میرے خوابوں کا پاکستان

90ء کی دہائی کے اوائل کا زمانہ تھا، آمریت کے طویل دور کے خاتمے کے بعد پاکستان جمہوری عہدمیں تازہ تازہ داخل ہوا تھا۔ نئی امنگیں، نئے حوصلے اور نئی توانائیاں تھیں۔ کرکٹ کے میدانوں میں فتوحات نے پوری قوم کو سحر زدہ کر رکھا تھا اور اس کے بعد ہاکی کے عالمی کپ، اسنوکر کی ورلڈ امیچر چیمپئن شپ اور معمول کی اسکواش فتوحات نے کھیلوں کی دنیا میں پاکستان کا سورج نصف النہار پر پہنچا دیا تھا۔ اس چکاچوند میں ہم نے شعور کی آنکھ کھولی تو گویا ہمارے لیے تو پاکستانی ہونا اور اس پر فخر کرنا بنتا بھی تھا۔ شاید یہ وجہ بھی ہو کہ اس وقت دنیا اس قدر جڑی ہوئی نہیں تھی، لے دے کر ملک میں تین ٹی وی چینل آیا کرتے تھے جس کی وجہ سے بھانت بھانت کی بولی سننے کے بجائے ایک ہی بات ملتی۔ گو کہ ”سب اچھا نہ تھا“ لیکن آج کی طرح سب برا بھی نہیں تھا۔ہم اس وقت بیٹھ کر سوچتے تھے تو ہمیں لگتا تھا کہ 2010ء میں پاکستان ایک ترقی یافتہ ملک بن جائے گا۔ پھر مسلم دنیا کی واحد ایٹمی قوت نے اسے ایک امتیازی حیثیت بھی دے دی تھی۔

لیکن ……. خواب چکناچور ہوگیا۔ ہماری بحیثیت قوم بھی اور سیاسی رہنماؤں کی بھی کوتاہ اندیشی، غفلت، آرام طلبی اور متعصب ذہنیت نے ہمیں اکیسویں صدی میں قدم رکھنے سے بھی پہلے دھر لیا۔ ہزاریہ تبدیل ہونے سے پہلے ہی ہم ایک مرتبہ پھر آمریت کے ہاتھوں جکڑے گئے اور اس مرتبہ ”بہت برے پھنسے“۔ پرویز مشرف کی صورت میں ملکی تاریخ کا بدترین آمر ہم پر مسلط ہوا، جس سے ”اپنے بھی خفا اور بیگانے بھی ناخوش“ تھے۔ ایک طرف عاصمہ جہانگیر اور اعتزاز احسن جیسے لبرلز بھی اس کے چھتر کھاتے تو دوسری طرح لال مسجد کے ”ملّا“ بھی گولیوں سے بھون ڈالے گئے۔ منظرنامہ اتنی تیزی سے بدلا کہ صرف دس سال پہلے اور آج کے پاکستان زمین و آسمان کا فرق دکھائی دیتا ہے، ”وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں“

دس سال پہلے بھلا یہ تصور کیا تھا کہ ہم دن میں 18 گھنٹے بجلی کی بندش کو بھگتیں گے، یہ سوچا بھی نہ تھا کہ بجلی کے اس حال کے باوجود ایک عام گھر کا بل پانچ ہزار روپے سے اوپر آیا کرے گا، اس چیز کو ذہن قبول ہی نہ کرسکتا تھا کہ سبزیوں کی فی کلو قیمتیں بھی کبھی تہرے ہندسے میں پہنچ جائیں گی، بھلا کسی نے یہ سوچا ہوگا کہ پٹرول کی قیمت 100 روپے سے بڑھ جائے گی اور ڈیزل جو اس وقت پٹرول کی قیمت کا نصف ہوتا تھا اس سے بھی آگے نکل جائے گا، الغرض ”کہاں تک سنو گے، کہاں تک سنائیں“۔ یہ تو صرف وہ معاملات ہیں جن سے ہر شخص متاثر ہے لیکن کچھ ایسے اجتماعی مسائل بھی ہیں جنہوں نے بحیثیت مجموعی ہماری قوم کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

دہشت گردی و لاقانونیت کا یہ عالم ہے کہ نہ مساجد محفوظ ہیں نہ امام بارگاہیں، نہ بازار نہ مدارس، نہ گھر نہ دفاتر اور نہ سڑک نہ شاہراہ۔ دہشت گردی کے بڑے واقعات تو ایک طرف صرف اسٹریٹ کرائمز ہی کو لے لیں تو کراچی میں شاید ہی کوئی گھر ایسا ہوگا جس کا کم از کم ایک فرد کبھی ان اچکوں اور لٹیروں کے ہتھے نہ چڑھا ہو جو دن ڈھلے اور دن چڑھے کسی بھی لمحے آپ کو اپنی قیمتی اشیاء اور جمع پونجی سے محروم کر دیتے ہیں۔

