غازی انور پاشا شہید……پاک دل پاکباز – چوتھی و آخری قسط

اس سلسلے کی پہلی، دوسری اور تیسری قسط ملاحظہ کیجیے

انور پاشا کی مدینہ آمد

وزیر جنگ انور پاشا جب سویز اور شام کے محاذوں کے دورے سے فارغ ہوئے تو زیارتِ مدینہ کا قصد کیا۔ اس سفر میں ان کے ہمراہ جمال پاشا اور دیگر اعلیٰ فوجی حکام شامل تھے۔ انور پاشا کی مدینہ منورہ آمد کے حوالے سے عوام میں زبردست جوش و خروش پایا جاتا تھا۔ چنانچہ ٹرین بروز جمعہ مدینہ کے اسٹیشن پر پہنچی تو ایک خلقت انور پاشا کے استقبال کے لیے موجود تھی، ہر کوئی ان کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب تھا، مگر انور پاشا کا حال یہ تھا کہ اپنے ہمراہیوں کے برعکس آپ نے اپنے نشاناتِ افسری اور فوجی لباس محض اس لیے زیب تن نہ کیا کہ سرکار دوجہاںؐ کے حضور پیش ہونے آئے ہیں۔

انور پاشا کی بیت المقدس میں لی گئی ایک یادگار تصویر

انور پاشا کی بیت المقدس میں لی گئی ایک یادگار تصویر

انور پاشا کو اسٹیشن کے بڑے ہال میں بلدیہ مدینہ کی طرف سے سپاس نامہ پیش کیا گیا، بعدازاں جب آپ روضۂ رسولؐ کی زیارت کے لیے روانہ ہونے لگے تو اسٹیشن کے باہر سواری کا انتظام تھا، مگر انور پاشا نے اس پر سوار ہونے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ’’ہم غلاموں کی حیثیت سے یہاں آئے ہیں لہٰذا غلاموں کی طرح بارگاہِ نبوت تک پیدل چلیں گے‘‘۔

انور پاشا ایک جلوس کی شکل میں روضہ رسولؐ کی جانب روانہ ہوئے، شرکائے جلوس حمد و صلوٰۃ پڑھتے ہوئے جارہے تھے، جلوس کے دونوں جانب ترک فوجیوں کی قطاریں تھیں۔ ان قطاروں سے پرے اور مکانوں کی چھتوں پر بھی ایک خلقت جمع تھی۔ جمال پاشا اور دیگر جرنیلوں کی نظریں کبھی کبھی دائیں یا بائیں پڑجاتی تھیں مگر انور پاشا کی آنکھیں زمین سے لگی ہوئی تھیں۔ حرم نبویؐ پہنچنے پر آپ دست بستہ داخل ہوئے اور جب خادمِ روضۂ رسولؐ نے دعا پڑھانی شروع کی تو انور پاشا کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں بہہ رہی تھیں۔

شش زبان

انور پاشا مادری زبان ’’ترکی‘‘ کے علاوہ متعدد زبانوں پر عبور رکھتے تھے، چونکہ ملٹری اکیڈمی میں فرانسیسی زبان کی تحصیل لازمی تھی اس لیے فرانسیسی زبان سیکھی، بعدازاں بقدر ضرورت انگریزی اور جرمن زبانوں سے آگاہی حاصل کی۔ جنگِ طرابلس میں عربوں کے درمیان رہنے کی وجہ سے بے تکلف عربی زبان بولنے لگے، اور جب ماسکو جانا ہوا تو روسی زبان میں بات چیت کا محاورہ بھی پیدا ہوگیا۔

انور پاشا اور تحریک ریشمی رومال

بیسویں صدی کے آغاز میں برپا ہونے والی ’’تحریک ریشمی رومال‘‘ برعظیم پاک و ہند کی تاریخ آزادی کا اہم باب ہے۔ اس تحریک کو حضرت شیخ الہند مولانا محمودالحسنؒ جیسے عالم باعمل اور مولانا عبیداللہ سندھیؒ جیسے سیماب صفت بزرگان کی رہنمائی حاصل تھی۔ تحریک کا بنیادی ہدف انگریزوں کو ہندوستان سے نکال باہر کرنا تھا۔ چنانچہ اس مقصد کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے 1905ء سے 1914ء تک متواتر 9 سال منصوبہ بندی کی جاتی رہی۔ اس سلسلے کا سب سے اہم قدم حکومتِ ترکی سے معاہدہ تھا، جس کے مطابق ترک افواج کو براہ افغانستان مقررہ تاریخ (19 فروری 1914ء) کو ہندوستان پر حملہ آور ہونا تھا۔ یہ معاہدہ شیخ الہند مولانا محمودالحسن اور ان کے رفقا کی انور پاشا اور جمال پاشا (مملکتِ ترکی کے جنوبی اور غربی محاذ کے کماندار) سے مدینۃ المنورہ میں ملاقات کے بعد طے پایا تھا۔

اس معاہدے کے مطابق ترکی کے ہندوستان پر حملہ آور ہوتے ہی ٹھیک اسی تاریخ کو ہندوستان کے طول و عرض میں سرکارِ انگلشیہ کے خلاف بغاوت برپا ہونی تھی، مگر یہ ساری تحریک کامیابی کے آخری لمحات میں غداری کا شکار ہوگئی۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

4 تبصرے

  1. ابوشامل says:

    بٹ صاحب، ایسی تحریر عرصے بعد پڑھنے کو ملتی ہے۔ میں آپ کا بہت بہت شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے بھی اور بلاگ کے قارئین کو بھی اس تاریخی شخصیت کے بارے میں معلومات دیں۔

  2. عبدالخالق بٹ says:

    بھائی ابو شامل کانٹوں میں مت گھسیٹیں ۔ ۔ ۔ من آنم کہ من دانم

  3. چچچ says:

    چلو

  4. کفایت اللہ ہاشمی says:

    انور پاشا بطل حریت.
    یاد آیا کہ ثروت صولت مرحوم نے 80ء کی دہائی میں روزنامہ جسارت میں انور شہید پر قسط واز مضمون لکھا تھا.. اگرچہ کہ اُس تک رسائی ابھی تک نہیں ہوسکی...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.