدہ ہوئی ہیں۔ میں نے فوارہ دیکھا، زریما، ماریہ اور گیرائے کو دیکھا۔ یہ محبت کی ایک لازوال داستان ہے۔"

کہانی میں پشکن بتاتا ہے کہ محل بہت پہلے "قوم کے ایک صاحبِ اختیار" شخص کی رہائش گاہ تھا، ایک خان جس کو پشکن نے صرف گیرائے کا نام دیا ہے۔ محل کے اندر حرم تھا، جہاں صرف گیرائےکو داخل ہونے کی اجازت تھی۔ یہاں زریما "حرم کی ملکہ اور محبت کا درخشندہ ستارہ تھی"—یہاں تک کہ ماریہ کی آمد ہوئی "ایک یتیم شہزادی جسے پولینڈ کے ایک قلعے سے زبردستی اٹھا لایا گیا تھا" ۔ گیرائے دل ہی دل میں حسین ماریہ کی محبت میں گرفتار ہو گیا، لیکن اس کی محبت یکطرفہ تھی۔ ماریہ ایک شرمیلی، تنہائی پسند، گرفتاری کے باعث پریشان اور عفت مآب لڑکی تھی۔ اس نے بھرپور مزاحمت کی لیکن وہ خود کو زریما سے نہ بچا سکی جس نے چپکے سے ماریہ کے کمرے میں داخل ہو کر اسے قتل کر دیا۔ گیرائے اس جرم کا عینی شاہد تھا، لیکن اس نے زریما کو چھوڑ دیا۔ اس رات وہ بھی مر گئی۔ گیرائے نے ماریہ کی یاد میں ایک فوارہ بنوایا جس سے ہر وقت اشک بہتے رہتے۔

محل کے نوجوان نائب تاریخ دان ایمل امیتوف کہتے ہیں کہ آج لوگ جس فوارے کو انسانی آنکھوں سے بہنے والے اشکوں کی صورت میں دیکھتے ہیں، جو پہلے ایک بڑے طاس میں جمع ہوتا ہے، جو ایک"ٹوٹا ہوا دل" ہے اور پھر دو نسبتا چھوٹے طاسوں میں،یوں آہ و زاری سے دل کو ملنے والے سکون کی عکاسی کرتا ہے – لیکن پھر جیسے ہی یادیں دل میں اٹھنے لگتی ہیں، آنسوؤں کا ذخیرہ پھر اکٹھا ہو جاتا ہے اور دل اس درد لادوا اور پیہم محبت سے شکستہ سے پھر رونے لگتا ہے۔

پشکن کی اس شاندار نظم کے بارے میں ہیوورونسکی کہتے ہیں کہ "اس لوک کہانی کے بارے میں درحقیقت ہم یہ نہیں جانتے کہ اس میں کتنی سچائی ہے کیونکہ جس عورت کی محبت میں خان گرفتار ہوا تھا یعنی دل آرا بیکچ، ہم اس کے بارےمیں کچھ نہیں جانتے۔"

بیشتر تاریخ دانوں کا ماننا ہے کہ اشک ریز فوارے کا اصل مقام 1764ء میں خان قرم گیرائے کی جانب سے قائم کردہ محل کے اوپر پہاڑی میں قائم ہشت پہلو مزار کا ایک جھروکہ تھا۔ مزار میں صرف ایک عورت کانام کندہ تھا: دل آرا بیکچ۔

باغچہ سرائے میں پیدا ہونے والے پولش یوکرینی ہیوورونسکی اپنے چائے کے پیالے سے تیسری چسکی لیتے ہوئے کہا کہ "کوئی ثبوت نہیں، صرف اندازہ ہے: ایک خان کی محبت بھی کسی عورت کو مزار میں دفنانے کی بنیاد نہیں بن سکتی ہاں اگر وہ ولی ہو۔"

ہم اس کی حقیقی وجوہات کے بارے میں نہیں جان سکے کیونکہ ہم دل آرا بیکچ کو علاقے میں مسجدوں کے لیے عطیات دینے والی شخصیت کے طور پر جانتے ہیں۔ باغچہ سرائے کی ایک مسجد، بنام سبز مسجد، پر ان کا نام کندہ تھا۔ ہمیں معلوم ہے کہ کریمیائی دربار میں امیر عورتوں کی جانب سے مساجد بنوانے کی روایت تھی۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ خان کی محبت ان کو اس طرح خصوصی اعزاز کے ساتھ مزار میں دفنانے کی وجہ نہ ہو۔ بدقسمتی سے، اس وقت ہمارے پاس کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ہے جو یہ دریافت کرنے میں مدد دے سکے کہ یہ خاتون کون تھیں؟"

پشکن ہی کے زمانے میں باغچہ سرائے کا سفر کرنے والے سیاح مراویف-اپوستول نے مزار کے بارے میں لکھا ہے کہ"حیرتناک بات یہ ہے کہ یہاں تمام لوگ اس بات کو حقیقت مانتے ہیں کہ یہ خوبصورت عورت گرجستانی (جارجیائی) نہیں بلکہ ایک پولینڈ سے تعلق رکھنے والی (پولش) لڑکی تھی، جسے مبینہ طور پر قرم گیرائے نے اغوا کیا تھا۔ البتہ میں نے ان سے جتنی بحث کی، تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود کہ روایتی کہانی کی کوئی تاریخی بنیاد نہیں ہے، اور اٹھارہویں صدی کے وسط میں تاتاروں کے لیے یہ آسان نہیں تھا کہ کسی پول کو اغوا کریں، لیکن میرے تمام تر دلائل لاحاصل رہے۔ ان کی ایک ہی تکرار تھی: وہ حسین لڑکی ماریہ پوتوکا تھی۔"

ایک تاریخی ماریہ پوتوکا کا وجود ضرور ہو سکتا ہے، پولینڈ کی ایک عالی مرتبت عورت جسے کریمیائی تاتاروں کے حملے میں اغوا کیا گیا اور خان کے حرم میں رکھا گیا، اور بالآخر وہ اس کی بیوی بنی۔ لیکن یہ کسی اور وقت کی داستان ہے: اس کا پہلا حوالہ کریمیائی مؤرخ سید محمد رضا کی تحاریر میں ملتا ہے۔ ان کے مطابق خان فاتح ثانی گیرائے (جنہوں نے 1736ء سے 1737ء تک حکومت کی) کو گرفتار شدہ لڑکی دی گئی – جنہیں سونے کی صورت میں تاوان ادا کرنے پر اہل خانہ کو واپس کر دیا گیا۔ جبکہ فوارہ 1764ء میں تعمیر کیا گیا، تسلیم شدہ تاریخی بات یہ ہے کہ یہ دل آرا بیکچ کی یاد میں بنایا گیا، جو نوجوانی کے ایام میں مرنے والی ایک گرجستانی لڑکی تھی۔ دل آرا ترک زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب "محبوبہ" ہے اور بیکچ کا نام عموماً حرم کی کنیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

داستان مزید آگے بڑھتی ہے، فوارے کی تنصیب کے 20 سال بعد جب اس کو بنانے والا "آخری خان" بھی چل بسا تو ملکہ روس کیتھرائن اعظم باغچہ سرائے آتی ہیں۔ 1787ء میں اپنے دورے کے بارے میں ملکہ کے الفاظ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ روس کے رومانی تخیل پر اس محل کا کتنا گہرا اثر تھا۔

ترک-روس جنگوں میں سلطنت عثمانیہ پر غلبہ پانے کے بعد باغچہ سرائے ملکہ کیتھرائن کے آٹھ ماہ کے دورۂ کریمیا کا آخری پڑاؤ تھا ، ان جنگوں کا خاتمہ 1774ء میں ہوا تھا، جبکہ کریمیا پر 1783ء میں روس نے خود قبضہ کیا تھا۔ (واضح رہے کہ کریمیا کو ترک-روس جنگ کے بعد معاہدے کی رو سے آزادی مل گئی تھی لیکن روس، جس کے حواس پر کریمیا پر سوار تھا، نے حیلے بہانوں کے بعد بالآخر اس پر قبضہ کر ہی لیا:مترجم)۔ دورۂ باغچہ سرائے کا ایک قابل دید منظر یہ تھا کہ تاتار رسالے کے 12 ہزار شہ سوار، شاندار ملبوسات اور مکمل اسلحے کے ساتھ کیتھرائن کی حفاظت پر تعینات تھے، سلامی وصول کرنے کے بعد وہ 2300 سپاہیوں کے جلو میں خانان کریمیا کے محل میں جلوہ گر ہوئیں۔

اس دورے کے روح رواں شہزادہ گریگری پوتمکن تھے، جو روس کے طاقتور ترین سیاست دان اور کیتھرائن کے قریبی ساتھی تھے، جنہوں نے اس محل کی مکمل تزئین و آرائش و بحالی نو کے احکامات جاری کیے، اور ان کا ہدف تھا "روسی الحمرا" بنانا۔

وہ کیتھرائن کو متاثر کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ باغچہ سرائے سے ملکہ عالیہ نے پوتمکن کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے محل میں اپنے قیام کو شاعرانہ انداز میں بیان کیا۔

الیگزینڈر پشکن، فوارے کے ساتھ۔ مصور گریگری چرنتسوف کا فن پارہ

الیگزینڈر پشکن، فوارے کے ساتھ۔ مصور گریگری چرنتسوف کا فن پارہ

کیتھرائن نے باغچہ سرائے میں تین روز قیام کیا۔ پوتمکن نے فوارے کو اپنی اصل جگہ سے محل میں منتقل کروایا، جسے 37 سال بعد پشکن نے امر کر دیا۔ پوتمکن کا مقصد اس یادگار کو ملکہ کی رہائش گاہ کے قریب ترین کروانا تھا۔

ان میں سے کئی دیواریں، سوائے محل کے سب سے پرانے اور محفوظ شدہ حصے کے، دوبارہ بنائی گئی ہیں۔ 1820ء میں جب پشکن یہاں آئے تھے تو وہ تباہی سے دوچار محل کی حالت زار سے بے پروائی اور چند کمروں میں یورپی طرز کی تعمیر نو پر بہت افسردہ ہوئے تھے۔

اس کا الزام کسی حد تک پوتمکن پر بھی لگایا جا سکتا ہے جس نے ماہر تعمیرات جوزف دی ریباس کی خدمات حاصل کی تھیں، جو اسلامی طرز تعمیرات یا تعمیراتی اصولوں سے چنداں واقفیت نہ رکھتا تھا جن کی بنیاد پر وہ تعمیر نو و بحالی کا کام کرتا۔ ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ کسی طرح ملکہ کو متاثر کریں کہ یہ مقام ملکہ کے یورپی مزاج اور شاہی توقعات پر پورا اترے، اس لیے انہوں نے ایشیائی اور یورپی انداز کا عجیب و غریب ملاپ ترتیب دے دیا – جو ہرجگہ کامیابی سے کیا بھی نہیں کیاگیا۔

محل میں اس وقت مزید تبدیلیاں لائی گئیں جب اگلے زار یا زارینہ نے یہاں کا دورہ کیا۔ ان کی آمد اس محل کی کئی عمارات کی مسماری تک کا باعث بنی: صرف 1820ء کی دہائی میں حرم کی مختلف عمارات، موسم سرما کا محل، ایک بڑا حمام اور محل کے دیگر حصے ختم کر دیے گئے۔ آنے والی دہائیوں میں 44 ایکڑ کے رقبے سے سکڑ کر صرف 10 ایکڑ رہ گیا۔

البتہ پشکن کا اثر فوری اور کم از کم تعمیراتی طور پر محل کے حق میں رحمت ثابت ہوا۔ جبکہ " باغچہ سرائے کے فوارے" کو اسلامی دنیا کے ایک معروف و رومانوی رُخ کے طور پر پیش کیا گیا، جس نے تعمیراتی ماہرین، فن کاروں حتیٰ کہ زاروں کی جانب سے بھی محل کی اصلی بناوٹ میں تبدیلی کی آرا کو بدل ڈالا۔

پشکن کے دورے کے ایک سال کے اندر اندر لکھاریوں کے ایک وفد نے محل کا دورہ کیا اور چند نے تو ڈرامہ بھی پیش کیا۔ کریمیائی نظموں کے لیے معروف پولینڈ کے شاعر ایدم مکی وچ بھی باغچہ سرائے کے بارے میں بولنے والوں میں شامل تھے۔ لیکن یہ پشکن کی نظم تھی جس نے اس محل کو مکمل تباہی سے بچا لیا۔

1944ء میں دوسری جنگ عظیم کے دوران چند تاتاریوں کی جانب سے نازی جرمنی کا ساتھ دینے کے "جرم" میں سوویت حکومت نے تمام کریمائی باشندوں کو ازبکستان اور وسط ایشیا کے دیگر علاقوں کو جبراً منتقل کر دیا۔ بے دخل کیے گئے 40 فیصد افراد دو سالوں کے اندر اندر مصیبتوں اور صعوبتوں کو نہ جھیل کر چل بسے۔ (اس جبری ہجرت کی مکمل تفصیل میرے ان پرانے بلاگز (پہلی قسط، دوسری قسط) پر پڑھیے: مترجم)۔

اس کے بعد کریمیائی تاتاریوں کی "نسلی صفائی" کا دور آ گیا، جس میں جزیرہ نما کریمیا پر تاتاریوں کے تاریخی و لسانی اثرات کو کھرچ کر مٹا دیا گیا۔ دیہاتوں، قصبات اور شہریوں کے کریمیائی تاتاری اور ترک نام ختم کر کے انہیں روسی نام دیے گئے۔ مسلم قبرستانوں اور مساجد کو تباہ کر دیا گیا۔ سوویت حکومت نے باغچہ سرائے محل کو "پشکنسک" یا "سادوسک" کا نام دینے کی تجویز دی۔ جنگ کے بعد کے سالوں میں محل کے عجائب گھر کے کی ڈائریکٹر ماریہ یستارا کے مطابق اُس وقت ماسکو میں محل کو مسمار کر دینے کے منصوبے بھی تھے۔

خوش قسمتی سے بورس اسفایف کا " باغچہ سرائے فوارہ" نامی بیلے پہلی بار منظر عام پر آیا، اس نے بڑے سوویت شہروں کا دورہ کیا تھا اور زبردست داد و تحسین سمیٹی اور سب سے اہم یہ ہے کہ اس کے چاہنے والوں میں کوئی اور نہیں بلکہ سوویت رہنما جوزف استالن بھی موجود تھے، جن کا یہ پسندیدہ ترین بیلے تھا۔ خود پشکن بھی سوویت حکومت کی پسندیدہ افراد کی فہرست میں شامل تھا، اور 1937ء میں سرکاری اخبار پرافدا (Pravda) نے شاعر کی سوویں برسی پر "ہمارے اپنے شاعر" قرار دیا تھا۔

یہ کہنا ہر گز مبالغہ نہ ہوگا کہ پشکن کے تصور و تخیل ہی نے نہ صرف محل اور فوارے کو زندگی بخشی بلکہ اسے ایک مقدس مقام بنا دیا، جس کا نہ صرف نام نہیں بدلا گیا بلکہ اس کی عمارات سوویت عہد میں بھی دست برد سے بچی رہیں۔

آج خانان کا یہ محل، اپنی مساجد، قبرستانوں اور دیگر عمارات کے ساتھ قائم و دائم ہے، اور خانان کریمیا کے کے عہد کے تاتاری طرز تعمیر کی واحد بڑی یادگار کے طور پر موجود ہے۔ ہیرونسکی کہتے ہیں کہ "محل اب بھی اپنے ماضی کو یاد کرتا ہے، کہ کبھی یہ ایک جنت تھا، اگر آپ یہاں آئیں تو پہلے اپنی تاریخ کے بارے میں جانیے اور اپنے پشکن کو بھی ساتھ لائیے۔"

اشک ریز فوارے کے اوپر سنہری رنگوں میں سورۂ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 76 کندہ ہے { عَيْنًا فِيهَا تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا } ترجمہ: یہ جنت کا ایک چشمہ ہوگا، جسے سلسبیل کہا جاتا ہے۔

اس آیۂ قرآنی کے علاوہ دیگر بھی چند کلمات درج ہیں جن میں خان قرم گیرائے کی مدح سرائی ہے جنہوں نے 1764ء میں ایرانی ماہر تعمیرات عمر کو اس فوارے کی تعمیر کا حکم دیا تھا۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

18 تبصرے

  1. بہت اعلٰی فہد بھائی مزہ آگیا

  2. ساقب says:

    ویلكم بیك ٹو یور بلاگ 🙂

  3. بہت خوب جناب۔

  4. فیصل says:

    بہت خوبصورت جناب، مزہ آ گیا کہ کسی کونے کھدرے میں پڑی یاسیت جاگ پڑی۔ ایسا احساس شفیق الرحمان کے افسانے پڑھ کر یا مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی، ساری دنیا میں پھیلی یادگاروں کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ ہسپانیہ، ترکی، وسطی ایشیاء کا کوئی سیاحتی یا معلوماتی ٹی وی پروگرام دیکھ کر ایک عجب سی ٹیس اٹھتی ہے۔ شاید قنوطیت اسے ہی کہتے ہیں۔ کبھی پشاور جانا ہو تو اندرون شہر کی گلیوں میں کچھ کچھ ایسا ہی ماحول ملے گا آپکو۔ اور نہیں تو یہ تصاویر دیکھ لیجئے۔ گویا بخارا و سمرقند نہیں ،کوئٹہ یا پشین کا کوئی دیہات ہے، کمال یہ کہ رنگوں نے ماضی کو یوں میرے منہ پر دے مارا ہے جو بلیک اینڈ وائٹ تصاویر کے دور از رفتہ کے مقابلے میں بہت زندہ ہے:
    http://www.boston.com/bigpicture/2010/08/russia_in_color_a_century_ago.html

    • ابوشامل says:

      فیصل بھائی کیا شاندار تصاویر شیئر کی ہیں آپ نے۔ خصوصاً داغستان کی تصاویر دیکھ کر تو سب سے پہلے ذہن میں صوبہ سرحد ہی آ رہا ہے۔ اس کا بہت بہت شکریہ۔ اب اس احسان کے جواب میں مجھے بھی آپ پر کوئی احسان کرنا پڑے گا۔ تو یہ لیجیے، سن1880ء سے1900ء کےدرمیان سلطان عبدالحمید ثانی کے عہد میں سلطنت عثمانیہ کے کئی علاقوں کی یادگار تصاویر، جو اب امریکہ کی لائبریری آف کانگریس کا حصہ ہیں۔ سب بلیک اینڈ وائٹ ہیں اور میرے لیے ان کی سب سے خاص بات یہ کہ بیشتر تصاویر پر ’عثمانی ترک‘ زبان میں کیپشن بھی لکھے ہیں یعنی کہ ترکی زبان عربی رسم الخط میں (جسے بعد میں اتاترک نے رومن رسم الخط میں تبدیل کیا تھا)۔ یہ تصاویر دیکھیں اور دعائیں دیں 🙂
      http://www.loc.gov/pictures/related/?fi=name&q=Abd%C3%BClhamid%20II%2C%20Sultan%20of%20the%20Turks%2C%201842-1918

      • فیصل says:

        بہت خوبصورت جناب، یہاں تو خزانہ چھپا ہوا ہے۔ گرچہ رنگین تصاویر ہوتیں تو کیا بات تھی، کہ وقت ٹھہر سا جاتا ہے پرانی رنگین تصاویر کو دیکھ کر۔ وقت کی بےوفائی کا احساس شدید تر ہو جاتا ہے۔ کبھی یہ لوگ بھی زندہ تھے، چلتے پھرتے تھے، بلیک اینڈ وائٹ نہیں رنگین دنیا میں رہتے تھے 🙂
        بہرحال بہت شکریہ، لنک محفوظ کر لیا ہے، سکون سے دیکھنے کی چیز ہے آخر۔

  5. زین says:

    بہت اعلیٰ ۔۔۔:)

  6. فیصل says:

    ویسے گورسکی کا کچھ کام یہاں بھی ہے، مسلم علاقوں والی تصاویر دیکھنے لائق ہیں:
    http://www.gridenko.com/pg
    اور ماضی کیا کچھ تصاویر یہاں بھی، گرچہ معیار میں گورسکی کا مقابلہ نہیں کرتیں:
    http://citynoise.org/article/10598

    • ابوشامل says:

      بہت شکریہ فیصل بھائی، ابھی دیکھتا ہوں

    • ابوشامل says:

      بہت ہی کمال کی تصویریں تھیں یہ بھی۔ تاریخ میں ہم صرف بڑی شخصیات کا مطالعہ کرتے ہیں لیکن یہ تصاویر عام لوگوں اور ان کی زندگی کو ظاہر کر رہی ہیں جو تاریخ کا بالکل نیا زاویہ نظر ہے۔ بہت شکریہ ان لنکس کو شیئر کرنے کا۔

  7. میر چند اوڈ says:

    بہت ہی زبردست

  8. عبدالخالق بٹ says:

    السلام علیکم
    مضمون تاخیر سے پڑھا تو احساس ہوا کہ میں اتنے دنوں تک ایک ناقابل حد تک خوبصورت مضمون پڑھنے اور اس دوران تشکیل پاجانے والی تصوراتی دنیا سے محروم رہا ۔سچ فہد بھائی میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔مضمون اتنا شاندار ہے۔

    • ابوشامل says:

      شکریہ محترم،
      آپ کی پسندیدگی سے اس پر ہونے والی محنت وصول ہوگئی۔ جس دوسرے مضمون کے بارے میں بات کی تھی وہ بھی تقریباً مکمل ہے۔ بس ایک دو روز میں پیش کر دوں گا۔

  9. پتا نہیں کہاں سے کہاں نکلتا ہوا آپکے اس مضمون تک آ پہنچا۔ پڑھا اور احساس ہوا کہ یہ تو وہ تاریخ ہے جس کا مجھے بالکل بھی علم نہیں۔ الیگزینڈر پشکن کا بس اتنا پتا ہے کہ حال ہی میں جب میں وائمر، جرمنی ایک ٹور پہ گیا تو وہاں ایک باغ میں پشکن کا مجسمہ لگا ہوا تھا۔ میں نے شوق میں اس کی ایک تصویر کھینچی تو ہماری جرمن گائیڈ بولی کہ یہ روسی ڈی ڈی آر زمانے کی ایک یادگار ہے اور یہاں لوگ اس کے ساتھ تصاویر نہیں بناتے۔ یعنی اچھا نہیں سمجھتے۔
    باقی تبصروں میں دی گئی تصاویر کے لنکس ذرا تسلی سے دیکھتا ہوں میں اب۔ اور مزید بھی پڑھتا ہوں اس بارے میں۔ معلومات کا بہت شکریہ، اس سے مزید جاننے کی جستجو بڑھ گئی ہے۔

    • ابوشامل says:

      بہت شکریہ عمیر، مجھے خوشی ہوگی کہ اگر آپ جرمنی کی تاریخ کے حوالے سے اپنے بلاگ کو استعمال کرتے ہوئے ہماری معلومات میں اضافہ کریں۔ کیونکہ عموماً ہمارے ہاں یورپ کی تاریخ کے بارے میں بہت مغالطے بھی پائے جاتے ہیں اور لوگ دلچسپی بھی کم رکھتے ہیں۔

  10. کفایتت اللہ ہاشمی says:

    جناب فہد بھائی !
    آپ کے حسب فرمائش مضمون ملاحظہ کیا . واقعی بہت ہی شاندار ہے. آپ کے ترجمہ کرنے کی صلاحیت بھی ماشاءاللہ بہت اچھی ہے اگرچہ کہ آپ میری تعریف کے محتاج نہیں !!
    مضمون تو بہت دنوں پہلے پڑھ رکھا تھا لیکن رائے لکھنے کا موقع نہیں ملا . آج صبح سویرے یہی کام "سرانجام" دیا ہے.
    مضمون پُر از معلومات اور اسلوبِ ترجمہ بے حد خوبصورت !!!
    جزاک اللہ

    • ابوشامل says:

      بہت شکریہ کفایت صاحب، محتاج کی بات کر کے شرمندہ کر رہے ہیں، ہم تو یہ جانتے ہیں کہ قابل نہیں ہیں 🙂
      دعائیں دیجیے اصل مصنف کو کہ جس نے یہ معلومات اکٹھی کیں۔ میری کوشش ہوگی کہ مستقبل میں بھی ترجموں کا یہ سلسلہ جاری رکھوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.