اگر معاملات صرف اس حد تک ہی ہوتے تو قوموں کی آزمائش یا مشکل مرحلہ کہا جا سکتا تھا لیکن کوئی مسیحا، کوئی رہنما، کوئی دور اندیش اور حالات سے آشنا فرد بھی تو نہیں دکھائی دیتا۔ لیکن ٹھہریے، ایک شخص ہے ایسا۔ اس ملک و ملت کے حالات پر کڑھنے اور اس ”ایک شخص“ کو ڈھونڈنے کی انتھک کوششوں کے بعد بالآخر وہ مل گیا ہے جو اس ملک کو اندھیروں سے نکال سکتا ہے، جو اس کی ڈوبتی نیّا کو پار لگا سکتا ہے، ہاتھ سے نکلتی ہوئی بازی کو بچا سکتا ہے، بے قابو ہوتی ہوئی گاڑی کو دوبارہ سڑک پر لا سکتا ہے اور ہمارا ہاتھ تھام کر ہمیں ایک گہری کھائی میں گرنے سے بچا سکتا ہے اور وہ شخص ہمارے اندر چھپا ہے یعنی کہ ہم خود۔

موجودہ حالت اور حالات کو صرف اور صرف ہم ہی بدل سکتے ہیں ۔ ہم طے کرلیں کہ ہم کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں گے جس کے اثرات اجتماعی سطح پر سب پر مرتب ہوں گے۔ اپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر اپنی زندگی کی گاڑی آگے چلائیں گے۔ مطلب ہم کبھی اپنی آسانی کے لیے رشوت دے کر کام نہ نکلوائیں گے، ہم کسی کا حق نہ ماریں گے، جو کام بھی کریں گے وہ ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے کریں گے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں، یہ سینہ شمشیر پر چلنے کے مترادف ہوگا، خصوصاً موجودہ حالات میں تو یہ بڑی آزمائش ہوگی۔ لیکن جس دن ہم نے یہ تہیہ کرلیا کہ ہم ایک ذمہ دار شہری بنیں گے، اور حتی الامکان ان اصولوں پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے وہ ترقی کی جانب سفر کا ہمارا پہلا دن ہوگا۔ نتائج بہت دیر سے ملیں گے لیکن ہم نے اندھیروں میں بھٹکتے ہوئے 6 سے زیادہ دہائیاں بھی تو گزار ہی لی ہیں۔لیکن ہمارا آج کا یہ فیصلہ انفرادی و اجتماعی سطح پر دوررس اثرات کا حامل ہوگا۔ ہم نہ سہی، ہماری آنے والی نسلیں اس پاکستان کو ضرور دیکھیں گی جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا۔

ہمیں اپنی حالت کو بدلنے کا خیال خود کرنا ہوگا۔ دراصل ہم اپنی ذمہ داریوں کو دوسروں کے کھاتے میں ڈالنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ نظام درست نہیں، حکمران درست نہیں، معاملات درست نہیں، کیوں؟ کیونکہ ہم درست نہیں ہیں۔ انفرادی سطح پر ہم میں وہ خامیاں موجود ہیں جو اجتماعی سطح پر بگاڑ پیدا کر رہی ہیں۔ آپ تہیہ کرلیں کہ کوئی آپ کے ساتھ چلے یا نہ چلے آپ نے اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا ہے۔ چاہے لوگ آپ کو بے وقوف کہیں لیکن آپ کا ضمیر مطمئن ہوگا کہ قوم کے اس زوال میں انفرادی طور پر آپ کا حصہ شامل نہیں۔

یہ بات ذہن میں رکھیں کہ جب چینی ، جسے دنیا افیمی قوم کے نام سے جانتی تھی، آج سپر پاور بن سکتے ہیں تو ہم بھی بن سکتے ہیں، جب جاپان ایٹم بم کے ہاتھوں تباہ ہونے اور اپنا سب کچھ جنگ کے تاوان کی ادائیگی میں گنوا کر اٹھ سکتا ہے تو ہم بھی اٹھ سکتے ہیں، اگر جرمنی جنگ عظیم میں بدترین شکست کے بعد آج یورپ کی سب سے بڑی معاشی قوت بن سکتا ہے تو ہم بھی بن سکتے ہیں۔ بات صرف عزم و حوصلے اور جرات و ہمت کی ہے۔ کیا آپ میں ہمت ہے؟

(یہ تحریر ماہ اگست میں بلاگستان فیڈز کے سلسلے "میرے خوابوں کا پاکستان" کے لیے لکھی گئی۔ اگر آپ بھی اس مقابلے میں لکھنا چاہتے ہیں تو اپنے بلاگ پر تحریر لکھیے اور یہاں جمع کرائیے)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

8 تبصرے

  1. آپ کی جانب سے کچھ زیادہ کی توقع تھی... مزہ نہیں آیا ابو شامل بھائی...
    آپ نے کہا کہ ضرورت فقط جرات و عزم و ہمت کی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ یہ سب جذبے کاہے کو؟ کیا معاشی اور اس جدید تہذیب ہی کی دوڑ میں حصہ لینا ہے تو ہمیں ہندوستان کا ماڈل اختیار کرنا چاہیے... وہاں اقتصادی ترقی تو ہے!
    وہ کس نے لکھا ہے "ایک تھا پاکستان"... حاصل تو اس وعدے سے ہو گا جی... ورنہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم!
    اگر یہ جذبہ و ہمت آ جائے تو کیا اپنا ملک ٹھیک ہو جاوے گا؟
    ہو سکے تو میری تشویش دُور کیجے...

    • ابوشامل says:

      میں ایک عام آدمی ہوں بھائی، کوئی لکھاری نہیں۔ اس لیے اگر ”مزہ نہیں آیا“ تو معذرت قبول کیجیے۔ شاید میں وہ بہت نہیں کہہ پایا جو آپ سننا چاہ رہے تھے۔

      • =) آپ تو دل پر لے گئے بھائی جان! جو غلطی کوتاہی، گستاخی ہوئی معاف فرمائیے گا۔
        میں تو آپ کے دل کی بات سننا چاہ رہا تھا جو مجھے نہ لگی، ہاں یہ میری کمی ہو گی کہ میں نہ سمجھ پایا آپ نے ان شاء اللہ دل ہی کی بات کہی ہو گی!

        • ابوشامل says:

          ارے میں کیوں دل پر لے جاؤں گا؟ ایسی کوئی بات نہیں اس لیے ”گستاخی“ جیسے الفاظ استعمال کر کے شرمندہ نہ کریں۔ اصل بات یہ ہے کہ لوگ بہت کچھ کہتے اور لکھتے ہیں لیکن مسئلے کے حل کی جانب اشارہ نہیں کرتے۔ اور وہ بھی ایسا حل جو ہر کسی کے بس کی بات بھی ہو، بس میں نے اسی طرف اشارہ کیا ہے۔

  2. اچھی تحریر تھی لمبی چوڑی کہانی کی بجایے سیدھی کام کی بات کر ڈالی.
    ایسا ہی کچھ مصنف نی بھی کہا ہے کہ؛

    جو ہماری کرتوت ہے اس پر وطن کی مٹی کو گواہ کرتے ہوئے شرم آتی ہے. اس زندہ و پائیندہ قوم نے اپنی جڑیں کیا خوب کاٹنی لگائیں ہیں. سب کے لئے سب کچھ ہے اس میں یہ ہے پاکستان کتنا اجنبی معلوم ہوتا ہے کہ اختلاف رائے کے لئے تو جگہ ہے نہیں کرو تو فتوی یا گولی آپکی منتظر. ایک دھماکہ اکثر سجدے میں گرے ایسے لوگوں کی بھی جان لے لیتا ہے جو شائد خدا سے ارض وطن کے لئے کرم کی گھٹا مانگ رہے ہوں۔
    http://www.rainama.com/2013/08/blog-post_19.html

    • گولی کا اصل مقصد تو حق کے لیے چلنا ہے، مظلوم کے دفاع میں، ظالم کے ظلم کو روکنے کے واسطے۔ تلوار اس کام کے لیے چلے، اللہ کے بتائے حکموں کے مطابق چلے، اللہ کے کلمے کی سر بلندے کے لیے چلے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دکھائے راستے میں چلے تو حق ہے ورنہ فتنہ و فساد.
      باقی فتوے کو بدنام کیوں کرتے ہیں صاب؟
      یہ ہم جیسے ہیں کہ جنہوں نے علماء کی تحقیر کی، شرعی اصطلاحات کو فرنگی کے پروپیگنڈے میں بدنام کیا... فتوے کا کیا قصور؟
      پھر ہم فتویٰ بھی تو فتویٰ دینے والے کے بجائے، قاصدِ فاسق (میڈیا) سے سنتے ہیں.
      باقی نہ تو کہیں سے فتویٰ آیا ہے نہ ہی گولی!
      ہمارے ہاں کہتے ہیں کہ دین پسندوں میں سب سے کم برداشت ہے، حالانکہ معاملہ اس کے الٹ ہے اور دین مخالفین کے ہاں سب سے زیادہ عدم برداشت ہے اور اس پر تاریخ شاہد بھی، مومن تو صابر ہوا کرتا ہے جی، اور مسلمانوں کے لیے نہایت میٹھا!

  3. آپ کے خیالات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *